Anwaz Media Network - AMN

Anwaz Media Network - AMN A multilingual news and entertainment channel for the audience of Northern Pakistan including Chitral and Gilgit Baltistan

ٹی ٹی آر ایف سوشل میڈیا ٹیم کے آن لائن اجلاس میں بونی بوزند روڈ منصوبے پر تعمیراتی کام کی سست رفتاری، ناقص معیار اور مشی...
12/05/2026

ٹی ٹی آر ایف سوشل میڈیا ٹیم کے آن لائن اجلاس میں بونی بوزند روڈ منصوبے پر تعمیراتی کام کی سست رفتاری، ناقص معیار اور مشینری کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ فنڈز اور ادائیگیوں کے باوجود محکمہ سی اینڈ ڈبلیو، متعلقہ انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔

شرکا نے افسوس ظاہر کیا کہ عوامی حمایت اور عدالتی احکامات کے باوجود ٹی ٹی آر ایف کی مرکزی قیادت اور کابینہ اراکین نے اس اہم مسئلے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں اور احتجاجی جلسے کا انعقاد عمل میں لایا جائے۔

اجلاس کے اختتام پر سوشل میڈیا ٹیم نے عزم کیا کہ بونی بوزند روڈ منصوبے کی تکمیل تک عوامی مسائل ہر فورم پر اجاگر کیے جاتے رہیں گے۔

عالمی یومِ نرسز — انسانیت کے خاموش محافظوں کو خراجِ تحسینتحریر: ظفراحمدہر سال 12 مئی کو دنیا بھر میں International Nurse...
12/05/2026

عالمی یومِ نرسز — انسانیت کے خاموش محافظوں کو خراجِ تحسین
تحریر: ظفراحمد
ہر سال 12 مئی کو دنیا بھر میں International Nurses Day منایا جاتا ہے تاکہ نرسز کی بے لوث خدمات، قربانیوں اور انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ان کی انتھک جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔۔ یہ دن Florence Nightingale کی سالگرہ کے موقع پر منایا جاتا ہے جنہیں جدید نرسنگ کی بنیاد رکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔

نرسز کسی بھی معاشرے کے نظام صحت کا سب سے مضبوط ستون سمجھی جاتی ہیں ۔وہ صرف مریضوں کی دیکھ بھال نہیں کرتیں بلکہ اپنے نرم رویے، ہمدردی اور پیشہ ورانہ مہارت سے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو امید اور حوصلہ بھی فراہم کرتی ہیں ہسپتالوں کے مصروف وارڈز ہوں، ایمرجنسی کی صورتحال ہو یا دور دراز علاقوں کے مراکز صحت، نرسز ہر جگہ خاموشی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھاتی نظر آتی ہیں۔۔

نرسنگ محض ایک ملازمت نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ایک عظیم مشن ہے۔ ایک نرس مریض کے درد کو محسوس کرتی ہے اس کی تکلیف میں اس کا سہارا بنتی ہے اور مشکل ترین حالات میں بھی اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ وباؤں، حادثات اور ہنگامی حالات میں نرسز نے ہمیشہ فرنٹ لائن پر رہ کر اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر انسانیت کی خدمت کی مثال قائم کی ہے۔

پاکستان میں نرسز شعبہ صحت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ محدود وسائل، طویل ڈیوٹی اوقات اور شدید ذہنی دباؤ کے باوجود پاکستانی نرسز اپنی خدمات نہایت محنت، صبر اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دے رہی ہیں۔۔ ان کی خدمات یقیناً معاشرے کی عزت، اعتراف اور بہتر سہولیات کی مستحق ہیں۔

خصوصاً چترال سے تعلق رکھنے والی نرسز قابل فخر ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں اپنی قابلیت، محنت اور خدمتِ خلق کے جذبے کے تحت نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔چترال جیسے دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھنے کے باوجود انہوں نے ثابت کیا ہے کہ جذبہ، محنت اور لگن انسان کو ہر میدان میں کامیاب بنا سکتی ہے۔ ان کی خدمات نہ صرف شعبۂ صحت بلکہ پورے معاشرے کے لیے باعثِ افتخار ہیں۔

