12/05/2026
کیا اس جدید دور میں قاتل واقعی چھپ سکتا ہے؟
شہیدالحدیث، محدثِ اعظم، امامُ العلماء حضرت مولانا محمد ادریس شہید رحمہ اللہ کی شہادت کو آج آٹھ دن گزر گئے…
مگر دل اب بھی سوال کرتا ہے…
آخر کیوں؟
کیسے؟
اور کب تک؟
ذہن بار بار ایک ہی سوال کی طرف جاتا ہے کہ کیا واقعی اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے دور میں کوئی قاتل چھپ سکتا ہے؟
کیا آج کے زمانے میں جرم پردوں میں رہ سکتا ہے؟
کیا یہ ممکن ہے کہ کھلی شاہراہ پر، دن دہاڑے، عوام کے سامنے، موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد فائرنگ کریں، لوگوں کے سامنے فرار ہوں، ایک موٹر سائیکل درخت سے ٹکرائے، پھر بھی قاتل “نامعلوم” رہیں؟
دل ماننے کیلئے تیار نہیں…
آج کا دور وہ نہیں رہا جہاں قاتل اندھیروں میں گم ہوجاتے تھے۔
آج زمین پر چلنے والا انسان صرف انسانوں کی آنکھوں میں نہیں بلکہ کیمروں، سیٹلائٹوں، موبائل ٹاوروں، ڈیجیٹل سگنلز اور خفیہ نگرانی کے نظاموں میں بھی محفوظ ہوجاتا ہے۔
آج ایک موبائل فون کی لوکیشن انسان کے سفر کا نقشہ کھول دیتی ہے۔
ایک سی سی ٹی وی کیمرہ کئی گھنٹوں کا راستہ دکھا دیتا ہے۔
گاڑیوں کی ٹریکنگ، موبائل ڈیٹا، کال ریکارڈ، چہرہ شناسی (Face Recognition)، جیو فینسنگ، فرانزک سائنس، ڈیجیٹل مانیٹرنگ — یہ سب ایسے ذرائع ہیں جن کے ذریعے دنیا کے بڑے بڑے جرائم چند دنوں میں حل ہوجاتے ہیں۔
ہم روز دیکھتے ہیں کہ:
* خفیہ منصوبہ بندی سے ہونے والے قتل بے نقاب ہوجاتے ہیں۔
* برسوں پرانے کیس جدید فرانزک سے کھل جاتے ہیں۔
* مجرم بیرونِ ملک سے پکڑے جاتے ہیں۔
* سوشل میڈیا کی ایک تصویر پوری سازش تک پہنچا دیتی ہے۔
تو پھر آخر ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک معروف عالمِ دین کی کھلی سڑک پر ہونے والی شہادت کے قاتلوں کا سراغ نہ مل سکے؟
یہ سوال صرف ایک خاندان کا نہیں…
یہ سوال لاکھوں شاگردوں کا ہے…
یہ سوال مدارس کا ہے…
یہ سوال پوری دینی دنیا کا ہے…
یہ سوال ہر اُس شخص کا ہے جس نے شہیدالحدیث، محدثِ اعظم، امامُ العلماء حضرت مولانا محمد ادریس شہید رحمہ اللہ کے علم، اخلاص اور شفقت سے فائدہ اٹھایا۔
جب ایک عام شہری کے قتل پر پولیس چند دنوں میں ملزم تک پہنچ جاتی ہے، تو پھر ایک ایسی شخصیت جس کی شہادت نے پورے ملک کو ہلا دیا، اس کے قاتل اب تک پردوں میں کیوں ہیں؟
کیا واقعی قاتل بہت طاقتور ہیں؟
یا پھر کچھ پردے ابھی اٹھنے باقی ہیں؟
دل یہ ماننے کو تیار نہیں کہ جدید دنیا میں قاتل ہمیشہ کیلئے غائب ہوسکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ خون بولتا ہے۔
مظلوم کی آہ راستہ بناتی ہے۔
اور شہداء کا خون زمین میں دفن نہیں ہوتا بلکہ وقت آنے پر چیخ چیخ کر حقیقت ظاہر کرتا ہے۔
شہیدالحدیث، محدثِ اعظم، امامُ العلماء حضرت مولانا محمد ادریس شہید رحمہ اللہ کوئی عام انسان نہیں تھے۔
وہ لاکھوں علماء کے استاد تھے۔
قرآن و حدیث کے عظیم خادم تھے۔
سفید ریش، کمزور جسم، مگر علم و عمل کے پہاڑ تھے۔
ایسے شخص کو نشانہ بنانا صرف ایک انسان کا قتل نہیں بلکہ علم، امن، دیانت اور دینی اقدار پر حملہ ہے۔
اور پھر درد اُس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب امت دیکھتی ہے کہ:
قاتل آئے…
فائرنگ کی…
لوگوں نے دیکھا…
مناظر میڈیا پر آئے…
پھر بھی خاموشی…
یہ خاموشی دلوں میں سوالات پیدا کرتی ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ ادارے کچھ نہیں کررہے، لیکن قوم یہ ضرور پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ:
آخر کب تک؟
کب قاتل بے نقاب ہوں گے؟
کب شیخ کے شاگردوں کے دلوں کو سکون ملے گا؟
کب اس خونِ ناحق کا حساب سامنے آئے گا؟
کیونکہ یہ صرف ایک قتل نہیں…
یہ امت کے اعتماد کا مسئلہ ہے۔
اور یاد رکھنا چاہیے:
ظلم وقتی طور پر چھپ سکتا ہے،
مگر ہمیشہ نہیں۔
قاتل وقتی طور پر بچ سکتا ہے،
مگر ہمیشہ نہیں۔
کیونکہ:
“خونِ ناحق آخرکار اپنا راستہ خود بناتا ہے۔”
اللہ تعالیٰ شہیدالحدیث، محدثِ اعظم، امامُ العلماء حضرت مولانا محمد ادریس شہید رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، اور قاتلوں، سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کو دنیا وآخرت میں رسوا فرمائے۔ آمین
اخوکم العبدالفقیر
محمدندیم المحمودی
خاکپائے علماءدیوبند
خلیفہ مجازحضرت شیخ شھیدرح