09/03/2026
شہباز شریف کی تقریر فراڈ ،دھوکہ اور ڈرامہ ہے،سادگی کے نام پر جند وقتی/ عارضی، نمائشی، کاسمیٹک اقدامات کرکے جس کا غربت کے خاتمے، مہنگائی میں کمی اور قومی معیشت کو سپورٹ دینے کیلئے کوئی رول نہیں ہے اور حقیقی اصلاحی /ریفارم ایجنڈے سے منہ موڑا گیا اور اشرافیہ کے مراعات ،پروٹوکول اور عیاشیوں کو تحفظ دیاگیا۔۔شہباز شریف نے
1- نام لیکر امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر حملے کی مذمت نہیں کی۔۔
2- فی لیٹر 105-120 روپے غریبوں کے جیبوں پر ڈاکے کو ختم نہیں کیا۔
3- پنجاب حکومت کے 11 ارب اور خود وفاقی حکومت کے اربوں روپے حکمرانوں کے استعمال کیلئے خریدے گئے جھاز سے دستبرداری کی بات نہیں کی۔
4- اشرافیہ، ججز، جرنیل، وزراء، افسر شاہی کے مفت پٹرول کے خاتمے کی بات نہیں کی۔
5-مفت بجلی، مفت گیس،سرکاری گارڈز اور پروٹوکول کلچر کے خاتمے کی بات نہیں کی۔
6- ایف بی آر کی سالانہ 10000 ارب(دس ہزار ارب روپے )کرپشن کے خاتمے کا پلان نہیں دیا۔
اور بہت کچھ حقیقی اصلاحی ایجنڈے کے طور ہر کیا جاسکتا تھا لیکن
ڈرامہ بازی کے علاوہ ان حکمرانوں کی نہ کچھ سنجیدہ کام کا ارادہ ہے اور نہ ہی جذبہ۔۔۔۔
اب یہ ڈرامے عوام جان چکی ہے ،یہ ڈرامے نہیں چلیں گے۔