عالمی یومِ نرسز ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ایک صحت مند معاشرہ نرسز کی انتھک محنت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وہ خاموش محافظ ہیں جو اپنی شفقت، خدمت اور قربانیوں سے بے شمار زندگیوں میں امید اور زندگی کا چراغ روشن رکھے ہوئے ہیں۔

ہماری نرسز، ہمارا فخر، بااختیار نرسنگ ہی محفوظ پاکستان کی ضمانت ہے۔تحریر: ناصر علی شاہ سب سے پہلے پاکستان سمیت پوری دنیا...
12/05/2026

ہماری نرسز، ہمارا فخر،
بااختیار نرسنگ ہی محفوظ پاکستان کی ضمانت ہے۔
تحریر: ناصر علی شاہ

سب سے پہلے پاکستان سمیت پوری دنیا کے نرسنگ کمیونٹی کو نرسوں کا عالمی دن مبارک۔ یہ دن محض ایک تقریب نہیں، بلکہ ہمیں قربانی، بے لوث خدمت اور مریضوں کے ساتھ خلوص سے پیش آنے کے اس عہد کی یاد دلاتا ہے جو ہم نے انسانیت کی خدمت کے لیے اٹھائے ہیں

اس سال کا عالمی تھیم
Our Nurses, Our Heroes: Empower Nurses, Save Lives
اس تھیم پر غور کریں تو یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ جب تک نرسز کو حقیقی معنوں میں بااختیار نہیں کیا جائے گا، ہم زندگیاں بچانے کے مشن میں پیچھے رہ جائیں گے۔ "زندگیاں بچانے" سے مراد صرف ایمرجنسی وارڈ نہیں، بلکہ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ہے جہاں نرسز بیماریوں کے خلاف ہراول دستے کا کردار ادا کرتی ہیں۔

پاکستان نرسنگ اینڈ میڈ وائفیری کونسل نرسز کی ریگولیٹری باڈی ہے، جس کی ذمہ داری نرسنگ ایجوکیشن، ہسپتالوں میں نرسز کے حقوق کا تحفظ اور آئین سازی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کونسل یہ ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا رہی ہے؟ جواب افسوسناک حد تک "نہیں" میں ہے۔

**یونیفارم کی تبدیلی اور عالمی معیار**
گزشتہ دو سالوں میں نرسنگ کونسل کے الیکٹیڈ ممبران نے یونیفارم کو عالمی معیار کے مطابق تبدیل کئے تھے یہ صرف کپڑوں کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ یہ عالمی سطح پر نرسنگ کے وقار اور مماثلت کی علامت تھی۔ مگر حیرت ہے کہ نرسز کو بین الاقوامی پروٹوکولز اور کوالٹی ایجوکیشن دینے کے بجائے، دوبارہ پرانے سفید یونیفارم کو لاگو کرنے کی کوششیں ہو رہی ہے
افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہ فیصلے وہ لوگ کر رہے ہیں
جنہیں ہسپتال کی عملی ڈیوٹی کی مشکلات کا اندازہ نہیں۔
جو نرسز کے زمینی مسائل سے ناواقف ہیں۔
جو کوالٹی ایجوکیشن فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

آج گلی محلوں میں نرسنگ کالجز کی بھرمار ہے۔ پولٹری فارمز کی جگہ کالجز کھولے جا رہے ہیں، مگر وہاں تعلیمی معیار کو چیک کرنے والا کوئی نہیں۔ انسپکشن ٹیمیں وزٹ تو کرتی ہیں، مگر اکثر میرٹ کے بجائے "دیگر ترجیحات" کی بنیاد پر اجازت نامے تھما دیے جاتے ہیں۔

