Rehman Ullah

Rehman Ullah Rehman Ullah

05/02/2026

په مزه مزه ښه کیږمه پوهیږمه
شروع کړې مې د ځان سره خواري ده

چارسدہ اور اسٹبلشمنٹ کی یاریسوشل میڈیا پر کچھ جذباتی نوجوان اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ پشتون قوم پرست پارٹیاں آپس میں اتحا...
24/11/2025

چارسدہ اور اسٹبلشمنٹ کی یاری

سوشل میڈیا پر کچھ جذباتی نوجوان اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ پشتون قوم پرست پارٹیاں آپس میں اتحاد یا الائنس کیوں نہیں بناتیں۔ آج کوئٹہ میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان نے بھی کہا کہ محمود خان اچکزئی صاحب عمران خان کے لیے جدوجہد کرنے کی بجائے ایمل ولی خان سے مل کر اتحاد بنائیں۔

جذبات اپنی جگہ، مگر تاریخی حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی اگرچہ ایک پشتون قوم پرست جماعت کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن اس کا اتحاد ہمیشہ دیگر قوم پرست پارٹیوں کی بجائے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔
یہ محض کسی ایک واقعے یا الزام کا جواب نہیں، بلکہ اسے پاکستان کی سیاسی تاریخ اور مختلف فوجی ادوار کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان میں ہر مارشل لا اور ہر فوجی آمر کے دور میں محترم ایمل ولی خان کے خاندان، یعنی ان کے والد اسفندیار ولی خان اور دادا ولی خان، ہر فوجی آمر کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ یہ نکتہ تحقیق کا متقاضی ہے۔
میں اس پر بات نہیں کروں گا کہ انگریز کی فوج میں ان کے خاندان کا کون شوق سے بھرتی ہوا تھا۔ اس کے لیے محترم باچا خان بابا کی کتاب “زما زوند اور زوندون” پڑھیے۔ خاندان کا ایک اور چراغ جبار خان، المعروف ڈاکٹر خان صاحب، جن کو باچا خان بابا اپنا سیاسی استاد کہتے تھے، تو اس ون یونٹ کے گورنر تھے جسے جنرل ایوب خان نے بنایا تھا۔

ولی خان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جنرل یحییٰ خان نے شیخ مجیب الرحمن کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے روکنے کے لیے انہیں لندن سے طلب کیا تھا۔ وہ ایک فوجی حکمران کے بنائے گئے وفد میں کیوں شریک ہوئے اور اس وفد کو مجیب الرحمن کے پاس کیوں لے کر گئے، اگرچہ مجیب الرحمن نے اس کی بات قبول نہ کی۔
کیا یہ درست نہیں کہ محترم ولی خان جنرل ضیاء الحق کے ساتھ بھی قریب رہے؟ ضیاء الحق ہی نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو جیل سے رہا کیا، حیدرآباد سازش کیس ختم کیا، اور پھر دونوں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک ہی صف میں نظر آئے۔ کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ جمہوری قوتوں کے خلاف اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی میں بنائے گئے آئی جے آئی میں ولی خان اس فوجی اتحاد کے ساتھ کھڑے تھے؟

1991 میں پشتونخوا کے دریاؤں کا پانی سندھ اور پنجاب کو لکھوانا کون سی پشتون دوستی تھی؟ اٹک اور میاں والی کو پشتونخوا کی بجائے پنجاب میں ضم کرنے کی پالیسی کو قبول کرنا کون سی پشتون دوستی تھی؟ برٹش بلوچستان کے پشتونوں کو پشتونخوا میں ضم کرنے کا مطالبہ کرنے کی بجائے ولی خان نے بلوچستان میں ضم کروا کر کون سی پشتون دوستی کی؟
پھر یہی سلسلہ آگے چل کر اسفندیار ولی خان تک پہنچتا ہے، جنہوں نے جنرل پرویز مشرف کے نکات کو باچا خان کے نام سے منسوب کیا۔ وہ مشرف کا پیغام لے کر روس گئے تھے۔ جنرل کیانی اور جنرل راحیل شریف کے فوجی آپریشنوں کی کھلے عام حمایت کرتے تھے۔ سوات اور پشتونخوا میں فوجی آپریشنز کی حمایت کی ویڈیوز آج بھی ریکارڈ پر ہیں۔

