HEARmax Pakistan

HEARmax Pakistan Mian M.Azam (born: 12April;1985)
CEO at HEARmax PAKISTAN
PASSED:MASS COMMUNICATION and
MEDIA Studies

19/02/2026
غرورِ طاقت کا زوال، ابابیلوں کا فضائی حملہ، بائیولوجیکل وارفیئر اور کعبہ کی کائناتی مرکزیت: سورہ الفیل کا تاریخی، عسکری،...
15/02/2026

غرورِ طاقت کا زوال، ابابیلوں کا فضائی حملہ، بائیولوجیکل وارفیئر اور کعبہ کی کائناتی مرکزیت: سورہ الفیل کا تاریخی، عسکری، عمرانی اور الہیاتی مطالعہ! - بلال شوکت آزاد

انسانی تاریخ کے وسیع و عریض، خون آلود اور ہنگامہ خیز کینوس پر جب ہم ”طاقت کے نشے“، ”عسکری غرور“ اور تہذیبوں کے عروج و زوال کا عمرانی اور فلسفیانہ مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں ایک اٹل کائناتی اصول کارفرما نظر آتا ہے۔

ہر دور کے فرعون، نمرود، شداد اور جدید دور کے ہٹلر نما سامراجی حکمرانوں کو ہمیشہ یہ زعم رہا ہے کہ ان کی بے پناہ مادی قوت، ان کے جدید ترین اور تباہ کن ہتھیار، ان کی عسکری حکمتِ عملی اور ان کی ناقابلِ شکست فوجیں کائنات کے ہر نظام، ہر نظریے اور ہر خطے کو اپنے پیروں تلے روند سکتی ہیں۔

انہیں لگتا ہے کہ تاریخ کے فیصلے آسمان پر نہیں بلکہ ان کے پینٹاگون اور جنگی خیموں میں ہوتے ہیں۔

لیکن جب زمین کی یہ متکبر اور فرعونی طاقتیں، جو اپنی ٹیکنالوجی کے زعم میں خدا کو بھول چکی ہوتی ہیں، اچانک آسمان کے ”الہیاتی نظام“ (Divine Order) اور خدا کی پوشیدہ تدبیر سے ٹکراتی ہیں، تو پھر ان کا انجام اتنا بھیانک، ذلت آمیز اور عبرتناک ہوتا ہے کہ تاریخ کی آنکھیں بھی صدیوں تک خوف سے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔

قرآن مجید کے تیسویں پارے میں جلوہ گر ہونے والی ”سورہ الفیل“، جو مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی، محض پرندوں اور ہاتھیوں کی کوئی دیومالائی کہانی (Mythology) یا بچوں کو سنانے والا کوئی لوک قصہ نہیں ہے، بلکہ یہ ”فلسفہِ تاریخ“ (Philosophy of History)، ”تہذیبی تصادم“ اور ”جدید عسکریات“ (Military Science) کا وہ زندہ اور جلال سے بھرپور الہیاتی سبق ہے جو پوری انسانیت کو بتاتا ہے کہ جب کوئی نام نہاد ”سپر پاور“ تکبر میں اندھی ہو کر اللہ کے مرکز (کعبہ) پر حملہ آور ہوتی ہے، تو اللہ اسے شکست دینے کے لیے آسمان سے فرشتے یا کوئی ایٹم بم نہیں گراتا، بلکہ فطرت کے حقیر ترین اور چھوٹے ترین ہتھیاروں (پرندوں اور کنکریوں) سے اس کی ٹیکنالوجی، اس کی ملٹری انٹیلی جنس اور اس کے غرور کو اس طرح خاک میں ملا دیتا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے وہ کچلے ہوئے بھوسے کی مانند رہ جاتے ہیں۔

اس سورت کی الہیاتی اور سائنسی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ہمیں چھٹی صدی عیسوی (570ء) کے عالمی سیاسی اور معاشی منظر نامے (Global Geopolitics and Economics) کی نبض پر ہاتھ رکھنا ہوگا۔

اس وقت دنیا میں دو بڑی سپر پاورز برسرِ پیکار تھیں:

ایک طرف رومن ایمپائر (Byzantine Empire) تھی جو عیسائیت کی علمبردار تھی، اور دوسری طرف فارس (Sassanid Empire) تھی جو آتش پرست تھی۔

ان دونوں کے درمیان مشرقِ وسطیٰ اور بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہوں (Trade Routes) پر قبضے کی ایک سرد جنگ (Cold War) جاری تھی۔

رومن ایمپائر کا ایک انتہائی مضبوط حلیف ملک ”حبشہ“ (موجودہ ایتھوپیا) تھا، جس کی افواج نے بحیرہ احمر پار کر کے یمن پر قبضہ کر رکھا تھا تاکہ فارس کے تجارتی رسوخ کو توڑا جا سکے۔

یمن میں حبشہ کا مقرر کردہ وائسرائے یا گورنر ”ابرہہ الاثرم“ تھا، جو ایک انتہائی شاطر، جابر، عسکری ذہن رکھنے والا اور معاشی توسیع پسند (Economically Expansionist) حکمران تھا۔

ابرہہ نے جب جزیرہ نما عرب کا بغور مطالعہ کیا تو اس کی معاشی اور سیاسی رگیں پھڑک اٹھیں۔

اس نے دیکھا کہ پورے عرب کی معیشت، تجارت، بین الاقوامی راہداری اور سب سے بڑھ کر عربوں کی ”روحانی عقیدت“ کا مرکز مکہ کی ایک بے آب و گیاہ وادی میں موجود ایک سادہ سا، بغیر چھت کا سیاہ اور چوکور گھر (کعبہ) ہے۔

عرب قبائل سال کے مخصوص مہینوں میں وہاں حج کے لیے آتے ہیں، وہاں ایک عظیم الشان تجارتی میلہ (عکاظ) لگتا ہے اور قریشِ مکہ اس کی وجہ سے پورے عرب میں سفارتی اور معاشی استثنیٰ (Diplomatic Immunity) انجوائے کر رہے ہیں۔

ابرہہ نے عربوں کی اس روحانی اور تجارتی مرکزیت (Center of Gravity) کو یمن منتقل کرنے کا ایک ماسٹر پلان بنایا۔

اس نے صنعاء کے مقام پر ایک عظیم الشان، سنگ مرمر اور سونے چاندی سے مزین، اور فلک بوس گرجا گھر تعمیر کروایا جس کا نام ”القلیس“ (Al-Qullais) رکھا گیا۔

اس کا اعلانِ عام یہ تھا کہ اب عرب کعبہ کے بجائے اس جدید اور پرتعیش عمارت کا طواف کریں۔

لیکن ایک بدو عرب کے لیے کعبہ محض ایک عمارت نہیں، ان کی رگوں میں دوڑتا ہوا دینِ ابراہیمی کا خون تھا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ بنو کنانہ کے ایک غیرت مند عرب نے رات کے اندھیرے میں اس گرجا گھر میں گھس کر غلاظت پھیلا دی اور اس کی توہین کی۔ یہ ابرہہ کے لیے ایک سیاسی اور عسکری تحفہ تھا۔

اسے مکہ پر حملہ کرنے، کعبہ کو (معاذ اللہ) ڈھا دینے اور قریش کی تجارتی بالادستی کو ختم کرنے کا ایک مضبوط جواز (Casus Belli) مل گیا۔

اس نے حبشہ کے بادشاہ سے خصوصی جنگی ہاتھی منگوائے اور ساٹھ ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک ایسی بھاری بھرکم، جدید ترین اور بکتر بند فوج لے کر نکلا جس کے تصور سے ہی عرب قبائل لرز اٹھتے تھے۔

چھٹی صدی عیسوی کی عسکری تاریخ میں ”ہاتھی“ محض ایک جانور نہیں تھا، بلکہ یہ وہ حیثیت رکھتا تھا جو آج کے دور میں ”نیوکلیئر آبدوزوں“، ”بمبار طیاروں“ یا ”ہیوی بیٹل ٹینکس“ (Heavy Battle Tanks) کی ہوتی ہے۔

ہاتھیوں کی موٹی کھال پر عربوں کے تیر اثر نہیں کرتے تھے اور وہ اپنے وزن سے خیموں اور لشکروں کو کچل دیتے تھے۔

یہ دراصل ایک ”ویپن آف ماس ڈسٹرکشن“ (WMD) تھا۔

ابرہہ کا مکہ کی طرف مارچ دراصل ایک ”سائیکلوجیکل وارفیئر“ (Psychological Warfare) تھا جس کا مقصد عربوں کو نفسیاتی طور پر مفلوج کرنا اور کعبہ کی حرمت کو ہمیشہ کے لیے مٹانا تھا۔

سورت کا آغاز ایک انتہائی پرجلال، ڈرامائی، استفہامیہ اور مخاطب کو جھنجھوڑ دینے والے انداز سے ہوتا ہے، جہاں کائنات کا رب اپنے محبوب ﷺ کو براہِ راست مخاطب کر کے فرماتا ہے:

”أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ“
(ترجمہ: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ [الفیل: 1])۔

یہاں غور طلب اور علمی نکتہ یہ ہے کہ عربی زبان کا لفظ ”أَلَمْ تَرَ“ (کیا آپ نے نہیں دیکھا؟) استعمال ہوا ہے، حالانکہ تاریخی حقائق کے مطابق نبی کریم ﷺ اس عظیم واقعے (جسے تاریخ میں عام الفیل یا 570 عیسوی کہا جاتا ہے) کے پچاس یا پچپن دن بعد اس دنیا میں تشریف لائے تھے، یعنی آپ ﷺ نے اس واقعے کو اپنی ظاہری آنکھوں سے وقوع پذیر ہوتے نہیں دیکھا تھا۔

تو پھر اللہ نے ”الم تر“ کیوں کہا؟

عربی لغت کے فصیح اصولوں اور قرآنی اسلوب (Epistemology of Quran) کے مطابق، جب کسی واقعے کی سچائی، اس کے اثرات اور اس کے تاریخی شواہد اتنے حتمی، واضح، متواتر (Undeniable) اور پہاڑ کی طرح ٹھوس ہوں کہ پورا معاشرہ اس کا چشم دید گواہ ہو اور اس پر کسی کو شک کی گنجائش نہ ہو، تو اسے ”جاننے“ کو ”دیکھنے“ (رؤیتِ قلبی و عقلی) کے مترادف قرار دیا جاتا ہے۔

یعنی اے نبی! یہ واقعہ اتنا روشن ہے گویا آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ نے ابرہہ کا نام نہیں لیا، اس کی ساٹھ ہزار کی فوج کا ذکر نہیں کیا، حبشہ کی سلطنت کا حوالہ نہیں دیا، بلکہ انہیں صرف اور صرف ”أَصْحَابِ الْفِيلِ“ (ہاتھی والے) کہہ کر پکارا۔

اس میں قرآن کا ایک بہت گہرا طنز (Divine Sarcasm) اور جدید ٹیکنالوجی پرستی پر ایک کاری ضرب پوشیدہ ہے۔

اللہ بتا رہا ہے کہ ان کا سارا غرور، ان کی ساری شناخت اور ان کی ساری طاقت کا محور ان کی ”ٹیکنالوجی“ اور ان کے ”ویپنز“ (ہاتھی) تھے۔

انہوں نے خود کو ہاتھیوں سے منسوب کر لیا تھا کہ ہم ہاتھیوں والے ہیں، ہمیں کون شکست دے گا؟

اللہ نے فرمایا کہ تم جس چیز پر غرور کرتے ہو، میں اسی نام سے تمہیں یاد کروں گا تاکہ تمہاری ذلت میں اضافہ ہو۔

جب یہ خونی اور متکبر لشکر طائف کو روندتا ہوا مکہ کے قریب وادیِ محسر (مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان) کے مقام پر خیمہ زن ہوا، تو ایک ایسا تاریخی، نفسیاتی اور عمرانی مکالمہ ظہور پذیر ہوا جو رہتی دنیا تک ”توکل“ (Absolute Trust in God) اور سفارتی حکمتِ عملی کی سب سے بڑی مثال بن گیا۔

ابرہہ کے ہراول دستے نے قریش کے سردار اور نبی ﷺ کے دادا، حضرت عبدالمطلب کے دو سو اونٹ قبضے میں لے لیے۔

عبدالمطلب، جو قریش کے متولی اور ایک انتہائی باوقار، وجیہہ اور رعب دار شخصیت تھے، وہ ابرہہ کے خیمے میں گئے۔

جب ابرہہ نے ان کی نورانی اور پرجلال شخصیت کو دیکھا تو وہ مرعوب ہو کر اپنے شاہی تخت سے نیچے اتر آیا اور ان کے ساتھ قالین پر بیٹھ گیا۔

ابرہہ نے سوچا تھا کہ مکہ کا سردار گڑگڑائے گا، رحم کی بھیک مانگے گا اور کعبہ کو نہ گرانے کی منت سماجت کرے گا۔

لیکن عبدالمطلب نے انتہائی پرسکون اور غیر متزلزل لہجے میں کہا:

”میرے جو دو سو اونٹ تمہارے سپاہیوں نے پکڑے ہیں، وہ مجھے واپس کر دو۔“

ابرہہ یہ سن کر حیران بھی ہوا اور اس نے حقارت سے ہنستے ہوئے کہا:

”جب تم خیمے میں آئے تھے تو میری نظر میں تمہاری بڑی عزت تھی، لیکن اب تم میری نظروں سے گر گئے ہو۔ میں تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا کعبہ، جو تمہاری عزت کا مرکز ہے، ڈھانے آیا ہوں اور تمہیں اس کی کوئی فکر نہیں، تم مجھ سے اپنے چند اونٹوں کی بات کر رہے ہو؟“

اس طنز کے جواب میں عبدالمطلب نے وہ تاریخی اور کائناتی جملہ ادا کیا جس نے ابرہہ کے عسکری غرور کی بنیادیں ہلا دیں اور تاریخ کا دھارا موڑ دیا:

”أَنَا رَبُّ الْإِبِلِ، وَلِلْبَيْتِ رَبٌّ سَيَحْمِيهِ“
(میں تو اونٹوں کا مالک (رب) ہوں سو میں اپنی ملکیت مانگ رہا ہوں، لیکن اس گھر کا بھی ایک مالک (رب) ہے جو خود اس کی حفاظت کرے گا، مجھے اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں)۔

یہ جملہ دراصل عربوں کی جانب سے کمزوری یا ہتھیار ڈالنے کا اعلان نہیں تھا، بلکہ یہ اس کائناتی حقیقت اور توحید کا اعتراف تھا کہ جب انسان کی مادی طاقت جواب دے جائے، جب سامنے ایٹم بم یا ہاتھیوں کا لشکر ہو اور انسان کے پاس بچاؤ کا کوئی ظاہری سبب نہ ہو، تو انسان کو اپنا مقدمہ اور اپنی بقا کا فیصلہ ”ربِ کعبہ“ کی عدالت میں پیش کر دینا چاہیے۔

عبدالمطلب نے واپس جا کر مکہ والوں سے کہا کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاؤ، اب ہمارا اس لشکر سے کوئی مقابلہ نہیں، اب آسمان کا رب اپنا گھر خود بچائے گا۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی اسٹریٹیجی اور عسکری منصوبہ بندی کا انجام بیان کیا:

”أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ“
(ترجمہ: کیا اس نے ان کی تمام چالوں / خفیہ منصوبوں کو برباد، بے کار اور گمراہ نہیں کر دیا؟ [الفیل: 2])۔

یہاں عربی کا لفظ ”كَيْدَ“ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب کوئی عام سازش نہیں، بلکہ ایک ایسی خفیہ، مضبوط اور گہری منصوبہ بندی ہوتی ہے جو بظاہر فول پروف اور ناقابلِ شکست ہو۔

ابرہہ کا ”کید“ یہ تھا کہ کعبہ کو ڈھا کر یمن کو معاشی، سیاسی اور روحانی مرکز بنایا جائے اور قریش کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔

اس نے ہر پہلو سے، لاجسٹکس سے لے کر انٹیلی جنس تک، ایک مکمل پلان بنایا تھا۔

لیکن اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کے اس عظیم الشان کید کو ”تَضْلِيلٍ“ میں ڈال دیا۔

تضلیل کا لغوی مطلب ہے کسی چیز کو اس کے راستے سے بھٹکا دینا، اسے اس کے ہدف (Target) تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع کر دینا اور غارت کر دینا۔

اللہ نے ان کی ملٹری انٹیلی جنس اور ان کی ٹیکنالوجی کو وہیں ان کے گلے کا طوق بنا دیا۔

تاریخ گواہ ہے، جیسا کہ ابن اسحاق اور سیرت ابن ہشام کی مستند روایات میں مذکور ہے، کہ جب ابرہہ نے اپنے سب سے بڑے، سب سے طاقتور اور لیڈر ہاتھی جس کا نام ”محمود“ تھا، اسے کعبہ کی طرف بڑھنے کا حکم دیا، تو وہ ہاتھی زمین پر بیٹھ گیا۔ مہاوتوں نے اسے لوہے کے آنکسوں سے مارا، اس کا سر زخمی کر دیا، خون بہنے لگا، مگر وہ کعبہ کی طرف ایک انچ بڑھنے کے لیے تیار نہ تھا۔

لیکن اللہ کی قدرت کا نظارہ دیکھیے، جب اسی ہاتھی کا رخ یمن، شام یا مشرق کی طرف کیا جاتا، تو وہ پوری تیزی سے اٹھ کر دوڑنے لگتا، اور جیسے ہی رخ کعبہ کی طرف کرتے، وہ دوبارہ گھٹنوں کے بل گر جاتا۔

یہ کوئی عام واقعہ نہیں تھا، یہ اللہ کا ”تکوینی نظام“ (Cosmological and Divine Order) تھا جو اس بے زبان جانور کے اندر سافٹ ویئر کی طرح کام کر رہا تھا۔

جانور اپنے خالق کے حکم کا پابند تھا اور خدا کے گھر کی حرمت پہچانتا تھا، جبکہ انسان (ابرہہ) اپنی انا اور طاقت کے نشے میں اندھا ہو چکا تھا۔

یہیں سے ان کے پلان کی ”تضلیل“ (بربادی) کا آغاز ہو گیا تھا اور ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہی ان کے خلاف بغاوت کر چکا تھا۔

جب زمینی اسباب ختم ہو گئے، تو پھر کائنات کا وہ معجزاتی، ہیبت ناک اور تصور سے بالاتر فضائی حملہ (Aerial Attack) شروع ہوا جس نے اس وقت کی سپر پاور کی اینٹ سے اینٹ بجا دی:

”وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ“
(ترجمہ: اور اس نے ان پر غول در غول، اور پے در پے آنے والے پرندے بھیج دیے [الفیل: 3])۔

یہاں ایک بہت بڑی لغوی اور تفسیری غلط فہمی کو دور کرنا انتہائی ضروری ہے جو برصغیر میں عام ہے۔ عام طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ ”ابابیل“ کسی خاص پرندے (Bird Species) کا نام ہے (جیسے چڑیا، کبوتر یا عقاب)۔

عربی لغت میں ”أَبَابِيلَ“ کسی پرندے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ”صفت“ اور ”حالت“ ہے جس کا مطلب ہے ”غول در غول، جھنڈ کے جھنڈ، ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے یا پے در پے آنے والے لشکر“۔

مفسرین، جن میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سرِفہرست ہیں، فرماتے ہیں کہ یہ پرندے سمندر (بحر احمر) کی طرف سے آئے تھے، ان کی شکلیں عجیب تھیں، کچھ سیاہ تھے، کچھ سبز تھے، ان کی چونچیں پرندوں جیسی اور پنجے کتوں جیسے تھے، اور یہ ایسے غول در غول آ رہے تھے جیسے آج کل کے جدید جنگی طیاروں کی فارمیشن (Fighter Jet Formation) یا ڈرونز کا ”سوارم“ (Drone Swarm) ہوتا ہے جو آسمان کو تاریک کر دیتا ہے۔

جدید عسکری سائنس اسے ”ایسمیٹرک وارفیئر“ (Asymmetrical Warfare) کہتی ہے، جہاں جنگ دو برابر طاقتوں کے درمیان نہیں ہوتی۔

ایک طرف بھاری بھرکم ہاتھی اور ساٹھ ہزار انسان تھے جو زمین پر رینگنے والے جانور تھے اور جن کے ہتھیار صرف سامنے کے دشمن کو مار سکتے تھے، اور دوسری طرف آسمان کی بلندیوں سے فضائی حملہ کرنے والے چھوٹے چھوٹے پرندے، جن کا نشانہ زمین سے لینا تیر اندازوں کے لیے قطعی طور پر ناممکن تھا۔

اللہ نے ان پرندوں کے ذریعے ابرہہ کی فوج پر وہ قہرِ خداوندی نازل کیا جس کے سامنے ان کی تمام لوہے کی ڈھالیں، ان کی زرہیں اور ان کے شاہی خیمے مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور اور بے بس ثابت ہوئے۔

ان آسمانی طیاروں (پرندوں) کے ہتھیار کیا تھے؟

اگلی آیت اس کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی اور خوفناک تصویر کشی کرتی ہے:

”تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ“
(ترجمہ: جو ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر / کنکریاں برسا رہے تھے [الفیل: 4])۔

لفظ ”سِجِّيلٍ“ (Sijjil) کے بارے میں لغت کے ماہرین کا اتفاق ہے کہ یہ فارسی کے دو لفظوں ”سنگ“ (پتھر) اور ”گل“ (مٹی) سے مل کر عربی میں معرب ہوا ہے، جس کا مطلب ہے ایسی مٹی جو جہنم کی آگ میں یا کسی انتہائی شدید تپش میں پک کر پتھر کی طرح سخت اور مہلک ہو گئی ہو۔

تفسیری روایات کے مطابق ہر پرندے کے پاس چنے یا مسور کی دال کے دانے کے برابر تین کنکریاں تھیں (ایک چونچ میں اور دو پنجوں میں)، اور یہ کنکریاں اندھا دھند نہیں گر رہی تھیں بلکہ ہر کنکری پر اس شخص کا نام کندہ تھا جسے وہ لگنی تھی۔

یہ گویا آج کے دور کے ”پریسیشن گائیڈڈ میونیشن“ (Precision-Guided Munition) یا ”سمارٹ بمبز“ (Smart Bombs) کی خالص الہیاتی شکل تھی جو اپنے ٹارگٹ کو خود لاک (Lock) کرتی تھی۔

لیکن یہاں ہم تفسیر کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے ”جدید سائنس اور وبائیات“ (Epidemiology) کے متوازی ٹریک (Parallel Track) کو بھی شامل کرتے ہیں۔

مستند مورخین، بشمول ابن اسحاق، عکرمہ اور یعقوبی (بحوالہ تفسیر ابن کثیر اور تاریخ طبری)، نقل کرتے ہیں کہ جزیرہ نما عرب میں یہ وہ پہلا سال تھا جب ”حصبہ اور جدری“ (Smallpox and Measles) یعنی چیچک اور خسرہ کی خوفناک اور گوشت گلانے والی وبائی بیماری دیکھی گئی۔

جب یہ آسمانی کنکریاں فوجیوں کے جسموں یا ان کے فولادی خ*ل پر گرتیں تو وہ سیدھی ان کے گوشت اور ہڈیوں کو چھیدتی ہوئی آر پار نکل جاتیں۔ ان کا جسم فوراً پھول جاتا، خارش شروع ہوتی، گوشت گلنے لگتا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرنے لگتا، اور ان کے خون سے پیپ بہنے لگتی۔

یہ گویا ایک انتہائی جدید ”بائیولوجیکل ویپن“ (Biological Weapon)، کسی مہلک وائرس یا کسی انتہائی طاقتور ریڈیو ایکٹو مٹیریل (Radioactive Material) کا حملہ تھا جس نے چند لمحوں میں پوری کی پوری ناقابلِ شکست فوج کے جسموں کو گلا کر رکھ دیا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ابرہہ وہاں مکہ میں فوراً نہیں مرا تھا، بلکہ اس کا جسم گل سڑ گیا تھا، وہ کوڑھ کا مریض بن گیا تھا، راستے میں اس کے اعضاء اور انگلیاں کٹ کٹ کر گر رہی تھیں اور اسے اسی سسکتی ہوئی، بدبودار اور عبرتناک حالت میں واپس صنعاء (یمن) لے جایا گیا جہاں اس کی چھاتی پھٹ گئی، اس کا دل باہر آ کر گرا، اور وہ تڑپ تڑپ کر ایک عبرتناک موت کا شکار ہوا۔

اللہ نے اسے فوراً اس لیے نہیں مارا تاکہ وہ واپس جا کر اپنی قوم کے لیے ”زندہ عبرت“ (Living Sign of Wrath) کا نشان بنے اور کوئی دوبارہ کعبہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کرے۔

سورت کا اختتام ایک ایسی انتہائی بلیغ، دل دہلا دینے والی اور چشم کشا تشبیہ پر ہوتا ہے جو قریش کے سرداروں اور قیامت تک آنے والے متکبر حکمرانوں کے لیے ایک کھلا چیلنج اور سبق ہے:

”فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ“
(ترجمہ: پھر انہیں (اس طرح) کر دیا جیسے کھایا ہوا بھوسا [الفیل: 5])۔

عربی زبان کی فصاحت میں ”عَصْفٍ“ اس سوکھے ہوئے پتّے، گندم کے بھوسے، یا گھاس پھوس کو کہتے ہیں جس میں کوئی جان یا وزن نہ ہو، اور ”مَّأْكُولٍ“ کا مطلب ہے جسے کھا لیا گیا ہو، یعنی وہ بھوسا جو جانوروں کے چبانے کے بعد بچ جائے، یا ان کے پیروں تلے روندا جائے، یا پھر جسے جانور ہضم کر کے گوبر (Dung) کی شکل میں باہر نکال دیں۔

یہ تشبیہ اس وقت کی سپر پاور کی اس حتمی ذلت، گراوٹ اور تذلیل کو ظاہر کرتی ہے کہ جو لوگ سونے چاندی سے لدے ہاتھیوں پر بیٹھ کر دنیا کو روندنے آئے تھے، اللہ کے حقیر ترین پرندوں نے ان کی لاشوں کو ایسا کر دیا جیسے جانوروں کا چبایا ہوا اور تھوکا ہوا غلاظت زدہ گھاس جسے دیکھ کر گھن آتی ہے۔