آخر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کونسل کا اصل کام کیا ہے؟ نرسنگ کے پیشے کو تجارت بنانا یا نرسز کو حقیقی معنوں میں **Empower** کرنا؟ جب تک ہم نظام کی ان خامیوں کو دور نہیں کریں گے، ہم عالمی معیار کے صحت کے اہداف حاصل نہیں کر سکتے۔

وادیٔ مموریت (بمبوریت) کے گاؤں داراسگورو میں گزشتہ شب شدید بارشوں کے باعث آنے والے اچانک سیلابی ریلے سے سابق انسپکٹر ریز...
12/05/2026

وادیٔ مموریت (بمبوریت) کے گاؤں داراسگورو میں گزشتہ شب شدید بارشوں کے باعث آنے والے اچانک سیلابی ریلے سے سابق انسپکٹر ریزرو پولیس اور قاضیِ کالاش نور شاہالی کا گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

بروقت اطلاع پر اہلِ خانہ گھر سے نکل کر محفوظ مقام پر منتقل ہوگئے، جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

واقعے کے بعد مقامی افراد، کے وی ڈی اے، ریسکیو اہلکاروں اور پولیس نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

عوام نے حکومت سے متاثرہ خاندان کی فوری مالی امداد اور کالاش وادیوں میں حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

11/05/2026

ملک کے دیگر حصوں کی طرح چترال کے سیاسی و سماجی قیادت نے بھی اپریشن بنیان المرصوں کے ایک سال مکمل ہونے پر تقریب کا انعقاد کیا گیا اس موقع پر پاک فوج اور پاک فضائیہ کی قربانیوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔

تفصیلات دیکھیے کریم اللہ کی اس رپورٹ میں

یورپ سے مشرقی فیمینسٹوں کے نام ایک خطجرمنی میں رہتے ہوئے مجھے یہ بات شدت سے محسوس ہوئی، ہم نعروں میں زندہ ہیں عمل میں نہ...
10/05/2026

