عدل ڈسکہ

عدل ڈسکہ آپشن 1: ڈسکہ میں سماجی انصاف اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں۔

آپشن 2: مظلوم کی آواز اور ڈسکہ میں امن و انصاف کا سفیر۔

ان تصاویر میں سیالکوٹ کی تاریخ کا ایک ایسا دلچسپ اور منفرد واقعہ چھپا ہوا ہے جو عام طور پر لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔ اگر آ...
18/09/2026

ان تصاویر میں سیالکوٹ کی تاریخ کا ایک ایسا دلچسپ اور منفرد واقعہ چھپا ہوا ہے جو عام طور پر لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔ اگر آپ بورڈ پر غور کریں تو ڈپٹی کمشنر نمبر 45 اور 46 کی تاریخوں میں ایک بہت ہی حیران کن "ٹائم ٹریول" جیسا واقعہ نظر آتا ہے جو تاریخ کا ایک یادگار حصہ بن گیا۔
آئیے اس تاریخی اور دلچسپ کہانی کے ساتھ فیس بک کے لیے ایک شاندار پوسٹ تیار کرتے ہیں:
🕰️ سیالکوٹ کی انتظامی تاریخ کا ایک انوکھا اور حیران کن واقعہ! 🕰️
کیا آپ نے کبھی سرکاری ریکارڈ میں "ٹائم ٹریول" یا وقت کے پہیے کو الٹا گھومتے دیکھا ہے؟ ہمارے تاریخی شہر سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنرز کی سرکاری لسٹ میں ایک ایسا ہی حیرت انگیز اور دلچسپ واقعہ درج ہے جو تاریخ کا حصہ بن چکا ہے! 📜✨
اگر آپ سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنرز کا پرانا ریکارڈ دیکھیں تو 1897ء کے دور میں ایک ایسی عجیب و غریب تبدیلی نظر آتی ہے جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے:
🔹 مسٹر ایچ ایس سمتھ (Mr. H. S. Smith):
یہ صاحب سیالکوٹ کے 45 ویں ڈپٹی کمشنر بنے۔ بورڈ کے مطابق ان کا دورِ حکومت 22 مارچ 1897ء سے شروع ہوا اور 20 جولائی 1897ء کو ختم ہوا۔ یہاں تک تو سب ٹھیک تھا۔
🔹 لیفٹیننٹ جے جی (Lieutenant J.G):
اصل سسپنس ان کے بعد آنے والے 46 ویں ڈپٹی کمشنر سے شروع ہوتا ہے۔ سرکاری بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق، انہوں نے چارج 21 جولائی 1897ء کو سنبھالا، لیکن حیرت انگیز طور پر ان کا دورِ حکومت ختم ہونے کی تاریخ 5 اکتوبر 1857ء لکھی ہوئی ہے! 😲
یہ کہانی تاریخ کیوں بنی؟🧐
ٹیکنیکل طور پر یہ برٹش راج کے کلرکوں یا ریکارڈ لکھنے والوں کی ایک ایسی غلطی (Typo) تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی یادگار بن گئی۔ 1897ء میں چارج لینے والا افسر الٹے قدموں 40 سال پیچھے 1857ء (جنگِ آزادی کے سال) میں چلا گیا!
یہ مضحکہ خیز اور دلچسپ غلطی دہائیوں گزرنے کے بعد بھی سرکاری بورڈ پر جوں کی توں موجود ہے اور سیالکوٹ ڈی سی آفس آنے والے تاریخ دانوں اور باشعور شہریوں کے لیے ہمیشہ توجہ اور مسکراہٹ کا باعث بنتی ہے۔
📸 (نیچے کمنٹ یا تصویر میں آپ خود نمبر 45 اور 46 کے سامنے لکھی تاریخیں دیکھ سکتے ہیں!)
✍️!

