Chitraltimes

Chitraltimes Chitral Times linking you with outer world, we share news and views with all our readers, specially its all about Chitral, GB and KP.
(1)

چترال بونی مستوج شندور روڈ بمقام کوراغ مکمل طور پر بحال کرکے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ضلعی انتظامیہ اپر چترال کی زیرِ ن...
08/08/2026

چترال بونی مستوج شندور روڈ بمقام کوراغ مکمل طور پر بحال کرکے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ اپر چترال کی زیرِ نگرانی محکمہ NHA نے حالیہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مکمل طور پر منقطع ہونے والی چترال بونی روڈ بمقام کوراغ کی بحالی کا کام مکمل کرکے مذکورہ سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے۔(چترال ٹائمز)

ہیلپنگ ہینڈ کے رضاکار سیلاب زدگان کی مدد کے لیے جغور پہنچ گئے!ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ کی ٹیم اپنے رضاکاروں ک...
08/08/2026

ہیلپنگ ہینڈ کے رضاکار سیلاب زدگان کی مدد کے لیے جغور پہنچ گئے!

ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ کی ٹیم اپنے رضاکاروں کے ہمراہ جغور گول، چترال میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی امداد اور بحالی کے کاموں میں مصروفِ عمل ہے۔
جاری پریس ریلیز کے مطابق سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے خیمے نصب کیے گئے جبکہ بحالی اور ملبہ ہٹانے کے کام میں مصروف افراد اور رضاکاروں کے لیے کھانے کا بھی انتظام کیا گیا۔

کوآرڈینیٹر ہیلپنگ ہینڈ محمد شجاع الحق بیگ کی قیادت میں یوتھ امپاورمنٹ کلب، یونیورسٹی آف چترال اور چترال ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے تربیت یافتہ رضاکاروں نے توقیر اللہ اور مدثر حسین کاظمی کی رہنمائی میں امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ رضاکاروں نے ملبہ ہٹانے، متاثرہ مقامات کی صفائی اور دیگر بحالی کے کاموں میں اپنا کردار ادا کیا۔

اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ کل بروز اتوار بڑی تعداد میں نوجوان رضاکاروں کو متحرک کرکے امدادی و بحالی کے کاموں کی رفتار مزید تیز کی جائے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد معمول کی زندگی کی طرف واپس لانے میں مدد فراہم کی جا سکے۔(چترال ٹائمز)

‎چترال وہ جگہ جہاں میں نے آنکھ کھولی،کبھی کبھی زندگی ہمیں وہاں سے جدا کر دیتی ہے جہاں ہماری پہلی سانسیں جڑی ہوتی ہیں۔ وہ...
08/08/2026

‎چترال وہ جگہ جہاں میں نے آنکھ کھولی،

کبھی کبھی زندگی ہمیں وہاں سے جدا کر دیتی ہے جہاں ہماری پہلی سانسیں جڑی ہوتی ہیں۔ وہ جگہ جہاں ہم پیدا ہوئے، بڑے ہوئے، لوگوں سے گھل ملے ، ہنسے، روئے اور زندگی کو سمجھا، اسے چھوڑنا دل کے لیے سب سے مشکل امتحان ہوتا ہے۔ وہاں کے لوگ صرف جان پہچان والے نہیں ہوتے بلکہ ہمارے وجود کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔ جاتے وقت قدم تو آگے بڑھ جاتے ہیں مگر دل ہر گلی، ہر چہرے اور ہر یاد میں الجھ کر پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہ جدائی صرف جگہ اور لوگوں سے نہیں بلکہ اپنے بچپن، اپنی پہچان اور اپنی روح کے ایک حصے سے ہوتی ہے، اور اس کا درد شاید وقت کے ساتھ ہلکا ہو جائے مگر کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا-

افغان مهاجرين كى بيدخلى ايک رياستى معامله بے اور اس ميں عوام كى
كوئى مرضى شامل نهيں۔

يہاں سے جولوگ جا رہے ہیں ان كى جڑیں اس مٹی سے اٹھی ہیں- ان ميں كوئى كسى كا شا گرد ہے توكوئى كسى كا استاذ -
كسى كا دوست بچھڑ رہا ہے ، كسى كى مجلس اجڑ رہی ہے.
توكسى كى دنيا ہی برباد ہورہی ہے۔
بچھڑتی یادیں بميشہ اپنی اندر دكهى كہانیاں اور دل خراش داستانيں ركهتی ہیں۔