یورپ سے مشرقی فیمینسٹوں کے نام ایک خط

جرمنی میں رہتے ہوئے مجھے یہ بات شدت سے محسوس ہوئی، ہم نعروں میں زندہ ہیں عمل میں نہیں یہی ہماری شکست کی بنیادی وجہ ہے مشرقی سماج کی نفسیات صبر و تحمل کی بجائے خطیبانہ ہاؤ ہو کی روش پر استوار ہوئی ہے، اس لیے ہم عمل کی پیچیدہ پگڈنڈی کی بجائے نعرہ بازی کی ہموار سڑک اور شور شرابے کی گنجان گلیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ خیال مجھے پاکستان میں فکری تحریکوں کے زوال پر آیا۔ کتنے رنج کی بات ہے، ہماری تمام فکری اور سماجی تحریکیں روح سے عاری تھیں۔ بدقسمتی سے ہماری اسی غیر سنجیدہ فطرت کی وجہ سے کتنی عظیم تحریکیں ناکامی کی آتش کا ایندھن بنیں قصور ہمارا بھی نہیں ہے ہمارا خمیر ہی عدم برداشت کی مٹی سے اٹھایا گیا ہے عدم برداشت کے عارضے کے علاوہ ہمیں الزام تراشی کا مہلک روگ بھی لاحق ہے۔ ہم جن لوگوں کا مقابلہ نہیں کر پاتے، ان پر الزام دھر دیتے ہیں۔ یہ اپنے عیب چھپانے کا سب سے حقیر طریقہ ہے۔ ہم اپنے چاکِ قبا کی فکر نہیں کرتے، دوسروں کے گریباں کے تار پر حرف زنی کرتے ہیں۔ کسی کو نیچا دکھانے سے ہمیں تسکین ملتی ہے۔ ہم گروہ بنا کر کمزوروں کے سر پر پاؤں رکھتے ہیں اور اپنے سے تونگروں کی چاپلوسی کرتے ہیں اصلاح کرنے والوں کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ دوسروں کے سر پر پاؤں رکھنے کے مقابلے میں چاپلوسی کرنا یا کسی کا تمسخر اڑانا بظاہر بے ضرر سا کام لگتا ہے، اور مسخرہ ہونا بھی کوئی عیب نہیں، بلکہ یہ ایک آرٹ ہے جس کو پرفارم کرنے کے لیے صحت مند معاشرے مخصوص لوگ ہوتے ہیں، وہ اس پیشے سے منسلک ہو کر دوسروں کو محظوظ کرتے ہیں۔ لیکن ایک پوری قوم کا غیر سنجیدہ ہونا یا مسخرہ ہونا دکھ کی بات ہے، جس پر شرمندہ ہونا چاہیے۔ جگت بازی کو اپنی قومی شناخت سمجھنا حقارت کا آخری لیول ہے اس سے آگے انحطاط ہی انحطاط ہے دنیا کا ہر عظیم کام سنجیدگی کا تقاضا کرتا ہے۔ مغرب کے لوگوں کے لیے زندگی ایک مشکل گتھی ہے، جسے سلجھانے کے لیے وہ ہمیشہ تدبر سے کام لیتے ہیں۔ یہاں کے دفاتر میں قبرستان جیسا سناٹا ہوتا ہے، لوگ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں، دوسروں کا احترام کرتے ہیں اور خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں سنجیدہ سے سنجیدہ بات میں بھی مذاق کا کوئی پہلو ڈھونڈ لیا جاتا ہے۔ مذاق کا پہلو ملنے کے بعد کسی کام کو سنجیدہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کپلنگؔ نے درست کہا تھا: مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب ہے، ان دونوں کا ملنا ناممکن ہے۔ لیکن اس کے باوجود کچھ چیزیں ایسی ہیں جو مغرب کے لوگوں سے سیکھی جا سکتی ہیں۔ ہم آج ٹی وی اسکرین پر جس مغرب کو دیکھتے ہیں، ان بلند و بالا عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور صاف ستھری گلیوں کے پیچھے ان کی بے پناہ قربانیاں ہیں۔ برف باری اسکرین پر جتنی رومانوی اور خوابوں بھری نظر آتی ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پانچ مہینے کھڑکی سے یخ بستہ خالی سڑکوں کو دیکھنا اور چہرے پر شکن لائے بغیر زندگی معمول کے مطابق گزارنا کتنا کٹھن کام ہے۔ لیکن چھ سے سات مہینے شدید سردی کے تھپیڑے کھانے کے باوجود مغرب نے جتنی ترقی کی ہے، وہ قابلِ رشک نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جسے کسی معجزے سے تعبیر کرنا چاہیے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ان کے پاس وسائل ہیں، جن کی بدولت ان کے جیون میں آسائشیں ہیں۔ بیس ڈگری سینٹی گریڈ روم ٹیمپریچر میں گھر میں آرام کرنے والوں کو یہ خوب جمانے والی سردی آخر کیا کہتی ہے؟ بجا ہے، ان کے پاس آج زندگی کی ہر آسائش موجود ہے؛ لیکن تنقید کرنے سے پہلے آپ ان کی ہزار سال پرانی عمارتیں دیکھ لیں، جنہیں دیکھ کر انسانی آنکھ خیرہ ہو جاتی ہے۔ اتنے کڑے موسموں کے گھاؤ سہنے کے باوجود اتنی بڑی اور حیرت انگیز تعمیرات کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا کتنی جواں مردی کا کام ہے۔ الزام تراشی فرار کا راستہ ہے۔ ان کی زندگی میں جتنی بھی آسائشیں ہیں، ان کے حصول کے لیے ان کے اجداد نے قربانیاں دی ہیں، ان کی تربیت کی ہے، انہیں جینا سکھایا ہے، انہیں سوچنا سکھایا ہے، انہیں دیکھنا سکھایا ہے، انہیں بولنا سکھایا ہے، اور انہیں معاشرے میں رہنے کے آداب کا شعور دیا ہے۔ اپنی اسی تربیت، فہم و ادراک کی بدولت انہوں نے آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کیا اور ساری دشاؤں کو تسخیر کر لیا۔ یہ کام راتوں رات نہیں ہوا؛ تہذیب بگ بینگ سے جنم نہیں لیتی، تہذیب شائستگی اور برداشت سے تدریجاً ابھرتی ہے۔
کل کراچی میں عورت مارچ کے کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کیا؛ وجہ کوئی بھی ہو، لیکن پولیس کا یہ عمل قابلِ مذمت ہے۔ حقوق مانگنے والوں کا دکھ سنا جاتا ہے، جبر کے ذریعے ان کی آواز دبانے کی کوشش بدمعاشی ہے۔ اس افسوس ناک واقعے کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ عورت مارچ کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؛ تو جہاں پولیس عورت مارچ کے کارکنوں کو گرفتار کر رہی تھی، وہیں ایک اور خبر چل رہی تھی کہ سکھر میں غیرت کے نام پر ایک شخص نے اپنی بیوی کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ تو سمجھنا مشکل نہیں کہ عورت مارچ کا مقصد کیا ہے؛ وہ سماج میں زندہ رہنے کا حق مانگتی ہیں۔ عورت مارچ کا مقصد بنیادی طور پر عورت کو خودمختار بنانے کی جدوجہد کی ایک کڑی ہے، جس کی بنیاد فیمینزم ہے۔ فیمینزم کا بنیادی مقصد خواتین کو سماجی زندگی میں بھرپور اور باوقار طور پر شامل کرنا اور انہیں وہ تمام حقوق دلانا ہے جو کسی بھی وجہ سے ان سے سلب کر لیے گئے ہوں۔ اس میں مردوں کے برابر اجرت کی فراہمی، جائیداد اور زمین میں ان کے حق کا اعتراف، اور زندگی کے ہر شعبے میں ان کے وجود کو مکمل طور پر تسلیم کرنا شامل ہے۔ مزید برآں، خواتین کی عقل و فہم کو سماجی ترقی کے عمل میں مؤثر طور پر بروئے کار لانا، ان کی صلاحیتوں کو ہر میدان میں قدر و منزلت کی نظر سے دیکھنا، اور ان کے لباس پر نکتہ چینی نہ کرنا، انہیں ہر روپ میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھنا شامل ہے۔ فیمینزم کا مقصد ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جدوجہد ہے جہاں عورت کو ایک مکمل، بااختیار اور باوقار انسان کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
