18/08/2026
*ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان میں زیرِ التوا انکوائریوں پر کارروائی تیز، سابق ٹی ایم او حنیف کے دور کی فائلیں کھل گئیں، اینٹی کرپشن نے ریکارڈ طلب کرلیا*
ڈیرہ اسماعیل خان (خصوصی رپورٹ): تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈیرہ اسماعیل خان میں زیرِ التوا شکایات اور انکوائریوں کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آگئی، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈیرہ اسماعیل خان کے پاس موجود شکایات کے ریکارڈ اور متعلقہ فائلوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا عمل شروع کردیا گیا ہے، جبکہ ٹی ایم اے حکام نے متعلقہ افسران کو تمام فائلیں کھول کر ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے، متعلقہ شعبوں سے مؤقف حاصل کرنے اور جامع رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے۔اس سلسلے میں تحصیل میونسپل آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب سے 17 اگست 2026 کو مراسلہ نمبر 1083/TMA/DIK جاری کیا گیا، جس میں اسسٹنٹ ٹیکس سپرنٹنڈنٹ محمد طارق کو ہدایت کی گئی ہے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈیرہ اسماعیل خان کے پاس زیرِ التوا شکایات اور انکوائریوں سے متعلق تمام متعلقہ فائلوں کا جائزہ لیا جائے، متعلقہ شعبوں کا مؤقف حاصل کیا جائے اور تمام پہلوؤں کا ریکارڈ کی روشنی میں جائزہ لے کر جامع رپورٹ تیار کرکے تحصیل میونسپل آفیسر کو فوری طور پر پیش کی جائے تاکہ اسے متعلقہ فورم کو بھجوایا جاسکے۔مراسلے میں معاملے کو حساس نوعیت کا قرار دیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ اسے ترجیحی بنیادوں پر لیا جائے اور کسی مزید تاخیر کے بغیر کام مکمل کیا جائے۔ مراسلے کی نقول اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ڈیرہ اسماعیل خان، سرکل آفیسر اینٹی کرپشن، تحصیل آفیسر فنانس، تحصیل آفیسر ریگولیشن، پلاننگ کنٹرول آفیسر، پلاننگ کنٹرول انسپکٹر اور متعلقہ پٹواری سمیت دیگر افسران کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق اس پیش رفت کے بعد سابق تحصیل میونسپل آفیسر حنیف کے دور سے متعلق بعض زیرِ التوا معاملات اور فائلیں بھی دوبارہ زیرِ بحث آگئی ہیں۔ مختلف حلقوں کی جانب سے سابقہ دور میں مبینہ قانونی و انتظامی بے ضابطگیوں، بھرتیوں اور پروموشنز، تحصیل میونسپل کی زمینوں اور دیگر املاک سے متعلق معاملات، دکانوں کی منتقلی اور مختلف ٹھیکوں میں مبینہ بے قاعدگیوں سمیت دیگر شکایات کا ذکر کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم ان تمام الزامات کی حتمی تصدیق تحقیقاتی ادارے کی تحقیقات اور سرکاری ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی ہوسکے گی۔تین بنگلوں کے چکر، سیاسی رابطوں کی بھی بازگشت ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال کے بعد سابق تحصیل میونسپل آفیسر حنیف کی جانب سے بعض سیاسی شخصیات سے رابطوں اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق ٹی ایم او نے مختلف سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کرکے اپنے معاملات میں مدد اور سیاسی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی، جبکہ بعض حلقوں کے مطابق وہ ان سیاسی شخصیات کے ساتھ چلنے اور آئندہ سیاسی تعاون کے لیے بھی رابطے کرتے رہے۔