02/09/2026
کیا آپ اپنے ماضی میں جھانکنا چھاہتے ہیں؟
اگر ہاں تو تحریر مکمل پڑھیں!
"وقت کی چھاپ اور بیتے لمحے"
واصف آکاش واصف
انسان اکثر یہ چاہتا ہے کہ جس شخص نے اسے متاثر کیا، جو اس کی سوچ کا محور بنا رہا، جس سے اسے ایک وقت میں گہرا لگاؤ رہا، کاش وہ ہمیشہ ویسا ہی رہتا جیسا پہلی بار اسے نظر آیا تھا۔ دراصل ہم اپنے رول ماڈلز کو ایک تصویر کی صورت ذہن میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ وہ رول ماڈل ایک استاد ہو سکتا ہے، کوئی فنکار، لکھاری، رہنما یا محض ایسا شخص جس کی شخصیت نے کبھی ہمارے اندر جذبات کی لہروں کو ہوا دی ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ تصویر، وہ نقش جو ہمارے ذہن میں گھر کر چکا ہے، وقت کے اثر سے آزاد رہے، اس کے رنگ کبھی مدھم نہ پڑیں اور اس کا عکس کبھی دھندلا نہ ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے اور اپنی مسلسل حرکت سے انسانوں، چہروں، آوازوں، یہاں تک کہ تعلقات کو بھی بدلتا چلا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے رول ماڈلز کے بدلنے پر اداس کیوں ہوتے ہیں؟
کیا ہمیں دکھ صرف ان کے بدل جانے کا ہوتا ہے یا ان کے ساتھ جڑے ان لمحات کا بھی جنہیں ہم کبھی کھونا ہی نہیں چاہتے؟ فی الحقیقت انسان خواہشات اور جذبات کے زیرِ اثر جیتا ہے اور جو جذبات اس کی فطری آرزو کی تسکین کریں، انسانی ذہن انہیں زیادہ دیر تک اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے۔ اسی لیے وہ چہرہ جو ہمارے کل سے جڑا ہوتا ہے، آج اس پر وقت کی چھاپ ہمیں اس لیے اداس کرتی ہے کہ صرف وقت ہی نہیں بدلا بلکہ ہماری ایک دنیا بدل چکی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمیں دکھ صرف اس چہرے کے بدل جانے کا نہیں ہوتا بلکہ اصل صدمہ اس گزرے وقت کا ہوتا ہے جس میں ہم نے کبھی اپنا ایک زمانہ قید کر رکھا تھا۔
حالانکہ ماضی کے سبھی لمحات یا واقعات ہمیں آسودہ نہیں کرتے مگر پھر بھی ہم اس زمانے یا اس احساس سے صرف اس لیے باہر نہیں نکل پاتے کہ ہمارے بچپن کی کچھ اچھی یادیں اور ان یادوں سے وابستہ وہ لوگ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔ اسی لیے ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ صرف ہمارے رول ماڈلز ہی نہیں بدلے، انہیں دیکھنے والے ہم بھی بدل چکے ہیں اور ہمارے اپنے بچپن اور جوانی کے درمیان بھی ایک لمبا فاصلہ آ چکا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں اپنے ایک کزن سے اسی موضوع پر بات کر رہا تھا۔
میں نے اس سے کہا، "یار ہم یہی چاہتے ہیں نہ کہ ہمارے ہیروز ہمیشہ ویسے ہی رہیں جیسے ہم نے انہیں پہلی بار دیکھا تھا۔ ان کا بدلنا ہمیں بالکل اچھا نہیں لگتا۔" اس نے فوراً میری بات سے اتفاق کیا۔ بات چند لمحوں کی تھی مگر یہ خیال میرے اندر ٹھہر گیا۔ میں نے اسی وقت سوچا تھا کہ کبھی اس احساس پر ضرور لکھوں گا۔ شاید اس وقت مجھے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ بظاہر معمولی سی خواہش کے اندر انسانی جذبات کی کتنی گہری تہیں چھپی ہوئی ہیں۔ شاید اسی لیے کبھی کبھی انسان کسی پرانی تصویر کو دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ تصویر میں موجود لوگ شاید آج بھی ہمارے آس پاس ہوں مگر وہ لمحہ اب صرف ایک خوبصورت یاد بن چکا ہوتا ہے جس میں ہم دوبارہ اسی طرح داخل نہیں ہو سکتے۔ ہم تصویر میں موجود کسی ایک شخص کو ہی نہیں دیکھ رہے ہوتے بلکہ بے اختیار ان لمحات میں جھانکنے لگتے ہیں جن میں وہ تصویر لی گئی تھی۔