جہاں تک خواتین کے حقوق کا تعلق ہے، دنیا کے تقریباً ہر کونے میں ان کے بارے میں ایک ہلکا سا تعصب پایا جاتا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے کی تو بات ہی الگ ہے؛ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں خواتین کو کبھی بھی مکمل طور پر برابر کے حقوق نہیں دیے گئے، اور ان کے راستے میں ہمیشہ مختلف مشکلات کھڑی کی جاتی رہیں۔ اس کے پیچھے مرد کی جو بھی نفسیات رہی ہو، حقیقت یہی ہے کہ عورت کو وہ حقوق نہیں مل سکے جن کی وہ اپنی زندگی میں حقدار تھی۔
یہاں تک کہ مغرب میں بھی ایک طویل عرصے تک فیمینزم کی تحریکیں چلتی رہیں۔ بالآخر یہ بات سمجھ میں آئی کہ اگر کسی تحریک کو صرف تقاریر اور نعروں تک محدود رکھا جائے تو اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوتے؛ چنانچہ انہوں نے اپنی عملی زندگی میں تبدیلی لانا شروع کی، اور جن نعروں کو وہ سڑکوں پر بلند کرتی تھیں، انہیں اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ لوگوں نے ان کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی، ان کے لیے مسائل اور پریشانیاں پیدا کی گئیں، مگر انہوں نے ثابت قدمی سے اپنے قدم جما لیے۔ کھیل کے میدانوں میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، تعلیم کے شعبے میں اپنی ذہانت کے بل بوتے پر نمایاں کارنامے انجام دیے، اور صحت کے میدان میں اپنے ہنر اور خدمت کے جذبے سے لوگوں کی مدد کی۔ سماجی زندگی کے ہر شعبے میں ان کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے لوگوں کے اندر انہیں قبول کرنے کا رجحان پیدا کیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ زندگی کے ہر میدان میں نمایاں نظر آنے لگیں۔ انہوں نے اپنی نسوانیت کو ایک ذاتی اور نجی دائرے تک محدود رکھا، جبکہ سماجی زندگی میں وہ ایک متوازن اور باوقار انداز میں شریک رہیں۔ ان کو حقوق ملنے کے پیچھے ان کی قربانیاں ہیں۔ مغربی عورت کے ساتھ کام کرتے ہوئے آپ کو کبھی اس کے جنس کے الگ ہونے کا احساس نہیں ہوتا؛ وہ مرد کے شانہ بشانہ اپنا کام کرتی ہیں۔ دفتر میں وہی سادہ لباس پہن کر آتی ہیں جو مرد پہنتے ہیں؛ وہ زرق برق لباس اور سینڈل پہن کر نمائش کے لیے نہیں آتیں۔ وہ اٹھتے بیٹھتے آپ کو کبھی یہ احساس نہیں دلاتیں کہ وہ کسی لحاظ سے غیر معمولی ہیں، بلکہ ایک فطری اور باوقار زندگی گزارتی ہیں۔ وہ صبح سویرے اپنے جوتوں کے تسمے کستے ہوئے جوگنگ ٹریک پر چلتی ہیں؛ کچھ اپنی سائیکل کے پہیوں کو تیزی سے گھماتی ہیں۔ فیمینزم ان کے لیے کوئی نعرہ نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کا قرینہ ہے۔ زندگی اور نظریے کے درمیان تضاد نہیں ہونا چاہیے؛ آپ جس چیز کا حق مانگتی ہیں، اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا شروع کریں۔ تنقید ہوگی، ہونے دیں؛ اس کی قیمت چکانی پڑے گی، پڑنے دیں؛ لیکن اس اصلاح کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے والی عورت زیادہ عظیم ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ اگر آپ ٹی وی اسکرین پر بیٹھ کر ورزش کے فائدے پر تقریر کرتی رہیں اور بیٹھے بیٹھے آپ کو دل کا عارضہ لاحق ہو جائے، تو اس سے بہتر ہے کہ آپ جم جا کر پسینہ بہائیں، ٹریل پر واک کریں۔ لوگ آپ کا عمل دیکھیں گے اور کارواں بنتا جائے گا۔ اپنے نظریے کی تشہیر کا یہ ایک بہتر طریقہ ہے۔ برابری کسی نعرے کی محتاج نہیں؛ یہ عمل کی زمین پر خود اپنا جواز پیدا کرتی ہے۔ مغربی عورت اپنے وجود کو کسی علیحدہ استحقاق کے طور پر پیش نہیں کرتی، بلکہ اسے ایک فطری حقیقت کے طور پر جیتی ہے۔ وہ نہ اپنی کمزوری کا سہارا لیتی ہے، نہ اپنی شناخت کو رعایت میں بدلنے دیتی ہے۔ اس کا اعتماد اس کے قدموں میں جھلکتا ہے؛ وہ برابری کو مانگنے کے بجائے جینے پر یقین رکھتی ہے۔
اس کے برعکس، ہمارے معاشرے میں جب بھی فیمینزم کی بات ہوتی ہے تو اکثر ایک عجیب سا تضاد جنم لیتا ہے۔ نظریہ اور عمل کے درمیان ایک واضح خلیج دکھائی دیتی ہے۔ ہم نے برابری کی جدوجہد کو ایک عملی مشق بننے کے بجائے محض ایک فکری اصطلاح تک محدود کر دیا ہے۔ میں نے اپنے مضمون میں ہائکنگ بیگ، سائیکلنگ اور ورزش کو ایک بغاوت کے استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے، جس کا مقصد ذمہ داری اٹھانے کی آمادگی اور خود کو اسی پیمانے پر پرکھنے کا استعارہ ہے جس پیمانے پر مرد کو پرکھا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں فیملیز کی آوازیں اس قدر اپنے الگ ہونے پر زور دیتی ہیں کہ برابری کا تصور خود ہی دھندلا جاتا ہے۔ برابری کا مطلب امتیاز مٹانا ہے، نہ کہ ایک نئے امتیاز کو جنم دینا۔ اگر ہر لمحہ یہ احساس دلایا جائے کہ ہم مختلف ہیں، تو پھر وہ ہم آہنگی کہاں باقی رہتی ہے جو کسی بھی معاشرتی تحریک کی روح ہوتی ہے؟
اصل سوال یہی ہے کہ کیا کوئی تحریک صرف نعروں سے زندہ رہ سکتی ہے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ نظریات اس وقت تک بے جان رہتے ہیں جب تک وہ روزمرہ زندگی کی سانسوں میں شامل نہ ہو جائیں۔ برابری اس وقت حقیقت بنتی ہے جب وہ راستوں پر چلتی نظر آتی ہے، بوجھ اٹھاتی ہے، فیصلے کرتی ہے، اور اپنی ذمہ داریوں کو دوسروں کے برابر محسوس کرتی ہے۔
میں یہ مانتا ہوں کہ ہر معاشرے کی اپنی روح ہوتی ہے؛ مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب ہے۔ ہم مغربی تہذیب کو بعینہٖ نقل نہیں کر سکتے، لیکن ان سے سیکھ کر اپنے سماج کی نفسیات کے مطابق اپنے لیے راستہ بنا سکتے ہیں۔ سیکھنا یہ نہیں کہ ہم وہی راستے اختیار کریں جو مغرب کی خواتین نے اختیار کیے؛ بلکہ یہ کہ ہم اپنے نظریات کو اپنی زمین پر کس طرح اتار سکتے ہیں۔ اس کے لیے عمل کی ضرورت ہے؛ خطیبانہ ہاؤ ہو سے شہرت تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر اس نظریے کو مظلوموں کی زندگی کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ تحریکیں نعروں سے نہیں بلکہ کرداروں سے جنم لیتی ہیں۔ وہ اس وقت پھلتی پھولتی ہیں جب وہ فرد کے روزمرہ رویّوں میں سرایت کر جائیں۔ اگر برابری کا دعویٰ ہے تو اس کا مظاہرہ بھی ہونا چاہیے، چاہے وہ ہائکنگ ٹریک ہو، دفتر کا کمرہ ہو یا زندگی کا کوئی اور میدان،عورت کو اپنے حق کے لیے پہلا عملی قدم اٹھانا پڑے گا۔ سوال یہی ہے کیا برابری صرف نعروں سے مل سکتی ہے اپنی رائے کا اظہار کریں