اس میں مکہ کے سرداروں کے لیے بھی ایک خاموش پیغام تھا کہ

اے قریش! تم مت سمجھنا کہ تم نے ابرہہ کو ہرایا ہے، تم تو ڈر کے مارے پہاڑوں پر جا چھپے تھے، یہ تمہاری بہادری نہیں بلکہ اللہ کا خالص معجزہ تھا جس نے اپنے گھر اور تمہاری عزت کو بچایا، لہٰذا اس رب کی عبادت کرو (جس کا ذکر اگلی سورہ قریش میں آیا)۔

اور اس میں قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے یہ ابدی پیغام تھا کہ

اگر تم کعبہ کے رب کے ساتھ اپنا توکل مضبوط کر لو گے اور غیر اللہ کے سامنے جھکنا چھوڑ دو گے، تو آج کے دور کے جدید ابرہہ اپنے نیوکلیئر وار ہیڈز، اپنے بیلسٹک میزائلوں، اپنے ڈرونز اور اپنی معاشی پابندیوں کے باوجود تمہارا بال بیکا نہیں کر سکیں گے۔

خلاصہ کلام، حاصلِ تفکر اور اس تحریر کا نچوڑ یہ ہے کہ ”سورہ الفیل“ کوئی ماضی کا قصہ یا عجائب گھر میں رکھی ہوئی کوئی دستاویز نہیں ہے، بلکہ یہ آج کے دور کی سب سے بڑی اور کڑوی حقیقت ہے۔

آج بھی جب کوئی جدید سامراج (Modern Imperialism)، چاہے وہ مشرق میں ہو یا مغرب میں، دنیاوی وسائل، میڈیا کی یلغار اور ٹیکنالوجی کے ”دیوہیکل ہاتھیوں“ پر سوار ہو کر اسلام کے روحانی مرکز (عقیدہِ توحید) کو تباہ کرنے، مسلمانوں کے نظریات کو مسخ کرنے یا ان کے خطوں کو روندنے کے لیے نکلتا ہے، تو بظاہر اسے کوئی مادی طاقت روکنے والی نظر نہیں آتی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اب امتِ مسلمہ کا وجود ختم ہو جائے گا۔

لیکن کائنات کے عرش پر جلوہ گر رب آج بھی وہی ہے جو عبدالمطلب کے دور میں تھا۔

وہ آج بھی ابابیلوں اور پرندوں کے لشکر بھیجنے پر، اور ہواؤں کا رخ موڑنے پر قادر ہے۔

شرط صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر آج کے دور کا عبدالمطلب پیدا ہو، جن کا ”یقین“ اور ”توکل“ اتنا بیدار اور بے داغ ہو جو دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہہ سکے کہ

”اس دین کا، اس گھر کا اور اس کتاب کا رب خود اس کی حفاظت کرے گا۔“

یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات میں طاقت، فتح اور غلبے کا اصل سرچشمہ ”پینٹاگون“، ”وائٹ ہاؤس“ یا کوئی اور عالمی طاقت نہیں، بلکہ صرف اور صرف وہ ذاتِ واحد ہے جو ایک مٹی کی حقیر سی کنکری سے فولادی ہاتھیوں کے پرخچے اڑا سکتی ہے۔

غرور مٹی کا ہو، لوہے کا ہو، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا ہو یا مقبوضہ اقتدار کا، جب وہ خدا کی حدوں کو پار کرتا ہے، تو اس کا انجام بالآخر ”عصف ماکول“ (چبائے ہوئے بھوسے) کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

کعبہ کل بھی محفوظ تھا، آج بھی محفوظ ہے، اور قیامت تک مرکزِ کائنات رہے گا، کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ زمین کے باسیوں نے نہیں، آسمان کے رب نے لے رکھا ہے۔



#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد

عبرت کا عجائب گھر، پگھلتا ہوا تانبا اور مشک کی مٹی: جزا و سزا کا حتمی مشاہدہ! - بلال شوکت آزادجب کائنات کے دولہا، سرورِ ...
17/01/2026

عبرت کا عجائب گھر، پگھلتا ہوا تانبا اور مشک کی مٹی: جزا و سزا کا حتمی مشاہدہ! - بلال شوکت آزاد

جب کائنات کے دولہا، سرورِ کونین ﷺ سدرۃ المنتہیٰ کے اس پار، لامکاں کی وسعتوں میں اپنے رب سے راز و نیاز کی باتیں کر چکے، جب ”قابَ قوسین“ کی قربتوں میں محبت کے دیپ جل چکے اور امت کی بخشش کے پروانے جاری ہو چکے، تو واپسی کا سفر شروع ہوا۔ لیکن یہ واپسی سیدھی زمین پر نہیں تھی۔

خالقِ کائنات نے چاہا کہ میرا محبوب، جو ابھی میری ”تجلیاتی و جمالیاتی شان“ (رحمت و محبت) دیکھ کر آ رہا ہے، اب ذرا میری ”جلالیاتی شان“ (عدل و قہر) کا بھی مشاہدہ کرے۔

معراج کا سفر صرف ”ملاقات“ کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ اس کائنات کے سب سے بڑے ”احتساب سیل“ (Accountability Cell) کے معائنے کا نام بھی تھا۔

اللہ چاہتا تھا کہ اس کا نبی ﷺ اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لے کہ انسانوں کی نافرمانی کا انجام کیا ہے اور اطاعت کا صلہ کیا ہے، تاکہ جب وہ زمین پر جا کر لوگوں کو ڈرائیں یا خوشخبری دیں، تو وہ ”سنی سنائی“ بات نہ ہو، بلکہ ”عین الیقین“ (آنکھوں دیکھا سچ) ہو۔

چنانچہ واپسی کے سفر میں پردے ہٹا دیے گئے اور نبی کریم ﷺ کو جنت اور دوزخ کی سیر کرائی گئی۔

یہ سیر کسی تفریحی پارک کی سیر نہیں تھی، بلکہ یہ انسانیت کے جرائم اور ان کی نیکیوں کا ”مجسم روپ“ (Personification) تھا۔

سب سے پہلے جس ہستی سے پالا پڑا، وہ جہنم کا داروغہ تھا۔

نبی کریم ﷺ نے آسمانوں کے سفر میں جس فرشتے کو بھی دیکھا، اسے مسکراتے ہوئے اور خوش آمدید کہتے ہوئے پایا، سوائے ایک کے۔

جب آپ ﷺ کی ملاقات ”مالک“ (جہنم کے نگران فرشتے) سے ہوئی، تو اس نے سلام تو کیا مگر اس کے چہرے پر مسکراہٹ کا نام و نشان نہیں تھا۔

نبی کریم ﷺ نے جبرائیلؑ سے پوچھا:

”اے جبرائیل! یہ کون ہے جس کے چہرے پر اتنی سختی اور ہیبت ہے اور یہ ہنستا کیوں نہیں؟“

جبرائیلؑ نے جواب دیا:

”یا رسول اللہ ﷺ! یہ مالک ہے، جہنم کا خازن (داروغہ)۔ جس دن سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے، یہ کبھی نہیں ہنسا۔ اور اگر یہ کسی کو دیکھ کر ہنس سکتا ہوتا، تو یقیناً آپ کو دیکھ کر ہنستا، مگر اس نے جس آگ کی نگرانی سنبھالی ہوئی ہے، اس کی ہولناکی نے اس سے مسکراہٹ چھین لی ہے۔“

(حوالہ: مسند احمد، حدیث نمبر 3665، سلسلہ صحیحہ البانی)

ذرا تصور کیجیے اس آگ کی شدت کا جس کے نگران فرشتے کی فطرت سے بھی خوشی محو ہو چکی ہے۔

یہ پہلا جھٹکا تھا جو بتا رہا تھا کہ آگے کا منظر کتنا خوفناک ہونے والا ہے۔

پھر جہنم کا وہ دروازہ کھولا گیا جہاں انسانیت کے ”جرائم“ کو مجسم شکل میں دکھایا گیا۔

سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو ایک انتہائی گھناؤنے عذاب میں مبتلا تھی۔

آپ ﷺ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے ناخن ”تانبے“ (Copper) کے ہیں، اور وہ اتنے لمبے اور تیز ہیں کہ وہ ان سے اپنے ہی چہروں اور اپنے ہی سینوں کو بری طرح نوچ رہے ہیں۔ گوشت ادھڑ رہا ہے، خون بہہ رہا ہے، مگر وہ رکتے نہیں۔ جیسے کوئی جنون کی کیفیت میں خود کو تباہ کر رہا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے گھبرا کر پوچھا:

”اے جبرائیل! یہ کون بدنصیب لوگ ہیں؟“

جبرائیلؑ نے جواب دیا:

”یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوں کا گوشت کھاتے تھے (یعنی غیبت کرتے تھے) اور ان کی عزتوں کے درپے ہوتے تھے۔“

(حوالہ: سنن ابی داؤد، کتاب الادب، حدیث نمبر 4878)

یہاں رک کر آپ کو اس عذاب کی ”سائیکالوجی“ سمجھانا چاہتا ہوں۔

غیبت کیا ہے؟

کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا، اس کی عزت کو داغدار کرنا۔ جب آپ کسی کی غیبت کرتے ہیں تو آپ دراصل اس کے ”چہرے“ (عزت) کو بگاڑ رہے ہوتے ہیں۔

اللہ نے سزا بھی وہی دی, کہ اب اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے چہرے نوچو۔ دنیا میں تم نے دوسرے کا چہرہ نوچا تھا، آخرت میں اپنا چہرہ نوچو گے۔ تانبے کے ناخن اس لیے کہ تانبا زہر اور سختی کی علامت ہے۔

یہ منظر بتاتا ہے کہ اسلام میں ”حقوق العباد“ اور کسی کی عزتِ نفس (Self-Respect) کی کتنی اہمیت ہے۔ جو زبان دوسروں کو کاٹتی تھی، آج وہی ہاتھ اپنے وجود کو کاٹ رہے ہیں۔

پھر منظر بدلا اور ایک ایسا ہولناک گروہ سامنے آیا جو معاشی دہشت گردی کا مرتکب تھا۔

نبی کریم ﷺ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے پیٹ اتنے بڑے بڑے اور پھولے ہوئے ہیں جیسے بڑے مکانات (Houses) ہوں۔ ان کے پیٹ اس قدر بھاری ہیں کہ وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتے۔ اور ان پھولے ہوئے پیٹوں کے اندر ”سانپ اور بچھو“ ہیں جو باہر سے صاف نظر آ رہے ہیں اور وہ اندر ہی اندر انہیں ڈس رہے ہیں۔ یہ لوگ راستے میں پڑے ہوئے ہیں اور آلِ فرعون (جہنمیوں) کا لشکر جب گزرتا ہے تو انہیں روندتا ہوا گزر جاتا ہے کیونکہ یہ ہلنے کے قابل نہیں۔

نبی ﷺ نے پوچھا:

”اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟“

جواب ملا:

”یہ آپ کی امت کے سود خور ہیں۔“

(حوالہ: سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، حدیث نمبر 2273 / مسند احمد)

یہ سزا اس جرم کی نوعیت کے عین مطابق ہے۔ سود خور دنیا میں اپنا ”پیٹ“ بھرنے کے لیے غریبوں کا خون چوستا ہے۔ اس کی ہوس کبھی ختم نہیں ہوتی، اس کا پیٹ بھرتا ہی نہیں۔ اللہ نے آخرت میں اس کے پیٹ کو اتنا بھر دیا کہ وہ اس کے لیے عذاب بن گیا۔ وہ سانپ جو اندر بل کھا رہے ہیں، وہ دراصل وہ ”حرام دولت“ ہے جو اس نے لوگوں سے چھینی تھی۔

سود ایک ایسا جرم ہے جو پورے معاشرے کو مفلوج کر دیتا ہے، اسی لیے سزا میں بھی انہیں ”مفلوج“ کر دیا گیا کہ وہ ہل بھی نہ سکیں۔

یہ منظر آج کے کیپیٹلسٹک نظام (Capitalist System) کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو سود کو ”منافع“ کا نام دیتا ہے۔

سفر آگے بڑھا تو ایک ایسا منظر سامنے آیا جو انسانی فطرت کے بگاڑ کی انتہا تھی۔ نبی کریم ﷺ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے سامنے ایک برتن میں ”پاکیزہ اور بھنا ہوا عمدہ گوشت“ رکھا ہے، اور دوسری طرف ایک برتن میں ”سڑا ہوا، بدبودار اور خبیث گوشت“ رکھا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ اس عمدہ گوشت کو چھوڑ کر اس سڑے ہوئے اور بدبودار گوشت کو بڑے شوق اور رغبت سے کھا رہے ہیں۔

یہ منظر دیکھ کر کراہت آتی ہے۔ نبی ﷺ نے پوچھا:

”جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں جو اچھی چیز چھوڑ کر گندگی کھا رہے ہیں؟“

جبرائیلؑ نے عرض کیا:

”یا رسول اللہ! یہ آپ کی امت کے وہ مرد اور عورتیں ہیں جو حلال اور پاکیزہ نکاح کے ہوتے ہوئے (یا حلال کے مواقع ہوتے ہوئے) حرام کاری (زنا) کی طرف جاتے تھے۔ انہوں نے اللہ کے حلال کو چھوڑا اور حرام کو اختیار کیا۔“

(حوالہ: یہ واقعہ مختلف روایات اور خواب والے طویل حدیث [صحیح بخاری 7047] کے سیاق میں ملتا ہے جو برزخ کے عذاب سے متعلق ہے اور معراج کے واقعات سے مماثلت رکھتا ہے)۔

یہ سزا ان کی نفسیات کا آئینہ ہے۔ زنا کرنے والا دراصل اپنی ”فطرتِ سلیمہ“ کو مسخ کر دیتا ہے۔

اسے گھر کی پاکیزہ روٹی (بیوی/شوہر) میں ذائقہ محسوس نہیں ہوتا، لیکن باہر کی گندگی (زنا) میں اسے لذت آتی ہے۔ اللہ نے ان کی اسی ”ذہنی گندگی“ کو عذاب کی شکل دے دی کہ اب کھاؤ وہی گندگی جسے تم دنیا میں ”لذت“ سمجھتے تھے۔

یہ ان لبرلز اور جدیدیت پسندوں کے لیے عبرت کا مقام ہے جو ”میرا جسم میری مرضی“ کے نعرے لگاتے ہیں۔

پھر ایک اور دل دہلا دینے والا منظر سامنے آیا۔ نبی ﷺ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے سروں کو بھاری پتھروں سے کچلا جا رہا ہے۔ جب پتھر ان کے سر پر مارا جاتا ہے تو سر ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے اور پتھر دور جا گرتا ہے۔ پھر جب تک وہ پتھر اٹھا کر لایا جاتا ہے، ان کا سر دوبارہ جڑ کر ٹھیک ہو جاتا ہے۔ پھر دوبارہ مارا جاتا ہے۔ یہ عمل مسلسل جاری ہے۔ درد کی انتہا، پھر ٹھیک ہونا، پھر درد۔

نبی ﷺ نے پوچھا:

”یہ کون ہیں؟“

جبرائیلؑ نے کہا:

”یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر نماز کے لیے بوجھل ہو جاتے تھے (یعنی جو فرض نماز چھوڑ کر سوئے رہتے تھے یا سستی کرتے تھے)۔“

(حوالہ: صحیح بخاری، کتاب التعبیر، حدیث نمبر 7047)

غور کریں!

