29/08/2026
🔥 بینک اکاؤنٹ میں رقم آنا ٹیکس چوری کا ثبوت نہیں! سپریم کورٹ کا ٹیکس دہندگان کے حق میں اہم فیصلہ
⚖️ صرف Bank Statement کی بنیاد پر Section 122 کے تحت Assessment دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے Civil Petition No. 862 of 2024 میں 27 فروری 2025ء کو ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے ٹیکس دہندگان کے حق میں اہم اصول واضح کیا۔
عدالت نے FBR کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض بینک اسٹیٹمنٹ یا بینک اکاؤنٹ میں ہونے والی transactions کو خود بخود taxable income قرار نہیں دیا جا سکتا۔
📌 اصل مسئلہ کیا تھا؟
FBR نے ٹیکس دہندہ کے بینک اکاؤنٹس میں ہونے والی transactions کی بنیاد پر اس کے assessment کو Section 122 of the Income Tax Ordinance, 2001 کے تحت دوبارہ کھولنے کی کوشش کی۔
مؤقف یہ تھا کہ بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم سے آمدن ظاہر ہوتی ہے۔
لیکن عدالت نے واضح کیا کہ بینک اکاؤنٹ میں رقم کا موجود ہونا اور قابلِ ٹیکس آمدن ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔
🔑 سپریم کورٹ کا اہم اصول
Section 122 کے تحت assessment دوبارہ کھولنے کے لیے قانون میں مطلوبہ “definite information” موجود ہونا ضروری ہے۔
صرف:
Bank Statement → Bank Transactions → Taxable Income
کا سیدھا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
FBR کو یہ دکھانا ہوگا کہ متعلقہ رقم حقیقتاً taxable income ہے اور قانون کے مطابق اس پر کارروائی کی بنیاد موجود ہے۔
💡 آسان الفاظ میں
اگر کسی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع ہوئی ہے تو ضروری نہیں کہ وہ اس کی آمدن ہو۔ وہ رقم:
قرض ہوسکتی ہے؛
کسی کاروباری لین دین کا حصہ ہوسکتی ہے؛
کسی اور شخص کی رقم ہوسکتی ہے؛
یا کسی دوسری جائز وجہ سے اکاؤنٹ میں آئی ہوسکتی ہے۔
اس لیے صرف bank statement دیکھ کر اسے taxable income قرار نہیں دیا جا سکتا۔
⚖️ ٹیکس دہندگان کے لیے اہم سبق
یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ Tax Authorities کو محض اندازے یا شک کی بنیاد پر assessment reopen کرنے کے بجائے قانون کے مطابق واضح اور قابلِ اعتماد material پیش کرنا ہوگا۔
📌 ایک لائن میں فیصلہ
“بینک اسٹیٹمنٹ میں رقم کی موجودگی بذاتِ خود taxable income یا Section 122 کے تحت assessment دوبارہ کھولنے کے لیے ‘definite information’ نہیں ہے۔”