Awami News

Awami News News entertainment aware public matter on high officers and wedding program political program s News&Media

24/03/2026

وہ تمام امیدواران کے جن کے نام ڈیرہ بورڈ میم حالیہ میٹرک کے امتحانات کےdraw لسٹ میں اے ھیں.وہ اپنی ڈیوٹی کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطے کر کے اپنی ڈیوٹی وصول کر لیں۔ڈیوٹی سے انکار کرنے والے اساتذہ کے نام سیکرٹری ایجوکیشن کو بھجوا ے جا ئیں گے۔
با امر مجبوری انکار کرنے والے اساتذہ متبادل اپنے ہمراہ لا ءیں۔اور اپنی ڈیوٹی DIK BISE کے کنٹرولر آفس تبدیل کراءیں یا دیے گئے مو با ئل نمبر ز پر رابطہ کر یں۔
امتہا نی ڈیوٹی کے لیے خو اھش مند اساتذہ اور فریش گر یجویٹس کنٹرولر آفس یا درجہ ڈیل نمبرز پر رابطہ کر سکتے ہیں ۔تا کہ سٹاف کی کمی کی وجہ سے ان کو لگا یا جا سکے۔
03339974665
03438968850
03339971866

ڈیرہ پولیس کے افسر نے سابق DPO کو 1 کروڑ مالیت کی NCP گاڑی تحفے میں دے دی، DIG کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ڈیرہ اسماعیل خان...
17/03/2026

ڈیرہ پولیس کے افسر نے سابق DPO کو 1 کروڑ مالیت کی NCP گاڑی تحفے میں دے دی، DIG کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔

ڈیرہ اسماعیل خان( حماد خلیل) ڈسٹرکٹ پولیس کے روزنامچہ مد نمبر 27 جس کا اندراج 26 جنوری کو کیا گیا ایک اہم اور سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے جس نے پولیس سسٹم پر کئی بڑے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
ماہانہ پولیس ریکارڈ کے مطابق 26 جنوری 2026 کو تھانہ ڈیرہ ٹاؤن کی حدود میں پولیس چیک پوسٹ کھتی، ڈیرہ اسماعیل خان پر ایک مشکوک گاڑی نمبر بی ایف 9130، کلر بلیک پش، جس کا انجن 35 زیڈ
VE1495/cc
اور چیسز نمبر جے 21 او ای 0035499 کو روک کر چیک کیا گیا۔ ابتدائی تفتیش میں گاڑی کی رجسٹریشن جعلی نکلی اور معلوم ہوا کہ گاڑی نان کسٹم پیڈ ہے جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے محمد جمشید ولد شیر زمان اور محسن خان ولد حسن نامی دو افراد سمیت گاڑی کو تحویل میں لے کر تھانہ ڈیرہ ٹاؤن منتقل کیا جہاں یہ کار چند دن تک تھانے میں کھڑی رہی۔
لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا اس نے پورے معاملے کو گول مال میں تبدیل کر دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ ضبط شدہ نان کسٹم گاڑی قانونی کارروائی کے بجائے سابق ڈی پی او ڈیرہ کو بطور “تحفہ” دے دی گئی اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے جبکہ ایک افسر اور محرر تھانہ ڈیرہ ٹاون کے درمیان روزنامچہ کی تبدیلی کے حوالے سے تلخ کلامی بھی ہوئی تاہم قانون کے مطابق گاڑی کو کسٹم حکام کے حوالے کیا گیا اور نہ ہی یہ معاملہ ڈی آئی جی ڈیرہ اشفاق انور کے نوٹس میں لایا گیا۔اب سوال یہ ہے کہ سرکاری تحویل میں لی گئی ایک این سی پی گاڑی کو ڈی ایس پی نے کس قانون کے تحت سابق ڈی پی او کو تحفہ میں دے دیا۔ مبینہ طور پر تیس لاکھ روپے کی اس نان کسٹم پیڈ گاڑی کی کسٹم کلیئرنس کے بعد مالیت تقریبا ایک کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے جو سابق ڈی پی او کو تحفے کے طور پر دی گئی ہے جس کی ڈی آئی جی اشفاق انور کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔
خیبر پختونخوا پولیس میں یہ معاملہ اختیارات کے غلط استعمال اور قانون کی سنگین خلاف ورزی کی ایک مثال ہے اس حوالے سے آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید اور ڈی آئی جی ڈیرہ اشفاق انور سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس پورے معاملے کی اعلی سطحی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
یہ معاملہ اب صرف ایک گاڑی تک محدود نہیں رہا بلکہ پولیس نظام میں مبینہ بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال جیسے سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا دورِ حکومت ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، بالخصوص تحصیل پروآ کے عوام کے لیے امیدو...
17/03/2026

