26/12/2025
اندھیر نگری چوپٹ راج۔۔۔
اندھیر نگری کی اس سے بدتر مثال بھلا اور کیا ہوگی کہ کاغذوں کے پیٹ بھر دیے گئے، فائلوں میں ترقی کے پہیے دوڑنے لگے اور شاید ٹھیکیداروں کی تجوریاں بھی اس خطیر رقم سے بھر گئیں جو گزشتہ سال اپر اور لوئر چترال کے لیے "ڈیزاسٹر" کی مد میں جاری کی گئی تھی۔ مگر افسوس کہ حکومتی فائلوں میں مکمل دکھایا گیا کام زمین پر کہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔۔۔
سرکاری لسٹ بتاتی ہے کہ میرے ویلج کونسل لون گہکیر کے مین روڈ "لون ٹو بندو گول" کے لیے 21,18,647 روپے جیسی بڑی رقم منظور ہوئی۔ لیکن میں بحیثیت چیئرمین ویلج کونسل گہکیر پورے ہوش و حواس میں اور ببانگِ دہل یہ اعلان کرتا ہوں کہ اس روڈ پر ان پیسوں میں سے ایک پائی کا کام بھی نہیں ہوا۔۔۔ سڑک کی حالت آج بھی وہی زخم خوردہ ہے جو پہلے تھی؛ نہ ہم نے کسی ٹھیکیدار کی صورت دیکھی اور نہ ہی اس پورے راستے میں کہیں ایک پتھر رکھا گیا ہے۔۔۔
یہ محض بدعنوانی نہیں بلکہ چترال کے غریب اور پسماندہ عوام کے حق پر ڈاکہ ہے۔ جب محافظ ہی رہزن بن جائیں اور کاغذوں کی چمک میں عوامی محرومیاں چھپا دی جائیں،،، تو ہم کس در پر فریاد لے کر جائیں؟ کس کو اپنا دکھڑا سنائیں اور کس سے انصاف مانگیں؟ یہاں تو انصاف کی امید بھی دم توڑ رہی ہے کیونکہ جن ہاتھوں میں مرمت کا سامان تھا، انہوں نے تو صرف اپنے گھر بھرنے کو ہی ترقی سمجھ لیا ہے۔ کیا کوئی ہے جو اس کھلی لوٹ مار کا حساب لے سکے؟
لطف الرحمن