13/06/2026
بائیں سے دائیں: نوابزادہ عالم زیب خان نواب اورنگزیب خان کا بیٹا ہے، اس کے بعد نواب اورنگزیب خان خود بیٹھے ہیں جو 1904 سے 1925 تک ریاستِ دیر کے حکمران رہے۔ درمیان میں سر جارج روس کیپل ہے جو 1908 سے 1919 تک NWFP کا برطانوی چیف کمشنر تھا۔ اس کے ساتھ پرنس شاہ جہاں خان بیٹھے ہیں جو نواب اورنگزیب کا دوسرا بیٹا تھا اور بعد میں 1925 سے 1960 تک نوابِ دیر رہا۔ آخر میں سردار خان کھڑا ہے جو درباری یا مشیر تھا۔
یہ تصویر برطانوی راج کے دور کی ہے۔ 1918 میں پہلی جنگِ عظیم ختم ہو رہی تھی اور انگریز سرحدی ریاستوں کے نوابوں کے ساتھ تعلقات مضبوط رکھتے تھے تاکہ افغانستان کے ساتھ سرحد محفوظ رہے۔ Akhunkhail خاندان نے 1626 سے 1969 تک دیر پر حکومت کی۔ 1895 میں یہ ریاست برطانوی راج کی پرنسلی سٹیٹ بنی اور 1969 میں پاکستان میں ضم ہو گئی۔ نواب اورنگزیب خان نے 1895 کی چترال مہم میں انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔
سر جارج روس کیپل پشتو بولنے والا انگریز افسر تھا۔ اس نے قبائلی علاقوں میں فارورڈ پالیسی چلائی اور نوابوں کے ساتھ ذاتی تعلقات بنائے۔ یہ تصویر غالباً کسی دربار یا معاہدے کے موقع پر لی گئی ہے۔ اوپر بائیں کونے میں Dir Royal Family Akhunkhail 1626-1969 کا لوگو ہے۔ فیسبک پیج والے اب پرانی تصاویر کو ڈیجیٹل آرکائیو کر رہے ہیں۔
یہ تصویر دیر کی تاریخ کا اہم دستاویز ہے۔ اس دور میں انگریز افسر کو درمیان میں بٹھانا برطانوی بالادستی کی علامت تھی۔