Chitraltimes

Chitraltimes Chitral Times linking you with outer world, we share news and views with all our readers, specially its all about Chitral, GB and KP.
(1)

اپر چترال: دنیا کی بلند ترین پولو گراونڈ شندور میں اپر چترال انتظامیہ کے زیر اہتمام فیسٹول کی تیاریاں آخری مراحل میں داخ...
06/06/2026

اپر چترال: دنیا کی بلند ترین پولو گراونڈ شندور میں اپر چترال انتظامیہ کے زیر اہتمام فیسٹول کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل، ، پہلی مرتبہ گراؤ ند کے چاروں اطراف فینسنگ/باڑ لگادی گئی تاکہ کوئی بھی تماشائی گراونڈ میں داخل نہ ہوسکے، فیسٹول ۱۱جون سے شروع ہوکر ۱۳جون کو اختتام پذیر ہوگا(چترال ٹائمز)

06/06/2026

گلگت بلتستان انتخابات، کس کا پلہ بھاری؟ کونسی پارٹی اکثریت لے گی؟

ریشن میں رات، عوام کا دھرنا اور سیاسی نمائندگی پر بڑا سوالتحریر شہزاد احمد شہزاد آج ریشن کے عوام رات کے اس پہر اپنے جائز...
06/06/2026

ریشن میں رات، عوام کا دھرنا اور سیاسی نمائندگی پر بڑا سوال

تحریر شہزاد احمد شہزاد

آج ریشن کے عوام رات کے اس پہر اپنے جائز مطالبات کے حق میں دھرنے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ کوئی معمولی منظر نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے سیاسی نظام اور عوامی نمائندگی پر کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔

وہ لوگ جنہوں نے اپنے نمائندوں کو ہزاروں ووٹ دے کر اس امید کے ساتھ ایوانوں میں بھیجا کہ وہ ان کے مسائل، حقوق اور مفادات کا تحفظ کریں گے، آج وہی عوام اپنے بنیادی مطالبات کے لیے سڑکوں پر بیٹھی ہے۔ یہ لمحہ محض احتجاج کا نہیں، بلکہ اجتماعی بے بسی اور سیاسی بے حسی کا آئینہ ہے۔

تصویر میں نظر آنے والے ریشن کے بزرگ اور عمائدین کا رات کے وقت گھروں سے نکل کر دھرنے میں بیٹھنا کسی بھی باشعور معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔ یہ منظر اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ جب عوام کی آواز ایوانوں تک نہ پہنچے، تو لوگ سڑکوں پر آ کر اپنی موجودگی کا احساس دلانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اقتدار صرف اختیار کا نام نہیں، بلکہ ذمہ داری اور جوابدہی کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ عوام نے جن کندھوں پر اعتماد رکھا، اگر وہی کندھے عوام کے مسائل کا بوجھ اٹھانے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیں، تو سوال پیدا ہونا فطری ہے۔

ریشن کے عوام آج بھی تصادم نہیں چاہتے، وہ صرف اپنے جائز حقوق، انصاف اور توجہ کے طلبگار ہیں۔ مگر رات کے اس وقت دھرنے میں بیٹھے یہ چہرے ایک تلخ سوال ضرور چھوڑ رہے ہیں:
کیا عوام کے ووٹ سے اقتدار تک پہنچنے والوں کے ضمیر تک عوام کی آواز اب بھی پہنچتی ہے؟

سال 2023 میں جب میں نے مستوج کا سفر شروع کیا تو یہ راستہ میرے لیے صرف ایک سفر نہیں تھا بلکہ ایک آزمائش تھا۔ ہر بار 4 سے ...
06/06/2026

سال 2023 میں جب میں نے مستوج کا سفر شروع کیا تو یہ راستہ میرے لیے صرف ایک سفر نہیں تھا بلکہ ایک آزمائش تھا۔ ہر بار 4 سے 5 گھنٹے تک دشوار گزار سڑکوں پر سفر کرنا آسان نہیں تھا۔ لمبا سفر، گرد و غبار، تھکن اور وقت کا ضیاع روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے تھے۔ اس کے باوجود میرے دل میں ایک امید زندہ تھی کہ سڑک کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ایک دن ایسا آئے گا جب یہی سفر محض ڈھائی گھنٹوں میں طے ہو جائے گا اور لوگوں کی مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی۔