ذرائع کے مطابق سابق ٹی ایم او حنیف کے حوالے سے تین مختلف مقامات پر موجود بنگلوں کے چکر لگانے اور سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کی باتیں بھی گردش میں ہیں، جن میں پولیس لائن روڈ پر واقع ایک بنگلہ، کنڈی ماڈل فارم اور شورکوٹ میں موجود بنگلے کا ذکر کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان رابطوں کا مقصد موجودہ حالات میں سیاسی مدد اور معاملات کو سنبھالنے کے لیے حمایت حاصل کرنا تھا، تاہم مبینہ طور پر بعض سیاسی شخصیات نے اس معاملے سے فاصلہ اختیار کرلیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق ٹی ایم او کی جانب سے مختلف سیاسی دروازوں پر دستک دینے کے باوجود بعض سیاسی حلقوں نے مبینہ طور پر اپنا دامن الگ کرلیا ہے۔ تاہم ان ملاقاتوں اور سیاسی رابطوں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ متعلقہ سیاسی شخصیات کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔فائلیں کھلنے سے مزید معاملات سامنے آنے کا امکان ٹی ایم اے کے اندرونی ذرائع کے مطابق زیرِ التوا شکایات کی فائلیں دوبارہ کھلنے اور متعلقہ شعبوں سے ریکارڈ طلب کیے جانے کے بعد سابقہ دور کے متعدد انتظامی فیصلے تحقیقاتی عمل کی زد میں آسکتے ہیں۔ بھرتیوں، پروموشنز، سرکاری و میونسپل اراضی، دکانوں کی منتقلی، ٹھیکوں اور دیگر مالی و انتظامی معاملات سے متعلق ریکارڈ کی جانچ کے بعد اصل صورتحال واضح ہونے کی توقع ہے۔ذرائع کے مطابق بعض معاملات میں اگر سرکاری ریکارڈ سے خلافِ ضابطہ کارروائی، مالی بے قاعدگی یا اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے شواہد سامنے آتے ہیں تو متعلقہ تحقیقاتی ادارہ قانون کے مطابق مزید کارروائی کی سفارش کرسکتا ہے۔ تاہم فی الوقت کسی مخصوص فرد کے خلاف جرم ثابت ہونے یا کسی ایف آئی آر کے اندراج کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔اینٹی کرپشن کا کردار اہم، شہریوں کی نظریں تحقیقات پرٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان کے معاملات میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈیرہ اسماعیل خان کا کردار اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ سرکاری مراسلے میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ٹی ایم اے کے خلاف شکایات اور انکوائریاں اینٹی کرپشن کے پاس زیرِ التوا ہیں اور ان معاملات سے متعلق ریکارڈ، متعلقہ شعبوں کا مؤقف اور دیگر ضروری معلومات مرتب کرکے فراہم کی جارہی ہیں۔شہری اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان سے متعلق تمام زیرِ التوا شکایات کو میرٹ، شفافیت اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اگر کسی معاملے میں بے ضابطگی یا قانون شکنی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، جبکہ اگر الزامات درست ثابت نہ ہوں تو متعلقہ افراد کو بھی واضح طور پر بری الذمہ قرار دیا جائے۔سابق ٹی ایم او کا مؤقف بھی سامنے آگیادوسری جانب سابق تحصیل میونسپل آفیسر حنیف سے مذکورہ معاملات پر مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا: "اللہ ہی سب کا مالک ہے۔ اللہ ہی سب کا رزق ہے اور اللہ ہی سب کا سہارا ہے۔"سابق ٹی ایم او کی جانب سے اس کے علاوہ مبینہ بے ضابطگیوں، سیاسی رابطوں، بھرتیوں، پروموشنز، زمینوں، دکانوں کی منتقلی یا ٹھیکوں سے متعلق الزامات پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔اب تمام نظریں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحقیقات، ٹی ایم اے کی جانب سے فراہم کیے جانے والے ریکارڈ اور متعلقہ افسران کی رپورٹس پر مرکوز ہیں۔ اگر تحقیقات کے دوران قابلِ دست اندازیِ قانون شواہد سامنے آتے ہیں تو مزید قانونی کارروائی کا امکان موجود ہے، جبکہ آئندہ تحقیقات ہی یہ طے کریں گی کہ زیرِ بحث شکایات اور الزامات میں کتنی حقیقت ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹی ایم اے کی زیرِ التوا فائلوں کے کھلنے سے کئی اہم معاملات منظرِ عام پر آسکتے ہیں اور تحقیقات شفاف انداز میں آگے بڑھیں تو اصل حقائق عوام کے سامنے آنے کی توقع ہے۔