سر کو کیوں کچلا جا رہا ہے؟

کیونکہ یہ وہ ”سر“ تھا جو اللہ کے سامنے جھکنے سے انکاری تھا یا سستی کرتا تھا۔ جس سر میں اتنا تکبر یا غفلت بھری ہو کہ وہ خالق کے بلاوے (اذان) پر بھی نہ اٹھے، اس سر کا علاج یہی ہے کہ اسے بار بار توڑا جائے۔ یہ ان مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو نماز کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔

جہنم کے ان ہولناک مناظر کے بعد، جہاں چیخیں، پیپ، آگ اور تانبے کے ناخن تھے، اللہ تعالیٰ نے منظر بدلا۔

اب ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ فضا میں ایک بھینی بھینی خوشبو رچ بس گئی۔ یہ ”جنت“ کی سرحد تھی۔ جہنم اگر عدل اور قہر کا گھر تھا، تو جنت رحمت اور انعام کا گھر تھا۔ نبی کریم ﷺ کو جنت میں داخل کیا گیا۔

سب سے پہلی چیز جس نے آپ ﷺ کو متوجہ کیا، وہ جنت کی ”آرکیٹیکچر“ (Architecture) اور وہاں کی مٹی تھی۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

”میں جنت میں داخل ہوا تو دیکھا کہ اس کی عمارت کی ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک چاندی کی۔ اور اس کا گارا (Cement) خالص مشک (Musk) کا ہے۔ اور وہاں کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں، اور وہاں کی مٹی زعفران ہے۔“

(حوالہ: سنن ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ، حدیث نمبر 2526)

ذرا اس منظر کو visualize کریں!

ہم دنیا میں مٹی اور سیمنٹ کے گھروں کے لیے اپنی زندگی برباد کر دیتے ہیں، سود کھاتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں۔

اللہ دکھا رہا ہے کہ دیکھو!

جس گھر کے تم اصل وارث ہو، اس کا تو ”گارا“ بھی مشک کا ہے۔ وہاں کی مٹی میں بھی خوشبو ہے۔ جو شخص اس گھر میں داخل ہو گیا، وہ ہمیشہ کے لیے نعمتوں میں رہے گا، کبھی نہیں مرے گا، کبھی بوڑھا نہیں ہوگا، اور کبھی اس کے کپڑے میلے نہیں ہوں گے۔

پھر جنت کی سب سے عظیم الشان نہر دکھائی گئی، جو خاص نبی کریم ﷺ کا تحفہ ہے۔

”الکوثر“!

نبی ﷺ فرماتے ہیں:

”میں جنت میں چل رہا تھا کہ اچانک مجھے ایک نہر نظر آئی جس کے دونوں کناروں پر کھوکھلے موتیوں کے گنبد بنے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا:

جبرائیل! یہ کیا ہے؟

انہوں نے کہا:

یہ الکوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو عطا کی ہے۔

میں نے دیکھا کہ اس کی مٹی (یا کیچڑ) بھی خالص مشک کی تھی اور اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا تھا۔“

(حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث نمبر 6581)

یہ کوثر صرف پانی نہیں، یہ اللہ کی محبت کا جام ہے۔ یہ وہ حوض ہے جہاں قیامت کے دن نبی کریم ﷺ اپنے ہاتھوں سے اپنی امت کو پانی پلائیں گے۔

اس کے کنارے موتیوں کے خیمے ہیں، اور اس میں وہ پرندے اڑ رہے ہیں جن کی گردنیں اونٹوں جیسی لمبی اور خوبصورت ہیں۔ (حضرت عمرؓ نے سنا تو کہا: یہ تو بڑے مزے میں ہوں گے، نبی ﷺ نے فرمایا: انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ مزے میں ہوں گے)۔

پھر جنت کا وہ منظر سامنے آیا جو انسانی آنکھ کی ٹھنڈک ہے۔

”سدرۃ المنتہیٰ“ کا درخت۔

پچھلی تحریر میں ہم نے اس کی ہیبت کا ذکر کیا تھا، یہاں اس کے حسن کا ذکر ہے۔

نبی ﷺ نے دیکھا کہ اس درخت کے نیچے سے چار نہریں نکل رہی ہیں۔ دو نہریں باطن میں ہیں (جو جنت میں بہتی ہیں) اور دو نہریں ظاہر میں ہیں۔

نبی ﷺ نے پوچھا:

یہ ظاہر والی کون سی ہیں؟

بتایا گیا:

”یہ نیل اور فرات ہیں (یعنی ان کی اصل جنت سے ہے)۔“

(حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر 3207)

سدرۃ المنتہیٰ کے پتے اتنے بڑے تھے جیسے ہاتھی کے کان، اور اس کے پھل اتنے بڑے جیسے مقامِ ہجر کے مٹکے۔

جب اللہ کے حکم سے اسے انوار نے ڈھانپا تو اس میں ایسے رنگ (Colors) نمودار ہوئے جو انسانی زبان بیان نہیں کر سکتی۔

وہاں سونے کے پروانے (Golden Moths) اڑ رہے تھے۔ یہ منظر بتاتا ہے کہ جنت میں ”نیچر“ (Nature) اپنی انتہا پر ہوگی۔ یہ کوئی بورنگ جگہ نہیں، بلکہ رنگوں، روشنیوں اور زندگی سے بھرپور ایک کائنات ہے۔

جنت میں نبی کریم ﷺ نے کچھ لوگوں کے قدموں کی آہٹ بھی سنی۔ یہ ایک عجیب واقعہ ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

”میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے کسی کے جوتوں کی آہٹ سنی۔ میں نے دیکھا تو وہ بلال (حبشی)ؓ تھے۔“

(حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر 1149)

یہ معراج کا ایک لطیف پہلو ہے۔ بلالؓ، جو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹے جاتے تھے، جنہیں لوگ حقیر غلام سمجھتے تھے، معراج کی رات عرش کے مہمان (نبی ﷺ) ان کے جوتوں کی آواز جنت میں سن رہے تھے۔ یہ اسلام کا ”سوشل ریولوشن“ (سماجی انقلاب) ہے۔

اسلام میں مقام ”رنگ و نسل“ سے نہیں، ”تقویٰ“ سے ملتا ہے۔ معراج نے ثابت کر دیا کہ بلال کا مقام ابوجہل اور ابولہب سے کہیں بلند ہے۔

اس طویل اور لرزہ خیز مشاہدے کے بعد، جب نبی کریم ﷺ واپس زمین پر تشریف لائے، تو ان کی کیفیت بدل چکی تھی۔ وہ پہلے بھی خوفِ خدا رکھتے تھے، مگر اب وہ ”آنکھوں دیکھی“ گواہی دے رہے تھے۔

انہوں نے فرمایا:

”اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ، اور تم بستروں پر عورتوں سے لطف اندوز ہونا چھوڑ دو اور جنگلوں کی طرف نکل جاؤ اور اللہ سے پناہ مانگو۔“

(حوالہ: سنن ترمذی، حدیث نمبر 2312)

میرے دوستو!

یہ معراج کا سفر، یہ جہنم کے تانبے کے ناخن، یہ پیٹ کے سانپ، اور یہ جنت کے موتیوں کے محل, یہ کوئی داستانِ پارینہ نہیں ہے۔

یہ ہمارا اور آپ کا ”مستقبل“ ہے۔ ہم سب اسی راستے پر گامزن ہیں۔ موت وہ دروازہ ہے جس کے بعد ان میں سے کوئی ایک منظر ہمارا منتظر ہوگا۔

سود کھانے والے، غیبت کرنے والے، زنا کرنے والے اور نماز چھوڑنے والے, یہ سب آج بھی ہمارے معاشرے میں دندناتے پھر رہے ہیں۔

معراج کی رات نبی ﷺ نے جو ”ویڈیو فوٹیج“ دیکھی، وہ ہمیں خبردار کرنے کے لیے تھی کہ یہ ”جرائم“ معمولی نہیں ہیں۔ ان کا اثر کائناتی ہے۔

آج کی رات، اس تحریر کو پڑھ کر، اگر آپ کے دل میں ایک لمحے کے لیے بھی خوف پیدا ہوا ہے، تو اپنے رب سے توبہ کریں۔

کیونکہ جنت کا دروازہ ابھی کھلا ہے، اور جہنم کی آگ سے بچنے کی ڈھال ابھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔

فیصلہ آپ کا ہے: تانبے کے ناخن یا مشک کی مٹی؟



#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد

16/01/2026

معراج: وقت، مادہ اور شعور کی آخری حدیں پھلانگنے کا سفر! - بلال شوکت آزاد

تاریخ کی نبضیں ڈوب رہی تھیں اور مکہ کی فضاؤں میں ایک عجیب سا سوگوار سناٹا طاری تھا۔

یہ نبوت کا گیارہواں سال تھا، جسے سیرت نگاروں نے ”عام الحزن“ یعنی ”غم کا سال“ لکھ کر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔

ذرا تصور کیجیے اس ہستی کا جو کائنات کا دولہا ہے، مگر زمین اس پر تنگ کر دی گئی ہے۔ وہ جس کے لیے افلاک سجائے گئے، اسے مکہ کی گلیوں میں طعنے دیے جا رہے ہیں۔

دو ہی تو سہارے تھے ظاہری دنیا میں؛ ایک شفقت کا سایہ جنابِ ابوطالب، جو قریش کی یلغار کے آگے دیوار بن جاتے تھے، اور دوسری وفا کی پیکر سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ، جو نبوت کے ماتھے سے پسینہ پونچھتی تھیں اور ساری دنیا کے جھٹلانے پر تصدیق کرتی تھیں۔

موت کے بے رحم ہاتھوں نے یکے بعد دیگرے یہ دونوں ڈھالیں چھین لیں۔ نبی کریم ﷺ تنہا رہ گئے۔ مکہ کے سردار قہقہے لگا رہے تھے، ابولہب کی مکار ہنسی گونج رہی تھی کہ

”اب محمد (ﷺ) بے یار و مددگار ہے۔“

دل کی تسلی کے لیے طائف کا سفر کیا، امید تھی کہ شاید وہاں کوئی ”اللہ“ کا نام لیوا مل جائے، مگر وہاں کیا ملا؟

پتھر، گالیاں، اور خون آلود نعلین!