وقت گزرتا گیا، دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدلتے گئے۔ آج 2026 آ چکا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالات تقریباً ویسے ہی ہیں جیسے تین سال پہلے تھے۔ آج بھی مستوج پہنچنے میں وہی 4 سے 5 گھنٹے لگتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت تو آگے بڑھ گیا لیکن ترقی کا پہیہ وہیں رک گیا ہے۔

یہ صرف میرے سفر کی کہانی نہیں بلکہ ان ہزاروں لوگوں کی مشترکہ داستان ہے جو روزانہ اس سڑک پر سفر کرتے ہیں۔ بیمار افراد، طلبہ، اساتذہ، سرکاری ملازمین، کاروباری حضرات اور عام مسافر سبھی اس تاخیر کی قیمت اپنے وقت، توانائی اور وسائل سے ادا کر رہے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں کی امیدیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں اور یہ سوال مزید مضبوط ہو رہا ہے کہ آخر اس اہم منصوبے میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟

کیا ہمارے مسائل سننے والا کوئی نہیں؟ کیا ہماری مشکلات کسی کی ترجیحات میں شامل نہیں؟ کیا مؤثر قیادت، منصوبہ بندی اور نگرانی کا فقدان اس تاخیر کی بنیادی وجہ ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب عوام جاننا چاہتے ہیں۔

اب خاموش رہنے کا وقت گزر چکا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اجتماعی طور پر متعلقہ حکام اور ذمہ دار اداروں سے جواب طلب کریں۔ ہمیں یہ جاننے کا حق ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹ کیا ہے اور اسے کب مکمل کیا جائے گا۔ اگر آج ہم نے اپنی آواز بلند نہ کی تو آنے والے سال بھی اسی انتظار میں گزر جائیں گے، وقت آگے بڑھتا رہے گا لیکن فاصلہ اور مشکلات ویسے ہی رہیں گی۔

ترقی صرف اعلانات سے نہیں آتی بلکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل سے آتی ہے۔ مستوج اور بالائی علاقوں کے عوام اس بنیادی سہولت کے منتظر ہیں۔ ہماری امید ہے کہ ذمہ داران اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھیں گے اور اس اہم شاہراہ کی تکمیل کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے تاکہ عوام کو وہ سہولت میسر آ سکے جس کا ان سے برسوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

سرورالدین چترال اپر

ایک مہینے کے اندر موڑکہو میں تین خواتین سمیت چار افراد کی خودکشی سہت پنڈورگازموڑکہو سے تعلق رکھنے والی ایک جوانسال لڑکی ...
06/06/2026

ایک مہینے کے اندر موڑکہو میں تین خواتین سمیت چار افراد کی خودکشی

سہت پنڈورگازموڑکہو سے تعلق رکھنے والی ایک جوانسال لڑکی کی مبینہ خودکشی

اپر چترال (جمشیداحمد) تفصیلات کے مطابق ش ب دختر شبیرخان ساکن پنڈورگاز سہت گزشتہ رات مبینہ طور پر خودکشی کی نیت سے زہر کھانے پر رورل ہیلتھ سنٹر دراسن پہنچایا گیا ہسپتال پہنچتے ہی انتقال کرگئی ہے
لاش کی پوسٹ مارٹھم کے بعد سپردخاک کردیا گیا ہے۔

یاد رہے اس مہینے میں علاقہ موڑکہو میں تین خواتین اور ایک مرد خودکشی کی ہیں جوکہ بہت افسوسناک ہے

کاکروچ جنتا پارٹی اور پاکستان کے نوجوانتحریر: ہدایت الحقپندرہ مئی دو ہزار چھبیس کو بھارت کی سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے ...
06/06/2026