📜 تاریخی حقائق: 1911ء کی مردم شماری اور ضلع سیالکوٹ کی آبادی 📜کیا آپ جانتے ہیں کہ آج سے تقریباً 115 سال پہلے ہمارے خطے ک...
09/09/2026

📜 تاریخی حقائق: 1911ء کی مردم شماری اور ضلع سیالکوٹ کی آبادی 📜کیا آپ جانتے ہیں کہ آج سے تقریباً 115 سال پہلے ہمارے خطے کی آبادی اور تحصیلوں کی صورتحال کیا تھی؟ آئیے تاریخ کے جھروکوں سے 1911ء کی مردم شماری کے دلچسپ اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جب ضلع سیالکوٹ کی کل آبادی 979,553 نفوس پر مشتمل تھی۔📍 تحصیل وار آبادی کی تفصیلات:🏛
سیالکوٹ: 283,489🌾
پسرور: 173,261🗺
ظفروال: 153,930🐄
رایا (رایہ): 194,275🏗
ڈسکہ: 171,598📊
دلچسپ تاریخی حقائق:1️⃣ آبادی کے اعتبار سے سیالکوٹ تحصیل سب سے بڑی تھی، لیکن رقبے کے لحاظ سے یہ ضلع کی سب سے چھوٹی تحصیل تھی۔ اسی وجہ سے یہاں آبادی کی گنجانیت (Density) سب سے زیادہ یعنی 494 افراد فی مربع میل تھی۔2️⃣ اگر صرف دیہی آبادی اور کاشت کے رقبے کا موازنہ کیا جائے تو گنجانیت مزید بڑھ کر 619 افراد فی مربع میل ہو جاتی تھی۔3️⃣ رقبے کے لحاظ سے پسرور تحصیل سب سے بڑی تھی، جہاں فی مربع میل آبادی کا تناسب 600 افراد تک پہنچ جاتا تھا۔چونکہ اس دور میں سیالکوٹ شہر سے باہر کوئی بڑی صنعت موجود نہیں تھی، اس لیے آبادی کا زیادہ تر دارومدار خالصتاً زراعت پر تھا۔اپنے شہر اور تحصیل کی تاریخ کے بارے میں جان کر آپ کو کیسا لگا؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں اور اس تاریخی معلومات کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں! ✨

بیٹا: میں نے 1947 میں جھوٹی قسم کھا کر دو سکھوں کی جان بچائی تھی ، کیا اللہ میرا یہ گناہ معاف نہیں کرے گا ؟ گوجرانوالہ ک...
06/09/2026

بیٹا: میں نے 1947 میں جھوٹی قسم کھا کر دو سکھوں کی جان بچائی تھی ، کیا اللہ میرا یہ گناہ معاف نہیں کرے گا ؟ گوجرانوالہ کے سیاستدان محمود بشیر ورک کے والد احمد بشیر ورک سے جڑا ایک سچا واقعہ ۔۔۔۔ امریکہ میں مقیم سکھ ڈاکٹر ترونجیت سنگھ کے دادا دادی گوجرانوالہ میں رہتے تھے جب 1947 میں فسادات پھوٹ پڑے تو یہ کسی نہ کسی طرح لاہور پہنچ گئے اور یہاں انہیں احمد بشیر ورک نے اپنے گھر میں پناہ دی ۔ چند روز بعد محلے کے امام مسجد نے انہیں بلایا اور مسجد میں بٹھا کر پوچھا تمہارے گھر جو مہمان ہیں وہ کون ہیں ؟ احمد بشیر نے کہا میرے بھائی انکی بیوی اور بچے ہیں ۔ امام مسجد نے کہا ، اگر سچے ہو تو قران مجید پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھاؤ ، احمد بشیر ورک نے چند لمحے سوچا اور پھر قران مجید پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا لی کہ یہ لوگ انکے رشتہ دار اور مسلمان ہیں ۔۔۔۔ یہ سکھ خاندان دو ماہ اس گھر میں چھپے رہا ،اور پھر بھارت چلا گیا ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر ترونجیت کو یہ واقعہ انکی دادی نے سنایا تھا جب یہ ایک نوجوان لڑکے تھے ۔۔۔۔ پھر یہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے اور ڈاکٹر بن کر وہاں بھر پور زندگی گزاری ، چند سال قبل انکا رابطہ گورنمنٹ کالج لاہور کے پروفیسر کلیان سنگھ سے ہوا جو 1947 کے واقعات پر ایک گہری ریسرچ رکھتے تھے ، کلیان سنگھ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ لاہور آئے تو انکی ملاقات گوجرانوالہ کے ورک خاندان سے کروائیں گے اور یہ کہ احمد بشیر ورک کے بیٹے اب علاقے کے نامور سیاستدان ہیں ۔ ڈاکٹر ترونجیت لاہور آئے اور پھر کلیان سنگھ کے ہمراہ گوجرانوالہ گئے وہاں احمد بشیر ورک کے بیٹے محمود بشیر ورک سے ملاقات ہوئی اور اس سارے واقعہ کی تصدیق چاہی گئی تو محمود بشیر ورک نے بھی تصدیق کی کہ یہی واقعہ انکے والد احمد بشیر نے انتقال سے کچھ روز قبل انہیں سنایا تھا کہ انہیں اس بات کا انہیں یقین ہے کہ 1947 میں جھوٹی قسم کھا کر دو غیر مسلموں کی جان بچانے پر اللہ انہیں ضرور معاف کرے گا ۔۔۔ بعد میں ڈاکٹر ترونجیت نے احمد بشیر ورک کی قبر پر حاضری دی پھول چڑھائے اور فرط جذبات میں قبر کو چوم لیا تھا کہ اگر یہ شخص جھوٹی قسم نہ کھاتا سچ بتاتا تو فسادی انکے دادا دادی اور انکے بچوں کو لاہور میں ختم کردیتے اور انکی آج نسل بھی نہ ہوتی ۔۔۔۔۔۔

