Press Club Upper Chitral

Press Club Upper Chitral Offical page of Press Club Upper Chitral (PCUC) at Booni. Press Club Upper Chitral is a registered and only legal press club of upper Chitral

ڈپٹی کمشنر اپر چترال کے نام ایک گزارشجناب ڈپٹی کمشنر اپر چترال صاحب!میں، محمد علی مجاہد، صدر اپر چترال پریس کلب، بحیثیت ...
11/08/2026

ڈپٹی کمشنر اپر چترال کے نام ایک گزارش

جناب ڈپٹی کمشنر اپر چترال صاحب!

میں، محمد علی مجاہد، صدر اپر چترال پریس کلب، بحیثیت صحافی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی ذمہ داری کے تحت، آپ کی خدمت میں چند گزارشات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

گزشتہ ہفتے آنے والے سیلاب اور طغیانی کے نتیجے میں اپر چترال کے مختلف علاقوں میں رابطہ سڑکوں، آبپاشی کے چینلز (ایریگیشن چینلز)، پلوں اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود متعدد متاثرہ مقامات تاحال بحال نہیں ہو سکے، جس کے باعث عام شہری بالخصوص کسان شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ آبپاشی کے چینلز کی بروقت بحالی نہ ہونے کی صورت میں کھڑی فصلوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ کسان اپنی مدد آپ کے تحت حتی الامکان کوشش کر رہے ہیں، مگر بھاری مشینری اور سرکاری وسائل کے بغیر ان تباہ شدہ چینلز کو بحال کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔

یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ قدرتی آفات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس مختلف مدات میں ایمرجنسی اور ڈیزاسٹر رسپانس فنڈز موجود ہوتے ہیں۔ اگر اپر چترال کے لیے بھی ایسے ہنگامی وسائل یا فنڈز دستیاب ہیں تو سوال یہ ہے کہ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود متاثرہ رابطہ سڑکوں اور آبپاشی چینلز کی بحالی کا مؤثر اور وسیع پیمانے پر آغاز کیوں نہیں ہو سکا؟

اور اگر ضلعی سطح پر ایسے ہنگامی وسائل دستیاب نہیں ہیں تو عوام کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ قدرتی آفت کی صورت میں فوری بحالی کے لیے متبادل انتظام کیا ہے اور ضلعی انتظامیہ نے متعلقہ صوبائی و وفاقی اداروں سے بروقت کیا اقدامات کیے ہیں؟

میڈیا گزشتہ کئی دنوں سے متاثرہ علاقوں اور عوام کی مشکلات کو مسلسل اجاگر کر رہا ہے۔ عوام بھی بارہا اپنی مشکلات اور مطالبات انتظامیہ تک پہنچا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ خود متاثرہ علاقوں میں موجودگی کا عملی احساس دلائے، نقصانات کا فوری تخمینہ لگائے، ترجیحی بنیادوں پر مشینری فراہم کرے اور بحالی کا کام شروع کرائے۔

ہم یہ سوال کسی تنقید یا الزام تراشی کے طور پر نہیں بلکہ عوامی مفاد اور انتظامی بہتری کے جذبے سے اٹھا رہے ہیں۔

جناب ڈپٹی کمشنر صاحب!
قدرتی آفت کے بعد وقت سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر رابطہ سڑکیں بروقت بحال نہ ہوں تو لوگوں کی آمدورفت، روزمرہ زندگی اور امدادی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، جبکہ اگر آبپاشی کے چینلز میں پانی بروقت نہ پہنچے تو کسانوں کی مہینوں کی محنت اور کھڑی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔

لہٰذا ہماری گزارش ہے کہ متاثرہ علاقوں کا فوری دورہ، نقصانات کا جامع جائزہ، دستیاب ہنگامی وسائل کا استعمال اور رابطہ سڑکوں و آبپاشی چینلز کی فوری بحالی کے لیے واضح اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

محمد علی مجاہد
صدر، اپر چترال پریس کلب

ریشن میں سیلاب سے متاثرہ ایریگیشن چینلز تاحال بحال نہ ہو سکے، فصلیں تباہ ہونے کا خدشہرپورٹ شہزاد احمد ریشن: گزشتہ ہفتے آ...
11/08/2026