وہ جگہ، وہ ماحول، وہ گفتگو، وہ ہنسی اور وہ سب کچھ جو اس ایک لمحے کے آس پاس موجود تھا، اچانک ہماری یاد میں اپنی جگہ بنانے لگتا ہے۔ شاید اسی لیے بعض تصویریں صرف چہرے محفوظ نہیں کرتیں، وہ اپنے اندر پورا ایک لمحہ سمیٹ لیتی ہیں۔ ہم تصویر دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے وقت نے چند لمحوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہوں اور ہمیں اس دنیا کی ایک جھلک دوبارہ دکھا دی ہو جس میں ہم کبھی خود بھی موجود تھے۔ مگر اس سب کے درمیان ایک اہم سوال یہ بھی جنم لیتا ہے کہ اگر ہم اتنی شدت سے اپنے گزرے ہوئے لمحات کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو کیا آج کی زندگی ہمیں انہیں محفوظ کرنے کا موقع دے رہی ہے؟ شاید ہمارے پاس پہلے سے کہیں زیادہ ذرائع موجود ہیں۔ موبائل کے کیمرے ہر وقت ہمارے ہاتھ میں ہیں، ہر لمحے کی تصویر بن سکتی ہے، ہر گفتگو ریکارڈ ہو سکتی ہے، ہر واقعہ چند سیکنڈ میں دنیا کے سامنے پہنچ سکتا ہے۔ ہم پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ چیزیں محفوظ کر سکتے ہیں مگر شاید ایک چیز محفوظ نہیں کر پا رہے، لمحے کا احساس۔ کبھی وقت تھا کہ ایک ملاقات ختم ہوتی تھی تو اس کے ساتھ اس ملاقات کی یاد بھی ہمارے اندر کچھ دیر چلتی رہتی تھی۔
راستے میں ہوئی کوئی بات دوبارہ ذہن میں آتی، کسی کی ہنسی یاد آتی، کسی کے کہے ہوئے ایک جملے پر ہم اکیلے میں مسکرا دیتے۔ ایک چھوٹا سا واقعہ کئی دنوں تک ہمارے اندر اپنی جگہ بنائے رکھتا تھا۔ شاید اس لیے کہ ہمارے پاس ہر لمحے کو کسی دوسری چیز سے بھر دینے کی اتنی جلدی نہیں تھی۔ آج صورت حال مختلف ہے۔ ایک لمحہ ابھی ہمارے سامنے ہوتا ہے اور اگلے ہی لمحے ہماری انگلی اسکرین پر حرکت کر رہی ہوتی ہے۔ ایک تصویر دیکھی، دوسری آگئی۔ ایک ویڈیو ختم ہوئی، دوسری شروع ہو گئی۔ ایک پیغام کا جواب دیا، اسی دوران کوئی اور اطلاع سامنے آ گئی۔ یوں لگتا ہے جیسے ہماری توجہ کسی ایک جگہ ٹھہرنے سے پہلے ہی دوسری طرف کھنچتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر آج کے بچوں کی دنیا اس تبدیلی کا ایک واضح منظر پیش کرتی ہے۔ بچہ کبھی گھر کے صحن میں کھیلتے ہوئے، بہن بھائیوں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے یا کسی بڑے کی بات سنتے ہوئے اپنے اردگرد کی دنیا سے رشتہ بناتا تھا۔
آج وہی بچہ کئی بار اپنے ہی گھر میں موجود لوگوں کے درمیان بیٹھا موبائل کی ایک الگ دنیا میں گم نظر آتا ہے۔ رشتے اس کے آس پاس موجود ہیں مگر اس کی توجہ کہیں اور قید ہے۔ شاید وہ بہت کچھ دیکھ رہا ہے، بہت کچھ سن رہا ہے، بہت کچھ جان بھی رہا ہے مگر ان سب کے درمیان وہ کتنے لمحے ایسے گزار رہا ہے جنہیں بعد میں یاد کر سکے؟ یہ سوال صرف بچوں تک محدود نہیں۔ ہم سب شاید اس رفتار کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہم لمحوں کو جینے سے پہلے انہیں محفوظ کرنے کی فکر میں پڑ جاتے ہیں۔ کسی جگہ پہنچے تو پہلے تصویر، کسی تقریب میں گئے تو پہلے ویڈیو، کسی کے ساتھ بیٹھے تو پہلے موبائل۔ یوں کبھی کبھی وہ شخص جس کے ساتھ ہم ایک خوبصورت لمحہ گزارنے گئے تھے، خود ہماری توجہ کا منتظر رہ جاتا ہے اور ہم اس لمحے کو دنیا کے سامنے دکھانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