Ghazi fans

Ghazi fans Eventual reels
Moral and spiritual awakening content
Quotes
Trending and best shorts

غزہ: جہاں اب شہر نہیں، پورے کا پورا قبرستان آباد ہے!آج فیس بک پر ایک ایسی ویڈیو دیکھی جس نے روح تک کو گھائل کر دیا۔ میرے...
13/07/2026

غزہ:
جہاں اب شہر نہیں، پورے کا پورا قبرستان آباد ہے!

آج فیس بک پر ایک ایسی ویڈیو دیکھی جس نے روح تک کو گھائل کر دیا۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اپنے دل کا حال بیان کر سکوں۔ آنکھیں اشکبار ہیں اور دل تڑپ رہا ہے
۔
یہ جو ہڈیاں معصوم بچوں نے ہاتھوں میں اٹھا رکھی ہیں، یہ تو وہ ہڈیاں ہیں جو قبروں کے اندر ہونی چاہیے تھیں، لیکن آج پورا غزہ ایک کھلا قبرستان بن چکا ہے۔ ملبے کے ڈھیر سے کھلونے ڈھونڈنے کی عمر میں، فلسطین کے یہ معصوم بچے اپنے ہی پیاروں کی، اپنے بہن بھائیوں کی ہڈیاں ہاتھوں میں اٹھائے حیرت اور مٹیالے چہروں کے ساتھ دنیا کو دیکھ رہے ہیں۔

**انا للہ وانا الیہ راجعون!**

یہ ہڈیاں صرف معصوم شہیدوں کی باقیات نہیں ہیں، یہ دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہیں! وہ حکمران جو اربوں ڈالرز کے اسلحے اور فوجیں رکھنے کے باوجود اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں، ماؤں اور بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔

*کہاں ہے وہ صلاح الدین ایوبی کا جذبہ؟

جس نے غیرتِ ایمانی کے ساتھ بیت المقدس کو آزاد کروایا تھا؟

کیا آج ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں اور درجنوں مسلم ممالک میں ایک بھی ایسا حکمران نہیں جس کے دل میں وہ جذبہِ ایوبی بیدار ہو؟

*عالمی بے حسی کی انتہا:*

دنیا کے نقشے پر اتنے ممالک ہیں، اتنی بڑی بڑی طاقتیں ہیں، لیکن کسی کو کوئی فکر نہیں، کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

*ہرا بھرا شہر کھنڈرات میں بدل گیا..

سال ہا سال بیت گئے، نسلیں ختم ہو گئیں، ہنستے بستے اور ہرے بھرے شہر دیکھتے ہی دیکھتے ملبے کے ڈھیر اور کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے۔ ہم سب اپنی پرسکون زندگیوں میں مست ہیں، لیکن سوچتا ہوں کہ جب کل قیامت کے دن اللہ کے حضور پیش ہوں گے، تو اپنے رب کو کیا جواب دیں گے؟ جب یہ معصوم بچے ہمارا دامن پکڑ کر سوال کریں گے کہ جب ہم پر بارود کی بارش ہو رہی تھی، تب تم کہاں تھے؟

>**یا اللہ!**
ہم بے بس ہیں، ہمارے پاس سوائے دعا اور اس دل کی تڑپ کے کچھ نہیں۔ یا ارحم الراحمین! فلسطین اور غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر رحم فرما، ان کی غیب سے مدد اور حفاظت فرما، اور امتِ مسلمہ کو بیداری اور غیرت عطا فرما۔ آمین ثم آمین!
اور اسرائیل کو تباہ و برباد فرما آمین ثم آمین

