Darushebani lilifta wattahqeq paharpur

Darushebani lilifta wattahqeq paharpur پہ پیج اہل السنۃ والجماعۃ احناف دیوبند ؒسے متعلق ہے

14/08/2026
ان شاء اللہ العزیزگزشتہ سال کی طرح اس  سال بھی دارالشیبانی میں باقاعدہ تجوید و قرأت کورس کرایا جائے گا  جس میں آپ سیکھ س...
23/03/2026

ان شاء اللہ العزیز
گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی دارالشیبانی میں باقاعدہ تجوید و قرأت کورس کرایا جائے گا جس میں آپ سیکھ سکتے ہیں تجوید، قرأت سبعہ، قرأت ثلاثہ اور قرأت کبریٰ

حضور نبی کریم ﷺ نے سیدنا حضرت علی المرتضیٰؓ کو شہادت کی پیش گوئی فرمائی تھی چنانچہ حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مر...
11/03/2026

حضور نبی کریم ﷺ نے سیدنا حضرت علی المرتضیٰؓ کو شہادت کی پیش گوئی فرمائی تھی چنانچہ حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺحرا پہاڑ پر تھے آپﷺ کیساتھ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ، سیدنا حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ بھی تھے تو اچانک وہ پہاڑ ہلنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ ٹھہر جا! تیرے اوپر (اس وقت ) صرف نبیﷺ ہے یا صدیق ہے یا شھید ہے۔ ‘‘(مسلم کتاب فضائل الصحابہؓ )
حضرت ابوطفیلؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضیٰؓ نے جب لوگوں کو اپنی بیعت کرنے کی دعوت دی تو بدبخت عبدالرحمن بن ملجم المرادی بھی ( بیعت کیلئے) حاضر ہوا ، تو آپؓ نے اسے 2مرتبہ واپس کیا وہ پھر آیا تو آپؓ نے فرمایا۔ یہ بدبخت میرے بارے میں کس چیز کا منتظر ہے ، یہ ضرور بالضرور اس سے رنگی جائے گی (یعنی سیدنا حضرت علی المرتضیٰؓ کی ڈاڑھی مبارک سر مبارک کے خون سے رنگی جائے گی) پھر آپؓ نے بطور تمثیل یہ شعر پڑھا ، ترجمہ ’’موت کے استقبال کی تیاری کر لو ،وہ تم تک پہنچنے والی ہے موت سے نہ گھبراؤ جب اس نے تمہارے صحن میں قدم رکھ دیا ہے ۔‘‘( الطبقات الکُبریٰ )

واضح رہے کہ صدقۂ فطر  کی مقدار گندم  کے اعتبار سے  پونے دو کلو گندم یا  پونے دو کلو گندم  کی مارکیٹ کی قیمت ہے، احتیاطاً...
10/03/2026

واضح رہے کہ صدقۂ فطر کی مقدار گندم کے اعتبار سے پونے دو کلو گندم یا پونے دو کلو گندم کی مارکیٹ کی قیمت ہے، احتیاطاً دو کلو گندم یا اس کی قیمت کا حساب کرلیا جائے۔ اور جو، کھجور اور کشمش کے اعتبار سے یہی اشیاء ساڑھے تین کلو یا ان کے ساڑھے تین کلو کی بازار میں جو قیمت ہے، وہ صدقہ فطر کی مقدار ہے۔
لہذا ان چیزوں میں سے جس جنس سے صدقہ فطر ادا کرنا چاہے ،اس کی قیمت معلوم کر کے اس کے بقدر صدقہ فطر دے، اگر پاکستان میں ہے تو ان اشیاء کی پاکستانی قیمت کا اعتبار ہو گا اور اگر دوسرے کسی بھی ملک میں ہے تو وہاں کا اعتبار ہو گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :
"وانما تجب صدقة الفطر من اربعة اشیاء من الحنطة و الشعیر والتمر و الزبیب ."
(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:مکتبة حقانیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وهی نصف صاع من بر او صاع من شعیر او تمر."
(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:مکتبة حقانیة)

فتاوی شامی میں ہے:
"ودفع القیمة ای الدراھم افضل من دفع العین علی المذھب المفتی به،لان العلة فی افضلیة القیمة کونھا اعون علی دفع حاجة الفقیر."
(باب صدقة الفطر،ج:2،ص:366،ط: سعید)

