11/03/2026
ڈوگر صاھب ! آپ نے یہ کیاکیا !!
بابر چودھری
گزشتہ دو ماہ سے دیکھ رہا ہوں کہ سی پی او ملتان نے پنک موٹر سائیکل دے کر خواتین پولیس اہلکاروں کا ایک خصوصی سکواڈ بنایا ہے ۔یہ سکواڈ ملتان میں بھکاری خواتین کو پکڑتا ہے ۔ان کو بحالی سینٹر میں بھیج دیا جاتا ہے ۔بحالی سینٹر میں ان کی تربیت کی جاتی ہے، انہیں بتایا جاتا ہے کہ بھیک مانگنا کتنی بڑی لعنت ہے ۔روزگار کمانا کتنی اچھی بات ہے ۔
ملتان شہر سے اب تک سینکڑوں خواتین بھکاریوں کو سینٹروں میں رکھا گیا ہے ۔
ایک منفرد کیس دیکھنے کو ملا ،
شام کا وقت ہے سی پی او ملتان اپنے دفتر میں بیٹھے ہیں ،انہیں افطاری اور مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد نماز تراویح کی ڈیوٹی چیک کرنے جانا ہے ۔
ایک انجان نمبر سے فون اتا ہے ،دوسری طرف خاتون پنجابی زبان میں بات کر رہی ہے ۔
"میں بھکاری ہوں ،مجھے اپ کے سکواڈ نے پکڑ لیا تھا ،میں کچھ عرصہ بحالی سینٹر میں رہی ،باعزت زندگی گزارنا چاہتی ہوں "
صادق علی ڈوگر کہتے ہیں :"آپ کو باعزت زندگی گزارنے سے کس نے روکا ؟"
خاتون سی پی او کی بات مکمل ہونے سے پہلے پھر بول پڑتی ہے
پا جی !
میری گل مکمل نی ہوئی"
" باعزت زندگی گزارنے کا مقصد یہ ہے کہ میں کوئی کام کرنا چاہتی ہوں "
صادق علی ڈوگر کہتے ہیں "بالکل کیجیے ،؟ہم کیا کر سکتے ہیں ؟جو کام آپ کرنا چاہتی ہیں بتائیں ؟"
خاتون بات کو اگے بڑھاتی ہے ۔
پاجی !
میں چوڑیاں ویچاں گی ،اپنے بالاں واسطے روزی کماواں گی ۔ پیسے ہے نی ، چوڑیاں لے دیو ۔
صادق علی ڈوگر خاتون سے اس کی رہائش کا پتہ پوچھتے ہیں ،جوڑیوں کا انتظام کرتے ہیں ،ایک گاڑی میں چوڑ یوں کے ڈبے رکھوا کر خاتون کے گھر بھیج دیتے ہیں ،جو خاتون پہلے بھکاری تھی وہ اگلے دن کاروباری تھی ۔
خاتون خوش ہے ،عید کی آمد ہے، اس نے ایک فٹ پاتھ پر جوڑیاں رکھی ہوئی ہیں ،بیچتی ہے اور باوقار طریقے سے اپنے بچوں کو پالنا شروع کر دیا ہے ۔
اچھائی سکھانا پڑتی ہے اور برائی خود جاتی ہے ۔معاشرے میں نیگیٹو چیزیں تلاش کرنا ،برائیاں کرنا ، سننا اور چھاپنا بہت اچھا لگتا ہے ،کہ اکثریت چاہتی بھی یہی ہے ۔
کسی کو اچھا کام کرتے دیکھ کر اکثر یہ سننے کو ملتا ہے ۔"اے دکھاوا کر ریا اے "
ملتان پولیس ان دنوں اچھائی پھیلا رہی ہے تو اس فورس اور اس کے سربراہ کی تعریف خوشامد نہیں ہے حقائق ہیں ۔
وَتُغِيثُوا الْمَلْهُوفَ، وَتَهْدُوا الضَّالَّ ابی داؤد :4817 ،
’’پریشان حال کی مدد کرو اور راستہ بھول جانے والے کی رہنمائی کرو ۔‘‘
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں پولیس افسر کی طرف سے یہ ایک احسن قدم ہے ۔
ہمارے اندر لاکھ برائیاں ہوں لیکن کوئی ایک اچھا عمل خدا کے ہاں قبولیت حاصل کر لے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہے ۔
بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو عمل کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے،ہم بھی اپنی حیثیت کے مطابق یہ کر سکتے ہیں ۔لوگوں کو باوقار زندگی کی طرف لا سکتے ہیں ۔
لوگ خوشحال نہیں ہوں گے تو وہ مذہب اور اخلاقی ضابطوں کی پابندی نہیں کر سکیں گے اور معاشرہ تباہ ہو جائے گا۔ اس لئے لوگوں کی خوشحالی کا مطلب ہے ایک صالح اور نظریاتی معاشرے کا قیام۔
میں اس خاتون اور اس کی بھلائی کے لئے کام کرنے والوں کے لئے دعا گو ہوں۔