‎چترال وہ جگہ جہاں میں پیدا ہوا، جہاں میں نے آنکھ کھولی، چلنا
‎ سیکھا، خواب دیکھے اور بے شمار لوگوں سے ملا، وہ صرف ایک جگہ نہیں بلکہ میری شناخت کا حصہ ایسے مقام کو چھوڑنا میرے لیے بے حد مشکل ہے کیونکہ یہ صرف ایک شہر یا محلہ نہیں بلکہ میری زندگی کا وہ باب ہے جس میں میرا بچپن، میری جوانی اور میرے جذبات شامل ہیں۔ وہاں سے رخصت ہونا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں اپنے وجود کا ایک حصہ پیچھے چھوڑ رہا ہوں، اور یہ جدائی دل پر ایک گہرا اور خاموش درد چھوڑ جاتی ہے

‎اس علاقے کے لوگ بے حد مہربان، خلوص سے بھرپور اور مددگار ہیں۔ وہ صرف پڑوسی نہیں بلکہ ایک خاندان کی طرح تھے جو ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔ کسی کو ضرورت ہو تو بغیر پوچھے مدد کے لیے آگے بڑھ جاتے، اور اجنبی کو بھی اپنائیت کا احساس دلاتے تھے۔ ان کے لہجوں میں نرمی، رویّوں میں سچائی اور دلوں میں دوسروں کے لیے جگہ ہوتی تھی۔ انہی لوگوں کی محبت اور خلوص نے اس جگہ کو میرے لیے خاص بنایا، اور انہی کی وجہ سے وہاں سے جدائی اور بھی زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے کیونکہ ایسے لوگ زندگی میں بار بار نہیں ملتے

‎اس مقام سے رخصت ہوتے وقت میرے دل میں احترام اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ایک گہرا جذباتی بوجھ بھی ہے۔ یہاں قیام کے دوران اگر میرے کسی قول، فعل یا طرزِ عمل سے کسی کو دانستہ یا نادانستہ طور پر تکلیف پہنچی ہو تو میں اس کے لیے خلوصِ دل سے معذرت خواہ ہوں۔ انسان ہونے کے ناطے غلطی کا امکان ہمیشہ رہتا ہے، مگر میری نیت کبھی کسی کے دل کو دکھانے کی نہیں رہی۔ میں امید کرتا ہوں کہ میری کوتاہیوں کو درگزر فرمایا جائے گا۔ جاتے ہوئے بس یہی خواہش ہے کہ اس جگہ اور یہاں کے معزز لوگوں کی یادیں اور دعائیں میرے ساتھ رہیں، اور میں اس مقام کو ہمیشہ عزت، شکرگزاری اور احترام کے ساتھ یاد رکھوں گا

‎میں اس موقع پر آپ سب سے باضابطہ طور پر اجازت چاہتا ہوں۔ یہاں گزارا ہوا وقت میرے لیے نہایت قیمتی رہا ہے اور میں اس مقام اور یہاں کے لوگوں کی محبت، تعاون اور عزت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے یاد رکھوں گا۔ اب رخصت ہوتے ہوئے آپ سب کے لیے نیک تمناؤں کے ساتھ الوداع کہتا ہوں۔ اللہ کرے آنے والا وقت آپ سب کے لیے خیر، کامیابی اور سکون لے کر آئے-آمین

عبید اللہ

ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال لوئر میں پہلی مرتبہ جدید CT سکین مشین نصب،چترال(نمائندہ چترال ٹائمز)آج ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال ل...
08/08/2026

ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال لوئر میں پہلی مرتبہ جدید CT سکین مشین نصب،

چترال(نمائندہ چترال ٹائمز)آج ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال لوئر میں ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی چترال سے ممبر صوبائی اسمبلی فاتح الملک علی ناصراور ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ منہاس الدین تھے۔ انہوں نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر فیاض علی رومی اور سینئر اسپیشلسٹ ڈاکٹر رکن الدین کے ہمراہ جدید CT Scan مشین کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

اس موقع پر مہمانوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے طبی سہولیات اور جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کا مشاہدہ بھی کیا۔

تقریب کے دوران نئے تعینات ہونے والے ڈاکٹرز میں Appointment Orders بھی تقسیم کیے گئے۔

یادرہے کہ پہلی مرتبہ ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں سی ٹی اسکین مشین نصب کی گئی ہے جوہسپتال میں طبی خدمات کو مزید مؤثر اور بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔چترال ٹائمز

