09/09/2026
🏔️ **نرمل پرجا — وہ شخص جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، مگر آخرکار پہاڑ ہی اس کی آخری منزل بن گئے**
دنیا کے عظیم ترین کوہ پیماؤں میں شمار ہونے والے **نرمل پرجا (Nirmal “Nimsdai” Purja)** اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
وہ شخص جس نے کبھی دنیا کو بتایا تھا کہ **“Nothing is Impossible” — کچھ بھی ناممکن نہیں**، 43 برس کی عمر میں پاکستان کے بلند و بالا پہاڑ **براڈ پیک** پر ایک المناک برفانی تودے کی زد میں آ کر جان کی بازی ہار گیا۔ ([ABC News][1])
🇳🇵 **آخر نرمل پرجا کون تھے؟**
نیپال میں پیدا ہونے والے نرمل پرجا صرف ایک کوہ پیما نہیں تھے۔ انہوں نے برطانوی فوج میں گورکھا کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بعد میں برطانیہ کی اسپیشل فورسز سے بھی وابستہ رہے۔
فوجی زندگی کے بعد انہوں نے بلند ترین پہاڑوں کو اپنا میدان بنا لیا۔
پھر 2019 میں انہوں نے وہ کارنامہ انجام دیا جس نے پوری دنیا کو حیران کردیا۔
🌍 **14 بلند ترین پہاڑ — صرف 6 ماہ اور 6 دن!**
دنیا میں 8,000 میٹر سے بلند صرف 14 پہاڑ ہیں۔ ان چوٹیوں پر موجود انتہائی بلندی کو اکثر **“ڈیتھ زون”** کہا جاتا ہے، کیونکہ وہاں آکسیجن کی مقدار انسانی جسم کے لیے انتہائی کم ہوجاتی ہے۔
نرمل پرجا نے اپنے مشن کا نام **“Project Possible”** رکھا۔
انہوں نے اپریل 2019 میں یہ سفر شروع کیا اور صرف **6 ماہ اور 6 دن** میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کرلیا۔ اس وقت یہ ایک غیر معمولی عالمی ریکارڈ تھا۔ ([UNEP - UN Environment Programme][2])
ان چوٹیوں میں دنیا کی بلند ترین چوٹی **ماؤنٹ ایورسٹ** کے علاوہ **K2، نانگا پربت، اناپورنا، لوٹسے، مکالو، مناسلو، براڈ پیک، گاشر برم اول اور دوم** سمیت دیگر عظیم چوٹیاں شامل تھیں۔
🇵🇰 **K2 پر ایک اور تاریخی کارنامہ**
جنوری 2021 میں نرمل پرجا اس دس رکنی نیپالی ٹیم کا اہم حصہ تھے جس نے سردیوں کے موسم میں پہلی مرتبہ **K2** سر کرکے تاریخ رقم کی۔
K2 دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے اور سردیوں میں اس کی فتح کو طویل عرصے تک کوہ پیمائی کے آخری بڑے نامکمل چیلنجز میں شمار کیا جاتا رہا۔ ([UNEP - UN Environment Programme][2])
🎬 **دنیا نے ان کی کہانی Netflix پر دیکھی**
ان کے 14 بلند ترین چوٹیوں کے مشن پر مشہور دستاویزی فلم **“14 Peaks: Nothing Is Impossible”** بنائی گئی، جس کے بعد نرمل پرجا کا نام کوہ پیمائی کی دنیا سے نکل کر دنیا بھر کے عام لوگوں تک پہنچ گیا۔ ([ABC News][1])
وہ صرف ریکارڈ قائم کرنے کی بات نہیں کرتے تھے بلکہ ان کا پیغام یہ تھا کہ انسان اپنی سوچ اور اپنی حدود کو بدل کر بظاہر ناممکن نظر آنے والے اہداف بھی حاصل کرسکتا ہے۔
💔 **پھر وہ آخری سفر آیا…**