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا دورِ حکومت ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، بالخصوص تحصیل پروآ کے عوام کے لیے امیدوں کے برعکس مایوسی، مشکلات اور بدانتظامی کی ایک طویل داستان بن چکا ہے۔ عوامی حلقوں، سماجی شخصیات اور مقامی نمائندگان کی بڑی تعداد اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ اس عرصے میں نہ صرف بنیادی مسائل کو نظر انداز کیا گیا بلکہ کئی معاملات میں صورتحال مزید خراب ہو گئی۔
تحصیل پروآ، جو پہلے ہی بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار تھی، اس دور میں مزید پسماندگی کی طرف جاتی دکھائی دی۔ سب سے اہم مسئلہ انفراسٹرکچر کا رہا۔ سڑکوں کی حالت زار بدستور خراب رہی۔ کئی دیہی اور شہری راستے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جن کی مرمت یا تعمیر کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نظر نہیں آئے۔ بارش کے موسم میں یہ سڑکیں عوام کے لیے ایک عذاب بن جاتی ہیں، جہاں آمدورفت نہایت مشکل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح نکاسی آب کا نظام بھی انتہائی ناقص ہے، جس کے باعث معمولی بارش بھی گلی محلوں کو تالاب میں تبدیل کر دیتی ہے۔
پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ بنی رہی۔ کئی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی شدید کمی ہے، جبکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا رکھا۔ ان مسائل کے حل کے لیے کوئی مستقل اور سنجیدہ حکمت عملی سامنے نہیں آئی، جس سے عوام میں بے چینی اور مایوسی میں اضافہ ہوا۔
ترقیاتی منصوبوں کی بات کی جائے تو صورتحال مزید تشویشناک نظر آتی ہے۔ متعدد منصوبے جو عوامی فلاح کے لیے شروع کیے گئے تھے، یا تو ادھورے چھوڑ دیے گئے یا ان کی رفتار انتہائی سست رہی۔ بعض منصوبوں کے بارے میں یہ بھی اطلاعات سامنے آئیں کہ ان میں غیر ضروری رکاوٹیں ڈالی گئیں، جس سے نہ صرف کام رک گیا بلکہ سرکاری وسائل کا بھی ضیاع ہوا۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ان منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جاتا تو آج علاقے کی حالت مختلف ہو سکتی تھی۔
انتظامی معاملات میں بھی سنگین خامیاں سامنے آئیں۔ مقامی سطح پر ایسے افراد کو اختیارات دیے گئے جنہیں عوام نااہل اور غیر تجربہ کار قرار دیتے ہیں۔ ان افراد کی ناقص پالیسیوں اور کمزور فیصلوں کے باعث نہ صرف سرکاری امور متاثر ہوئے بلکہ عوامی مسائل میں بھی اضافہ ہوا۔ ضلع کی سطح پر ایک منظم اور مؤثر نظام کی کمی واضح طور پر محسوس کی گئی، جس کا براہ راست اثر عام شہری کی زندگی پر پڑا۔
قانون و انتظام کی صورتحال بھی مکمل طور پر تسلی بخش نہیں رہی۔ عوامی شکایات کے مطابق چھوٹے بڑے جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ پولیس اور دیگر اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے جان و مال کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال ان کے اعتماد کو متاثر کر رہی ہے۔
معاشی حالات بھی اس دور میں متاثر ہوئے۔ مقامی کاروبار، چھوٹے دکاندار اور مزدور طبقہ شدید دباؤ کا شکار رہے۔ مہنگائی میں اضافے اور روزگار کے محدود مواقع نے عوام کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا۔ تحصیل پروآ جیسے علاقوں میں جہاں پہلے ہی وسائل کم ہیں، وہاں اس طرح کی معاشی مشکلات نے لوگوں کو مزید پریشانی میں ڈال دیا ہے۔
تعلیم اور صحت کے شعبے بھی توجہ کے منتظر رہے۔ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان اور تعلیمی معیار میں کمی جیسے مسائل بدستور موجود رہے۔ اسی طرح سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں عملے، ادویات اور جدید سہولیات کی کمی نے عوام کو نجی شعبے کی طرف جانے پر مجبور کیا، جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
سماجی سطح پر بھی اس دور کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ عوام میں مایوسی، بے اعتمادی اور احساس محرومی میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے مسائل سننے والا کوئی نہیں اور ان کے علاقے کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ احساس کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے بھی بڑھ جاتے ہیں۔
عوامی و سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو تحصیل پروآ کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے کی ترقی کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا جائے، جاری منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، اور انتظامی معاملات اہل اور تجربہ کار افراد کے سپرد کیے جائیں۔
ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ کسی بھی علاقے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہاں بنیادی سہولیات کو بہتر بنایا جائے، شفاف حکمرانی کو یقینی بنایا جائے اور عوامی مسائل کو ترجیح دی جائے۔ اگر ان اصولوں پر عمل نہ کیا جائے تو ترقی کا خواب کبھی حقیقت نہیں بن سکتا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تحصیل پروآ کے عوام آج بھی بہتری کے منتظر ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے، ان کے علاقے کو بھی دیگر علاقوں کی طرح ترقی دی جائے، اور انہیں وہ بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں جو ایک مہذب معاشرے کا حق ہوتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے اور ایسے اقدامات اٹھائے جو واقعی عوامی فلاح و بہبود کا باعث بن سکیں، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور علاقے میں ترقی کا سفر دوبارہ شروع ہو سکے۔