آج ایمل ولی خان بھی اسی سیاسی روش پر گامزن نظر آتے ہیں۔ خود ایمل ولی خان ایک پریس کانفرنس میں اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بیس برس تک فوج کے ساتھ تعاون کرتے رہے۔ ایمل ولی خان کا وہ انٹرویو بھی ریکارڈ پر ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ انہیں سینیٹ کی یہ نشست کس نے دی۔ بلوچستان سے سرفراز بگٹی اور سابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے مبینہ طور پر اسٹبلشمنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں ووٹ فراہم کیے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان اور ایمل ولی خان دونوں کی سیاسی ابھار میں عسکری اداروں کا کردار موجود رہا۔ فرق صرف یہ ہے کہ جب عمران خان کا فوج سے اختلاف ہوا تو انہوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، جبکہ ایمل ولی خان نے آج تک فوج کے خلاف ایک دن بھی علانیہ اور عملی مزاحمت نہیں دکھائی۔ یہاں تک کہ اسفندیار ولی خان پر دو خودکش حملے ہوئے، مگر وہ بھی یہ جرأت نہ دکھا سکے کہ قاتل اور سازشی کرداروں کا نام لیں۔ سیاست کے میدان میں استقامت دکھانے کی بجائے وہ ایک طرح کی پسپائی اختیار کرتے رہے۔

میں اسٹبلشمنٹ کے ان اہلکاروں، عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے ایم پی اے زمرک اچکزئی، اور نعیم بازی کے “مائنز اینڈ منرلز” بل کی منظوری جیسے معاملات کو یہاں نظر انداز بھی کر دوں، تب بھی ایمل ولی خان کے اس قدر داغدار سیاسی ماضی کی وجہ سے ان کے ساتھ سیاسی اتحاد یا قومی سیاست کے لیے مشترکہ پشتون سیاست کو دیکھنا اپنے آپ کو دھوکا دینا سمجھتا ہوں۔

تحریر عبدالحئی آرینچارسدہ اور اسٹبلشمنٹ کی یاری

سوشل میڈیا پر کچھ جذباتی نوجوان اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ پشتون قوم پرست پارٹیاں آپس میں اتحاد یا الائنس کیوں نہیں بناتیں۔ آج کوئٹہ میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان نے بھی کہا کہ محمود خان اچکزئی صاحب عمران خان کے لیے جدوجہد کرنے کی بجائے ایمل ولی خان سے مل کر اتحاد بنائیں۔

جذبات اپنی جگہ، مگر تاریخی حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی اگرچہ ایک پشتون قوم پرست جماعت کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن اس کا اتحاد ہمیشہ دیگر قوم پرست پارٹیوں کی بجائے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔
یہ محض کسی ایک واقعے یا الزام کا جواب نہیں، بلکہ اسے پاکستان کی سیاسی تاریخ اور مختلف فوجی ادوار کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان میں ہر مارشل لا اور ہر فوجی آمر کے دور میں محترم ایمل ولی خان کے خاندان، یعنی ان کے والد اسفندیار ولی خان اور دادا ولی خان، ہر فوجی آمر کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ یہ نکتہ تحقیق کا متقاضی ہے۔
میں اس پر بات نہیں کروں گا کہ انگریز کی فوج میں ان کے خاندان کا کون شوق سے بھرتی ہوا تھا۔ اس کے لیے محترم باچا خان بابا کی کتاب “زما زوند اور زوندون” پڑھیے۔ خاندان کا ایک اور چراغ جبار خان، المعروف ڈاکٹر خان صاحب، جن کو باچا خان بابا اپنا سیاسی استاد کہتے تھے، تو اس ون یونٹ کے گورنر تھے جسے جنرل ایوب خان نے بنایا تھا۔

ولی خان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جنرل یحییٰ خان نے شیخ مجیب الرحمن کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے روکنے کے لیے انہیں لندن سے طلب کیا تھا۔ وہ ایک فوجی حکمران کے بنائے گئے وفد میں کیوں شریک ہوئے اور اس وفد کو مجیب الرحمن کے پاس کیوں لے کر گئے، اگرچہ مجیب الرحمن نے اس کی بات قبول نہ کی۔
کیا یہ درست نہیں کہ محترم ولی خان جنرل ضیاء الحق کے ساتھ بھی قریب رہے؟ ضیاء الحق ہی نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو جیل سے رہا کیا، حیدرآباد سازش کیس ختم کیا، اور پھر دونوں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک ہی صف میں نظر آئے۔ کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ جمہوری قوتوں کے خلاف اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی میں بنائے گئے آئی جے آئی میں ولی خان اس فوجی اتحاد کے ساتھ کھڑے تھے؟