جولائی 2026 میں نرمل پرجا ایک مرتبہ پھر پاکستان کے قراقرم کے پہاڑوں میں موجود تھے۔
اس مرتبہ ان کا ہدف **براڈ پیک** تھا، جو تقریباً 8,051 میٹر بلند اور دنیا کا بارہواں بلند ترین پہاڑ ہے۔
وہ ایک اور غیر معمولی ریکارڈ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو دوسری مرتبہ بھی **اضافی آکسیجن کے بغیر** مکمل کیا جائے۔ ([Daily Waadaa][3])
مگر **30 جولائی 2026** کو براڈ پیک پر ان کی مہم ایک خوفناک حادثے کا شکار ہوگئی۔
ایک شدید **برفانی تودے (Avalanche)** نے نرمل پرجا سمیت دس کوہ پیماؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
خراب موسم اور انتہائی دشوار گزار علاقے کی وجہ سے امدادی کارروائیاں بھی نہایت مشکل رہیں۔ بعد میں ان کی مہم چلانے والی کمپنی نے تصدیق کردی کہ نرمل پرجا سمیت تمام دس کوہ پیما جانبر نہ ہوسکے۔ ([AP News][4])
🥀 **ان کا آخری پیغام کیا تھا؟**
حادثے سے تقریباً 14 گھنٹے قبل نرمل پرجا نے براڈ پیک کے **کیمپ 2** سے ایک وائس پیغام بھیجا تھا۔
اس پیغام میں انہوں نے بتایا کہ وہ براڈ پیک کے کیمپ 2 پر موجود ہیں اور اپنے اگلے 8,000 میٹر سمٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے موسم کی پیش گوئی دیکھنے کے لیے انٹرنیٹ کھولا تھا اور کہا کہ چوٹی سر کرنے کے بعد دوبارہ رابطہ کریں گے۔
ان کے آخری ریکارڈ شدہ الفاظ بتائے گئے:
**“Greetings from Camp 2 on Broad Peak. Ciao Ciao.”**
یعنی:
**“براڈ پیک کے کیمپ 2 سے سلام… چاؤ چاؤ۔”** ([Business Upturn][5])
کسے معلوم تھا کہ یہ مختصر سا الوداع دراصل دنیا کے عظیم ترین کوہ پیماؤں میں سے ایک کی **آخری الوداع** بن جائے گا۔
🏔️ **ایک زندگی جو ریکارڈز سے کہیں بڑی تھی**
نرمل پرجا نے اپنی زندگی میں درجنوں مرتبہ 8,000 میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کیا۔ 2019 کا تاریخی Project Possible مکمل کیا، K2 کی پہلی کامیاب سرمائی مہم کا حصہ بنے، کئی رفتار کے ریکارڈ قائم کیے اور نیپالی و ایشیائی کوہ پیماؤں کو عالمی سطح پر ایک نئی شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ([UNEP - UN Environment Programme][2])
وہ پہاڑوں کو صرف سر نہیں کرتے تھے…
وہ ہر چوٹی پر انسانی ہمت کی ایک نئی حد مقرر کرتے تھے۔
اور شاید یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا پیغام تھا:
**انسان کی سب سے بڑی رکاوٹ ہمیشہ پہاڑ نہیں ہوتا، بعض اوقات وہ حد ہوتی ہے جو انسان اپنے ذہن میں خود بنا لیتا ہے۔**
نرمل پرجا نے اپنی زندگی سے ثابت کیا کہ ان حدود کو توڑا جاسکتا ہے۔
براڈ پیک کی برف نے ان کا سفر ضرور روک دیا، مگر کوہ پیمائی کی تاریخ میں **“نِمز دائی”** کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ 🏔️
**الوداع نرمل پرجا۔
پہاڑوں کا ایک عظیم بیٹا، آخرکار پہاڑوں ہی میں ہمیشہ کے لیے سو گیا۔** 🕊️