جب وہ زمین پر سجدے میں گر کر اپنے رب سے شکوہ نہیں، بلکہ اپنی کمزوری کا اظہار کر رہے تھے کہ

”الٰہی! میں اپنی کمزوری کی شکایت تجھ سے کرتا ہوں“،

تو عرش کے کنگورے ہل گئے تھے۔

یہ وہ نازک ترین نفسیاتی اور جذباتی لمحہ تھا جب خالقِ کائنات نے فیصلہ کیا کہ اب زمین والوں کو دکھانا ہے کہ تم جسے مٹی کا انسان سمجھ کر دھتکار رہے ہو، آسمانوں پر اس کا مقام کیا ہے۔

زمین والوں نے اپنے دروازے بند کیے ہیں تو کیا ہوا، آج ہم اس کے لیے ساتوں آسمان، سدرۃ المنتہیٰ اور عرشِ بریں کے وہ دروازے کھولیں گے جو جبرائیل کے لیے بھی نہیں کھلتے۔

آج کی رات کسی تسلی کی رات نہیں تھی، یہ ”تاجپوشی“ کی رات تھی۔

اللہ نے اپنے محبوب کو بلا کر یہ پیغام دیا کہ

”اے محبوب! غم نہ کر، اگر مکہ کی زمین تنگ ہے تو دیکھ تیری ملکیت میں تو پوری کائنات ہے۔“

معراج دراصل طائف کے پتھروں کا جواب تھی، یہ بتانے کے لیے کہ پتھر مارنے والے کس پستی میں ہیں اور پتھر کھانے والا کس بلندی پر۔

رات کا پچھلا پہر تھا، کائنات پر سکون طاری تھا۔ نبی کریم ﷺ حرمِ کعبہ میں حطیم کے حصے میں (یا بعض روایات میں ام ہانیؓ کے گھر) آرام فرما تھے۔ نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت تھی۔

اچانک چھت پھٹی۔ یہ عام چھت کا پھٹنا نہیں تھا، یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ آج مادی دنیا (Physical World) کی چھت ہٹنے والی ہے اور غیب کی دنیا نمودار ہونے والی ہے۔

جبرائیلِ امینؑ اور میکائیلؑ نازل ہوئے۔

فرشتوں کا یہ نزول کسی وحی کو لانے کے لیے نہیں تھا، بلکہ ایک ”شاہی مہمان“ کو تیار کرنے کے لیے تھا۔

یہاں سفر کے آغاز سے پہلے ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے عقل پرست اور جدید سائنس سے مرعوب ذہن ہضم نہیں کر پاتے، مگر جو روحانی سائنس کی رو سے ناگزیر تھا۔ وہ واقعہ تھا ”شقِ صدر“ (سینے کا چاک کیا جانا)۔

جبرائیلؑ نے نبی کریم ﷺ کا سینہ مبارک چاک کیا۔ دلِ اطہر کو، جو گوشت کا ایک لوتھڑا تھا، باہر نکالا گیا۔

ذرا منظر کی ہیبت کو محسوس کریں!

کائنات کا سب سے قیمتی دل، جبرائیل کے ہاتھوں میں ہے۔ اسے آبِ زمزم سے دھویا گیا۔

کیوں؟

کیا (معاذ اللہ) اس میں کوئی کثافت تھی؟

نہیں!

یہ دھونا دراصل اس دل کو اس ”کائناتی دباؤ“ (Cosmic Pressure) اور ”الہیاتی تجلیات“ کو برداشت کرنے کے قابل بنانا تھا جو آگے پیش آنے والی تھیں۔

پھر ایک سونے کا طشت لایا گیا جو ”ایمان اور حکمت“ سے لبریز تھا۔ یہ کوئی استعارہ نہیں تھا، یہ ایک روحانی ٹیکنالوجی تھی جس کے ذریعے نبی ﷺ کے قلبِ مبارک کو ”Reinforce“ کیا گیا۔

سائنس آج کہتی ہے کہ اگر انسان خلا میں جائے تو اسے خاص سوٹ پہننا پڑتا ہے ورنہ دباؤ سے شریانیں پھٹ جائیں گی۔

معراج تو خلا سے بھی آگے، زمان و مکان کی حدود سے ماورا سفر تھا۔

ایک بشر کا مادی جسم اس ”نوری سفر“ کو کیسے برداشت کرتا؟

شقِ صدر دراصل وہ ”Divine Surgery“ تھی جس نے اس مادی جسم کو نوری لطافتوں میں ڈھال دیا تاکہ جب وہ اللہ کے روبرو ہوں تو جل کر خاک نہ ہوں بلکہ مسکرا کر بات کریں۔

(حوالہ: صحیح بخاری، کتاب المناقب، حدیث نمبر 3887)

جب یہ تیاری مکمل ہو گئی تو سواری لائی گئی۔

نام تھا ”براق“!

روایات کے الفاظ ہیں کہ وہ خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا ایک سفید جانور تھا۔

لیکن ٹھہریے!

اسے محض ایک ”جانور“ سمجھنے کی غلطی مت کیجیے گا۔ اس کا نام خود اس کی حقیقت کھول رہا ہے۔ ”براق“ عربی لفظ ”برق“ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے,

”بجلی“ (Lightning)!

چودہ سو سال پہلے جب آئن اسٹائن پیدا بھی نہیں ہوا تھا، جب کسی کو ”Speed of Light“ (روشنی کی رفتار) کا تصور بھی نہیں تھا، تب میرے پیارے نبی ﷺ بتا رہے تھے کہ میری سواری کا تعلق ”روشنی“ اور ”بجلی“ کی رفتار سے ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ

”اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں اس کی نظر کی انتہا ہوتی تھی“ (منتہیٰ البصر)۔

آج کی جدید فزکس کہتی ہے کہ کائنات میں روشنی سے تیز کوئی شے نہیں، اور جب کوئی چیز روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہے تو اس کے لیے ”وقت تھم جاتا ہے“ (Time Dilation)۔

براق دراصل اللہ کی تخلیق کردہ ایک ایسی ”بائیولوجیکل ٹیکنالوجی“ تھی جو مادی جسم کو روشنی کی رفتار (یا اس سے بھی تیز) سفر کروانے پر مامور تھی۔

جب نبی ﷺ اس پر سوار ہونے لگے تو وہ بدکنے لگا۔ جبرائیلؑ نے اسے ڈانٹا:

”اے براق! کیا تو نہیں جانتا کہ تیرے اوپر کون سوار ہو رہا ہے؟ آج تک تجھ پر اس ہستی سے زیادہ مکرم کوئی سوار نہیں ہوا۔“

یہ سننا تھا کہ براق شرم سے پسینہ پسینہ ہو گیا۔ یہ بدکنا سرکشی نہیں تھی، یہ ”وجد“ اور ”خوشی کی انتہا“ تھی کہ کائنات کا دولہا میری پشت پر ہے۔

سفر کا پہلا مرحلہ ”اسراء“ (رات کا زمینی سفر) شروع ہوا۔ مکہ سے بیت المقدس (یروشلم)۔

یہاں عقل سوال اٹھاتی ہے کہ اگر اللہ نے نبی ﷺ کو آسمان پر بلانا ہی تھا، تو سیدھا مکہ سے اوپر کیوں نہیں اٹھا لیا؟

بیچ میں یروشلم کا ”اسٹاپ“ کیوں؟
اس ”ڈی ٹور“ (Detour) کی کیا منطق تھی؟

یہاں میرا قلم رک کر آپ کو اس کی ”جیو پولیٹیکل“ اور ”الہیاتی حکمت“ سمجھانا چاہتا ہے۔

یروشلم محض ایک شہر نہیں، یہ ہزاروں سال سے نبوت کا مرکز تھا۔

ابراہیمؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ، داؤدؑ، سلیمانؑ، زکریاؑ اور عیسیٰؑ, یہ سب اسی خطے کے امین تھے۔ یہ ”بنی اسرائیل“ کا ہیڈکوارٹر تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو آسمان پر لے جانے سے پہلے یہ اعلان کرنا چاہتا تھا کہ آج نبوت کی امانت، روحانیت کا مرکز اور قیادت کا تاج باضابطہ طور پر ”بنی اسرائیل“ سے چھین کر ”بنی اسماعیل“ کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

یہ محض سفر نہیں تھا، یہ ”شفٹ آف پاور“ (Shift of Power) تھا۔

جب آپ ﷺ مسجدِ اقصیٰ کے دروازے پر پہنچے، تو وہاں ایک عجیب منظر تھا۔ رات کی تاریکی کے باوجود وہاں ایک نورانی ہجوم تھا۔ آدمؑ سے لے کر عیسیٰؑ تک، ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام صف بستہ کھڑے تھے۔ تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا اجتماع، سب سے مقدس ہجوم۔ سب منتظر تھے۔

کس کے؟

اپنے ”امام“ کے۔

جیسے ہی محمد عربی ﷺ داخل ہوئے، جبرائیلؑ نے ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھایا۔

یہ نماز محض عبادت نہیں تھی، یہ ”بیعت“ تھی۔ اس رات تمام انبیاء نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ کر اس بات کی گواہی دی کہ آپ ﷺ ہی ”سید المرسلین“ ہیں، آپ ہی وہ ”احمد“ ہیں جن کی بشارتیں تورات اور انجیل میں دی گئی تھیں۔

اگر آج موسیٰؑ زندہ ہوتے تو وہ بھی آپ کی شریعت کے پابند ہوتے۔ اس امامت نے ثابت کر دیا کہ دینِ اسلام کسی نئے مذہب کا نام نہیں، بلکہ یہ اسی سلسلے کی آخری اور مکمل کڑی ہے جس کی بنیاد آدمؑ نے رکھی تھی۔

مسجدِ اقصیٰ میں اس رات ”ماضی، حال اور مستقبل“ ایک صف میں کھڑے تھے۔

نماز کے بعد، ایک چھوٹی سی تفصیل جو اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے مگر جس میں ہدایت کا سمندر ہے:

نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے براق کو اس حلقے (کنڈے) سے باندھا جس سے انبیاء اپنی سواریاں باندھتے تھے۔

(حوالہ: سنن نسائی، حدیث نمبر 450)

ذرا سوچیے!

وہ سواری جو جنت سے آئی ہے، جس کے ساتھ جبرائیلؑ جیسا محافظ ہے، جسے اللہ کے حکم کے بغیر ہلنے کی اجازت نہیں، اسے ”باندھنے“ کی کیا ضرورت؟

کیا وہ بھاگ جاتی؟

یہاں نبی ﷺ نے امت کو ”اسباب اور توکل“ کا فرق سمجھایا۔

آپ ﷺ نے بتایا کہ چاہے تم آسمانوں کے مسافر ہو، چاہے تمہارا اللہ پر کتنا ہی یقین کیوں نہ ہو، اس دنیا کے ”قانونِ اسباب“ (Law of Causality) کی تضحیک نہیں کرنی۔

اونٹ کا گھٹنا باندھنا توکل کے خلاف نہیں، بلکہ عین توکل ہے۔ معراج کے اس نوری سفر میں بھی آپ ﷺ نے اپنی امت کو زمینی حقائق کا سبق نہیں بھلایا۔

اب زمینی سفر مکمل ہو چکا تھا۔ امامت ہو چکی تھی۔ زمین نے گواہی دے دی تھی کہ اس کا وارث آ گیا ہے۔ اب وقت تھا اس ”چھلانگ“ کا جو کششِ ثقل (Gravity) کی بیڑیاں توڑ کر، وقت کی طنابیں کھینچ کر، اس انسانِ کامل کو وہاں لے جائے جہاں فرشتے بھی ”پر جلنے“ کے خوف سے رک جاتے ہیں۔

خیر بیت المقدس کی چٹان سے سفر کا وہ مرحلہ شروع ہوا جسے لغت میں ”معراج“ کہا جاتا ہے۔

ذرا لفظ پر غور کریں!

اللہ رب العزت نے یہاں ”طیران“ (اڑنا) یا ”عروج“ (بلندی) کا سادہ لفظ استعمال نہیں کیا، بلکہ ”معراج“ کا لفظ چنا۔

عربی گرائمر کی رو سے یہ ”آلۂ مکبر“ (Instrument) ہے، جس کا مطلب ہے

”وہ آلہ یا سیڑھی جس کے ذریعے اوپر چڑھا جائے“۔

یہ لفظ ہی بتاتا ہے کہ یہ سفر محض ہوا میں تیرنا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک منظم، ہائی ٹیک اور ڈائمنشنل سفر تھا جس کے لیے ایک خاص ”ایلیویٹر“ (Elevator) یا ”کائناتی سیڑھی“ استعمال کی گئی۔

یہ وہ ٹیکنالوجی تھی جو مادی جسم کو ایک ڈائمنشن سے دوسرے ڈائمنشن میں منتقل کرنے کے لیے ناگزیر تھی۔

جیسے ہی نبی کریم ﷺ اور جبرائیلِ امینؑ اس نورانی سیڑھی کے ذریعے فضاؤں کو چیرتے ہوئے بلندیوں کی طرف محوِ پرواز ہوئے، زمین ایک چھوٹی سی گیند کی طرح نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

اب سامنے وہ دنیا تھی جسے ہم ”عالمِ بالا“ کہتے ہیں، وہ دنیا جو ہماری ٹیلی اسکوپس اور ہماری عقل کی رسائی سے باہر ہے۔

جب یہ قافلہ پہلے آسمان کی سرحد پر پہنچا، تو وہاں ایک حیران کن مکالمہ ہوا۔ یہ مکالمہ ہمیں کائنات کا ”ایڈمنسٹریٹو اسٹرکچر“ (انتظامی ڈھانچہ) سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ جبرائیلؑ نے پہلے آسمان کے دروازے پر دستک دی۔

اندر سے آواز آئی: ”کون ہے؟“

جبرائیلؑ نے جواب دیا: ”میں جبرائیل ہوں۔“

پوچھا گیا: ”تمہارے ساتھ کون ہے؟“

جواب دیا: ”محمد (ﷺ) ہیں۔“

پھر وہ سوال پوچھا گیا جو کائنات کے نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے:

”أَوَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟“ (کیا انہیں بلانے کے لیے بھیجا گیا ہے؟ / کیا ان کی بعثت ہو چکی ہے؟)

جبرائیلؑ نے کہا: ”ہاں! انہیں دعوت دے کر بلایا گیا ہے۔“

تب دروازہ کھلا اور آواز آئی: ”مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ“ (خوش آمدید! کیا ہی مبارک آنے والے آئے ہیں)۔

(حوالہ: صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق، حدیث نمبر 3207)

یہاں میرا قلم ایک بار پھر رک کر ایک سوال اٹھاتا ہے:

کیا آسمان کے پہرے دار فرشتے نہیں جانتے تھے کہ یہ محمد ﷺ ہیں؟

کیا انہیں خبر نہیں تھی؟

بالکل تھی!