1991 میں پشتونخوا کے دریاؤں کا پانی سندھ اور پنجاب کو لکھوانا کون سی پشتون دوستی تھی؟ اٹک اور میاں والی کو پشتونخوا کی بجائے پنجاب میں ضم کرنے کی پالیسی کو قبول کرنا کون سی پشتون دوستی تھی؟ برٹش بلوچستان کے پشتونوں کو پشتونخوا میں ضم کرنے کا مطالبہ کرنے کی بجائے ولی خان نے بلوچستان میں ضم کروا کر کون سی پشتون دوستی کی؟
پھر یہی سلسلہ آگے چل کر اسفندیار ولی خان تک پہنچتا ہے، جنہوں نے جنرل پرویز مشرف کے نکات کو باچا خان کے نام سے منسوب کیا۔ وہ مشرف کا پیغام لے کر روس گئے تھے۔ جنرل کیانی اور جنرل راحیل شریف کے فوجی آپریشنوں کی کھلے عام حمایت کرتے تھے۔ سوات اور پشتونخوا میں فوجی آپریشنز کی حمایت کی ویڈیوز آج بھی ریکارڈ پر ہیں۔

آج ایمل ولی خان بھی اسی سیاسی روش پر گامزن نظر آتے ہیں۔ خود ایمل ولی خان ایک پریس کانفرنس میں اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بیس برس تک فوج کے ساتھ تعاون کرتے رہے۔ ایمل ولی خان کا وہ انٹرویو بھی ریکارڈ پر ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ انہیں سینیٹ کی یہ نشست کس نے دی۔ بلوچستان سے سرفراز بگٹی اور سابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے مبینہ طور پر اسٹبلشمنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں ووٹ فراہم کیے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان اور ایمل ولی خان دونوں کی سیاسی ابھار میں عسکری اداروں کا کردار موجود رہا۔ فرق صرف یہ ہے کہ جب عمران خان کا فوج سے اختلاف ہوا تو انہوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، جبکہ ایمل ولی خان نے آج تک فوج کے خلاف ایک دن بھی علانیہ اور عملی مزاحمت نہیں دکھائی۔ یہاں تک کہ اسفندیار ولی خان پر دو خودکش حملے ہوئے، مگر وہ بھی یہ جرأت نہ دکھا سکے کہ قاتل اور سازشی کرداروں کا نام لیں۔ سیاست کے میدان میں استقامت دکھانے کی بجائے وہ ایک طرح کی پسپائی اختیار کرتے رہے۔

میں اسٹبلشمنٹ کے ان اہلکاروں، عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے ایم پی اے زمرک اچکزئی، اور نعیم بازی کے “مائنز اینڈ منرلز” بل کی منظوری جیسے معاملات کو یہاں نظر انداز بھی کر دوں، تب بھی ایمل ولی خان کے اس قدر داغدار سیاسی ماضی کی وجہ سے ان کے ساتھ سیاسی اتحاد یا قومی سیاست کے لیے مشترکہ پشتون سیاست کو دیکھنا اپنے آپ کو دھوکا دینا سمجھتا ہوں۔

تحریر عبدالحئی آرین
ھاشم خان کے وال سے

23/11/2025

زندگی اس اذان سے شروع ہوتی ہے جسکی نماز نہیں ہوتی آور ختم اس نماز پر ہوتی ہے جسکی اذان نہیں ہوتی

22/11/2025

مچھلی سے بد بو اس لئے آتی ہے کیونکہ وہ اپنی نسل کھاتی ہے اور انسان سے بد بو تب آتی ہے جب وہ اپنوں کے ساتھ منافقت کرتا ہے۔

22/11/2025

وقت تو ہر طرح کا آتا ہے لیکن اِس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم جینا ہی چھوڑ دو.

😘Follow Explore with Saood Day and night view of the Royal clock Tower 🙌
22/11/2025

😘
Follow Explore with Saood
Day and night view of the Royal clock Tower 🙌

22/11/2025

‏برسے گی آسماں سے کسی دن دوائے مرگ
روئے زمیں سے زیست کا آزار جائے گا

21/11/2025

پاکستان کے وفاقی حکومت میں پچھلے دو سال میں 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی — IMF رپورٹ

21/11/2025

خاموشی اور آدب دونوں انسان کی

قدر وقیمت میں اضافہ کرتے ہیں

21/11/2025

اختلاف جتنا بھی بڑھ جائے،
‏دو حدیں کبھی نہ پار کریں ، کسی کے رزق پر وار نہ کریں ، کسی کی عزت کو نشانہ نہ بنائیں

Address

Dera Ismail Khan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rehman Ullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share