یہ محاورہ 18ویں صدی عیسوی میں پنجاب کے مخصوص سیاسی اور معاشی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔احمد شاہ ابدالی کے حملے: اس دور میں ...
03/09/2026

یہ محاورہ 18ویں صدی عیسوی میں پنجاب کے مخصوص سیاسی اور معاشی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔احمد شاہ ابدالی کے حملے: اس دور میں افغانستان کے حکمران احمد شاہ ابدالی نے پنجاب کے راستے ہندوستان پر کئی بار (تقریباً 9 حملے) کیے۔ جب بھی فصلیں تیار ہوتیں یا لوگوں کے پاس مال و اسباب جمع ہوتا، ابدالی کی افواج حملہ کر کے اناج، مویشی اور مال و دولت لوٹ کر کابل لے جاتیں #کہاوتیں #ادب

عمل اور مکافاتِ عمل (کرم)
03/09/2026

عمل اور مکافاتِ عمل (کرم)

حقیقت پر مبنی الفاظ
03/09/2026

حقیقت پر مبنی الفاظ

02/09/2026

ڈسکہ محلہ محمد پورہ میں لائٹ کی موجودہ صورتحال کبھی 99Vاور کھبی 299Vواپڈا اور الیکٹرونکس والوں ڈیل تو نہی چل رہی 🤔🤔🤔

عنوان: ضلع سیالکوٹ کی تحصیلوں کا رقبہ۔تاریخی حقیقت: 1852ء میں سیالکوٹ کو ضلع کی حیثیت دی گئی۔تحصیلوں کا رقبہ:سیالکوٹ: 90...
02/09/2026

عنوان: ضلع سیالکوٹ کی تحصیلوں کا رقبہ۔تاریخی حقیقت: 1852ء میں سیالکوٹ کو ضلع کی حیثیت دی گئی۔تحصیلوں کا رقبہ:سیالکوٹ: 901 مربع کلومیٹرتحصیل پسرور: 1016 مربع کلومیٹرتحصیل ڈسکہ: 690 مربع کلومیٹرتحصیل سمبڑیال: 450 مربع کلومیٹرپڑوسی اضلاع (سرحدیں):شمال/مشرق: ضلع جموں (ریاست جموں و کشمیر)مغرب: ضلع گجراتجنوب مغرب: ضلع گوجرانوالہجنوب: ضلع شیخوپورہجنوب مشرق: ضلع نارووالاضافی نوٹ:

❤️❤️❤️❤️
02/09/2026

❤️❤️❤️❤️

Address

ڈسکہ ضلع سیالکوٹ
Daska
51010

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عدل ڈسکہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share