مگر یہ مکالمہ ہمیں یہ بتانے کے لیے ہے کہ اللہ کی کائنات کوئی ”فری فار آل“ (Free for all) چراگاہ نہیں ہے کہ جو مرضی قدم اٹھائے اور گھس آئے۔

یہ ایک ہائی سکیورٹی زون (High Security Zone) ہے۔ یہاں ہر چیز ”ضابطے“ اور ”پروٹوکول“ کے تحت چلتی ہے۔

جبرائیلؑ جیسے مقرب فرشتے کو بھی ”پاسپورٹ“ اور ”ویزا“ دکھانا پڑتا ہے۔

یہ سوال

”أَوَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟“ اس بات کی تصدیق تھی کہ اس مادی جسم (انسان) کو عالمِ بالا میں آنے کا ”Special Permit“ جاری ہو چکا ہے۔

یہ کائنات اندھی بہری نہیں، بلکہ ایک سخت ڈسپلن کے تابع ہے۔

نبی کریم ﷺ کا سفر جاری رہا۔ ہر آسمان پر ایک خاص نبی سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقاتیں اتفاقی (Random) نہیں تھیں، بلکہ ان میں ایک گہری ”اسٹریٹیجک“ اور ”تاریخی حکمت“ پوشیدہ تھی۔ آئیے ان ملاقاتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

پہلا آسمان (آدمؑ): یہاں انسانیت کے باپ حضرت آدمؑ سے ملاقات ہوئی۔ دائیں طرف دیکھتے تو مسکراتے (جنتی روحیں)، بائیں دیکھتے تو روتے (جہنمی روحیں)۔

حکمت: سفر کے آغاز میں ”باپ“ سے ملاقات کروا کر یہ پیغام دیا گیا کہ اے محمد ﷺ! آپ کا مشن اسی سلسلے کی تکمیل ہے جو اس ”پہلے انسان“ سے شروع ہوا تھا۔ یہ پوری انسانیت کی ”وحدت“ (Unity of Mankind) کا مظہر تھا۔

دوسرا آسمان (عیسیٰؑ اور یحییٰؑ): یہاں دو خالہ زاد بھائی ملے۔ عیسیٰؑ جو روح اللہ ہیں اور دوبارہ آنے والے ہیں، اور یحییٰؑ جنہوں نے جوانی میں حق کی خاطر گردن کٹوا دی۔

حکمت: یہ اشارہ تھا کہ آپ ﷺ کی امت کو عیسیٰؑ جیسی روحانیت اور یحییٰؑ جیسی قربانی، دونوں سے واسطہ پڑے گا۔ اور چونکہ آخری زمانے میں عیسیٰؑ نے آپ ﷺ کی شریعت نافذ کرنی ہے، یہ ایک طرح کی ”قائدانہ مشاورت“ تھی۔

تیسرا آسمان (یوسفؑ): جنہیں دنیا کا آدھا حسن دیا گیا۔

حکمت: ذرا یوسفؑ کی زندگی دیکھیں, بھائیوں نے کنویں میں پھینکا، غلام بنے، جیل گئے، مگر آخر میں مصر کے تخت پر بیٹھے۔ یہ ملاقات نبی ﷺ کے لیے ”خوشخبری“ تھی۔ اللہ بتا رہا تھا:

”اے میرے محبوب! آج مکہ والے آپ کو یوسف کی طرح نکال رہے ہیں، تکلیفیں دے رہے ہیں، لیکن عنقریب آپ فاتح بن کر مکہ میں داخل ہوں گے جیسے یوسف مصر میں ہوئے تھے۔“ یہ ”فتحِ مکہ“ کا ٹریلر تھا۔

چھٹا آسمان (موسیٰؑ): یہاں ایک عجیب اور رقت آمیز منظر ہوا۔ کلیم اللہ موسیٰؑ سے ملاقات ہوئی، اور جب نبی ﷺ آگے بڑھے تو موسیٰؑ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

پوچھا گیا: اے موسیٰ! روتے کیوں ہیں؟

انہوں نے کہا: ”یہ نوجوان (محمد ﷺ) جو میرے بعد مبعوث ہوا، اس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ جنت میں جائیں گے۔“

یہ رونا ”حسد“ کا نہیں تھا، یہ ”رشک“ کا تھا اور اپنی قوم (بنی اسرائیل) کی بدبختی پر افسوس کا تھا۔

موسیٰؑ کا مزاج جلالی تھا، انہوں نے اپنی قوم پر بہت محنت کی تھی مگر وہ نافرمان نکلی۔ آج وہ دیکھ رہے تھے کہ محمد ﷺ کی امت، جو آخری ہے، وہ بازی لے گئی ہے۔ یہ نبی ﷺ کے لیے ایک بہت بڑا ”اعزاز“ اور ”حوصلہ“ تھا۔

ساتواں آسمان (ابراہیمؑ): جد الانبیاء۔ وہ ”بیت المعمور“ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔

حکمت: ابراہیمؑ نے زمین پر کعبہ تعمیر کیا تھا، اور اب وہ صلہ کے طور پر آسمانی کعبہ (بیت المعمور) کے پاس تشریف فرما تھے۔ نبی ﷺ کو وہاں ملوا کر یہ سند دی گئی کہ

”آپ ہی ابراہیمؑ کے حقیقی وارث اور دینِ حنیفی کے امین ہیں۔“

ساتویں آسمان پر نبی کریم ﷺ کو ”بیت المعمور“ (The Much-Frequented House) دکھایا گیا۔ یہ زمین والے کعبے کے بالکل عین اوپر (Parallel) ہے۔ روایات میں ہے کہ اگر یہ گرے تو سیدھا کعبہ پر گرے۔

یہاں نبی ﷺ نے وہ منظر دیکھا جو انسانی تخیل کو ماؤف کر دیتا ہے۔

فرمایا: ”اس گھر میں روزانہ 70,000 فرشتے طواف کے لیے داخل ہوتے ہیں اور جو ایک بار نکل جاتا ہے، قیامت تک اس کی دوبارہ باری نہیں آتی۔“

(حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 162)

ذرا کیلکولیٹر اٹھائیں اور حساب لگائیں!

کائنات کے پہلے دن سے لے کر قیامت تک، ہر روز 70 ہزار نئے فرشتے۔ یہ کھربوں، نہیں بلکہ ان گنت تعداد ہے۔

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ یہ کائنات ”خالی“ (Empty) نہیں ہے، یہ ویران نہیں ہے، بلکہ یہ ”Life Forms“ (فرشتوں) سے اس قدر بھری ہوئی ہے کہ وہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں۔

ہمارا زمین پر بیٹھ کر یہ تکبر کرنا کہ ”صرف ہم ہی ہیں“، ہماری جہالت ہے۔ اللہ کی بادشاہت اتنی وسیع ہے کہ ہماری زمین اس کے سامنے ریگستان کے ایک ذرے کی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔

ساتویں آسمان سے بھی اوپر، نبی کریم ﷺ کو اس مقام پر لے جایا گیا جسے قرآن نے ”سدرۃ المنتہیٰ“ کہا ہے۔

”سدرۃ“ کا مطلب بیری کا درخت اور ”منتہیٰ“ کا مطلب انتہا/حد (The Utmost Boundary)۔

یہ وہ مقام ہے جہاں مخلوق کے علم، عمل اور رسائی کی حد ختم ہو جاتی ہے۔

زمین سے جو کچھ اوپر جاتا ہے، وہ یہاں رک جاتا ہے۔ اوپر (عرش) سے جو کچھ احکام نیچے آتے ہیں، وہ پہلے یہاں ریسیو (Receive) ہوتے ہیں۔

یہ کائنات کا ”ایونٹ ہورائزن“ (Event Horizon) ہے۔ یہ ”Boundary of the Created Universe“ ہے۔

اس درخت کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے اور پھل بڑے مٹکوں جیسے تھے۔ جب اللہ کے نور نے اسے ڈھانپا تو اس کے رنگ ایسے بدل گئے کہ کوئی انسانی آنکھ یا زبان اس حسن کو بیان نہیں کر سکتی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ”فزکس“ ختم ہوتی ہے اور ”میٹا فزکس“ کا راج شروع ہوتا ہے۔

یہاں تاریخ کا وہ لمحہ آیا جو ”انسان“ (بشر) کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ کر جبرائیلِ امینؑ، جن کے چھ سو پر ہیں اور جو کائنات کے سب سے طاقتور فرشتے ہیں، وہ رک گئے۔

نبی ﷺ نے پوچھا:

”اے جبرائیل! کیا ایسے مقام پر دوست دوست کو چھوڑ دے گا؟“

جبرائیلؑ نے لرزتے ہوئے جواب دیا:

”اے محمد (ﷺ)! یہ میری حد ہے۔ اگر میں یہاں سے ایک پور (انگلی کا سرا) بھی آگے بڑھا، تو اللہ کے نور کی تجلیات (Radiation of Divine Light) میرے پروں کو جلا کر خاک کر دیں گی۔ یہ آپ ہی کا مقام ہے، آپ آگے جائیں، اللہ نے آپ کے لیے راستے کھول دیے ہیں۔“

یہاں ایک الہیاتی نکتہ نوٹ کریں:

جبرائیلؑ ”عقلِ کل“ اور ”قانون“ کی علامت ہیں۔ قانون اور عقل کی ایک حد ہوتی ہے، وہ ایک مقام پر جا کر ”فریز“ (Freeze) ہو جاتے ہیں۔

محمد عربی ﷺ ”عشق“ اور ”عبدیتِ کاملہ“ کا پیکر ہیں۔ عشق کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ عشق آگ میں کود جاتا ہے اور کندن بن کر نکلتا ہے۔

یہ منظر بتاتا ہے کہ انسان (بشر) کا پوٹینشل فرشتے (نوری مخلوق) سے زیادہ ہے۔ فرشتہ ”مجبور“ ہے، اس کی لیمٹ فکس ہے۔ انسان ”اشرف“ ہے، اس کے لیے اگر وہ چاہے تو زمان و مکان کی حدود ہٹا دی جاتی ہیں۔

بقول اقبال:

اگر یک سرِ مُو برتر پَرم
فروغِ تجلی بسوزد پَرم

اب جبرائیلؑ بھی پیچھے رہ گئے تھے۔ سواری بھی شاید وہیں رک گئی۔

اب نبی کریم ﷺ تنہا تھے۔ اکیلے۔ اس لامکاں میں جہاں نہ آواز تھی، نہ ہوا، نہ وقت، نہ سمت۔

صرف ایک ”خالق“ اور ایک ”عبد“!

سدرۃ المنتہیٰ، وہ بیری کا درخت جو کائنات کی آخری حد ہے، پیچھے رہ چکا تھا۔

جبرائیلِ امینؑ، جو نوری مخلوق کے سردار ہیں، اپنی حدوں پر رک کر عاجزی کا اعتراف کر چکے تھے۔

اب سامنے کوئی مادی راستہ نہیں تھا، کوئی سمت (Direction) نہیں تھی، کوئی ”اوپر“ یا ”نیچے“ نہیں تھا۔

یہ ”عالمِ ہویت“ تھا۔ یہ وہ مقام تھا جسے فلسفی ”Singularity“ کہتے ہیں اور علماء ”لامکاں“۔ یہاں وقت (Time) کا وجود ختم ہو چکا تھا، یہاں مکان (Space) کے پیمانے ٹوٹ چکے تھے۔

ایک عجیب سی خاموشی اور ہیبت تھی۔ اس مقام پر نبی کریم ﷺ تنہا تھے۔ اکیلے۔ بغیر کسی گائیڈ کے۔

یہ تنہائی خوفناک نہیں تھی، بلکہ یہ ”محبوب کی خلوت“ تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کے لیے کائنات بنی تھی۔ ایک بشر، مٹی کا بنا ہوا انسان، اس مقام پر قدم رکھ رہا تھا جہاں نوری فرشتے بھی جل کر خاک ہو جاتے ہیں۔ یہ انسان کی عظمت کا سب سے بڑا ثبوت تھا۔

تنہائی کے اس سفر میں سب سے پہلے ایک آواز سنائی دی,

”صَرِيفَ الْأَقْلَامِ“ (قلموں کے چلنے کی آواز)۔

(حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، حدیث نمبر 349)

یہ آواز کیا تھی؟

یہ کائنات کے ”ایڈمنسٹریٹو ہیڈکوارٹر“ کی آواز تھی۔ وہ قلم جو اللہ کے حکم سے کائنات کی تقدیر لکھ رہے ہیں، جو کہکشاؤں کی گردش، ستاروں کی موت و حیات، اور انسانوں کے رزق اور موت کے فیصلے لکھ رہے ہیں، ان کی سرسراہٹ تھی۔

سائنسدان آج ”Information Theory“ کی بات کرتے ہیں کہ کائنات دراصل مادہ نہیں، بلکہ ”ڈیٹا“ اور ”انفارمیشن“ ہے۔

1400 سال پہلے معراج کے دولہا نے بتا دیا کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ”قلم“ (Source Code Writer) ہے جو مسلسل چل رہا ہے۔

یہ کائنات ”آٹو پائلٹ“ پر نہیں ہے، اسے لمحہ بہ لمحہ لکھا اور کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

نبی کریم ﷺ کو یہ آواز سنا کر دراصل ”Authoritative Access“ دیا گیا کہ دیکھو! کائنات کا کنٹرول روم یہاں ہے۔