کارکنان مولانا فضل الرحمن سے عید پر ملنے نہ آٸیں  ڈیرہ اسماعیل خان مرکزی ناظم نشر و اشاعت جمعیت علماء اسلام(ف) پاکستان م...
17/03/2026

کارکنان مولانا فضل الرحمن سے عید پر ملنے نہ آٸیں
ڈیرہ اسماعیل خان
مرکزی ناظم نشر و اشاعت جمعیت علماء اسلام(ف) پاکستان محمد اسلم غوری کی جانب سے پریس ریلیز کے مطابق جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے عیدالفطر کے موقع پر کارکنان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ملنے کیلئے عبدالخیل تشریف نہ لائیں

تحصیل پروآ میں سیلاب متاثرین تاحال حکومتی امداد سے محرومتحصیل پروآ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کو کئی سال گزرنے کے باوجود...
17/03/2026

تحصیل پروآ میں سیلاب متاثرین تاحال حکومتی امداد سے محروم
تحصیل پروآ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کو کئی سال گزرنے کے باوجود متعدد متاثرہ خاندان تاحال حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ وعدوں اور دعوؤں کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں ہو سکے اور وہ آج بھی مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ابتدائی دنوں میں مقامی تحصیلدار کی کوششوں سے ہزاروں متاثرین تک اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان پہنچایا گیا۔ تاہم بعد ازاں امدادی سرگرمیوں میں سیاسی مداخلت کے الزامات سامنے آنے لگے۔
علاقے کے مختلف سیاسی گروپوں پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ سیلابی علاقوں میں امدادی سرگرمیوں سے زیادہ تشہیری مہم پر توجہ دی گئی۔ ذرائع کے مطابق میانخیل گروپ اور جمعیت علمائے اسلام کے بعض کارکنوں کی جانب سے امدادی سرگرمیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے ایم پی اے مولانا لطف الرحمان نے اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے محکمہ مال اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے خیموں اور راشن کے کئی ٹرک تقسیم کروائے۔ ناقدین کے مطابق اس اقدام کو سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے اور ووٹ بینک مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح میانخیل گروپ کے تحصیل چیئرمین کے حوالے سے بھی یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سیلاب کے دوران مختلف امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تحصیل کے فنڈز بڑے پیمانے پر خرچ کیے گئے، تاہم اس حوالے سے اخراجات کی تفصیلات واضح طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔
بعض ویلج چیئرمینوں پر بھی یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے سیلابی صورتحال کو تشہیر کے لیے استعمال کیا۔ سیلابی پانی میں تصاویر اور ویڈیوز بنا کر یہ تاثر دیا گیا کہ پانی نکالنے اور گھروں کو محفوظ بنانے کے لیے ذاتی وسائل استعمال کیے گئے، جبکہ مقامی افراد کے مطابق زیادہ تر اخراجات تحصیل فنڈز سے کیے گئے۔