ریشن میں سیلاب سے متاثرہ ایریگیشن چینلز تاحال بحال نہ ہو سکے، فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ

رپورٹ شہزاد احمد

ریشن: گزشتہ ہفتے آنے والے سیلاب کے باعث ریشن میں آبپاشی کے متعدد واٹر چینلز متاثر اور پائپ لائنیں بہہ جانے کے باعث زرعی زمینوں کو پانی کی فراہمی معطل ہے، تاہم ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود متاثرہ ایریگیشن چینلز کی بحالی کا کام شروع نہ ہو سکا، جس کے باعث کھڑی فصلیں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت متاثرہ واٹر چینلز کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کی، تاہم بڑے پیمانے پر متاثرہ مقامات پر ایکسویٹر اور دیگر مشینری کے بغیر بحالی کا کام ممکن نہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی کے حکام سے بارہا رابطہ کرکے متاثرہ چینلز کی فوری بحالی کی درخواست کی، لیکن تاحال عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

مقامی کسانوں کے مطابق اگر اگلے ایک، دو روز کے اندر واٹر چینلز بحال نہ کیے گئے تو کھڑی فصلوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے اور مکمل طور پر تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال سے کسانوں کو نہ صرف مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ علاقے میں غذائی ضروریات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

علاقہ مکینوں نے حکومت خیبر پختونخوا اور ضلعی انتظامیہ سے ایک بار پھر پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرہ مقامات پر ایکسویٹر اور ضروری مشینری فراہم کی جائے، جبکہ آبپاشی کے چینلز کی بحالی کے لیے مطلوبہ پائپ بھی فوری طور پر فراہم کیے جائیں تاکہ پانی کی فراہمی بحال ہو اور ریشن کی کھڑی فصلوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

عوام نے واضح کیا ہے کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور اب مزید تاخیر فصلوں کی مکمل تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری اقدامات کرکے کسانوں کی سال بھر کی محنت اور فصلوں کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

10/08/2026

جمعیت علمائے اسلام اپر چترال کے مجلس شوری کی پریس کانفرنس میں مولانافتح الباری سابق امیر جمعیت علمائے اسلام اپرچترال اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے
۔
۔
۔
۔

10/08/2026

جمعیت علمائے اسلام اپر چترال کے مجلس شوری کی پریس کانفرنس میں مولانا محمد یوسف امیر جمعیت علمائے اسلام اپرچترال بونی میں ایک کلومیٹر روڈ کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے

موڑکہو روڈ پر اسفالٹ بچھانے کے کام کا باقاعدہ افتتاح، ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے فیتہ کاٹ کر افتتاح کیااپر چترال موڑکہو (...
10/08/2026

موڑکہو روڈ پر اسفالٹ بچھانے کے کام کا باقاعدہ
افتتاح، ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے فیتہ کاٹ کر افتتاح کیا

اپر چترال موڑکہو (جمشیداحمد): موڑکہو روڈ پر اسفالٹ بچھانے کے کام کا اج پیر کے دن باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے موقع پر فیتہ کاٹ کر ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر تحریک انصاف کی مقامی قیادت، اسسٹنٹ کمشنر موڑکہو تورکہو الیاس احمد، موڑکہو ڈویلپمنٹ موومنٹ کے عہدیداران، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے متعلقہ حکام، اسفالٹ بچھانے کے کام سے وابستہ افراد اور علاقے کے عمائدین و عوام بڑی تعداد میں موجود تھے۔
ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کی موڑکہو آمد پر اہل علاقہ کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیا۔ مقامی لوگوں نے انہیں پھولوں کے ہار پہنائے اور ترقیاتی منصوبے کے آغاز پر خوشی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے کہا کہ موڑکہو کے دورے کے دوران اہل علاقہ نے مذکورہ سڑک کی تعمیر و بہتری کا مطالبہ کیا تھا، جس پر انہوں نے خصوصی کوششیں کیں اور آج علاقے کے عوام کی موجودگی میں اس اہم منصوبے کا افتتاح کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقے میں سڑکوں کی بہتر سہولیات عوام کا بنیادی حق ہے اور موجودہ صوبائی حکومت ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ڈپٹی اسپیکر نے مزید بتایا کہ موڑکہو میں مزید دو کلومیٹر سڑک کی بلک ٹاپنگ کے لیے بھی فنڈز کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ منصوبہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر و پختگی سے علاقے میں آمدورفت کی سہولت بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو درپیش سفری مشکلات میں بھی کمی آئے گی۔
اس موقع پر موڑکہو ڈویلپمنٹ موومنٹ کے عہدیداران اور اہل علاقہ نے ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موڑکہو کے عوام عرصہ دراز سے سڑکوں کی بہتر تعمیر اور پختگی کے منتظر تھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر بنیادی مسائل کے حل کے لیے بھی عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