چترال میں بڑھتے ہوئے سیلاب ...آخر ہم کب سنجیدہ ہوں گے؟تحریر:اسامہ شمسآج کل چترال کے مختلف علاقوں سے سیلاب، اچانک آنے وال...
08/08/2026

چترال میں بڑھتے ہوئے سیلاب ...آخر ہم کب سنجیدہ ہوں گے؟

تحریر:اسامہ شمس

آج کل چترال کے مختلف علاقوں سے سیلاب، اچانک آنے والے ریلوں اور ندی نالوں میں طغیانی کی خبریں مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ بارش قدرت کا ایک نظام ہے، اسے ہم روک نہیں سکتے، لیکن یہ ضرور سوچنا ہوگا کہ آج سیلاب پہلے کی نسبت زیادہ خطرناک اور تباہ کن کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟

چترال ایک پہاڑی علاقہ ہے، یہاں بارش کے دوران پہاڑوں سے آنے والا پانی بہت تیزی سے نیچے کی طرف آتا ہے۔ جب ندی نالوں میں پانی کی گنجائش کم ہو، راستے میں رکاوٹیں ہوں یا جنگلات کم ہو چکے ہوں تو یہی پانی چند لمحوں میں ایک خطرناک ریلے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

جنگلات کی بے دریغ کٹائی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ درخت صرف ہمیں لکڑی یا سایہ ہی نہیں دیتے بلکہ بارش کے پانی کو جذب کرنے، زمین کو مضبوط رکھنے اور پانی کے بہاؤ کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب پہاڑوں سے درخت ختم ہوتے ہیں تو بارش کا پانی براہِ راست زمین پر گرتا ہے اور مٹی، پتھر اور لکڑی اپنے ساتھ بہا کر ندی نالوں میں لے آتا ہے، جس سے سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ دریاؤں اور ندی نالوں کے قدرتی راستوں میں تعمیرات، نالوں میں کچرا پھینکنا، پانی کے راستوں کو بند کرنا اور بغیر منصوبہ بندی کے تعمیرات بھی مستقبل میں بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔

ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ سیلاب صرف قدرتی آفت نہیں، بعض اوقات ہماری اپنی غلطیاں بھی اس کی تباہ کاری کو بڑھا دیتی ہیں۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سیلاب آنے کے بعد صرف امداد اور نقصانات کا جائزہ لینے کے بجائے پہلے سے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ خطرناک ندی نالوں اور دریاؤں کے کناروں کی نشاندہی کی جائے، پانی کے قدرتی راستوں کو صاف رکھا جائے، غیر ضروری تعمیرات کو روکا جائے، حفاظتی دیواروں اور دیگر ضروری اقدامات پر توجہ دی جائے اور سب سے بڑھ کر جنگلات کی کٹائی کو سختی سے روکا جائے۔

اسی کے ساتھ ہمیں بڑے پیمانے پر شجرکاری کرنی ہوگی۔ جو درخت موجود ہیں، ان کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی نئے درخت لگانا۔

اور یہ ذمہ داری صرف حکومت یا محکمہ جنگلات کی نہیں بلکہ ہم سب کی ہے۔ اگر ہم اپنے ہی ہاتھوں سے درخت کاٹتے رہیں، ندی نالوں میں کچرا پھینکتے رہیں اور قدرتی راستوں کو بند کرتے رہیں تو پھر ہر سال سیلاب کے بعد صرف حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔

ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ آج اگر ہم نے اپنے جنگلات، پہاڑوں، دریاؤں اور قدرتی ماحول کی حفاظت نہ کی تو آنے والے وقت میں حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔

چترال کی خوبصورتی صرف اس کے پہاڑوں اور دریاؤں میں نہیں، بلکہ اس کے قدرتی ماحول میں ہے۔ اس ماحول کی حفاظت کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اللہ تعالیٰ چترال اور پورے پاکستان کو ہر قسم کی قدرتی آفات سے محفوظ رکھے، تمام متاثرہ خاندانوں کی حفاظت فرمائے اور ہمارے علاقے کو امن و سلامتی عطا فرمائے۔ آمین۔

سیلاب کے بعد صرف افسوس کرنے کے بجائے سیلاب سے پہلے احتیاط کرنا سیکھیں۔درخت بچائیں، جنگلات بچائیں، پانی کے راستے محفوظ رکھیں اپنا چترال محفوظ بنائیں۔

تعمیرِ مسجد میں اپنا حصہ شامل کریں 🕌الحمدللہ! کاؤں شوتخار (تورکھو) اپر چترال کی واحد جامع مسجد، جو 1982 میں تعمیر ہوئی ت...
08/08/2026