نبی کریم ﷺ آگے بڑھے۔ یہ سفر اب قدموں کا نہیں تھا، یہ ”جذب“ کا سفر تھا۔

قرآن نے اس قربت کو جیومیٹری کی زبان میں بیان کیا:

”فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ“

(پس وہ دو کمانوں کے فاصلے پر رہ گیا یا اس سے بھی قریب)۔ [سورۃ النجم: 9]

عربوں میں رواج تھا کہ جب دو سردار آپس میں معاہدہ کرتے تو اپنی کمانیں (Bows) ملا دیتے تھے تاکہ یہ ظاہر ہو کہ اب ہم ”ایک“ ہیں۔

یہاں ”دو کمانوں“ کا استعارہ اس بات کی دلیل ہے کہ خالق اور مخلوق کے درمیان جو ”اجنبیت“ کا پردہ تھا، وہ ہٹ چکا ہے۔

یہ ”فزیکل ڈسٹنس“ نہیں تھا (کیونکہ اللہ جگہ سے پاک ہے)، یہ ”مقام اور مرتبے“ کا قرب تھا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں اللہ نے اپنے محبوب کو اپنے ”رازوں“ کا امین بنایا۔

اس مقام پر ایک بادل (رفرف) ظاہر ہوا جس نے نبی کریم ﷺ کو اپنے اندر ڈھانپ لیا اور اوپر لے گیا۔

یہ ایک ”Divine Elevator“ تھی جو انہیں اس خاص مجلس میں لے گئی جہاں سوائے اللہ کے کوئی نہیں تھا۔

یہ تاریخِ اسلام کا سب سے نازک اور پیچیدہ سوال ہے جس نے صدیوں تک علماء اور صوفیاء کو الجھائے رکھا:

کیا شبِ معراج نبی کریم ﷺ نے اللہ کو اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھا؟

حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں کہ جس نے کہا محمد ﷺ نے رب کو دیکھا، اس نے جھوٹ باندھا۔ (کیونکہ ان کے پیش نظر قرآن کی آیت تھی: ”لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ“ - نگاہیں اسے نہیں پا سکتیں)۔

لیکن حضرت عبداللہ ابن عباسؓ (جو رئیس المفسرین ہیں) فرماتے تھے کہ ”ہاں! دیکھا۔“

میرا ادنی سا تجزیہ اور علمی توجیہ:

نبی کریم ﷺ سے خود پوچھا گیا:

”هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟“
(کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا؟)

آپ ﷺ نے فرمایا:

”نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ“
(وہ تو نور ہی نور ہے، میں اسے کیسے دیکھتا؟)

ایک اور روایت میں ہے:

”رَأَيْتُ نُورًا“
(میں نے ایک نور دیکھا)۔

(حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 178)

یہاں ”Physics of Vision“ (بصارت کی فزکس) کو سمجھیں۔

انسانی آنکھ ”روشنی کے انعکاس“ (Reflection) سے دیکھتی ہے۔ اللہ ”مادہ“ (Matter) نہیں ہے, جس سے روشنی ٹکرا کر واپس آئے۔

اللہ ”نور السموات والارض“ ہے۔

اگر سورج کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھا جا سکتا، تو سورج کے خالق کو یہ مادی آنکھ کیسے دیکھ سکتی ہے؟

لیکن!

نبی کریم ﷺ کی آنکھ اس رات عام آنکھ نہیں تھی۔ ان کی بصارت کو ”ماورائی طاقت“ دی گئی تھی۔ انہوں نے اللہ کو دیکھا، لیکن یہ دیکھنا ”احاطہ“ (Encompassing) والا نہیں تھا، بلکہ ”تجلی“ والا تھا۔

اللہ نے اپنے نور کا پردہ ہٹایا اور نبی ﷺ نے اپنے رب کو اس شان سے پہچانا جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔

قرآن گواہی دیتا ہے:

”مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ“
(نگاہ نہ بہکی اور نہ حد سے بڑھی)۔

اس تنہائی میں، اس وسعت میں، جب بندہ اپنے رب کے روبرو ہوا، تو گفتگو کا آغاز کیسے ہوا؟

یہ وہ مکالمہ ہے جسے ہم اپنی ہر نماز کے ”تشہد“ (التحیات) میں دہراتے ہیں، مگر افسوس کہ ہم میں سے اکثر اس کے پس منظر اور اس کی ”رومانیت“ سے ناواقف ہیں۔

نبی کریم ﷺ، جو سراپا ادب تھے، انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں تحفہ پیش کیا:

”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ“

(تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادات صرف اللہ کے لیے ہیں)۔

یہ ”سلام“ نہیں تھا (کیونکہ اللہ السلام ہے، اسے سلامتی کی ضرورت نہیں)، یہ ”عاجزی کا نذرانہ“ تھا۔

جواب میں ربِ کائنات نے، جو اپنے محبوب کو سامنے دیکھ کر محبت سے لبریز تھا، فرمایا:

”السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ“

(سلامتی ہو آپ پر اے نبی (خاص)! اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں)۔

اللہ نے ڈائریکٹ اپنے محبوب کو سلام کیا۔

یہ وہ اعزاز تھا جو کسی فرشتے یا رسول کو نہیں ملا۔

اور یہاں نبی کریم ﷺ کی ”رحمۃ اللعالمین“ والی شان دیکھیں۔ اتنے بڑے مقام پر، جہاں کوئی دوسرا موجود نہیں، جہاں انسان اپنی ہوش کھو بیٹھتا ہے، وہاں انہیں ہم گناہگار یاد رہے۔ انہوں نے اللہ کے سلام کا جواب صرف اپنے لیے نہیں رکھا، بلکہ فرمایا:

”السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ“

(سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر)۔

آپ نے ”میں“ نہیں کہا، ”ہم“ کہا۔

اس ”ہم“ میں ابوبکر رض بھی تھے، عمر رض بھی، عثمان رض بھی, علی رض بھی, معاویہ رض بھی اور چودہ سو سال بعد آنے والا مجھ سا ایک گناہگار امتی بھی بلال شوکت آزاد بھی۔

اس مکالمے کو سن کر آسمانوں کے فرشتے وجد میں آ گئے اور یک زبان ہو کر پکار اٹھے:

”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“۔

یہ نماز کا دل ہے۔ معراج کا یہ تحفہ ہمیں ہر روز معراج کی یاد دلاتا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر اللہ نے اپنی امت کے لیے ایک تحفہ دیا۔

50 نمازیں روزانہ۔

واپسی پر چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰؑ سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات تاریخ ساز تھی۔

موسیٰؑ نے پوچھا:

”اللہ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا؟“

فرمایا:

”50 نمازیں روزانہ۔“

موسیٰؑ (جو جلالی طبیعت کے تھے اور بنی اسرائیل کے سخت رویوں اور بہانوں کا تلخ تجربہ رکھتے تھے) نے فوراً کہا:

”واپس جائیے! آپ کی امت کمزور ہے، ان کے جسم اور دل یہ بوجھ نہیں اٹھا سکیں گے۔ میں نے لوگوں کو آزما لیا ہے۔ رب سے تخفیف (کمی) کی درخواست کیجیے۔“

نبی ﷺ واپس گئے (شاید اسی رفرف یا براق کے ذریعے)، اللہ نے 5 کم کر دیں۔

پھر موسیٰؑ نے واپس بھیجا۔

یہ سلسلہ چلتا رہا۔

نبی ﷺ 9 بار واپس گئے اور ہر بار 5 نمازیں کم ہوئیں۔

یہاں تک کہ 5 نمازیں رہ گئیں۔

موسیٰؑ نے پھر کہا:

”اے محمد ﷺ! یہ بھی زیادہ ہیں، واللہ! آپ کی امت یہ بھی نہیں پڑھے گی، اور کم کروائیے۔“

لیکن نبی کریم ﷺ کی حیاء آڑے آ گئی۔ فرمایا:

”اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے کہ بار بار جاؤں۔ میں اس پر راضی ہوں اور سر تسلیم خم کرتا ہوں۔“

تب اللہ کی طرف سے ندا آئی:

”میں نے اپنا فریضہ (جو لوحِ محفوظ میں 5 ہی تھا) قائم کر دیا، لیکن اپنے بندوں کے لیے تخفیف کر دی۔ جو یہ 5 پڑھے گا، اسے اجر 50 ہی کا ملے گا۔“

(حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، حدیث نمبر 349)

میرا ادنی سا تجزیہ اور حکمت الہی کی حقیقت جانیئے۔

یہاں سوال اٹھتا ہے:

اللہ کو پتا تھا کہ 5 ہی پڑھنی ہیں، تو 50 کا خاکہ کیوں رچایا؟

اور موسیٰؑ کو درمیان میں کیوں ڈالا؟

بوجھ کا احساس: اللہ چاہتا تھا کہ انسان کو احساس ہو کہ میری بندگی کا حق تو یہ تھا کہ تم 24 گھنٹے سجدے میں رہو (50 نمازیں)۔

یہ تو ”رحمت“ ہے کہ صرف 5 مانگی جا رہی ہیں۔ اگر شروع میں ہی 5 ملتیں، تو ہم کہتے ”کتنا مشکل ہے۔“ اب ہم کہتے ہیں ”شکر ہے 50 نہیں ہیں۔“ یہ ”Psychology of Gratitude“ ہے۔

موسیٰؑ کا کردار: موسیٰؑ نے طور پر اللہ کو دیکھنے کی خواہش کی تھی (رب ارنی) اور منع کر دیے گئے تھے, محمد ﷺ نے دیکھ لیا۔

موسیٰؑ بار بار نبی ﷺ کو واپس بھیج کر دراصل نبی ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل کر رہے تھے اور ان کے وسیلے سے اللہ کی تجلیات کا عکس دیکھ رہے تھے۔ یہ ان کی محبت تھی۔

بونس سسٹم: اللہ کی ریاضی مختلف ہے۔ کام 5 کا، دام 50 کا۔ یہ امتِ محمدیہ پر خاص کرم ہے۔

جب یہ سارا سفر, مکہ سے یروشلم، یروشلم سے سات آسمان، سدرۃ المنتہیٰ، دیدارِ الٰہی، 50 سے 5 نمازوں کی آمد و رفت، جنت و جہنم کا تفصیلی مشاہدہ, مکمل ہوا اور نبی کریم ﷺ واپس اپنے بستر پر تشریف لائے، تو روایات کے وہ الفاظ جو عقل کو ہلا دیتے ہیں:

”بستر ابھی گرم تھا اور وضو کا پانی ابھی ہل رہا تھا۔“

یہاں آئن اسٹائن کا ”Theory of Relativity“ (نظریہ اضافیت) سجدے میں گر جاتا ہے۔

جدید سائنس کہتی ہے کہ جب آپ روشنی کی رفتار (Speed of Light) سے سفر کرتے ہیں، تو آپ کے لیے وقت سست (Dilate) ہو جاتا ہے۔ اگر آپ روشنی کی رفتار سے جائیں، تو آپ کے لیے چند منٹ گزریں گے مگر زمین پر ہزاروں سال گزر چکے ہوں گے (Twin Paradox)۔

لیکن معراج میں الٹ ہوا۔ نبی ﷺ نے کائناتی وقت (Cosmic Time) کے مطابق ہزاروں سال کا فاصلہ اور واقعات دیکھے، مگر زمین پر وقت ”فریز“ (Freeze) ہو چکا تھا۔

یہ اللہ کا اشارہ تھا کہ

”وقت میری مخلوق ہے۔ جب میں اپنے محبوب کو اپنی محفل میں بلاتا ہوں، تو میں کائنات کی گھڑی کو روک دیتا ہوں (Time Stop)۔ میرا محبوب مجھ سے جتنی مرضی باتیں کرے، زمین والوں کو خبر بھی نہیں ہوگی کہ وہ کب گئے۔“

یہ معجزہ نہیں، یہ ”Creator’s Privilege“ (خالق کا اختیار) ہے۔

خیر رات کا وہ ہنگامہ خیز سفر، جس نے ساتوں آسمانوں کے سکوت کو توڑ دیا تھا، اب اختتام پذیر ہو چکا تھا۔

کائنات کا دولہا واپس اپنے بستر پر آ چکا تھا۔ مکہ کی صبح حسبِ معمول طلوع ہو رہی تھی۔ پرندے چہچہا رہے تھے، قریش کے سردار اپنی محفلیں جما رہے تھے، اور عام زندگی رواں دواں تھی۔

لیکن حرمِ کعبہ کے ایک کونے میں، ایک ہستی ﷺ اپنی چادر میں لپٹی، گہری سوچ میں گم تھی۔

وہ ہستی جو ابھی ابھی ”قابَ قوسین“ کی منزلیں طے کر کے آئی تھی، اس کے لیے مکہ کی یہ تنگ گلیاں اور یہ پتھر کے خداؤں کے پجاری کتنے حقیر اور چھوٹے لگ رہے ہوں گے؟

نبی کریم ﷺ کے دل میں ایک بوجھ تھا:

”میں لوگوں کو یہ بات کیسے بتاؤں؟“

یہ کوئی معمولی دعویٰ نہیں تھا۔ اس دور میں مکہ سے بیت المقدس جانے اور آنے میں ایک مہینہ لگتا تھا۔ اور یہاں دعویٰ یہ تھا کہ

”میں رات کے ایک حصے میں نہ صرف بیت المقدس گیا، بلکہ ساتوں آسمان پار کر کے اپنے رب سے مل کر واپس بھی آ گیا۔“

