18/10/2026
ملاکنڈ ڈویژن کے عوام مزید ٹیکسوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے!
ملاکنڈ ڈویژن کے عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، کاروباری مشکلات اور معاشی بدحالی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ ایسے حالات میں عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا ان کی مشکلات میں اضافے کے مترادف ہے۔ یہاں کے تاجر، مزدور، چھوٹے کاروباری حضرات اور عام شہری پہلے ہی اپنے گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔
ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کا مطالبہ ہے کہ ان کی خصوصی حیثیت اور تاریخی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مزید ٹیکسوں کے بوجھ سے محفوظ رکھا جائے۔ عوام پر ایسے معاشی فیصلے مسلط نہ کیے جائیں جو ان کے کاروبار، روزگار اور زندگی گزارنے کے بنیادی ذرائع کو متاثر کریں۔
حکومتِ پاکستان، بالخصوص صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور امیر مقام صاحب سے پُرزور اپیل ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی آواز سنیں، ان کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں اور خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام ترقی، خوشحالی اور ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں، لیکن عوام کی معاشی مشکلات کو نظرانداز کرکے ان پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا کسی صورت ان کے مفاد میں نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کو ریلیف دے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے اور ایسے فیصلے کرے جن سے لوگوں کے لیے روزگار اور باعزت زندگی کے مواقع پیدا ہوں۔
ہماری اپیل ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت کا مسئلہ حل کیا جائے، عوام کو ٹیکسوں کے اضافی بوجھ سے تحفظ دیا جائے اور ان کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر تسلیم کیا جائے۔
ملاکنڈ ڈویژن کے عوام مزید ٹیکسوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔ عوام کو ریلیف دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
منجانب: سید ناصر شاہ، نائب صدر تیمرگرہ بازار