Qaqlasht - قاقلشٹ

Qaqlasht - قاقلشٹ Khush Amdeed! (Welcome) to the Qaqlasht Chitral page.

A flat terrain that is located about 80 kilometers north of Chitral town and approachable by a smooth drive of one and half-hour. When early spring sweeps through the valley, this Plateau type of plain transforms into a gorgeous picnic resort with a carpet grassy and tiny yellow flowers stretched miles and miles that attracts a great number of people from different parts of the district and other parts of the country.

فخرِ چترال دیوارِ چین اسرار ولی خان فیلڈ مارشل کے ہاتھوں ٹرافی وصول کرتے ہوئے۔
30/12/2025

فخرِ چترال دیوارِ چین اسرار ولی خان فیلڈ مارشل کے ہاتھوں ٹرافی وصول کرتے ہوئے۔

کالاش مذہب سے اسلام قبول کرنے والا نوجوان آج عالمِ دین بن گیاچترال (فتح اللہ)وادیٔ کلاش رمبور سے تعلق رکھنے والے نوجوان ...
29/12/2025

کالاش مذہب سے اسلام قبول کرنے والا نوجوان آج عالمِ دین بن گیا
چترال (فتح اللہ)وادیٔ کلاش رمبور سے تعلق رکھنے والے نوجوان نواب جہانگیر نے آٹھ سالہ درسِ نظامی کامیابی کے ساتھ مکمل کر کے دستارِ فضیلت حاصل کر لی۔ کالاش مذہب سے تعلق رکھنے والے ایک معروف خاندان میں پیدا ہونے والے نواب جہانگیر نے سن 2016 میں دینِ اسلام قبول کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی دینی تعلیم اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔
نواب جہانگیر نے نہایت محنت، لگن اور استقامت کے ساتھ درسِ نظامی کا سفر طے کیا اور آج وہ باقاعدہ طور پر ایک عالمِ دین کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے قابل ہو چکے ہیں۔ دینی حلقوں کے مطابق ان کی یہ کامیابی دینِ اسلام کی عالمگیر حقانیت اور انسان دوستی کا واضح مظہر ہے۔
واضح رہے کہ نواب جہانگیر کا تعلق وادیٔ کلاش کے ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں آج بھی کلاش مذہب و دستور کی پیروکار ہے۔ ایسے ماحول میں دینی تعلیم حاصل کرنا اور دینِ اسلام میں اعلیٰ مقام تک پہنچنا ان کے مضبوط عزم اور سچے جذبے کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
دینی و سماجی شخصیات اور علاقہ مکینوں نے نواب جہانگیر کی دستارِ فضیلت پر خوشی اور مسرت کا اظہار کر رہے ہیں ۔

اندھیر نگری چوپٹ راج۔۔۔ اندھیر نگری کی اس سے بدتر مثال بھلا اور کیا ہوگی کہ کاغذوں کے پیٹ  بھر دیے گئے، فائلوں میں ترقی ...
26/12/2025

اندھیر نگری چوپٹ راج۔۔۔
اندھیر نگری کی اس سے بدتر مثال بھلا اور کیا ہوگی کہ کاغذوں کے پیٹ بھر دیے گئے، فائلوں میں ترقی کے پہیے دوڑنے لگے اور شاید ٹھیکیداروں کی تجوریاں بھی اس خطیر رقم سے بھر گئیں جو گزشتہ سال اپر اور لوئر چترال کے لیے "ڈیزاسٹر" کی مد میں جاری کی گئی تھی۔ مگر افسوس کہ حکومتی فائلوں میں مکمل دکھایا گیا کام زمین پر کہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔۔۔
سرکاری لسٹ بتاتی ہے کہ میرے ویلج کونسل لون گہکیر کے مین روڈ "لون ٹو بندو گول" کے لیے 21,18,647 روپے جیسی بڑی رقم منظور ہوئی۔ لیکن میں بحیثیت چیئرمین ویلج کونسل گہکیر پورے ہوش و حواس میں اور ببانگِ دہل یہ اعلان کرتا ہوں کہ اس روڈ پر ان پیسوں میں سے ایک پائی کا کام بھی نہیں ہوا۔۔۔ سڑک کی حالت آج بھی وہی زخم خوردہ ہے جو پہلے تھی؛ نہ ہم نے کسی ٹھیکیدار کی صورت دیکھی اور نہ ہی اس پورے راستے میں کہیں ایک پتھر رکھا گیا ہے۔۔۔
یہ محض بدعنوانی نہیں بلکہ چترال کے غریب اور پسماندہ عوام کے حق پر ڈاکہ ہے۔ جب محافظ ہی رہزن بن جائیں اور کاغذوں کی چمک میں عوامی محرومیاں چھپا دی جائیں،،، تو ہم کس در پر فریاد لے کر جائیں؟ کس کو اپنا دکھڑا سنائیں اور کس سے انصاف مانگیں؟ یہاں تو انصاف کی امید بھی دم توڑ رہی ہے کیونکہ جن ہاتھوں میں مرمت کا سامان تھا، انہوں نے تو صرف اپنے گھر بھرنے کو ہی ترقی سمجھ لیا ہے۔ کیا کوئی ہے جو اس کھلی لوٹ مار کا حساب لے سکے؟

