Voice of Dera Ismail Khan

Voice of Dera Ismail Khan It's about Dikhan New Updates

ڈیرہ اسماعیل خان: دریا کی خوبصورتی گندگی اور جھاڑیوں کی نذر، شہریوں کا لینڈ اسکیپنگ اور صفائی کا مطالبہڈیرہ اسماعیل خان ...
10/08/2026

ڈیرہ اسماعیل خان: دریا کی خوبصورتی گندگی اور جھاڑیوں کی نذر، شہریوں کا لینڈ اسکیپنگ اور صفائی کا مطالبہ
ڈیرہ اسماعیل خان (غنچہ نیوز) ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کا قدرتی اثاثہ اور شہریوں کی تفریح کا واحد بڑا مرکز "دریائے سندھ" کا کنارہ اس وقت شدید انتظامی بے توجہی، گندگی اور خود رو جھاڑیوں کی وجہ سے اپنی قدرتی دلکشی کھو رہا ہے۔
کناروں پر کچرے کے ڈھیر اور گوبر:
تفصیلات کے مطابق دریا کے کنارے اور تفریحی مقامات پر جگہ جگہ کچرے کے انبار اور بھینسوں کا گوبر بکھرا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ کیکر اور دیگر خود رو جھاڑیوں کی بھر مار نے پورے ساحلی علاقے کو جنگل اور بیابان کی شکل دے دی ہے، جس سے نہ صرف بدبو پھیل رہی ہے بلکہ شہریوں کی آمدورفت اور بیٹھنے کی جگہ بھی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
سیاحتی مرکز بنانے کے لیے عوامی تجاویز:
علاقے کے شہریوں اور تفریح کے لیے آنے والی فیملیز کا کہنا ہے کہ اگر ضالع انتظامیہ اور متعلقہ بلدیاتی ادارے اس مقام پر صفائی ستھرائی کا باقاعدہ نظام قائم کریں، جھاڑیوں کی کٹائی کر کے وہاں شجرکاری اور جدید لینڈ اسکیپنگ (Landscaping) کی جائے، تو یہ مقام ایک بہترین علاقائی سیاحتی اور تفریحی مرکز بن سکتا ہے۔
انتظامیہ سے اصلاحی اقدامات کا مطالبہ:
مقامی شہریوں نے ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن اور متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:
* دریا کے ساحلی علاقوں سے کچرے اور گوبر کا فوری خاتمہ کیا جائے۔
* خود رو جھاڑیوں کو صاف کر کے وہاں سایہ دار و خوبصورت پودے لگائے جائیں۔
* دریا کے کناروں پر گندگی پھیلانے اور مویشی باندھنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
🔔 تازہ ترین اور مصدقہ خبروں کے لیے غنچہ نیوز کو فالو کریں اور اس پوسٹ کو آگے شیئر کریں۔

جنوبی وزیرستان اپر میں ایک اور افسوسناک سانحہ پیش آیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق تحصیل سراروغہ کے علاقے احمد وام میں پیوندہ (...
05/08/2026

جنوبی وزیرستان اپر میں ایک اور افسوسناک سانحہ پیش آیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق تحصیل سراروغہ کے علاقے احمد وام میں پیوندہ (کوچی) خاندان کے عارضی خیمے پر مبینہ طور پر ڈرون کیمرے کی مدد سے بم گرایا گیا، جس کے نتیجے میں دو خواتین اور ایک معصوم بچی جانبحق جبکہ پانچ افراد زخمی ہوگئے۔

مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیا گیا، تاہم اس حوالے سے حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

وانا: کڑی کوٹ میں بارودی مواد سے بھری گاڑی دھماکے سے تباہ، سکول، مسجد اور بازار کو شدید نقصانوانا جنوبی وزیرستان لوئر کے...
16/07/2026

وانا: کڑی کوٹ میں بارودی مواد سے بھری گاڑی دھماکے سے تباہ، سکول، مسجد اور بازار کو شدید نقصان

وانا جنوبی وزیرستان لوئر کے ہیڈکوارٹر وانا کے نواحی علاقے کڑی کوٹ میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جنان کوٹ کے قریب گزشتہ رات تقریباً 12 بجے بارودی مواد سے بھری ایک مشتبہ گاڑی کو سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کرکے روکنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کی شدت سے سکول کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا جبکہ قریبی بازار، جامع مسجد اور متعدد عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔

ذرائع کے مطابق دھماکے سے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کے کئی کمروں کی چھتیں گر گئیں، قریبی مارکیٹ کی دکانوں کی چھتوں کو نقصان پہنچا جبکہ تقریباً 400 میٹر دور واقع جامع مسجد کڑی کوٹ بازار کی چھت بھی بیٹھ گئی۔ اس کے علاوہ بازار میں موجود تقریباً 100 دکانوں کے شٹر اور شیشے ٹوٹ گئے۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم زخمیوں کے خدشے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس سے پورے وانا شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور رات کے وقت شہری گھروں سے باہر نکل آئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق کڑی کوٹ کے متعدد رہائشی مکانات بھی متاثر ہوئے، جہاں کئی کمروں کی چھتیں اور کچھ کچے مکانات منہدم ہوگئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ہی سکیورٹی فورسز نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کو عارضی چیک پوسٹ کے لیے اپنی تحویل میں لیا تھا، جبکہ کڑی کوٹ اور اس کے مضافات میں نئی چیک پوسٹیں بھی قائم کی گئی تھیں۔ یہ اقدامات چند ہفتے قبل چیف آف توجئی خیل کے دو بیٹوں کے قتل کے بعد ملک جمیل وزیر کی قوم کی جانب سے قومی لشکر تشکیل دیے جانے کے بعد کیے گئے۔

سکیورٹی صورتحال کے باعث کڑی کوٹ میں واقع گورنمنٹ بوائز ہائی سکول گزشتہ ایک ماہ سے بند ہے، جس سے ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی ہے، تاہم ایک ہفتہ قبل نجی تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے گئے تھے۔ آج صبح سکیورٹی فورسز نے علاقے کا مکمل محاصرہ کیا، جس کے باعث نجی سکولوں کے اساتذہ اور طلبہ کو بھی سکول نہ آنے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں تقریباً صبح 10 بجے کے بعد علاقے کو کلیئر کردیا گیا اور معمول کی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہوگئیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائی سکول اس سے قبل بھی دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بن چکا ہے۔ گزشتہ رات ہونے والے شدید دھماکے کے بعد سکول کی چار دیواری اور مرکزی عمارت کو اس قدر نقصان پہنچا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق عمارت فی الحال قابلِ استعمال نہیں رہی۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن اور شواہد جمع کرنے کا عمل شروع کردیا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

15/07/2026

Dikhan ka Shaka flyover sy gir gya...

پریس ریلیزمعاونِ خصوصی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی محمد عثمان خان بیٹنی ک...
15/07/2026

پریس ریلیز

معاونِ خصوصی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی محمد عثمان خان بیٹنی کا گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل کالج کنڈرے، نوشہرہ کا تفصیلی دورہ

پشاور، 15 جولائی 2026: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جناب محمد سہیل خان آفریدی کی خصوصی ہدایات پر معاونِ خصوصی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (KP-TEVTA) محمد عثمان خان بیٹنی نے آج بروز بدھ ضلع نوشہرہ کا تفصیلی دورہ کیا۔

اس موقع پر چیئرمین ڈیڈک ضلع نوشہرہ و رکن صوبائی اسمبلی (MPA) جناب زر عالم خان، رکن قومی اسمبلی (MNA) جناب شاہ احد علی شاہ، ایڈیشنل سیکرٹری انڈسٹریز حکومت خیبر پختونخوا جناب محمد اسحاق خان، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن KP-TEVTA جناب جمشید خان سمیت دیگر متعلقہ اعلیٰ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

دورے کے دوران معاونِ خصوصی نے گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل کالج کنڈرے، نوشہرہ کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے کالج کے تدریسی و انتظامی امور، سٹاف کی حاضری، جاری ترقیاتی منصوبوں اور مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ جاری ترقیاتی منصوبوں میں موجود بعض خامیوں اور سست روی کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو موقع پر ہی ہدایات جاری کیں کہ تمام ترقیاتی کام مقررہ معیار کے مطابق اور جلد از جلد مکمل کیے جائیں تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

معاونِ خصوصی نے کالج کی مختلف لیبارٹریوں، جن میں آئی ٹی لیب، الیکٹریکل لیب، فوڈ ٹیکنالوجی لیب اور دیگر عملی تربیتی شعبے شامل ہیں، کا بھی تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام لیبارٹریوں کو جدید صنعتی تقاضوں اور موجودہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے اور جدید آلات و مشینری فراہم کی جائے تاکہ طلبہ کو عالمی معیار کی فنی تربیت میسر آ سکے۔

اس موقع پر کالج کے پرنسپل اور فیکلٹی نے معاونِ خصوصی کو ادارے کو درپیش مسائل، اساتذہ کی کمی، لیبارٹریوں میں جدید آلات کی ضرورت اور دیگر انتظامی و تعلیمی امور سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ادارے کی بہتری اور مزید ترقی کے حوالے سے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔

محمد عثمان خان بیٹنی نے کالج کے اساتذہ اور انتظامیہ کی خدمات اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا فنی تعلیم کے فروغ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا:

"ہم گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل کالج کنڈرے، نوشہرہ کو صوبے کا ایک مثالی (Model) ادارہ بنائیں گے۔ ادارے میں اساتذہ کی کمی، لیبارٹریوں میں جدید آلات کی فراہمی اور دیگر ضروری سہولیات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو معیاری اور مارکیٹ پر مبنی فنی تعلیم فراہم کی جا سکے۔"

بعد ازاں معاونِ خصوصی نے انسٹیٹیوٹ مینجمنٹ کمیٹی (IMC) کے اجلاس کی صدارت بھی کی۔ اجلاس میں کمیٹی نے گزشتہ ایک سال کی کارکردگی، مالی امور، جاری ترقیاتی منصوبوں اور ادارے کی مجموعی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ معاونِ خصوصی نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ کالج کے انتظامی، مالیاتی اور ترقیاتی امور کی مؤثر نگرانی کو مزید فعال بنائے اور باقاعدگی سے اپنے فیصلوں اور پیش رفت سے ان کے دفتر اور متعلقہ حکام کو آگاہ کرتی رہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے وژن کے مطابق صوبے کے تمام ٹیکنیکل اور ووکیشنل اداروں کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر ملکی و بین الاقوامی مارکیٹ کے لیے تیار کیا جا سکے۔

دورے کے اختتام پر معاونِ خصوصی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کے فروغ، اداروں کی استعداد کار میں اضافے اور طلبہ کو بہترین تعلیمی و تربیتی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

لکی مروت میں پولیس کی جانب سے مبینہ فتنہ الخوارج (FAK) کمانڈر دلگی کی گرفتاری کے بعد ایک دلچسپ اور معنی خیز صورتحال سامن...
15/07/2026

لکی مروت میں پولیس کی جانب سے مبینہ فتنہ الخوارج (FAK) کمانڈر دلگی کی گرفتاری کے بعد ایک دلچسپ اور معنی خیز صورتحال سامنے آئی۔ جس شخص کو یہ خوارج کل تک اپنا ساتھی اور کمانڈر کہتے تھے، گرفتاری کے فوراً بعد اسی سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے اسے "منشیات کا عادی" قرار دے دیا گیا۔

یہ ردعمل محض ایک فرد سے دستبرداری نہیں بلکہ اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں دہشت گرد تنظیمیں اپنے مفادات کے لیے افراد کو استعمال کرتی ہیں اور ضرورت ختم ہوتے ہی انہیں قربانی کا بکرا بنا دیتی ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ دلگی کو منشیات کا عادی قرار دینے کی کوشش دراصل ایک ایسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے جس سے دہشت گرد گروہ ہمیشہ انکار کرتے رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیموں اور مسلح انتہا پسند گروہوں کا منشیات کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے۔ منشیات نہ صرف ان کے لیے مالی وسائل کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ جنگجوؤں کو ذہنی و جسمانی طور پر قابو میں رکھنے کا ایک مؤثر ہتھیار بھی سمجھی جاتی ہیں۔

تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو "حشیشین" (Hashshashin) کی مثال سامنے آتی ہے، جو قرونِ وسطیٰ کی ایک ایسی شدت پسند تنظیم تھی جو اپنے پیروکاروں کو منشیات کے زریعے مخصوص ذہنی کیفیت میں لا کر خطرناک مشنوں پر روانہ کرتی تھی۔۔ آج کے خوارج کا طریقہ کار میں بھی اسی نوعیت کی ذہنی غلامی اور نفسیاتی کنٹرول کے عناصر دکھائی دیتے ہیں، اگرچہ ان کی شکل اور انداز بدل چکا ہے۔

