07/12/2025
https://www.facebook.com/share/p/1DQsores9o/
جنوبی وزیرستان اپر میں ترقیاتی فنڈز اور اسکیموں پر سنجیدہ سوالات، احتسابی اداروں کی خاموشی تشویشناک
جنوبی وزیرستان اپر (نمائندہ خصوصی)
ضلع جنوبی وزیرستان اپر میں لوکل گورنمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں اور گزشتہ پانچ برس کے دوران جاری کیے گئے اربوں، کروڑوں روپے کے فنڈز پر سنگین نوعیت کے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2020 سے 2025 تک مختلف یونین کونسلز اور علاقوں میں اربوں روپے کے ترقیاتی کام ظاہر کیے گئے ہیں، تاہم مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کے عملی آثار زمین پر نظر نہیں آتے۔
عوامی نمائندوں اور سماجی حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ریکارڈ میں شامل متعدد سیکیورٹی اسکیمیں، بنیادی ڈھانچے کی تعمیرات، واٹر سپلائی، گلیوں کی پختگی اور دیگر ترقیاتی کام فائلوں تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب کئی علاقوں میں وہ منصوبے بھی مکمل شدہ قرار دیے گئے جن کے متعلق عوام لا علم ہیں یا ان کی موجودگی کے شواہد موجود نہیں۔
بھرتیوں اور ترقیوں پر بھی سوالات
علاقے کے سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے لوکل گورنمنٹ کے اندر گزشتہ برسوں میں ہونے والی بھرتیوں، نگران دور میں دستخطی بے ضابطگیوں اور مخصوص ملازمین کی تیز رفتار ترقیوں کے حوالے سے بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق ان امور پر شفاف جانچ پڑتال ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔
اثاثوں سے متعلق شکوک و شبہات
مقامی حلقوں نے متعلقہ افسران کے اثاثوں اور جائیدادوں میں اضافہ ہونے کی بھی نشاندہی کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس حوالے سے باضابطہ انکوائری کی جائے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ بڑھتے ہوئے مالی وسائل قواعد کے مطابق ہیں یا نہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ کسی بھی افسر یا ادارے کے بارے میں شکوک دور کرنے کا واحد طریقہ شفاف تحقیقات ہیں۔
احتسابی اداروں کی خاموشی پر تشویش
عوامی سطح پر یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ کرپشن کی روک تھام کے لیے قائم ادارے اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ پانچ سال میں مختص کیے گئے تمام ترقیاتی فنڈز کا جامع آڈٹ کیا جائے اور تمام منصوبوں کی فیزیکل ویریفکیشن کی جائے۔
عوام کا مطالبہ
علاقے کے عوام نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ:
ترقیاتی بجٹ کا مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے
بھرتیوں اور ترقیوں کی تفصیلی تحقیقات کی جائیں
مبینہ بے ضابطگیوں کا واضح تعین کیا جائے
ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ عوامی فنڈز پارلیمنٹ اور حکومت کی امانت ہوتے ہیں، اس لیے شفافیت اور احتساب سے کسی صورت انحراف نہیں ہونا چاہیے۔
Deputy Commissioner South Waziristan Upper
Taj Malook PTI Overseas Ali Amin Khan Gandapur PTI Khyber Pakhtunkhwa Faisal Khan Tarakai Ali Amin Khan Gandapur BOL Qabaili Sahafi / قبائلی صحافی Shah Faisal Ghazi Sher Waziristan
Muhammad Sohail Afridi