تحریر قاری عبید الرحمٰن ضیاء


Qari Ubaid Ur Rahman Zia

25/06/2026

ہماری پری ہنستی مسکراتی ،کھیلتی کودتی پھر رہی تھی ، ہمیں کیا معلوم تھا آج وہ مر جائے گی ۔۔۔۔ مجرم ایک نہیں ہے یہ کہانی کچھ اور ہے ۔۔۔۔ منتہا زہرہ کو قران مجید پڑھانے والے قاری صاحب کے انکشافات ۔۔۔ میں صبح ساڑھے سات بجے منتہا کو قران پڑھانے انکے گھر گیا ، اس نے انتہائی سکون کے ساتھ مجھے سبق سنایا اور آگے سبق لیا ، وہ اتنی مطمئن تھی اس کے چہرے پر اتنا نور تھا جیسا میں نے اس سے پہلے نہ دیکھا تھا ، میں اسے سبق پڑھا کر چلا گیا ، 12 بجے اسکی والدہ نے مجھے فون کیا قاری صاحب منتہا گم ہو گئی ہے 1 گھنٹہ ہو گیا اسے تلاش کرتے ہوئے ، مل نہیں رہی آپ کے گھر تو نہیں چلی گئی ، میرا گھر زیادہ دور نہیں ہے میں فوری یہاں آیا گلیوں میں دیکھا اور پھر اس دکان پر گیا جہاں بقول والدہ وہ چیز لینے گئی تھی ، میں جب دکان پر پہنچا تو مالک موجود تھا اور 3 چار لڑکے بھی ، میں نے ان سے پوچھا کہ منتہا یہاں آئی تھی؟ تو وہ بولے آئی تو تھی لیکن پتہ نہیں کدھر گئی ، میں نے پوچھا تم اندھے ہو یا نشا کیا ہوا ہے 5 بندے ادھر کھڑے ہو بچی دکان میں آئی اور باہر واپس نہیں نکلی غائب ہو گئی اور تم کہتے ہو پتہ نہیں کہاں گئی، اس پر مالک دکان اور لڑکے ہنسنے لگے ، میں نے انکی آنکھوں میں شیطان ناچتا دیکھا ۔۔۔۔ اسکے بعد آدھے گھنٹے میں پولیس نے بچی کی لا۔ش چھت سے برآمد کر لی ۔۔۔ قاری صاحب اور اہل محلہ کے بقول ۔ ایک مجرم پار ہو چکا لیکن ہمیں پورا یقین ہے اصل واقعہ اور ہے اور یہ ایک لڑکے کا کیا دھرا نہیں اس میں زیادہ لوگ شامل ہیں ، ایک ملازم لڑکے کی کیا مجال کہ وہ دکان مالک اور اسکے بیٹوں کی موجودگی میں بچی کو دکان کے اوپر کمرے میں لے جائے اور اسکے ساتھ درندگی کرے ، لازمی طور پر ملازم دکاندار کا چہیتا تھا اگر اتنا چہیتا تھا اور وہ اسکے کردار سے بھی واقف تھے ۔ ۔۔۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ان باقی ملزموں سے بھی پولیس روایتی طریقے سے تفتیش کرے ، جیسا کہ ہمیں شک ہے یہ ایک بندے کا کام نہیں تو پھر باقی ملزمان کو بھی قرار واقعی سزا دی جائے ، گو۔لی سے سیکنڈوں والی موت سے ہمارے سینے ٹھنڈے نہیں ہونگے ، ملزمان کو دکان کے سامنے بازار میں لایا جائے اور ان پر پٹرول چھڑک کر انہیں آ۔گ لگا کر پورے بازار میں دوڑایا جائے وہ مدد کے لیے پکاریں تو ان پر اور تیل پھینکا جائے ۔۔۔ ایسے ہمارے سینوں میں لگی آگ بجھے گی اور دیکھنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو گی ۔۔۔

25/06/2026
حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ظاہری دورِ حیات میں موجود تھے، لیکن اپنی نابینا اور ضعیف والدہ کی خدمت اور دیک...
06/06/2026

حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ظاہری دورِ حیات میں موجود تھے، لیکن اپنی نابینا اور ضعیف والدہ کی خدمت اور دیکھ بھال کی وجہ سے مدینہ منورہ حاضر ہو کر صحابیت کا شرف حاصل نہ کر سکے، اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ جذبہ اس قدر پسند آیا کہ حضور ﷺ نے ان کی غائبانہ تعریف فرمائی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا ’’تمہارے پاس یمن کے امدادی لشکروں کے ساتھ اویس بن عامر آئے گا۔ وہ مراد قبیلے کی شاخ قرن سے ہو گا۔ اس کی ایک والدہ ہے اور وہ اپنی والدہ کا بے حد فرمانبردار اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والا ہے۔ وہ اللہ کے حضور ایسا مقبول ہے کہ اگر وہ کسی بات پر اللہ کی قسم کھا لے، تو اللہ اس کی قسم کو ضرور پورا فرما دے گا۔ پس (اے عمر!) اگر تم سے ہو سکے تو تم اُس سے (اپنے لیے) ضرور دعا کروانا‘‘۔
جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت اویس قرنی سے ملے تو درخواست کی ’’ آپ میرے لیے مغفرت کی دعا فرما دیں‘‘ چنانچہ امت کے اتنے بڑے جلیل القدر صحابی اور خلیفہِ وقت کے لیے حضرت اویس قرنی نے اللہ کے حضور بخشش کی دعا فرمائی۔

حضرت اویس قرنی کو یہ عظیم الشان مرتبہ، مستجاب الدعوات ہونا اور حضور ﷺ کی غائبانہ تعریف صرف اور صرف اپنی والدہ کی مخلصانہ خدمت اور اطاعت کی وجہ سے نصیب ہوا۔

حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک شام کے شہر رقہ (Raqqa) میں واقع ہے، جہاں وہ جنگِ صفین (657ء) میں امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حمایت میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔

یہ مزار شام کے شہر رقہ میں پرانے قبرستان کے پاس واقع تھا، جہاں ان کے ساتھ صحابیِ رسول حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک بھی موجود ہے۔
.

15/05/2026

جب عورت فیصلہ کرتی ہے کہ وہ عورت ہی رہے گی تو پھر بڑی مشکل پڑتی ہے ساٹھ برس کی عورت کو شیفون کی ساڑھیوں پر کام کرانا پڑت...
12/05/2026

جب عورت فیصلہ کرتی ہے کہ وہ عورت ہی رہے گی تو پھر بڑی مشکل پڑتی ہے ساٹھ برس کی عورت کو شیفون کی ساڑھیوں پر کام کرانا پڑتا ہے ڈائٹنگ کرنی پڑتی ہے۔ بیوٹی پارلروں کے دھکے کھانے پڑتے ہیں ۔جیولری کی دکان پر ابھری ہوئی نسوں والےہاتھوں پر انگوٹھیاں فٹ کروانی پڑتی ہیں۔ اور جب سارا گہنا پہن کر آئینے کے سامنے جاتی ہے ساٹھی پاٹی عورت تو آئینہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔
شک ہی شک وہم ہی وہم کہ میں اچھی لگ رہی ہوں یا نہیں؟
کیا محتاجی کی زندگی ہے یہ بھی ہمیشہ ہاتھ میں کاسہ محبت کی خیرات جمع کرنا
یہ بھی کوئی فیصلہ ہے عورت رہنے کا؟ساری زندگی محتاجی؟
کچھ عورتیں ایک اور فیصلہ کرتی ہیں وہ اندر ہی اندر عورت سے گزر کر ماں بن جاتی ہیں پھر ان کے پیالے سےہر ایک کے لئے کچھ نہ کچھ نکلتا ہی رہتا ہے وہ"مانگنے"والے مقام سے نکل کر "دینے"والے مقام پر آجاتی ہیں
کچھ عورتیں تو بھری جوانی میں ہی یہ فیصلہ کر لیتی ہیں
ماں بڑی آزاد زندگی بسر کرتی ہے وہ محتاج نہیں ہوتی نہ کسی کی محبت کی نہ خدمت کی ۔
ساری چڑیاں اس چھتنارے درخت پر بیٹھ کر گھونسلے بناتی ہیں اور سب اس کی بکل میں چھپے پھرتے ہیں
بڑی آزاد زندگی ہوتی ہے ماں کی وہ کسی کی محتاج نہیں ہوتی"
بانو قدسیہ کی کتاب فٹ پاتھ کی گھاس سے اقتباس

18/03/2026

#الوداع #رمضان #جمعہ

18/03/2026

آمین ثم آمین یارب العالمین

Address

Faisalabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ghazi fans posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ghazi fans:

Shortcuts

Share