مصدقہ رپورٹس اور مختلف انسداد دہشت گردی مہمات میں گرفتار خوارج کے بیانات سے یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اپنے کارکنوں کو آئس، چرس، افیون اور دیگر نشہ آور اشیاء کی طرف راغب کرتی ہیں۔ نشہ فرد کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے، خوف اور ہمدردی جیسے انسانی جذبات کو دباتا ہے اور اسے ایسے اقدامات پر آمادہ کر سکتا ہے جن کا وہ عام حالات میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد گروہ ایسے افراد کو اپنے لیے زیادہ کارآمد سمجھتے ہیں جو ذہنی طور پر ان کے کنٹرول میں ہوں۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق جب نشے کا اثر کم ہوتا ہے تو بعض گرفتار دہشت گرد اپنے جرائم پر پشیمانی کا اظہار کرتے ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ انتہا پسند تنظیموں نے انہیں ذہنی طور پر اس حد تک قابو میں کر لیا تھا کہ وہ قتل و غارت، بے گناہوں کے خون، کم عمر نوجوانوں کے ساتھ بد فعلی، جنسی زیادتی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہو گئے۔ یہ صورتحال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں صرف جسموں کو نہیں بلکہ ذہنوں کو بھی یرغمال بناتی ہیں۔

خوارج کی حکمت عملی کا ایک اور خطرناک پہلو منشیات کی اسمگلنگ اور سرپرستی ہے۔ فتنہ الخوارج گروہ منشیات کی پیداوار، ترسیل اور غیر قانونی تجارت سے مالی فوائد حاصل کرتے ہیں۔ یہی سرمایہ بعد ازاں بھرتیوں، اسلحے، پروپیگنڈے اور دہشت گردی کی کارروائیوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ یوں منشیات اور دہشت گردی ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں؛ ایک مالی وسائل فراہم کرتی ہے اور دوسری خوف و تشدد کے ذریعے اس کاروبار کو تحفظ دیتی ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ نوجوانوں کو منشیات اور انتہا پسندانہ نظریات کے امتزاج کے ذریعے اپنے جال میں پھنسایا جاتا ہے۔ پہلے انہیں سماجی، معاشی یا نفسیاتی کمزوریوں کا شکار بنایا جاتا ہے، پھر نظریاتی پروپیگنڈے اور ذہنی دباؤ کے ذریعے ان کی سوچ کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ نوجوان جو معاشرے کا سرمایہ بن سکتے تھے، دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں ایک آلے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

دلگی کی گرفتاری کے بعد اس سے لاتعلقی اور اسے منشیات کا عادی قرار دینے کا عمل دراصل خوارج کے اندرونی تضادات کو بے نقاب کرتا ہے۔ اگر واقعی منشیات کا استعمال ان کے نزدیک قابل مذمت عمل ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا شخص ان کے حلقوں میں کیسے موجود رہا؟ اور اگر وہ ان کے لیے قابل قبول تھا تو گرفتاری کے بعد اچانک اس سے لاتعلقی کیوں اختیار کی گئی؟ اس طرزِ عمل سے واضح ہوتا ہے کہ ایسے گروہوں کے نزدیک اصول، اخلاقیات اور وفاداری کی کوئی مستقل حیثیت نہیں ہوتی؛ ان کا واحد معیار اپنا مفاد اور بقا ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں ہیں۔ منشیات ذہنوں کو مفلوج کرتی ہیں، انتہا پسند نظریات انسانیت کو ختم کرتے ہیں اور دہشت گردی معاشروں کو عدم استحکام سے دوچار کرتی ہے۔ لکی مروت کا حالیہ واقعہ اسی تلخ حقیقت کی ایک اور جھلک ہے کہ خوارج جیسے گروہ صرف اسلحے سے نہیں لڑتے بلکہ ذہنوں کو یرغمال بنا کر، منشیات کو ہتھیار بنا کر اور نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر کے معاشرے کے مستقبل پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف کامیابی عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ منشیات، انتہا پسند بیانیے اور دہشت گردی کے اس گٹھ جوڑ کو بیک وقت شکست دینے سے ہی ممکن ہے۔

15/07/2026

بنوں/ میریان پولیس سٹیشن کے قریب دھماکا، دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری...

ڈیرہ اسماعیل خان ہڑتال ہڑتال ہڑتال   #جیونیوز کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف ڈیرہ میں چوگلہ پر چاروں بازاروں کی مکمل...
13/07/2026

ڈیرہ اسماعیل خان
ہڑتال ہڑتال ہڑتال
#جیونیوز کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف ڈیرہ میں چوگلہ پر چاروں بازاروں کی مکمل ہڑتال کا منظر

13/07/2026

دلخراش اور آفسوس ناک واقعہ ٹانک وزیرستان مین روڈ مشہ جان بنگلہ کے قریب پولیس بکتر بند گاڑی پر بم دھماکہ اے ایس آئ فرید سمیت دو پولیس اہلکار شہید جبکہ دو پولیس اہلکار شدید زخمی۔
پولیس ذرائع

Address

Dera Ismail Khan
29050

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice of Dera Ismail Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share