ضیاء افروز

10/05/2026

تورکھو روڈ
کرپشن یا ادارہ جاتی نااہلی

سولہ سالوں میں 28 کلومیٹر روڈ کا بجٹ 27 کروڑ سے 1 ارب 72 کروڑ تک پہنچ تو گئے مگر پی سی ون کے مطابق ایک کلومیٹر روڈ بھی تعمیر نہ ہو سکا۔۔۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے پریس کلب اپر چترال میں کلائمٹ ایکشن کے حوالے سے ایک روزہ آگاہی پروگرامرپورٹ: کریم اللہڈبلیو ڈ...
05/05/2026

ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے پریس کلب اپر چترال میں کلائمٹ ایکشن کے حوالے سے ایک روزہ آگاہی پروگرام

رپورٹ: کریم اللہ

ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے پریس کلب اپر چترال میں “بریجنگ سائنس، میڈیا اینڈ پالیسی فار کلائمٹ ایکشن” کے موضوع پر ایک روزہ آگاہی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔

اس موقع پر پریس کلب کے اراکین کے علاوہ سماجی و سیاسی حلقوں، انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ پولیس اپر چترال کی قیادت نے بھی شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے وارپ پراجیکٹ کے کوآرڈینیٹر حامد احمد میر نے موڑکھو کی دو یونین کونسلوں میں جاری پراجیکٹ سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔

پروگرام کے دوران سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد کیا گیا۔

اس موقع پر پریس کلب اپر چترال کے صدر محمد علی مجاہد نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا، جبکہ دیگر مقررین میں ذاکر محمد زخمی، کمیونٹی کی جانب سے احسان، فوکل پرسن اور ڈپٹی اسپیکر افگن رضا نے بھی خطاب کیا۔

پروگرام کے اختتامی کلمات چیئرمین تحصیل کونسل سردار حکیم نے ادا کیے۔ انہوں نے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے کاموں کو سراہتے ہوئے مستقبل میں اس پراجیکٹ کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

اپر چترال میں انٹرنیٹ سست روی کا شکار، صارفین رل گیے اپر چترال میں گزشتہ کئی روز سے پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ سست روی اور بار...
05/05/2026

اپر چترال میں انٹرنیٹ سست روی کا شکار، صارفین رل گیے

اپر چترال میں گزشتہ کئی روز سے پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ سست روی اور بار بار تعطل کا شکار ہے، جس کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

طلبہ آن لائن کلاسز اور اسائنمنٹس مکمل کرنے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں جبکہ کاروباری افراد بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی خراب صورتحال نے روزمرہ امور کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔

شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مسئلے کا نوٹس لے کر انٹرنیٹ سروس کو بہتر بنایا جائے تاکہ معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔

وادی رومبور میں 104 مستحق افراد میں الیکٹرک چولہوں کی تقسیمرومبور ( فتح اللہ)  اے وی ڈی پی اور اے کے آر ایس پی  کے باہمی...
04/05/2026

وادی رومبور میں 104 مستحق افراد میں الیکٹرک چولہوں کی تقسیم

رومبور ( فتح اللہ)

اے وی ڈی پی اور اے کے آر ایس پی کے باہمی تعاون سے ویلج کونسل رومبور میں مستحق افراد کے لیے الیکٹرک چولہوں کی تقسیم کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں چیئرمین ویلج کونسل رومبور سلطان کی نگرانی میں 104 افراد میں الیکٹرک چولہے تقسیم کیے گئے۔

اس موقع پر چیئرمین سلطان نے خطاب کرتے ہوئے AVDP اور AKRSP کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان اداروں کی جانب سے علاقے کے مستحق خاندانوں کی مدد ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے منصوبے عوام کی مشکلات میں کمی لانے اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرک چولہوں کی فراہمی کا مقصد مہنگے ایندھن پر انحصار کم کرنا، ماحول کو آلودگی سے بچانا اور گھریلو اخراجات میں کمی لانا ہے۔ اس کے علاوہ یہ چولہے خواتین کے لیے بھی سہولت کا باعث بنیں گے کیونکہ یہ محفوظ اور آسان استعمال کے حامل ہیں۔

تقریب کے اختتام پر مستفید ہونے والے افراد نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ایسے فلاحی منصوبے جاری رکھے جائیں گے۔

Address

Chitral

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anwaz Media Network - AMN posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Anwaz Media Network - AMN:

Share