فقط والله أعلم

فتویٰ نمبر : 144409101443

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

ادارہ دارالشیبانی للافتاء والتحقیق تحصیل و ضلع پہاڑپور خیبر پختونخواہ ایک بااعتماد ادارہ ہے جس میں الحمدللہ دین اسلام کی...
24/02/2026

ادارہ دارالشیبانی للافتاء والتحقیق تحصیل و ضلع پہاڑپور خیبر پختونخواہ ایک بااعتماد ادارہ ہے جس میں الحمدللہ دین اسلام کی آبیاری کے لیے کئی پہلوؤں سے کام ہو رہا ہے اور ساتھ ساتھ نئی تعمیرات کا کام بھی جاری ہے۔
جس کے لیے آپ سے اپنی مقبول دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی زکوٰۃ و صدقات کی مد میں مالی تعاون کی صورت میں اپنا حصہ شامل کرنے کی درخواست ہے۔

محمد ہارون
ایزی پیسہ
03489053653

استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبدالواحد قریشی صاحب حفطہ اللہ کی مختصر کتاب "قاتل عمار کون" کے آنے کے بعد بعض لوگوں کی ص...
11/02/2026

استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبدالواحد قریشی صاحب حفطہ اللہ کی مختصر کتاب "قاتل عمار کون" کے آنے کے بعد بعض لوگوں کی صفوں میں ماتم کا سماں ہے کیونکہ یہ کتاب ان کے خبث باطن کے لئے سم قاتل کی صورت اختیار کرچکی ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ اہل حق کا لبادہ اوڑھے رکھا اور پس پردہ اہل حق کے خلاف زبان درازیاں کی حق کی ترجمانی میں رخنہ ڈالا اور آستین کے سانپ کا قردار ادا کیا اس سلسلہ میں ایک صاحب ہیں حذیفہ راجکوٹی جن کی تحریر کسی نے بھیجی اور تبصرہ طلب کیا، سب سے پہلے تو اس قسم کے افراد کے لئے میں متنبی کا شعر ذکر کرنا چاہوں گا جس میں ان کے ذہنی استعداد کی مکمل عکاسی موجود ہے.
وَكَم مِن عائِبٍ قَولاً صَحيحاً
وَآفَتُهُ مِنَ الفَهمِ السَقيمِ
رجکوٹی صاحب اپنے خود ساختہ اہل السنہ کے مفاہیم جو حقیقتا روافض کی ترجمانی ہے کیونکہ جس بنیاد سے یہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی گرداننے کے درپے ھوئے ہیں انہی بنیادوں حقیقتا ڈھکوسلوں سے روافض اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تکفیر تک کرتے آئے ہیں.
اس لئے رجکوٹی صاحب کو اپنی پوزیشن پر نظر بھی کر لینی چاہیے کہ کہاں ٹھہرے ہیں.
تعجیب ہے رجکوٹی صاحب اکابر علمائے دیوبند اور خصوصا اس فیلڈ کے اسپیشل لسٹ 1مولانا ظفر احمد عثمانی، 2مولانا عبدالستار تونسوی، 3مولانا سرفراز خان صفدر، 4مولانا نور الحسن شاہ بخاری، 5 مولانا مہر محمد میانوالوی رحمہم اللہ کا تخطیہ کیا کہ ان کو تو غلطی ھوئی اور درست بات ان صاحب تحریر کو پتہ چلی ہے.
واہ کیا تحقیق ہے بظاہر جناب نے بہتی گنگا میں منہ دھونے کی کوشش کی ہے حقیقت یہ کہ کتاب کا مطالعہ تک نہیں کیا.......
فیا للعجب.
اور رجکوٹی صاحب اس پر مصر ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی ہی مانا جائے حالانکہ اکابر علماء دیوبند کے ترجمان ادارہ جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاون کراچی کا فتوی صراحتا اس کے خلاف ہے جو ھدیہ ناظرین ہے.
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی سمجھنے والے سے نکاح کا حکم
سوال
ایک شخص ہے جو تمام صحابہ کو مانتا ہے لیکن حضرت امیر معاویہ کو کاتب وحی نہیں مانتا،اس کا کا کہنا ہے کہ حضرت امیر معاویہ کے کارنامے ٹھیک نہیں تھے۔ان کا تعلق ایک باغی قوم سے تھا۔اس میں وہ عمار بن یاسر کی حدیث پیش کرتا ہے۔ کیا ایسے شخص سے نکاح ٹوٹ جائے گا؟نکاح کے وقت نہیں پتا تھا کہ اس کی ایسی سوچ ہے۔

