Pakistan Coverage

Pakistan Coverage پاکستان کے مسائل روڈ ، پل ، بجلی ، پانی ، قومی ثقافت ، کھیل ، فیسٹولز ، زبان کی حفاظت

05/09/2026

🚨 گرم چشمہ ویلی کے بلند و بالا گلیشر سے ایک اہم سوال…! 🚨
چترال کی خوبصورت سرزمین، اس کے قدرتی خزانے اور بلند و بالا پہاڑ ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔ 🏔️
میرے پاس موجود اس ویڈیو میں گرم چشمہ تحصیل ویلی کے گاؤں مردان (مردان گول) کے اوپر تقریباً 11 ہزار فٹ بلندی پر موجود گلیشر ایریا میں ایک غیر مقامی شخص کو مبینہ طور پر مائننگ اور بلاسٹنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ: ❓ کیا اس کام کے لیے متعلقہ اداروں سے اجازت (NOC) حاصل کی گئی ہے؟ ❓ کیا مقامی آبادی اور انتظامیہ کو اعتماد میں لیا گیا ہے؟ ❓ کیا ہمارے قدرتی ماحول، گلیشرز اور پہاڑی نظام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں؟
اس غیرمعمولی سرگرمی سے لٹکوہ کے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے
یہ ویڈیو کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ قانون، ماحولیات اور چترال کے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے ایک توجہ طلب معاملہ ہے۔
ہم متعلقہ اداروں، ضلعی انتظامیہ اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کی جائیں، حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر کوئی غیر قانونی سرگرمی ہو رہی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
📢 آپ کی آواز اہم ہے: اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ متعلقہ اداروں تک یہ آواز پہنچ سکے۔
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں: کیا ہمارے قدرتی خزانوں کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے؟
اس طرح کے مزید ویڈیوز کیلیے پیج کو فالو کریں، شکریہ

Chitraltimes چترال کوریج Sherazade Laoudedj Mining Mayhem Minerals Development Department KP

چترال سے متعلق خبریں ویڈیو رپورٹ دیکھنے کیلیے QR کوڈ سکین کریں اور چینل کو سبسکرائب کریں، شکریہ
02/09/2026

چترال سے متعلق خبریں ویڈیو رپورٹ دیکھنے کیلیے QR کوڈ سکین کریں اور چینل کو سبسکرائب کریں، شکریہ

View the full image in ChatGPT.

02/09/2026
الحمدللہ، آپ سب کی محبت اور اعتماد کا شکریہ ❤️تقریباً ایک ہفتہ قبل سرحد یونیورسٹی کے حوالے سے ایک پوسٹ آپ کے ساتھ شیئر ک...
01/09/2026

الحمدللہ، آپ سب کی محبت اور اعتماد کا شکریہ ❤️
تقریباً ایک ہفتہ قبل سرحد یونیورسٹی کے حوالے سے ایک پوسٹ آپ کے ساتھ شیئر کی تھی۔ اللہ کے فضل اور آپ سب کی حوصلہ افزائی سے اس پوسٹ کو صرف 6 دن کے اندر لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔
اس پوسٹ پر: 🔹 10 لاکھ سے زائد ویوز
🔹 تقریباً 17،18 ہزار لائکس
🔹 ہزاروں شیئرز
🔹 اور 1800 سے زائد کمنٹس آئے۔
یہ کامیابی دراصل آپ سب کی محبت، اعتماد اور مثبت سوچ کا نتیجہ ہے۔ جن دوستوں نے پوسٹ کو پسند کیا، کمنٹ کیا، شیئر کیا اور اپنی قیمتی رائے دی، میں دل کی گہرائیوں سے سب کا شکر گزار ہوں۔
میری کوشش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ آپ تک اہم معلومات، عوامی مسائل، مثبت خبریں اور حقائق پر مبنی مواد پہنچایا جائے۔ آپ کی حوصلہ افزائی ہمیں مزید بہتر کام کرنے کا جذبہ دیتی ہے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایسی ہی اہم اور بروقت معلومات آپ تک مسلسل پہنچتی رہیں تو ہمارے پیج کو ضرور فالو کریں اور اپنے دوستوں تک بھی پہنچائیں۔
آپ کا ایک فالو، ایک لائک اور ایک شیئر ہمارے لیے مزید بہتر کام کرنے کی طاقت ہے۔
آپ سب کی محبت کا بے حد شکریہ ❤️
Pakistan Coverage
پیج کو خواہ مخواہ فالو کریں