عقلِ عامہ (Common Sense) کے لیے یہ ایک دھماکہ تھا۔ نبی ﷺ جانتے تھے کہ لوگ جھٹلائیں گے، مذاق اڑائیں گے، شاید پتھر ماریں گے۔ لیکن ”حق“ چھپایا نہیں جا سکتا، چاہے سننے والوں کے کان پھٹ جائیں۔

ابوجہل (عمرو بن ہشام) کا گزر ہوا۔ اس نے نبی ﷺ کو غمگین اور فکر مند بیٹھے دیکھا تو طنزاً پوچھا:

”اے محمد (ﷺ)! کیا آج کوئی نئی بات ہوئی ہے؟“

نبی کریم ﷺ نے پوری سچائی اور دیانت کے ساتھ فرمایا:

”ہاں! آج رات مجھے سیر کرائی گئی۔“

ابوجہل نے ہنس کر پوچھا:

”کہاں کی؟“

فرمایا:

”بیت المقدس کی۔“

ابوجہل کے چہرے پر ایک مکارانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے سوچا کہ آج محمد (ﷺ) نے ایسی بات کہہ دی ہے جس سے میں انہیں پوری قوم کے سامنے جھوٹا ثابت کر سکتا ہوں۔

اس نے تصدیق کے لیے پوچھا:

”تم راتوں رات بیت المقدس ہو آئے اور اب صبح ہمارے درمیان موجود ہو؟“

فرمایا:

”ہاں!“

ابوجہل نے کہا:

”اگر میں اپنی قوم کو بلاؤں تو کیا تم ان کے سامنے بھی یہی بات کہو گے؟“

فرمایا:

”ہاں! بلا لو۔“

ابوجہل نے شور مچا دیا:

”اے بنی کعب! اے قریش! ادھر آؤ، ایک تماشا دیکھو۔“

لوگ جمع ہو گئے۔ نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور پوری تفصیل کے ساتھ اپنا سفر بیان کر دیا۔

مجمع میں ایک طوفان آ گیا۔ کچھ لوگ ہنسنے لگے، کچھ نے حیرت سے سر پر ہاتھ رکھ لیے، کچھ تالیاں پیٹنے لگے۔ وہ لوگ جو بیت المقدس جا چکے تھے، وہ کہنے لگے:

”خدا کی قسم! اونٹوں پر وہاں جانے میں ایک مہینہ لگتا ہے اور آنے میں ایک مہینہ، یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک رات میں یہ سفر طے ہو جائے؟“

یہ ”ایمان کا لٹمس ٹیسٹ“ (Litmus Test) تھا۔ کمزور ایمان والے ڈگمگا گئے، اور کچھ مرتد ہو گئے۔ عقل اور مادی پیمانے (Materialistic Scales) نبی کے دعوے کو تولنے سے قاصر تھے۔

قریش کے سیانوں نے سوچا کہ محمد (ﷺ) کو پکڑنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان سے ”ثبوت“ مانگا جائے۔ انہیں معلوم تھا کہ نبی ﷺ نے اس سے پہلے کبھی بیت المقدس نہیں دیکھا۔

انہوں نے چیلنج کیا:

”اگر تم سچے ہو، تو ہمیں بیت المقدس کا نقشہ بتاؤ۔ اس کے کتنے دروازے ہیں؟ اس کی دیواریں کیسی ہیں؟ اس کا صحن کیسا ہے؟“

نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں:

”میں اس سوال پر اتنا پریشان ہوا جتنا زندگی میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ (کیونکہ میں رات کے وقت گیا تھا اور میرا مقصد عمارت کا معائنہ کرنا نہیں تھا، میں تو امامت کے لیے گیا تھا)۔“

لیکن پھر کیا ہوا؟

اللہ اپنے نبی کو تنہا کیسے چھوڑ سکتا تھا؟

نبی ﷺ فرماتے ہیں:

”فَجَلَّى اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ“

(پس اللہ نے میرے لیے بیت المقدس کو روشن/ظاہر کر دیا)۔

”أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَأُخْبِرُهُمْ“

(میں اسے دیکھتا جاتا تھا اور انہیں ایک ایک چیز بتاتا جاتا تھا)۔

(حوالہ: صحیح بخاری، کتاب مناقب الانصار، حدیث نمبر 3886)

میرے قلم کا سائنسی تجزیہ:

آج کی زبان میں اسے ”Live Streaming“، ”Augmented Reality (AR)“ یا ”Holographic Projection“ کہتے ہیں۔

اللہ نے حطیم کے مقام پر، نبی ﷺ اور بیت المقدس کے درمیان سے تمام پردے (Veils of Space) ہٹا دیے۔

نبی ﷺ مکہ میں کھڑے تھے، مگر بیت المقدس ان کی آنکھوں کے سامنے ایسے تھا جیسے وہ اس کے صحن میں کھڑے ہوں۔ وہ پتھر گنتے جاتے اور بتاتے جاتے۔

قریش کے لوگ (جو کئی بار وہاں جا چکے تھے) حیران رہ گئے۔ وہ کہنے لگے:

”خدا کی قسم! نقشہ تو بالکل ٹھیک بتایا ہے۔“

لیکن چونکہ ان کے دلوں پر مہر تھی، وہ پھر بھی نہ مانے اور کہنے لگے:

”یہ تو کھلا جادو ہے۔“

(یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معجزہ دیکھنے سے ایمان نہیں آتا، ایمان ”طلب“ سے آتا ہے)۔

نبی ﷺ نے صرف روحانی یا بصری ثبوت نہیں دیا، بلکہ ایک مادی ثبوت بھی دیا۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

”واپسی پر میں قریش کے ایک تجارتی قافلے کے اوپر سے گزرا۔ ان کا ایک اونٹ بھاگ گیا تھا اور وہ اسے ڈھونڈ رہے تھے۔ میں نے ان کے پانی کے پیالے سے پانی پیا اور اسے ڈھک دیا۔ وہ قافلہ فلاں وقت مکہ میں داخل ہوگا۔ اور اس قافلے کے آگے ایک خاکستری رنگ کا اونٹ ہے جس پر دو بوریاں لدی ہیں۔“

لوگ بھاگ کر گھاٹی کی طرف گئے کہ دیکھیں قافلہ آتا ہے یا نہیں۔

ٹھیک اسی وقت، اسی حلیے کے ساتھ قافلہ نمودار ہوا۔ جب قافلے والوں سے پوچھا گیا، تو انہوں نے گواہی دی کہ

”ہاں! ہمارا اونٹ بھاگ گیا تھا اور ہمارے پانی کے برتن سے کسی نے پانی پیا تھا حالانکہ وہاں کوئی نہیں تھا۔“

یہ ”Circumstantial Evidence“ تھا، مگر ضد کا کوئی علاج نہیں۔ قریش نے اسے بھی جادو کہہ کر رد کر دیا۔

اس ہنگامے میں کچھ لوگ بھاگے بھاگے حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئے (جو ابھی تک واقعے سے بے خبر تھے)۔

انہوں نے کہا:

”اے ابوبکر! اپنے دوست کی خبر لو۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ راتوں رات بیت المقدس اور آسمانوں پر ہو آئے۔ کیا تم اس بات کو مان سکتے ہو؟“

ابوبکر صدیقؓ نے ایک لمحے کا توقف نہیں کیا۔ انہوں نے جو جواب دیا، وہ ”Higher Rationality“ (اعلیٰ عقلیت) کا شاہکار تھا۔

فرمایا:

”اگر انہوں نے یہ کہا ہے، تو سچ کہا ہے۔“ (صَدَقَ)

لوگوں نے کہا:

”تم اس ناممکن بات کی تصدیق کرتے ہو؟“

ابوبکرؓ نے فرمایا:

”مجھے اس میں تعجب کی کیا بات لگتی ہے؟ میں تو اس سے بھی بڑی اور دور کی بات پر صبح و شام یقین کرتا ہوں کہ ان کے پاس ساتویں آسمان کے اوپر سے اللہ کی وحی آتی ہے اور فوراً پہنچ جاتی ہے۔ اگر آسمان سے زمین کا سفر (وحی کا) پلک جھپکتے ہو سکتا ہے، تو زمین سے آسمان کا سفر کیوں نہیں؟“

یہ وہ دلیل تھی جس نے عقل پرستوں کے منہ بند کر دیے۔ اسی دن نبی کریم ﷺ نے انہیں ”الصدیق“ (سب سے بڑا سچا) کا لقب دیا اور وہ صدیق اکبر ہوگئے, سبحان اللہ, ماشاء اللہ۔

معراج نے امت کو چھانٹ دیا۔ منافق الگ ہو گئے، کمزور الگ ہو گئے، اور ”صدیق“ الگ ہو گئے۔

معراج سے واپسی پر نبی کریم ﷺ امت کے لیے تین بڑے تحفے لائے:

پنجگانہ نماز: جس کا ذکر تفصیل سے ہو چکا۔ یہ بندے کا اللہ سے رابطے کا ڈائریکٹ چینل ہے۔

سورۃ البقرہ کی آخری آیات (آمن الرسول۔۔۔): یہ آیات کسی فرشتے کے ذریعے نازل نہیں ہوئیں، بلکہ اللہ نے براہِ راست نبی ﷺ کو عطا کیں۔ ان میں امت کے لیے دعائیں اور مغفرت کی نوید ہے۔ یہ امت کے لیے ”سیفٹی والو“ ہے۔

شرک کے علاوہ بخشش کی بشارت: اللہ نے وعدہ کیا کہ امتِ محمدیہ کا جو فرد اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرے گا، اس کے باقی تمام گناہ (کبیرہ بھی) بالآخر معاف کر دیے جائیں گے اور وہ جنت میں جائے گا۔ (یہ امید کا سب سے بڑا دروازہ ہے)۔

(حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 173)

میرے دوستو!
میرے ہم وطنو!

آج کی رات (شبِ معراج) جب آپ مساجد میں چراغاں دیکھتے ہیں، حلوے کھاتے ہیں یا نعتیں سنتے ہیں، تو ذرا رک کر سوچیں کہ اس سفر کا اصل مقصد کیا تھا؟

معراج محض ایک ”معجزہ“ نہیں ہے جس پر واہ واہ کی جائے۔

معراج ”انسان کے مقام“ (Human Potential) کا تعین ہے۔

یہ سفر بتاتا ہے کہ انسان مٹی کا ڈھیر نہیں ہے، یہ کائنات کا دولہا ہے۔ اگر انسان اپنے رب سے جڑ جائے، تو ستارے اس کی راہ کی دھول بن جاتے ہیں۔

اقبالؒ نے کہا تھا:

سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفیٰ سے مجھے
کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں

اور سب سے اہم بات: نبی کریم ﷺ تو معراج کر کے واپس آ گئے، لیکن وہ ہمارے لیے ایک ”پرسنل معراج“ چھوڑ گئے ہیں۔

وہ ہے ”نماز“۔

حدیث ہے:

”الصَّلَاةُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِ“

(نماز مومن کی معراج ہے)۔

جب آپ ”اللہ اکبر“ کہہ کر ہاتھ اٹھاتے ہیں، تو دراصل آپ دنیا کو پیچھے پھینک دیتے ہیں اور اسی سفر پر روانہ ہوتے ہیں جس پر اس رات نبی ﷺ گئے تھے۔ آپ کا سجدہ آپ کو سدرۃ المنتہیٰ کے پار لے جاتا ہے۔

اگر ہماری نماز ہمیں گناہوں سے نہیں روکتی، اگر ہمیں سکون نہیں دیتی، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے ابھی تک ”براق“ پر سواری نہیں کی۔ ہماری نماز محض ”ایکسرسائز“ ہے۔

آج کی رات نوافل پڑھنے سے زیادہ اس بات کا عہد کریں کہ جو تحفہ (5 نمازیں) ہمارے نبی ﷺ اتنی منتوں، محبتوں اور موسیٰؑ کی بارگیننگ کے بعد اوپر سے لائے تھے، ہم اسے ضائع نہیں کریں گے۔

جس نے نماز چھوڑ دی، اس نے دراصل اللہ سے ملنے کا وہ واحد ”ویزہ“ پھاڑ دیا جو اسے معراج تک لے جا سکتا تھا۔

اختتامی دعا:

”اے اللہ! ہمیں معراج کی حقیقت سمجھنے کی توفیق دے۔ ہمیں وہ نماز عطا کر جو واقعی ہماری معراج بن جائے۔ ہمیں ابوبکرؓ جیسی تصدیق اور عشق عطا کر۔ اور ہمیں روزِ قیامت اس ہستی ﷺ کے ہاتھوں حوضِ کوثر نصیب فرما جن کے قدموں کی دھول بننے کے لیے آسمان بھی ترس گئے تھے۔“

”سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً...“

(سفرِ معراج کا سلسلہ تمام ہوا)

نوٹ: آپ احباب آج تہجد ادا کریں تو دعا میں میرا نام لیکر میرے اور میرے اہل خانہ اور تمام امت مسلمہ کے حق میں دعائے خیر, دعائے رزق, دعائے ہدایت, دعائے استقامت اور دعائے خاتمہ بالخیر و توحید کردیجیئے گا, پلیز میرا نام تین بار پکار کر میری مغفرت کی دعا اللہ سے کردیجیئے گا۔



#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد

Address

Sakhi Saidan
Dipalpur

Telephone

+923006130614

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HEARmax Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to HEARmax Pakistan:

Share