سیلاب متاثرین کے لیے کیے گئے سروے کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض مقامی افراد کا کہنا ہے کہ متاثرین کی فہرستوں میں کئی ایسے نام شامل کیے گئے جو مکمل طور پر متاثر نہیں تھے، جبکہ حقیقی متاثرین کو نظر انداز کیا گیا۔
دوسری جانب حکومتی امداد میں تاخیر اور بندش کے خلاف مقامی سیاسی قیادت کی خاموشی بھی عوامی حلقوں میں تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ علاقے کے منتخب نمائندوں کو اس مسئلے پر آواز اٹھانی چاہیے۔
ادھر حالیہ بارشوں کے دوران بھی کئی سیلاب متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ متاثرین نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ امداد کی شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور حقیقی متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔

07/03/2026

ایران نے عراق میں امریکی کمپنی کے بی آر کے ہیڈ کوارٹر پر میزائلوں سے حملہ کر دیا

07/03/2026

7 لاکھ 33 ہزار بیرل روسی خام تیل جلد پورٹ قاسم بندر گاہ پہنچے گا، روسی میڈیا

01/03/2026

پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیے گئے بلاجواز حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے. اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد کا بیان.
انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب پُرامن اور مذاکراتی حل تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششیں ازسرِنو جاری تھیں۔ اس قسم کا اقدام پورے خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچائے گا اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔

مندوب کا کہنا تھا کہ پاکستان مملکتِ سعودی عرب، بحرین، اردن، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات کے خلاف حملوں کی بھی شدید مذمت کرتا ہے، اور ان تمام برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

پاک فضائیہ کا افغانستان کے کابل ایئرپورٹ پر میزائل حملہپاکستان نے افغانستان کے 10 سے 15 ہیلی کاپٹر سمیت دیگر فضائی سازو ...
01/03/2026

پاک فضائیہ کا افغانستان کے کابل ایئرپورٹ پر میزائل حملہ
پاکستان نے افغانستان کے 10 سے 15 ہیلی کاپٹر سمیت دیگر فضائی سازو سامان تباہ کردیا

01/03/2026

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہو گئے، ایرانی میڈیا

تل ابیب میں اسرائیلی وزارتِ دفاع کی عمارت پر ایران کا میزائل حملہ ایک شخص ہلاک 21 زخمی کئی عمارتوں میں آگ لگ گئی
01/03/2026

تل ابیب میں اسرائیلی وزارتِ دفاع کی عمارت پر ایران کا میزائل حملہ ایک شخص ہلاک 21 زخمی کئی عمارتوں میں آگ لگ گئی

Address

Dera Ismail Khan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awami News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Awami News:

Share

Category