پاک فوج زندہ باد پاک فوج زندہ آباد Pakistan Army

ایک SHO کی دستان فریادمیں ایک کرپٹ SHO/تھانیدار ہوں، مجھے مار ڈالیے!محکمہ پولیس میں بھرتی ہونے سے پہلے میں زندگی سے بھرپ...
01/09/2026

ایک SHO کی دستان فریاد
میں ایک کرپٹ SHO/تھانیدار ہوں، مجھے مار ڈالیے!
محکمہ پولیس میں بھرتی ہونے سے پہلے میں زندگی سے بھرپور ایک نوجوان تھا۔ بات بات پر ہنستا مسکراتا رہتا تھا دکھ اور غم میں بھی سکھ اور خوشی ڈھونڈ لیتا تھا۔ کچھ دوست احباب بھی رکھتا تھا رشتہ داروں سے بھی سلام دعا ہو جاتی تھی۔ لوگوں کی خوشیوں اور غموں میں شرکت بھی ہو جاتی تھی۔
پھر یوں ہوا کہ غمِ روزگار نے ملازمت کی جانب دھکیلا اور مقدر ٹھہری تھانیداری۔
شروع میں تو مبارک سلامت ہوئی، وردی کا رعب آیا، لوگ عزت سے سلام کرنے لگے۔ پھر آہستہ آہستہ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، مردم بیزاری، احباب ختم، خوشیوں غموں میں شرکت ختم اور سماجی زندگی ختم۔
سرکار ایک لاکھ تنخواہ دیتی ہے مگر یہ نہیں پوچھتی کہ ایک SHO اپنی ڈیوٹی نبھانے کے لیے کتنے لاکھ اپنی جیب سے خرچ کر چکا ہے۔
اور ڈیوٹی؟
24 گھنٹے، 365 دن۔
نہ اتوار نہ چھٹی نہ آرام۔
عید ہو ڈیوٹی، رمضان ہو ڈیوٹی، محرم ہو ڈیوٹی، قومی تہوار ہو ڈیوٹی۔ بلکہ جن دنوں عام آدمی اپنے گھر والوں کے ساتھ عید کی خوشیاں منا رہا ہوتا ہے پولیس والے کی ڈیوٹی اور بھی زیادہ سخت کر دی جاتی ہے۔
بچے عید پر باپ کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور باپ کسی ناکے، جلوس، گشت یا ڈیوٹی پوائنٹ پر کھڑا ہوتا ہے۔
دوسروں کے تہواروں کی حفاظت کرتے کرتے پولیس والے اپنے تہوار بھول جاتے ہیں۔
مہینے میں اوسطاً 5 دفعہ ہائی کورٹ اپنی جیب سے۔ پٹرول اپنی جیب سے، ریڈ اپنی جیب سے، اشتہاریوں کی گرفتاری اپنی جیب سے۔ دوسرے اضلاع میں ریڈ، دوسرے صوبوں میں ریڈ—گاڑی بھی اپنی، فیول بھی اپنا اور خرچہ بھی اپنا۔
پولیس اسٹیشن کی حالت یہ کہ کاغذ نہیں، پنسل نہیں، پرنٹر کا ٹونر نہیں، گاڑی کے لیے مناسب فیول نہیں لیکن کاغذوں میں سب کچھ مکمل ہے۔
سرکاری گاڑی کو دن رات چلنا ہے مگر ڈیزل کا کوٹہ ایسا جیسے گاڑی نہیں سائیکل ہو۔ صرف 10 لیٹر ڈیزل، وہ بھی 24 گھنٹوں کے لیے۔
باقی خرچہ؟
تھانیدار ہے نا!
گاڑی خراب ہو جائے تو مینٹیننس بھی اپنی جیب سے۔ تھانے کی مینٹیننس بھی اپنی جیب سے۔ انجمن تاجران، صحافی، وکلا، سول سوسائٹی اور دوسرے آنے والے معززین کی چائے پانی بھی اپنی جیب سے۔
اور پھر افسران کے دفاتر کا نظامDSP، SP، SSP، RPO اور نہ جانے کتنے دفاتر۔ ہر جگہ فائل، ہر جگہ خرچی، ہر جگہ پرچی۔ اگر خرچی نہ ہو تو دفتری برآمدوں کی مسلسل زیارت نصیب ہوتی ہے، پھر وضاحتیں، سزائیں، اپیلیں اور پھر وہی سائیکل۔
پھر آ گیا پراسیکیوشن محکمہ۔
