27/02/2026
ڈپٹی کمشنر لوئر چترال نے کہا ہے کہ ارندو بارڈر پر سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی چار سے پانچ چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئیں۔
ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے راؤ ہاشم عظیم نے کہا کہ جھڑپ کا آغاز جمعرات کی رات افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ سے ہوا، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے بھرپور جواب دیا۔ کارروائی کے دوران چھوٹے اور بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق صورتحال اس وقت بھی کشیدہ ہے اور چترال کی وادی ارندو میں وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ شب چترال کے سرحدی علاقے ارندو سمیت کرم، مہمند، خیبر اور باجوڑ میں سرحدی جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جو تاحال جاری ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح المجاہد نے ایکس پوسٹ میں ڈیورنڈ لائن پر متعدد جگہ حملوں کی تصدیق کی تھی جبکہ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے حملوں کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔
بعدازاں پاکستان نے کابل اور قندھار سمیت متعدد علاقوں میں افغان فوجی تنصیبات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا۔
پاکستان افغانستان کی طالبان حکومت پر ٹی ٹی پی سمیت دیگر عسکری تنظیموں کو پناہ دینے کا الزام لگا رہا ہے جو حالیہ عرصے میں پاکستان میں دہشتگردی کے کئی واقعات میں ملوث ہیں۔