20/05/2026
کوئٹہ 20 مئئ ۔بلوچستان کے پسماندہ علاقے بوستان کچلاک سے امریکا کے واشنگٹن ڈی سئ تک کا سفر — ولولہ بشیر خان کاکڑ کی ایک متاثر کن کامیابی
ولولہ بشیر خان کاکڑ کے لیے یہ صرف گریجویشن نہیں بلکہ ایک جذباتی اور تاریخی سفر ہے۔
وہ اپنے پورے خاندان کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے امریکا سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ساتھ ہی وہ بلوچستان کی پہلی شخصیت بھی بن گئی ہیں جنہوں نے McCourt School of Public Policy سے ماسٹر آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ پالیسی کی ڈگری حاصل کی۔
ان کا سفر بلوچستان کے پہاڑوں سے شروع ہو کر واشنگٹن ڈی سی کے علمی ایوانوں تک پہنچا۔ ہاتھ سے لکھے گئے نوٹس، کاغذی اسائنمنٹس، اور محدود وسائل سے نکل کر وہ ڈیجیٹل لرننگ، کینوس، ڈیٹا اینالیسز، اسٹیٹا سافٹ ویئر، اور پالیسی ریسرچ کی دنیا تک پہنچیں۔ یہ راستہ آسان نہیں تھا۔ اس میں مشکل اسائنمنٹس، پالیسی میموز، ریسرچ، اور بے شمار جذباتی لمحات شامل تھے، لیکن انہی مشکلات نے انہیں مزید مضبوط بنایا۔
ولولہ نے باضابطہ طور پر McCourt School of Public Policy سے ماسٹر آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ پالیسی کی ڈگری حاصل کر لی ہے۔
تعلیمی سفر کے دوران: 2025 کے موسمِ گرما میں انہوں نے J-PAL Indonesia کے ساتھ ابتدائی بچپن کی نشوونما کے منصوبے پر کام کیا۔ اس دوران انہوں نے انڈونیشیا کے دیہاتوں کا دورہ کیا، منصوبوں کا مشاہدہ کیا، شرکاء سے ملاقاتیں کیں، ڈیٹا کا تجزیہ کیا اور سرویز تیار کرنے میں کردار ادا کیا۔
اسی سال خزاں میں انہوں نے World Bank کے اشتراک سے کوئٹہ میں منعقدہ ونٹر اسکول میں بھی شرکت کی۔
بعد ازاں 2025 سے 2026 تک انہوں نے Democratic Republic of the Congo کے مشرقی علاقوں میں انسانی ضروریات پر تحقیق کی، جہاں ان کی ٹیم نے یہ اہم نکتہ اجاگر کیا کہ شدید تنازعات والے علاقوں میں درست ڈیٹا اکٹھا کرنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے، جس کے باعث سب سے زیادہ متاثرہ لوگ اکثر نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔
اپنے فائنل کمیونٹی ڈیولپمنٹ پراجیکٹ میں ولولہ نے امریکا میں بے گھر خاندانوں کے لیے بچوں کی نگہداشت کی سہولیات بہتر بنانے پر تحقیق پیش کی۔ ان کے مطابق بچوں کی نگہداشت صرف بچوں کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ والدین کی ملازمت، رہائش اور بہتر مستقبل سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔
ان کی ٹیم نے تجویز دی:
شیلٹرز اور چائلڈ کیئر اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کیا جائے
کم لاگت رہائش کے ساتھ چائلڈ کیئر مراکز قائم کیے جائیں
حکومتی فنڈنگ، ٹیکس کریڈٹس اور اوقاتِ کار میں توسیع جیسے اقدامات کیے جائیں
ولولہ کا کہنا ہے کہ چھوٹی لیکن سنجیدہ تبدیلیاں معاشرے میں بڑا اثر پیدا کر سکتی ہیں۔
اس کامیابی کا سب سے جذباتی لمحہ وہ تھا جب ان کے والد اینجینر بشیر خان کاکڑ خصوصی طور پر کوئٹہ سے Washington, D.C. پہنچے تاکہ اپنی بیٹی کو گریجویشن اسٹیج پر دیکھ سکیں۔ عالمی کشیدگی اور مشکل حالات کے باوجود ان کا یہ سفر ایک باپ کی محبت اور بیٹی کی کامیابی پر فخر کی خوبصورت مثال بن گیا۔
ولولہ بشیر کاکڑ کہتی ہیں: “یہ ڈگری صرف میری نہیں، بلکہ ہر اُس پہاڑوں میں رہنے والی لڑکی کی ہے جسے کبھی بتایا گیا کہ اس کے خواب بہت بڑے ہیں۔” اور اب وہ واپس اپنے وطن جاکر اپنئ خدمات پیش کرے گئ اگرچہ انکو امریکہ میں بھی جاب کی افر ہوچکی ہے۔