ماشاءاللہ! فی چالان فیس لیتے ہیں، اگر نہ دو تو اعتراض اور پھر دھکے مکے کھاؤ۔ جتنا بڑا چالان اتنی موٹی فیس۔
پھر مقدمات کی انکوائری، شہادت، عدالت، ہائی کورٹ اور کبھی سپریم کورٹ۔
اور جانا خود اپنے پلے سے۔
پھر ذہنی دباؤ۔
افسران کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائنز، ہائی کورٹ کی ڈیڈ لائنز، سول کورٹ کی ڈیڈ لائنز۔ ماہانہ ٹارگٹ پورے کرنے کا دباؤ، ریکوری کرنے کا دباؤ، مقدمات نمٹانے کا دباؤ
ایک سینئر آفیسر تو کھلی کچہری میں حکم دیتا تھا:
"آج شام تک ایک گائے دیں ان کو"
اب گائے بھیSHO نےخود دینی ہے، سوال یہ ہے کہ "بنا ریکوری کہاں سے دیں"
پھر ناجائز سفارشیں، سیاسی دباؤ، Pressure Groups، بااثر لوگوں کے فون اور ہر طرف سے احکامات۔
ایک طرف کہا جاتا ہے:
"قانون کے مطابق کام کرو"
دوسری طرف فون آتا ہے:
"یہ کام قانون کے مطابق نہیں ہمارے مطابق کرو۔"
اور جب دونوں باتیں ٹکرا جائیں تو قصوروار کون؟
ظاہر ہے SHO!
پھر اسی SHO سے ایمانداری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
جب نظام اسے وسائل نہیں دیتا، اخراجات پورے نہیں کرتا، 24 گھنٹے 365 دن ڈیوٹی لیتا ہے، عید رمضان اور تہواروں پر مزید سخت ڈیوٹی لگاتا ہے، ہر طرف سے مالی و انتظامی دباؤ ڈالتا ہے اور پھر اسی سے پوچھتا ہے
"تم کرپٹ کیوں ہو؟"
تو سوال یہ ہے:
کیا ہم نے ایک ادارہ بنایا ہے یا ایسا نظام بنایا ہے جس میں ایک کمزور آدمی کو پہلے حالات کے ہاتھوں توڑا جاتا ہے، پھر اس کے ٹوٹنے پر اسے کرپٹ قرار دے کر قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے؟
میں یہ نہیں کہتا کہ ہر SHO ایماندار ہے۔
کرپشن کرنے والا کرپٹ ہے اور اسے جواب دینا چاہیے۔
لیکن ہر کرپشن کے پیچھے صرف ایک SHO کا لالچ تلاش کرنا بھی شاید اس مسئلے کو بہت آسان بنا دینا ہے۔
کبھی یہ بھی پوچھ لیجیے کہ:
ایک تھانے کا ماہانہ حقیقی آپریشنل خرچ کتنا ہے؟
سرکار کتنا دیتی ہے؟
باقی کہاں سے آتا ہے؟
اور اگر جواب یہ ہے کہ
"تھانیدار خود پورا کرے"
تو پھر اگلا سوال ہونا چاہیے:
تھانیدار اپنی جیب سے پورا کرے گا یا عوام کی جیب سے؟
اور اگر عوام کی جیب سے پورا کرے گا تو پھر چند سال بعد اسی تھانیدار کے گلے میں "کرپشن" کا پھندا ڈال کر ہمیں حیران ہونے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
شاید مسئلہ صرف کرپٹ SHO نہیں۔
شاید مسئلہ ایک ایسا نظام بھی ہے جو پہلے انسان کو نچوڑتا ہے، پھر اسے بدعنوان ہونے کے مواقع دیتا ہے، پھر اسی بدعنوانی پر تقریریں کرتا ہے، پھر ایک نئے SHO کو اسی کرسی پر بٹھا دیتا ہے۔
اور پھر ایک دن اعلان ہوتا ہے:
"محکمہ پولیس میں کرپشن ختم کی جائے گی!"
میں ایک کرپٹ SHO ہوں۔
مجھے مار ڈالیے۔
لیکن میرے مرنے سے پہلے اس نظام کا پوسٹ مارٹم ضرور کر لیجیے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ SHO مرتا رہے اور کرپشن زندہ رہے۔