10/08/2026

موڑکہو روڈ اسفالٹ بچھانے کے کام کے افتتاح کے موقع پر ڈپٹی اسپیکر خیبر پختون خواہ اسمبلی ثریا بی بی اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں
جمشیداحمد

موڑکہو روڈ اسفالٹ بچھانے کے کام کا افتتاح ڈپٹی اسپیکر خیبر پختون خواہ اسمبلی ثریا بی بی نے فیتہ کاٹ کر باقاعدہ افتتاح کر...
10/08/2026

موڑکہو روڈ اسفالٹ بچھانے کے کام کا افتتاح ڈپٹی اسپیکر خیبر پختون خواہ اسمبلی ثریا بی بی نے فیتہ کاٹ کر باقاعدہ افتتاح کردیا
جمشیداحمد

10/08/2026

جمعیت علمائے اسلام اپر چترال کے مجلس شوری کی پریس کانفرنس

پریس کلب اپر چترال میں جے یو آئی کی پریس کانفرنسڈپٹی اسپیکر دوسروں کے منظور شدہ منصوبوں پر تختیاں لگا کر کریڈٹ لینے کی ک...
10/08/2026

پریس کلب اپر چترال میں جے یو آئی کی پریس کانفرنس

ڈپٹی اسپیکر دوسروں کے منظور شدہ منصوبوں پر تختیاں لگا کر کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہیں، مولانا محمد یوسف

بونی، اپر چترال: جمعیت علمائے اسلام اپر چترال کے زیرِ اہتمام آج اپر چترال پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ضلعی امیر مولانا محمد یوسف، سابق ضلعی امیر مولانا فتح الباری، نائب امیر مفتی محمد امین، ممبر صوبائی مجلسِ شوریٰ حبیب الدین، سابق تحصیل نائب ناظم مرزہ عالم، مرکزی ضلعی ترجمان امیر الدین جمعیت علمائے اسلام اور مجلسِ شوریٰ و مجلسِ عاملہ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام اپر چترال کے ضلعی امیر مولانا محمد یوسف نے ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا ثریا بی بی کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ سابق ایم پی اے جمعیت علمائے اسلام مولانا ہدایت الرحمن کے دور میں منظور ہونے والے ترقیاتی منصوبوں پر اپنی تختیاں لگا کر ان کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن منصوبوں پر موجودہ دور میں تختیاں لگائی جا رہی ہیں، ان میں سے بیشتر منصوبے سابقہ دورِ حکومت میں منظور اور شروع کیے گئے تھے، اس لیے ان منصوبوں کا کریڈٹ موجودہ حکومت کو دینا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔

مولانا محمد یوسف کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر ایک اہم اور بااختیار منصب پر فائز ہیں، تاہم ان کے موجودہ دور میں چترال میں کوئی ایسا میگا پروجیکٹ نظر نہیں آتا جسے ان کی حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا جا سکے۔ ان کے بقول دوسروں کے منظور شدہ منصوبوں پر تختیاں لگانے کے بجائے نئے اور بڑے ترقیاتی منصوبے لانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سابق دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مولانا جہانگیر کے دور میں اپر چترال میں متعدد اہم منصوبے منظور اور مکمل کیے گئے، جن میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج بونی، بوائز ڈگری کالج کی چار دیواری اور ہاسٹل، تورکھو روڈ کے تقریباً 9 کلومیٹر حصے، موڑکھو روڈ، ایمرجنسی بجلی ٹرانسمیشن لائن، چپاڑی واٹر سپلائی اسکیم، موژگول واٹر سپلائی اسکیم، آر ایچ سی موڑکھو اور مختلف علاقوں میں ہائی اسکولوں کا قیام شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کو صوبے میں صرف ایک مرتبہ مکمل صوبائی حکومت ملی، تاہم اس دور میں چترال کے لیے متعدد اہم ترقیاتی منصوبے لائے گئے۔ اگر موجودہ دورِ حکومت میں ان منصوبوں کا نصف بھی چترال کے لیے لایا جائے تو اسے ڈپٹی اسپیکر کی بڑی کامیابی سمجھا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران ڈپٹی اسپیکر کے خلاف کرپشن کے الزامات کا بھی ذکر کیا گیا۔ جے یو آئی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کی اپنی جماعت کے ضلعی کابینہ کے بعض ارکان بھی مبینہ کرپشن کے حوالے سے صوبائی قیادت سے شکایات کر چکے ہیں۔

جے یو آئی رہنماؤں نے مزید دعویٰ کیا کہ ضلعی کابینہ کے صدر نے چترال میں ایک اعلیٰ سطحی دورے کے موقع پر بھی اپر چترال میں مبینہ کرپشن کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اپر چترال میں جاری ترقیاتی منصوبوں، فنڈز کے استعمال اور مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور عوام کے سامنے تمام حقائق واضح کیے جائیں۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر جے یو آئی رہنماؤں نے کہا کہ ان کی جماعت عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور حکومتی کارکردگی پر مؤثر آواز اٹھاتی رہے گی اور کسی بھی حکومت کو عوامی منصوبوں کا غلط کریڈٹ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بونی موڑگرام روڈ خطرے میں، عوام کی ڈپٹی کمشنر سے اپیل(رپورٹ سہیل احمد)اپرچترال: حالیہ سیلاب کے بعد بونی موڑگرام روڈ کی ح...
09/08/2026

بونی موڑگرام روڈ خطرے میں، عوام کی ڈپٹی کمشنر سے اپیل

(رپورٹ سہیل احمد)

اپرچترال: حالیہ سیلاب کے بعد بونی موڑگرام روڈ کی حفاظتی پشتے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ پانی کی کٹائی کے باعث پشتے گر کر ریزہ ریزہ ہوگئے ہیں، جس سے روڈ کافی حد تک تنگ ہوچکا ہے۔ اگر بروقت انتظامات نہ کیے گئے تو موڑگرام کے عوام بونی سے مکمل طور پر منقطع ہو کر رہ جائیں گے۔

یہ صورتحال انتہائی سنگین ہے کیونکہ اس روڈ کے بند ہونے سے موڑگرام کے بچوں، بچیوں کے سکولوں، کالجوں، مدارس، ہسپتال اور بازار سمیت تمام ضروری سہولیات بونی سے منقطع ہو جائیں گی۔ اس کے علاوہ، راستے کے ساتھ واقع متعدد گھر اور زرعی اراضی بھی شدید خطرے سے دوچار ہیں۔
مقامی عوام نے ضلعی انتظامیہ، خاص طور پر ڈپٹی کمشنر اپر چترال سے اپیل کی ہے کہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے اور روڈ کی مرمت اور پشتوں کی تعمیر نو کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر کوئی کارروائی نہ کی گئی تو نہ صرف موڑگرام کے عوام بونی سے منقطع ہو جائیں گے بلکہ راستے کے ساتھ واقع کئی گھر اور زرعی زمینیں بھی تباہی سے محفوظ نہیں رہیں گی۔

Address

Chitral
17200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Press Club Upper Chitral posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share