لطف الرحمن

سعودی عرب اور پاکستان کا تعلق دو عام سے ملکوں کا سفارت کاری پر مبنی تعلق نہیں بلکہ دینی شعائر کی وجہ سے جہاں پاکستانی عو...
24/12/2025

سعودی عرب اور پاکستان کا تعلق دو عام سے ملکوں کا سفارت کاری پر مبنی تعلق نہیں بلکہ دینی شعائر کی وجہ سے جہاں پاکستانی عوام سعودی عرب کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ وہیں مملکت اور اس کے مکین بھی پاکستان اور پاکستانیوں کو خصوصی درجہ دیتے ہیں۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سمیت متعدد شہروں میں کئی ایسے مقامات ہیں جو پاکستانی شخصیات سے موسوم ہیں۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح، شاعر مشرق علامہ محمد اقبال، معروف اسلامی مفکر مولانا سید ابوالاعلی مودودی اور ’بطل باکستانی فرمان علی خان‘ کے ساتھ ساتھ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے نام پر بھی ایک مقام سعودی عرب میں موجود ہے۔

سعودی دارالحکومت ریاض کے علاقے غرناطہ کی ایک طویل شاہراہ کو ’شارع محمد علی جناح‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ریاض کی معروف شاہراہ حائل کے قریب واقع شاہراہ کو مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال سے منسوب کر کے ’شارع محمد اقبال‘ کہا جاتا ہے۔



معروف اسلامی مفکر اور پاکستانی عالم دین سید ابوالاعلی مودودی سے منسوب شاہراہ سعودی شہر دمام میں موجود ہے۔

دمام کی سڑک کو شارع ابو الاعلی المودودی کا نام دیا گیا ہے۔

22/12/2025

ایک تیر سے دو شکار کی بہترین مثال
مصباح صاحب نے دونوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔

20/12/2025

انتقال پر ملال۔۔۔

ھمارے انتہائی قابل احترام اسٹاف ریٹائرڈ استاد افسر خان ( حال مقیم خورکشاندہ ) آج بقضائے الہی ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں انتقال کر گئے، وہ کافی عرصہ سے کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھے، ان کے جسد خاکی کو ان کے آبائی گاؤں کھوت اپر چترال کی طرف روانہ کردیا گیا جہاں ان کی نماز جنازہ ادا کیا جائے گا۔ ھماری دعا ہے کہ اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جملہ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ۔ آل ٹیچرز ایسوسی ایشن چترال لوئر غم کی اس گھڑی میں سوگوار خاندان کے ساتھ مرحوم کے غم میں برابر کے شریک ہے۔

نوٹ !
مرحوم کے لواحقین کی طرف سے اعلان ہے۔ کہ دوست احباب رشہ دار اپر چترال آنے کی زحمت نہ کریں۔ واپسی پر انشاءاللہ فاتحہ خوانی ان کے گھر میں کیا جائے گا۔

سوگوران :
شجاع اللہ (بیٹا ) سی۔ ٹی استاد گورنمنٹ ہائی سکول چمرکن ۔
احسان اللہ ( بیٹا )

سنی، اسماعیلی اور کالاش عمائدین کا مشترکہ مؤقف — چترال کی اقدار پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔
20/12/2025

سنی، اسماعیلی اور کالاش عمائدین کا مشترکہ مؤقف — چترال کی اقدار پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔

چترال کی معروف کاروباری شخصیت حاجی مسافر خان  ساکن زرگراندہ چترال طویل علالت کے بعد آج مغرب کے وقت انتقال کرگئے    نماز ...
19/12/2025

چترال کی معروف کاروباری شخصیت حاجی مسافر خان ساکن زرگراندہ چترال طویل علالت کے بعد آج مغرب کے وقت انتقال کرگئے

نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائیگا ۔۔۔

یسوگواران
خالد سردار اتالیق بازار بیٹا
سردار غنی بیٹا
افسر غنی بیٹا
اسداللہ بیٹا
امین اللہ بیٹا
ظفراللہ بیٹا
وسیم سجاد بیٹا
ذیشان خالد

19/12/2025

ممبر ویلیج کونسل کھوژ احمد محمد علی نے عوامِ کھوژ کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا محترمہ ثریا بی بی کے نام ویڈیو پیغام ۔

کھوژ روڈ کے لیے چار کروڑ روپے کے فنڈز مختص کرنے پر شکریہ۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کھوژ روڈ کا باقاعدہ افتتاح محترمہ ثریا بی بی خود کریں۔

جب مقتدر حلقے دشمنی پر اتر آئیے تو ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ۔۔ اب اس بچارے کی صدا کون سنے گا۔۔؟ حافظ حمد اللہ کو افغان...
18/12/2025

جب مقتدر حلقے دشمنی پر اتر آئیے تو ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ۔۔ اب اس بچارے کی صدا کون سنے گا۔۔؟
حافظ حمد اللہ کو افغان شہری قرار دینے کا واقعہ یاد ہوگا۔۔۔ حنیف عباسی پر منشیات اور رانا ثناء اللہ پر اسلحہ سمگلنگ کرنے کا الزام بھی آپ نہیں بھولے ہوں گے۔۔۔ جسٹس فائز عیسی اور جسٹس شوکت صدیقی کو رسوا کرنے کی کوششیں بھی یاد ہو گی۔۔۔ مجھے لگتا ہے اس بے چارے کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ہوگا۔ چاہے یہ جو بھی ہے، جس کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے۔۔۔ یہ ظلم نہیں ہونا چاہیے۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بندہ جعلی اسناد لیے جج بن بیٹھے۔۔۔ اگر یہ درست ہے تو ادارے کے لیے باعث شرمندگی ہے، یہ لوگ ملازمتوں پر تعینات کرتے ہوئے اس طرح جانچ کرتے ہیں؟
نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا، یہ اس سلسلے کی کڑی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔۔ افسوس ہے صد افسوس ہے۔۔

جنوری 2023 میں میری اور حسینہ کی بات پکی ہوئی تھی۔ وہ لمحہ میرے لیے زندگی کی پہلی ٹھوس امید تھی، جیسے بکھری ہوئی دعاؤں ک...
17/12/2025