جواب
واضح رہے کہ اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین( بشمول معاویہ رضی اللہ عنہ) عدول ہیں اور اللہ تعالی ان حضرات سے راضی ہونے کا پروانہ ان کو دنیا میں دے چکے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آپس کے اختلاف کے بارے میں اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ ان واقعات پر ایک مسلمان کو تبصرہ نہیں کرنا چاہیے اور صحابہ کے درمیان فیصل نہیں بننا چاہیے، بلکہ سکوت اختیار کرنا چاہیے اور ان واقعات کو اجتہادی خطا پر محمول کرنا چاہیے، یعنی دونوں فریق کو دین کی بہتری اور سر بلندی مطلوب تھی اور اسی میں ایک فریق سے اجتہادی خطا ہونے کی وجہ سے اختلاف کی نوبت آئی؛ لہذا کسی صحابی پر طعن نہیں کرنا چاہیے اور جب ان سب اختلاف کے باوجود اللہ ان سے راضی ہے تو ان کے متعلق بد کلامی کر کے اپنی آخرت کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ نظریہ رکھنے والا شخص گمراہ اور بدعتی ہے، کافر نہیں ہے؛ لہذا اس شخص سے نکاح نہیں ٹوٹے گا، البتہ اس کو سمجھایا جائے، وہ اگر اس گمراہ نظریہ سے توبہ کرلے تو بہت اچھی بات ہے، ورنہ پھر مذکورہ شخص کی بیوی کو چاہیے کہ اس سے طلاق کا مطالبہ کر کے علیحدہ ہوجائے؛ تاکہ اس شخص کی بدعت اور گمراہی سے خود کو اور اولاد کو بچا سکے۔
سنن ترمذی میں ہے:
"حدثنا محمد بن يحيى قال: حدثنا أبو مسهر، عن سعيد بن عبد العزيز، عن ربيعة بن يزيد، عن عبد الرحمن بن أبي عميرة، وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لمعاوية: اللهم اجعله هاديًا مهديًا واهد به.
هذا حديث حسن غريب."
(ابواب المناقب ج نمبر ۶ ص نمبر ۱۶۹، دار الغرب الاسلامی)
مرقاة المفاتيح میں ہے:
"وعن عبد الله بن مغفل قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الله الله في أصحابي لا تتخذوهم غرضا من بعدي فمن أحبهم فبحبي أحبهم ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم ومن آذاهم فقد آذاني ومن آذاني فقد آذى الله ومن آذى الله فيوشك أن يأخذه» . رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب."
(کتاب المناقب و الفضائلباب مناقب الصحابہ ج نمبر ۹ ص نمبر ۳۸۸۰، دار الفکر)
مرقاة المفاتيح میں ہے:
"عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا رأيتم الذين يسبون أصحابي فقولوا: لعنة الله على شركم. رواه الترمذي"
(کتاب المناقب و الفضائلباب مناقب الصحابہ ج نمبر ۹ ص نمبر ۳۸۸۱، دار الفکر)
مرقاة المفاتيح میں ہے:
"وعن عمر بن الخطاب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " سألت ربي عن اختلاف أصحابي من بعدي فأوحى إلي: يا محمد إن أصحابك عندي بمنزلة النجوم في السماء بعضها أقوى من بعض ولكل نور فمن أخذ بشيء مما هم عليه من اختلافهم فهو عندي على هدى " قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أصحابي كالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم» . رواه رزين."
(کتاب المناقب و الفضائ، باب مناقب الصحابہ ج نمبر ۹ ص نمبر ۳۸۸۲، دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"لما في الاختيار اتفق الأئمة على تضليل أهل البدع أجمع وتخطئتهم وسب أحد من الصحابة وبغضه لا يكون كفرا، لكن يضلل إلخ. وذكر في فتح القدير أن الخوارج الذين يستحلون دماء المسلمين وأموالهم ويكفرون الصحابة حكمهم عند جمهور الفقهاء وأهل الحديث حكم البغاة. وذهب بعض أهل الحديث إلى أنهم مرتدون. قال ابن المنذر: ولا أعلم أحدا وافق أهل الحديث على تكفيرهم، وهذا يقتضي نقل إجماع الفقهاء. وذكر في المحيط أن بعض الفقهاء لا يكفر أحدا من أهل البدع. وبعضهم يكفرون البعض، وهو من خالف ببدعته دليلا قطعيا ونسبه إلى أكثر أهل السنة، والنقل الأول أثبت وابن المنذر أعرف بنقل كلام المجتهدين، نعم يقع في كلام أهل المذهب تكفير كثير ولكن ليس من كلام الفقهاء الذين هم المجتهدون بل من غيرهم، ولا عبرة بغير الفقهاء، والمنقول عن المجتهدين ما ذكرنا اهـ."
(کتاب الجہاد ج نمبر ۴ ص نمبر ۲۳۷،ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144311101853
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
اب رجکوٹی صاحب سمجھ جائیں تو بہتر وگرنہ یہ فتوی رجکوٹی صاحب کے سسر صاحب کو بھی دکھا دینا چاہیے تاکہ وہ اپنی بچی کی عاقبت برباد ھونے سے بچا سکیں.
بہر حال اکابر علماء دیوبند رحمہ اللہ کا موقف اس بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے باغی کی نفی کا ہے اور جن حضرات سے ثبوت ہے تو وہ لغة باغی ماننے کا ہے نہ کے اصطلاحا.
ففہم و تدبر
بہتر اس میں یہ ہے کہ اکابر کی تشریحات لی جائیں اور رجکوٹی جیسےلوگوں سے صرف نظر کی جائے تاکہ امت کا ایمان سلامت رہے.
آخر میں رجکوٹی صاحب سے سوال کرنا چاہوں گا کہ
1سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے اگر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے قتال باغی ھونے کی وجہ سے کیا تھا پھر یہ قتال روکا کیوں جبکہ ابھی تک حَتَّىٰ تَفِیۤءَ إِلَىٰۤ أَمۡرِ ٱللَّهِۚ نہیں ھوا تھا .
رجکوٹی صاحب یہ تو روافض کی ترجمانی میں خوارج کو دلیل دینا ہے کہ دیکھیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قرآنی فرمان کی خلاف ورزی کی ہے.
2 کیا باغی کے موقف کو باقی رکھتے ھوئے صلح کرنا درست بھی تھا.
3 حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بھی آگے سے مکمل حکومت باغیوں کو کیوں دی.
کتبہ محمد عمرفاروق
مدیر: دارالشیبانی للافتاء والتحقیق پہاڑپور ڈیرہ اسماعیل خان

