10/06/2026
ڈیرہ اسماعیل خان (مشرق نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی بچاؤ تحریک کا اہم اجلاس، ڈیرہ میں پارٹی تباہی کا ذمہ دار فیصل کریم کنڈی کو قرار دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان
پیپلز پارٹی بچاؤ تحریک کا ایک اہم اجلاس سابق رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ مظہر جمیل خان علیزئی کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی بچاؤ تحریک کے رہنماؤں
اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی بچاو تحریک کے کنوینئر سید زعفران شاہ بخاری سابق امیدوار صوبائی اسمبلی سیٹھ محمد اسلم، سابق ضلعی
صدر پاکستان پیپلز پارٹی سید سجاد شیرازی، نصیر اعوان، ملک جمشید، فاروق بلوچ، شیخ غلام اکبر، ساجد خان قصوریہ، سہیل عبید بلوچ، یونس بلوچ، معید اعوان اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مسلسل سیاسی تنزلی، تنظیمی کمزوری اور عوامی رابطوں کے فقدان پر تفصیلی غور کیا گیا۔ مقررین نے متفقہ طور پر خیبر
پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پارٹی کی موجودہ سیاسی تباہی کا بنیادی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کی پالیسیوں اور طرزِ سیاست پر شدید تنقید کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ فیصل کریم کنڈی نے پارٹی کو مضبوط بنانے کے بجائے ذاتی سیاست، اقربا پروری اور محدود سیاسی حلقے کے مفادات کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں نظریاتی اور دیرینہ کارکنان پارٹی سے دور ہوتے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان جو کبھی پاکستان پیپلز پارٹی کا مضبوط سیاسی
قلعہ سمجھا جاتا تھا، آج وہاں پارٹی عملی طور پر غیر فعال ہو چکی ہے اور عوامی سطح پر اس کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی کے مخلص کارکنوں کو مسلسل نظر انداز کیا گیا جبکہ ایسے عناصر کو آگے لایا گیا جن کا عوامی خدمت یا پارٹی نظریے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس طرز عمل نے کارکنوں میں شدید مایوسی پیدا کی اور پارٹی کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محرم الحرام کے فوراً بعد ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک احتجاجی کیمپ قائم کیا جائے گا
جہاں پارٹی کارکنان اور عوام کو درپیش مسائل اجاگر کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ "پیپلز پارٹی بچاؤ تحریک" کے پلیٹ فارم سے ضلع بھر میں رابطہ عوام مہم شروع کی جائے گی اور گھر گھر جا کر پارٹی کے نظریاتی کارکنوں اور عوام کو متحرک کیا جائے گا تاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو دوبارہ ایک فعال اور عوامی قوت بنایا جا سکے۔مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارٹی کو چند افراد کی ذاتی جاگیر بننے نہیں دیا جائے گا اور نظریاتی کارکنوں کے حقوق اور عوامی سیاست کی بحالی کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