جنوری 2023 میں میری اور حسینہ کی بات پکی ہوئی تھی۔ وہ لمحہ میرے لیے زندگی کی پہلی ٹھوس امید تھی، جیسے بکھری ہوئی دعاؤں کو سمت مل گئی ہو۔ پھر 20 مارچ 2023 آیا، وہ دن جب ہماری منگنی ہوئی۔ خاندان، خوشیاں، مسکراہٹیں، سب کچھ تھا، بس ایک دوسرے کا ساتھ کافی لگتا تھا۔ 20 مارچ 2026 کو ہمارے رشتے کو تین سال پورے ہونے تھے اور جولائی 2026 میں ہماری شادی کا پروگرام طے تھا۔ ہم مستقبل کے خواب بناتے تھے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنستے اور زندگی کو ایک دوسرے کے نام کر چکے تھے۔ ان تین برسوں میں ہمارے درمیان پیار بھی رہا، محبت بھی، اپنائیت بھی، کبھی کبھی کچھ لمحوں کی ناراضگی بھی آئی، مگر دل کبھی الگ نہیں ہوئے۔ ہم نے ایک بات طے کی تھی کہ چاہے حالات جیسے بھی ہوں ہر روز صبح ایک دوسرے کو تصویر کے ساتھ Good Morning کا پیغام ضرور کریں گے۔ یہ محض ایک عادت نہیں تھی، یہ ہماری محبت کی پہچان تھی، ہمارے دن کی شروعات تھی۔
12 دسمبر 2025، جمعہ کا دن تھا۔ سعودی عرب میں جمعہ کی چھٹی ہوتی ہے، اسی لیے میں سو رہا تھا۔ اُسی نیند میں کچھ عجیب و غریب خواب بھی دیکھے تھے، ایسے خواب جن کی سمجھ اُس وقت نہ آئی، مگر جاگنے کے بعد محسوس ہوا کہ شاید وہ دل کو پہلے ہی کسی آنے والی جدائی کے لیے خاموشی سے تیار کر رہے تھے۔ اُسی دوران کزن آئے اور مجھے جگایا، کہ ناشتہ کرنے چلتے ہیں، اٹھ جاؤ۔ مجھے کیا خبر تھی کہ وہ مجھے جگانے نہیں، بلکہ میری پوری دنیا بدلنے آئے ہیں۔ آنکھ کھلتے ہی میں نے موبائل اٹھایا۔ سب سے پہلے حسینہ کا روز کی طرح آیا ہوا Good Morning کا پیغام دیکھا۔ دل کو ایک مانوس سا سکون ملا۔ حسبِ معمول میں نے کزن کے ساتھ ایک سیلفی لی اور حسینہ کو Good Morning کا پیغام بھیج دیا حالانکہ وہی کزن جانتا تھا کہ حسینہ اب اس دنیا میں نہیں رہی اور میں اُس لمحے تک اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھا۔ پیغام سینڈ ہوا اور موبائل پر ایک ٹک نظر آیا۔ میں یہی سمجھتا رہا کہ شاید وہ مصروف ہوگی یا سروس کا کوئی مسئلہ ہوگا۔ بعد میں جواب آ جائے گا۔
کچھ ہی دیر بعد قطر سے چاچو کی کال آئی۔ فون کان سے لگاتے ہی الفاظ میرے وجود پر بجلی بن کر گرے۔ مجھے بتایا گیا کہ حسینہ مجھے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلی گئی ہے۔ اُس لمحے نہ زمین زمین رہی، نہ آسمان آسمان۔ وہ جس کے ساتھ میں نے زندگی بھر کے خواب دیکھے تھے، وہ اچانک ایک یاد بن گئی۔
میری صبح، میرا پیغام، میری عادت، سب کچھ ادھورا ہو گیا۔
ہم نے حسینہ کو کھویا نہیں، بس رب نے اپنی امانت واپس لے لی۔ مگر یہ دل آج بھی ہر صبح موبائل اسکرین دیکھ کر اسی پیغام کا انتظار کرتا ہے جو اب کبھی نہیں آئے گا۔

وہ جو کل تک دل کی دھڑکن تھی،
آج خاموش دعاؤں میں بدل گئی۔
جس کے ساتھ زندگی کے خواب دیکھے تھے،
وہ خواب آنکھ کھلنے سے پہلے بکھر گئے۔

میں نے کبھی شکایت نہ کی تھی رب سے، مگر آج دل بہت بوجھل ہے۔
وہ مسکراہٹ، وہ باتیں، وہ وعدے، سب یادوں میں قید ہو گئے ہیں۔

ہماری محبت ادھوری ہی سہی، مگر نیت میں کھوٹ نہ تھا۔
تو جانتا ہے اے میرے رب، یہ رشتہ کتنا پاک تھا۔

اگر وہ اس دنیا میں میری نہ بن سکی، تو اسے اپنی رحمت میں جگہ دینا۔
اس کی قبر کو جنت کا باغ بنا دینا اور اسے جنت الفردوس عطا کرنا۔

اور اے میرے اللہ، میرے دل کو صبر دے، میری آنکھوں کو سکون دے اور اس جدائی کو میری آزمائش بنا کر میرے گناہوں کا کفارہ بنا دے۔

وہ چلی گئی ہے،
مگر محبت باقی ہے،
اور محبت کبھی مرتی نہیں۔

اِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

I miss you so much Hacina Ahsan 🥲

مجھے معاف کر دینا،
قسمت نے ایسا موڑ دکھایا
کہ میں تمہارا آخری دیدار بھی نہ کر سکا،
اور یہ حسرت عمر بھر دل میں رہے گی۔

نظام صلیب کے مصلوبایک طرف صوبائی حکومت اپنے ساتھ ہونے والی کارروائیوں کو ظلم و زیادتی اور ناانصافی قرار دیکر واویلا مچا ...
16/12/2025

نظام صلیب کے مصلوب
ایک طرف صوبائی حکومت اپنے ساتھ ہونے والی کارروائیوں کو ظلم و زیادتی اور ناانصافی قرار دیکر واویلا مچا رہی ہے اور دوسری طرف اسی حکومت کے نمائندے اور کارندے علاقائی حقوق کے حق میں پر امن جدوجہد کرنے اور صدائے احتجاج بلند کرنے والوں پر رنگا رنگ قدغنیں لگا کر ان کی آواز دبانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

تمھارے پیمانے پر تھو!

Address

Chitral

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qaqlasht - قاقلشٹ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share