30/08/2026

آپر چترال کے عوام کا بجلی ٹیرف کے خلاف ریشن کے مقام پر احتجاج جاری ہے اور چترال بونی روڈ پچھلے ایک ہفتے سے ہر قسم ٹریفک کیلیے بند ہے
حکومت کو چاہئیے عوام بر رحم فرماکر چترال میں بجلی ٹیرف کو پورانے نرخ پر بحال کرے،

26/08/2026

یوتھیا ڈاکٹر آئنہ انا کو جمائمہ نیازی کی طرح سمجھ رہے تھے
نہیں نہیں وہ پاک آرمی کے ایک بہادر افیسر کے شریک حیات ہیں💜💙💚💛❤

📌 لمبی چوڑی تحقیقات کی ضرورت ہی نہیںاس لڑکے اور معطل ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو اٹھا کر ان کے موبائل ضبط کئیے جائیں اور ان کا ف...
26/08/2026

📌 لمبی چوڑی تحقیقات کی ضرورت ہی نہیں
اس لڑکے اور معطل ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو اٹھا کر ان کے موبائل ضبط کئیے جائیں اور ان کا فرانزک ٹیسٹ کیا جائے، تمام معاملات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائیں گے۔
میں اگر تحقیقاتی ٹیم کا ممبر ہوتا ہے تو سب سے پہلے یہ کام کرتا، باقی رہا کرنل صاحب کا مسئلہ تو پاکستانی فوج کا حصہ ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جا سکتی ہے وہ کہیں بھاگ کر نہیں جائیں گے صبح ہمیشہ کی طرف اپنے دفتر جائیں گے لیکن یہ جو موب میں شامل طلبا تھے یہ اس وقت اپنے گھر میں بھی نہیں ہوں گے اور نہ کل یونیورسٹی آئیں گے
پاکستان میں موب لنچنگ کے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنل کو تین سیلیوٹ کرنے بنتے ہیں
پہلا اپنی بیوی کو ریسکیو کرنے تن تنہا مشتعل ہجوم میں گھس گئے
دوسرا تن تنہا اپنی بیوی کو مشتعل ہجوم کے نرغے سے نکالا
تیسرا انتہائی جذباتی اور مشکل حالات میں بھی اپنے اعصاب کو قابو رکھا اور صرف ہوائی فائرنگ کر کے صورتحال کو قابو کیا،
پاک فوج ہمیشہ زندہ باد
Maryam Nawaz Sharif PTI Khyber Pakhtunkhwa Chitraltimes
پیج کو فالو کرنا مت بھولیں

Address

Chitral

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Coverage posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pakistan Coverage:

Shortcuts

Share