مرزا پلمبر جہلمی اور اس کے مرشدین کی منجھی ٹھوک دیگئی ہےاور مرزے کے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر مرکزی اعتراض کا اس...
03/02/2026

مرزا پلمبر جہلمی اور اس کے مرشدین کی منجھی ٹھوک دی
گئی ہے
اور مرزے کے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر مرکزی اعتراض کا اس مختصر کتاب میں کافی شافی جواب دیا جا چکا ہے
اس کتاب📔 نے “حقیقی قاتل”کی نشان دہی کر کے
مرزا جہلمی 😈کے مکر و فریب پر وہ رندا پھیرا ہے،
کہ اب جہلم والی سرکار کے پاس صرف ایک ہی آپشن بچتا ہے
کان بند کرے 🙉 اور بولے مُجھے نہیں سننا ،
آنکھوں پر ہاتھ رکھے 🙈 اور کہے مُجھے نہیں دیکھنااور
زیادہ زور دیا جائے تو کہے مجھے نہیں ماننا 🙊

ویسے یہ کتاب “صرف ٹریلر ہے “اور عوام کے لیے ہے اصل علمی شاہکار “تفصیلی کتاب “کچھ وقت بعد میدان میں آئے گی (انشاءاللہ)

Address

Mahalla Qasmia, Opst: Zarai Taraqiati Bank, RangPur Road Paharpur
Dera Ismail Khan
29160

Opening Hours

Monday 08:00 - 17:00
Tuesday 08:00 - 17:00
Wednesday 08:00 - 17:00
Thursday 08:00 - 17:00
Saturday 08:00 - 17:00
Sunday 08:00 - 17:00

Telephone

+923449393588

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Darushebani lilifta wattahqeq paharpur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Darushebani lilifta wattahqeq paharpur:

Shortcuts

Share

Category

l="false"> Add listing
  • Login
  • Subscribe

    We will notify you when anything happens in Dera Ismail Khan.