کاکروچ جنتا پارٹی اور پاکستان کے نوجوان

تحریر: ہدایت الحق

پندرہ مئی دو ہزار چھبیس کو بھارت کی سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے ملک کے بے روزگار نوجوانوں کو "کاکروچ" اور "سماج کا پرجیوی" کہا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نوجوان کاکروچوں کی طرح ہیں جنہیں نہ روزگار ملتا ہے نہ پیشے میں جگہ، اور یہ سوشل میڈیا اور آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ بن کر سب پر حملے کرتے ہیں۔ یہ الفاظ شاید عدالت کی دیواروں میں دب جاتے مگر ہوا کچھ اور ہی — یہ چنگاری ایک ایسے جنگل میں گری جو پہلے سے سوکھا پڑا تھا۔

اگلے ہی دن ابھیجیت دیپکے نامی نوجوان نے لکھا — "کیا ہوگا اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں؟" اور اس کے ساتھ "کاکروچ جنتا پارٹی" کی بنیاد رکھ دی — جو بھارتیہ جنتا پارٹی کا طنزیہ نام ہے۔ یہ کوئی رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں، نہ اس کے امیدوار ہیں، نہ بوتھ، نہ دیواروں پر بینر — مگر اس کا منشور ہے، لوگو ہے اور ایک آواز ہے جو براہ راست اس نسل سے بات کرتی ہے جو ریلز پر پلی اور غصے پر جوان ہوئی۔ ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں اس کے انسٹاگرام فالوورز بیس ملین سے تجاوز کر گئے — جو بی جے پی اور انڈین نیشنل کانگریس دونوں کے سوشل میڈیا سامعین سے زیادہ ہیں۔

یہ محض ایک انٹرنیٹ مذاق نہیں ہے۔ یہ بھارت کی نئی نسل کے اندر کا وہ درد ہے جو برسوں سے دبا ہوا تھا اور ایک لفظ نے بند توڑ دیا۔ ازیم پریم جی یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق بیس سے انتیس سال کے بے روزگار بھارتیوں میں دو تہائی گریجویٹ ہیں — یعنی پڑھ لکھ کر بھی روزگار نہیں۔ پندرہ سے انتیس سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح مارچ دو ہزار چھبیس میں پندرہ اعشاریہ دو فیصد تک جا پہنچی۔ چالیس فیصد نوجوان گریجویٹ بے روزگار ہیں اور ملک کا مینوفیکچرنگ سیکٹر جمود کا شکار ہے — معیشت زراعت سے براہ راست اعلی خدمات کی طرف چھلانگ لگا گئی، جس میں اوسط گریجویٹ کے لیے جگہ نہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے منشور میں بڑے میڈیا ہاؤسز کے لائسنس منسوخ کرنے، ووٹروں کی فہرستوں سے ہیرا پھیری بند کرنے، ریٹائرڈ ججوں کی پارلیمنٹ میں تقرری ختم کرنے اور پریس کی آزادی جیسے سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس تحریک کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے طنز کو ہتھیار بنایا — نعرے میں ہنسی ہے مگر آنکھ میں آنسو بھی۔ اس تحریک کے پس منظر میں جنوبی ایشیا کی وہ لہر بھی ہے جو گزشتہ دو برسوں میں اٹھی — بنگلہ دیش میں طلبہ نے شیخ حسینہ کی حکومت گرا دی، نیپال میں نوجوانوں نے سڑکوں پر حکومت کو جھکنے پر مجبور کیا۔ بھارت کا نوجوان یہ سب دیکھ رہا ہے، محسوس کر رہا ہے، اور اب شاید اپنی زبان بھی پا رہا ہے۔

