13/07/2026
غزہ:
جہاں اب شہر نہیں، پورے کا پورا قبرستان آباد ہے!
آج فیس بک پر ایک ایسی ویڈیو دیکھی جس نے روح تک کو گھائل کر دیا۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اپنے دل کا حال بیان کر سکوں۔ آنکھیں اشکبار ہیں اور دل تڑپ رہا ہے
۔
یہ جو ہڈیاں معصوم بچوں نے ہاتھوں میں اٹھا رکھی ہیں، یہ تو وہ ہڈیاں ہیں جو قبروں کے اندر ہونی چاہیے تھیں، لیکن آج پورا غزہ ایک کھلا قبرستان بن چکا ہے۔ ملبے کے ڈھیر سے کھلونے ڈھونڈنے کی عمر میں، فلسطین کے یہ معصوم بچے اپنے ہی پیاروں کی، اپنے بہن بھائیوں کی ہڈیاں ہاتھوں میں اٹھائے حیرت اور مٹیالے چہروں کے ساتھ دنیا کو دیکھ رہے ہیں۔
**انا للہ وانا الیہ راجعون!**
یہ ہڈیاں صرف معصوم شہیدوں کی باقیات نہیں ہیں، یہ دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہیں! وہ حکمران جو اربوں ڈالرز کے اسلحے اور فوجیں رکھنے کے باوجود اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں، ماؤں اور بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔
*کہاں ہے وہ صلاح الدین ایوبی کا جذبہ؟
جس نے غیرتِ ایمانی کے ساتھ بیت المقدس کو آزاد کروایا تھا؟
کیا آج ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں اور درجنوں مسلم ممالک میں ایک بھی ایسا حکمران نہیں جس کے دل میں وہ جذبہِ ایوبی بیدار ہو؟
*عالمی بے حسی کی انتہا:*
دنیا کے نقشے پر اتنے ممالک ہیں، اتنی بڑی بڑی طاقتیں ہیں، لیکن کسی کو کوئی فکر نہیں، کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
*ہرا بھرا شہر کھنڈرات میں بدل گیا..
سال ہا سال بیت گئے، نسلیں ختم ہو گئیں، ہنستے بستے اور ہرے بھرے شہر دیکھتے ہی دیکھتے ملبے کے ڈھیر اور کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے۔ ہم سب اپنی پرسکون زندگیوں میں مست ہیں، لیکن سوچتا ہوں کہ جب کل قیامت کے دن اللہ کے حضور پیش ہوں گے، تو اپنے رب کو کیا جواب دیں گے؟ جب یہ معصوم بچے ہمارا دامن پکڑ کر سوال کریں گے کہ جب ہم پر بارود کی بارش ہو رہی تھی، تب تم کہاں تھے؟
>**یا اللہ!**
ہم بے بس ہیں، ہمارے پاس سوائے دعا اور اس دل کی تڑپ کے کچھ نہیں۔ یا ارحم الراحمین! فلسطین اور غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر رحم فرما، ان کی غیب سے مدد اور حفاظت فرما، اور امتِ مسلمہ کو بیداری اور غیرت عطا فرما۔ آمین ثم آمین!
اور اسرائیل کو تباہ و برباد فرما آمین ثم آمین
تحریر قاری عبید الرحمٰن ضیاء
Qari Ubaid Ur Rahman Zia