تعمیرِ مسجد میں اپنا حصہ شامل کریں 🕌

الحمدللہ! کاؤں شوتخار (تورکھو) اپر چترال کی واحد جامع مسجد، جو 1982 میں تعمیر ہوئی تھی، بڑھتی ہوئی آبادی اور نمازیوں کی تعداد کے باعث توسیع اور ازسرِ نو تعمیر کے مرحلے میں ہے۔

یہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ ہماری دینی، تعلیمی اور سماجی زندگی کا مرکز ہے۔ محدود وسائل کے باوجود اہلِ علاقہ اپنی استطاعت کے مطابق اس عظیم کارِ خیر میں حصہ لے رہے ہیں، اور اب تک تقریباً 23 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ تاہم پہلی منزل کی تکمیل کے لیے مزید مالی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص اللہ کے لیے مسجد بناتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے۔"

آئیے! اس صدقۂ جاریہ میں اپنا حصہ ڈالیں۔ آپ کی معمولی سی امداد بھی مسجد کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اپنے والدین، مرحومین اور اہلِ خانہ کے ایصالِ ثواب کی نیت سے اس کارِ خیر میں ضرور شریک ہوں۔

🤲 اللہ تعالیٰ تمام معاونین کے مال، جان، اولاد اور رزق میں برکت عطا فرمائے اور اسے ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔

تعاون کرنے کے لئے حضرات اس ایزی پیسہ اکاونٹ بنام مولانا ریاض الدین مکی پر سینڈ کر دیں
03459251482


فقط امیر حمزہ انقلابی

موسمی انتباہ​محکمہ موسمیات کے مطابق، خیبر پختونخوا میں ایک فعال موسمی سسٹم موجود ہے۔ ریسکیو 1122 لوئر چترال کی طرف سے مط...
08/08/2026

موسمی انتباہ

​محکمہ موسمیات کے مطابق، خیبر پختونخوا میں ایک فعال موسمی سسٹم موجود ہے۔ ریسکیو 1122 لوئر چترال کی طرف سے مطلع کیا جاتا ہے کہ اس کے زیر اثر آئندہ 03 سے 05 گھنٹوں کے دوران چترال سمیت مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش (چند مقامات پر موسلا دھار بارش) کا امکان ہے۔
​بالائی اضلاع میں متوقع موسلا دھار بارش کے باعث مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ اس سلسلے میں، ریسکیو 1122 لوئر چترال نے تمام متعلقہ عملے کو ہائی الرٹ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ناگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
​عوام الناس سے گزارش ہے کہ ریسکیو 1122 لوئر چترال کی ہدایات کے مطابق موسمی صورتحال کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی

ہنگامی صورتحال میں فوری مدد کے لیے ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں تاہم ایمرجنسی نمبر "1122" نہ ملنے کی صورت میں درجہ ذیل نمبرز پر رابطہ کریں, ضلعی انتظامیہ

چترال کو آفت زدہ قرار دینا کافی نہیں، آفات کا راستہ روکنا ہوگاتحریر: سیدہ منہاز پریچترال ایک بار پھر قدرتی آفات کی زد می...
08/08/2026

چترال کو آفت زدہ قرار دینا کافی نہیں، آفات کا راستہ روکنا ہوگا

تحریر: سیدہ منہاز پری

چترال ایک بار پھر قدرتی آفات کی زد میں ہے۔ سیلاب، طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک آنے والی بارشیں یہاں کے لوگوں کے لیے کوئی نئی حقیقت نہیں رہیں۔ ہر بار پانی کا ریلہ اپنے ساتھ صرف مکانات، سڑکیں اور فصلیں ہی نہیں بہاتا بلکہ کئی خاندانوں کی برسوں کی محنت بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ ایسے میں ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے: کیا چترال کو آفت زدہ قرار دینا ہی مسئلے کا حل ہے؟

یقیناً کسی علاقے کو آفت زدہ قرار دینا ایک اہم انتظامی قدم ہو سکتا ہے۔ اس سے متاثرین کے لیے فوری امداد، بحالی اور حکومتی وسائل کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن اگر ہر سال سیلاب آئے، ہر سال علاقے کو آفت زدہ قرار دیا جائے اور ہر سال ہم صرف نقصانات کا ازالہ کرتے رہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم آفت کے بعد جاگنے کے بجائے آفت سے پہلے تیاری کیوں نہیں کرتے؟