اب پاکستان کی طرف آتے ہیں۔ یہاں کا نوجوان بھی اسی دوراہے پر کھڑا ہے — بلکہ شاید زیادہ سنگین صورتحال میں۔ بھارت کے نوجوان کے پاس کم از کم معاشی ترقی کی ایک رفتار ہے جو اسے امید دیتی ہے — پاکستانی نوجوان کے سامنے مہنگائی، بجلی کے بل، تعلیمی بدحالی اور ریاستی بے اعتنائی کا پہاڑ ہے۔ مگر دونوں میں ایک بات مشترک ہے — ڈیجیٹل دنیا نے انہیں باخبر کیا ہے، آواز دی ہے، مگر نظام نے بے اختیار رکھا ہے۔ پاکستان کا نوجوان ٹوئٹر پر حکومتیں ہلا سکتا ہے مگر اپنے محلے کا نالہ صاف نہیں کروا سکتا — یہی وہ المیہ ہے جو دونوں ممالک کی نئی نسل کو اندر سے کھا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی ہمیں ایک بڑا سبق دیتی ہے — اس کے بانی کے مطابق پانچ سال پہلے کوئی حکومت کے خلاف بولنے کو تیار نہیں تھا، اب وقت بدل رہا ہے۔ اور وقت انہی کے ہاتھوں بدلتا ہے جو خود بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ایک طنزیہ پارٹی نے بیس ملین لوگوں کو اکٹھا کر لیا — سوچیں اگر یہ آواز محض ہنسی نہ رہے بلکہ تبدیلی کا راستہ بن جائے تو کیا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں کسی مسیحا کا انتظار کرتے کرتے فنا ہو جاتی ہیں — اور جو قومیں زندہ رہتی ہیں، وہ اپنی حالت اپنے ہاتھوں سے بدلتی ہیں۔

جب انسان کے دل میں حفظِ قرآن کا Passion اور شوق ہو تو اسے کراچی لاہور یا پشاور جانے کی ضرورت نہیں ہوتی اس ویڈیو میں موجو...
06/06/2026

جب انسان کے دل میں حفظِ قرآن کا Passion اور شوق ہو تو اسے کراچی لاہور یا پشاور جانے کی ضرورت نہیں ہوتی اس ویڈیو میں موجود یہ دونوں بچے اپنے گاؤن کے مدرسے میں استاذِ محترم قاری عبدالمنان کی نگرانی میں حافظ قرآن بنے ہیں

انہوں نے قرآنِ کریم اس قدر محنت اور مضبوطی سے یاد کیا ہے جیسے بڑے شہروں کے معروف مدارس میں حفظ کیا جاتا ہے

میں قاری عبدالمنان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ان کے پورے خاندان کو مبارکباد دیتا ہوں اگر سچا شوق محنت اور اچھا استاد موجود ہو تو انسان اپنے علاقے اور گھر کے قریب رہ کر بھی حفظ قرآن کی عظیم دولت حاصل کر سکتا ہے-

زاہد الرحمن تنہا چترال

زندگیتحریر  :سلمان خان زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ اچھے کردار، خوبصورت رویوں اور سچے رشتوں کا نام ہے۔ انسان دن...
06/06/2026

زندگی

تحریر :سلمان خان

زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ اچھے کردار، خوبصورت رویوں اور سچے رشتوں کا نام ہے۔ انسان دنیا میں اکیلا آتا ہے اور ایک دن اکیلا ہی چلا جاتا ہے، لیکن اس کے الفاظ، اس کا اخلاق اور اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں باقی رہ جاتی ہے۔

زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر کسی کے ساتھ عزت، محبت اور خلوص سے پیش آئیں۔ اپنوں کا ساتھ خوش نصیبی ہوتا ہے، اس لیے ان کی قدر کرنی چاہیے۔ رشتے دولت سے نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور مخلصی سے مضبوط ہوتے ہیں۔ بعض اوقات اپنے ہی لوگ ہمیں سمجھ نہیں پاتے یا ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بھی اپنے اخلاق کو چھوڑ دیں۔ اچھا انسان وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں بھی اپنے کردار کی خوبصورتی برقرار رکھے۔

زندگی کا اصل حسن اس میں ہے کہ ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں، کسی کا دل نہ دکھائیں، اور جہاں تک ممکن ہو لوگوں کی مدد کریں۔ کامیابی صرف پیسہ کمانے کا نام نہیں بلکہ ایسا مقام حاصل کرنا ہے جہاں لوگ آپ کو عزت، محبت اور اچھے الفاظ کے ساتھ یاد کریں۔

یاد رکھیں، وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ آج کی مشکل کل کی کامیابی بن سکتی ہے، اور آج کی ناکامی کل کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ اس لیے کبھی ہمت نہ ہاریں، اپنے رب پر بھروسہ رکھیں، محنت کرتے رہیں اور دل صاف رکھیں۔ جو لوگ آپ کی قدر نہیں کرتے، ان کے لیے نفرت نہیں بلکہ خاموشی اور اپنی ترقی بہترین جواب ہے۔

"زندگی کا سب سے خوبصورت اصول یہ ہے کہ اپنے کردار کو اتنا مضبوط بنا لو کہ لوگ تمہارے بارے میں سنی ہوئی باتوں پر نہیں، بلکہ تمہیں دیکھ کر فیصلہ کریں۔ محبت بانٹو، عزت دو، محنت کرو اور اللہ پر یقین رکھو، کامیابی خود تمہارا راستہ تلاش کر لے گی۔" 🌹✨

جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیر وجیہ الدین نے حکومت خیبرپختونخوا اور بالخصوص وزارت مذہبی امور سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع چت...
06/06/2026

جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیر وجیہ الدین نے حکومت خیبرپختونخوا اور بالخصوص وزارت مذہبی امور سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع چترال لوئر میں بیسیوں آئمہ حضرات وظیفے سے محروم چلے آ رہے ہیں۔سیکرٹری ویلیج کونسلز کی ویریفیکیشن کے باوجود ان کو ابھی تک وظیفہ نہیں دیا جارہا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ نہ صرف ابھی تک وظیفے سے محروم ائمہ حضرات کو ان کے وظیفے یکمشت ادا کئے جائیں بلکہ پنجاب صوبائی حکومت کی طرح ان کے وظیفہ جات میں خاطر خواہ اضافہ بھی کیا جائے۔وجیہ الدین نے ڈی سی لوئر چترال سے اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

Hashoo School of Hospitality Management Appoints Mohammad Bin Tariq as Brand Ambassador for Educational Outreach in Uppe...
06/06/2026

Hashoo School of Hospitality Management Appoints Mohammad Bin Tariq as Brand Ambassador for Educational Outreach in Upper Dir and Chitral

Chitral : Hashoo School of Hospitality Management (HSHM) has announced the appointment of its alumnus, Mohammad Bin Tariq, as Brand Ambassador for Educational Outreach and Community Engagement in the regions of Upper Dir and Chitral.

A graduate of HSHM with CTH Level 4 and Level 5 qualifications, Mohammad Bin Tariq has distinguished himself through his dedication to youth empowerment, educational awareness, and community development. Over the years, he has actively worked to support aspiring students and promote access to educational opportunities in underserved areas.

Currently serving as a Youth Parliamentarian District Leader, Mohammad Bin Tariq resident of Drosh Chitral lower has played a significant role in guiding young people toward higher education and professional development while advocating for positive social change within local communities.

In his new role as Brand Ambassador, he will support initiatives aimed at increasing educational awareness, inspiring young learners, and expanding access to opportunities that empower individuals and strengthen communities across Upper Dir and Chitral.

Speaking on the occasion, representatives of Hashoo School of Hospitality Management expressed confidence that Mohammad Bin Tariq’s leadership, experience, and commitment to community service would contribute significantly to advancing the institution’s outreach efforts and educational mission.

The institution congratulated Mohammad Bin Tariq on this achievement and reaffirmed its commitment to promoting education, leadership, and community development through meaningful partnerships and engagement.

The initiative also supports the United Nations Sustainable Development Goals (SDGs), particularly SDG 4 (Quality Education), SDG 10 (Reduced Inequalities), and SDG 17 (Partnerships for the Goals), by fostering educational outreach and community engagement in underserved regions. (Chitraltimes)

Address

Chitral Printing Press, Building
Chitral

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chitraltimes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chitraltimes:

Share