چترال کی جغرافیائی صورتِ حال اسے قدرتی خطرات کے حوالے سے حساس بناتی ہے۔ قدرتی جنگلات کی کٹائی، دریاؤں اور ندی نالوں کے قدرتی راستوں میں تعمیرات، غیر منصوبہ بند آبادیاں اور ماحول کے ساتھ غیر محتاط رویہ ایسے عوامل ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مصیبتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور انسان کے لیے تنبیہ کا ذریعہ بھی ہو سکتی ہیں۔ تاہم کسی مخصوص آفت کو قطعی طور پر اللہ کا عذاب قرار دینا درست نہیں۔ ہمیں روحانی پہلو کے ساتھ ساتھ قدرتی اور انسانی عوامل کو بھی سمجھنا ہوگا۔
حل آفت کا لیبل نہیں، مستقل منصوبہ بندی ہے

چترال کو آفت زدہ قرار دینا ضروری ہو تو ضرور قرار دیا جائے، لیکن اس کے ساتھ ایک طویل المدتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان بھی ہونا چاہیے۔

خطرناک علاقوں کی سائنسی بنیادوں پر نشاندہی کی جائے، دریاؤں اور ندی نالوں کے قدرتی راستوں پر تعمیرات روکی جائیں، جنگلات کی حفاظت اور شجرکاری کو ترجیح دی جائے، سیلابی گزرگاہوں کو محفوظ رکھا جائے اور جدید موسمیاتی وارننگ سسٹم قائم کیا جائے۔

اس کے ساتھ مقامی آبادی کو بھی تربیت دی جائے تاکہ ہنگامی صورتحال میں لوگوں کو معلوم ہو کہ کب اور کہاں منتقل ہونا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریلیف سے زیادہ توجہ پریوینشن پر دی جائے۔ ہر سال نقصان کے بعد امداد دینے سے بہتر ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے نقصان کا امکان ہی کم ہو۔

چترال کے لوگوں کو صرف ہمدردی نہیں، محفوظ مستقبل چاہیے۔
انہیں ہر سیلاب کے بعد یہ سننے کی ضرورت نہیں کہ ’’آپ کا علاقہ آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے‘‘۔ انہیں یہ یقین چاہیے کہ ان کے بچوں، گھروں، سڑکوں، فصلوں اور مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ریاست نے مستقل منصوبہ بندی کی ہے۔

چترال کو آفت زدہ قرار دینا شاید ایک قدم ہو، مگر منزل نہیں۔ منزل یہ ہونی چاہیے کہ چترال کو بار بار آفت کا شکار ہونے سے بچایا جائے۔

قدرت کے ساتھ جنگ نہیں کی جا سکتی، مگر قدرت کے نظام کو سمجھ کر، ماحول کی حفاظت کرکے اور دانشمندانہ منصوبہ بندی کے ذریعے تباہی کے خطرات کو ضرور کم کیا جا سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف یہ نہ پوچھیں کہ سیلاب کے بعد کیا کریں؟
بلکہ یہ سوال بھی اٹھائیں:
“اگلا سیلاب آنے سے پہلے ہم نے کیا تیاری کی؟”
شاید اسی سوال میں چترال کے محفوظ مستقبل کی ابتدا چھپی ہے۔چترال ٹائمز

سینیٹر محمد طلحہ محمود کی طرف سے چترال کے سیلاب متاثرین کے گھروں میں صاف پانی پہنچانے کے لئے پائپ چترال پہنچ گئے۔
08/08/2026

سینیٹر محمد طلحہ محمود کی طرف سے چترال کے سیلاب متاثرین کے گھروں میں صاف پانی پہنچانے کے لئے پائپ چترال پہنچ گئے۔

سیلاب سے متاثرہ شیشی کوہ ویلی:محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن کی ٹیم کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کالاس،ٹنگل، کاوش،پٹیگاڑ،مڈکلشٹ،گ...
08/08/2026

سیلاب سے متاثرہ شیشی کوہ ویلی:

محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن کی ٹیم کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کالاس،ٹنگل، کاوش،پٹیگاڑ،مڈکلشٹ،گاؤچ اور گورین کا دورہ،جہاں سیلاب متاثرین میں فوڈ پیکجز تقسیم کیے گئے اور ان کے مسائل سنے گئے۔

یہ وقت صرف امداد کی فراہمی کا نہیں،بلکہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔
ٹیم محمد طلحہ محمود فاونڈیشن چترال

Address

Chitral Printing Press, Building
Chitral

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chitraltimes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chitraltimes:

Shortcuts

Share