Taak News

Directions

Taak News (Taak News) The voice of the people is a unique and effective means of conveying the government houses.

02/09/2026

کیا آپ اپنے ماضی میں جھانکنا چھاہتے ہیں؟
اگر ہاں تو تحریر مکمل پڑھیں!

"وقت کی چھاپ اور بیتے لمحے"
واصف آکاش واصف
انسان اکثر یہ چاہتا ہے کہ جس شخص نے اسے متاثر کیا، جو اس کی سوچ کا محور بنا رہا، جس سے اسے ایک وقت میں گہرا لگاؤ رہا، کاش وہ ہمیشہ ویسا ہی رہتا جیسا پہلی بار اسے نظر آیا تھا۔ دراصل ہم اپنے رول ماڈلز کو ایک تصویر کی صورت ذہن میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ وہ رول ماڈل ایک استاد ہو سکتا ہے، کوئی فنکار، لکھاری، رہنما یا محض ایسا شخص جس کی شخصیت نے کبھی ہمارے اندر جذبات کی لہروں کو ہوا دی ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ تصویر، وہ نقش جو ہمارے ذہن میں گھر کر چکا ہے، وقت کے اثر سے آزاد رہے، اس کے رنگ کبھی مدھم نہ پڑیں اور اس کا عکس کبھی دھندلا نہ ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے اور اپنی مسلسل حرکت سے انسانوں، چہروں، آوازوں، یہاں تک کہ تعلقات کو بھی بدلتا چلا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے رول ماڈلز کے بدلنے پر اداس کیوں ہوتے ہیں؟

کیا ہمیں دکھ صرف ان کے بدل جانے کا ہوتا ہے یا ان کے ساتھ جڑے ان لمحات کا بھی جنہیں ہم کبھی کھونا ہی نہیں چاہتے؟ فی الحقیقت انسان خواہشات اور جذبات کے زیرِ اثر جیتا ہے اور جو جذبات اس کی فطری آرزو کی تسکین کریں، انسانی ذہن انہیں زیادہ دیر تک اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے۔ اسی لیے وہ چہرہ جو ہمارے کل سے جڑا ہوتا ہے، آج اس پر وقت کی چھاپ ہمیں اس لیے اداس کرتی ہے کہ صرف وقت ہی نہیں بدلا بلکہ ہماری ایک دنیا بدل چکی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمیں دکھ صرف اس چہرے کے بدل جانے کا نہیں ہوتا بلکہ اصل صدمہ اس گزرے وقت کا ہوتا ہے جس میں ہم نے کبھی اپنا ایک زمانہ قید کر رکھا تھا۔

حالانکہ ماضی کے سبھی لمحات یا واقعات ہمیں آسودہ نہیں کرتے مگر پھر بھی ہم اس زمانے یا اس احساس سے صرف اس لیے باہر نہیں نکل پاتے کہ ہمارے بچپن کی کچھ اچھی یادیں اور ان یادوں سے وابستہ وہ لوگ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔ اسی لیے ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ صرف ہمارے رول ماڈلز ہی نہیں بدلے، انہیں دیکھنے والے ہم بھی بدل چکے ہیں اور ہمارے اپنے بچپن اور جوانی کے درمیان بھی ایک لمبا فاصلہ آ چکا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں اپنے ایک کزن سے اسی موضوع پر بات کر رہا تھا۔

میں نے اس سے کہا، "یار ہم یہی چاہتے ہیں نہ کہ ہمارے ہیروز ہمیشہ ویسے ہی رہیں جیسے ہم نے انہیں پہلی بار دیکھا تھا۔ ان کا بدلنا ہمیں بالکل اچھا نہیں لگتا۔" اس نے فوراً میری بات سے اتفاق کیا۔ بات چند لمحوں کی تھی مگر یہ خیال میرے اندر ٹھہر گیا۔ میں نے اسی وقت سوچا تھا کہ کبھی اس احساس پر ضرور لکھوں گا۔ شاید اس وقت مجھے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ بظاہر معمولی سی خواہش کے اندر انسانی جذبات کی کتنی گہری تہیں چھپی ہوئی ہیں۔ شاید اسی لیے کبھی کبھی انسان کسی پرانی تصویر کو دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ تصویر میں موجود لوگ شاید آج بھی ہمارے آس پاس ہوں مگر وہ لمحہ اب صرف ایک خوبصورت یاد بن چکا ہوتا ہے جس میں ہم دوبارہ اسی طرح داخل نہیں ہو سکتے۔ ہم تصویر میں موجود کسی ایک شخص کو ہی نہیں دیکھ رہے ہوتے بلکہ بے اختیار ان لمحات میں جھانکنے لگتے ہیں جن میں وہ تصویر لی گئی تھی۔

وہ جگہ، وہ ماحول، وہ گفتگو، وہ ہنسی اور وہ سب کچھ جو اس ایک لمحے کے آس پاس موجود تھا، اچانک ہماری یاد میں اپنی جگہ بنانے لگتا ہے۔ شاید اسی لیے بعض تصویریں صرف چہرے محفوظ نہیں کرتیں، وہ اپنے اندر پورا ایک لمحہ سمیٹ لیتی ہیں۔ ہم تصویر دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے وقت نے چند لمحوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہوں اور ہمیں اس دنیا کی ایک جھلک دوبارہ دکھا دی ہو جس میں ہم کبھی خود بھی موجود تھے۔ مگر اس سب کے درمیان ایک اہم سوال یہ بھی جنم لیتا ہے کہ اگر ہم اتنی شدت سے اپنے گزرے ہوئے لمحات کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو کیا آج کی زندگی ہمیں انہیں محفوظ کرنے کا موقع دے رہی ہے؟ شاید ہمارے پاس پہلے سے کہیں زیادہ ذرائع موجود ہیں۔ موبائل کے کیمرے ہر وقت ہمارے ہاتھ میں ہیں، ہر لمحے کی تصویر بن سکتی ہے، ہر گفتگو ریکارڈ ہو سکتی ہے، ہر واقعہ چند سیکنڈ میں دنیا کے سامنے پہنچ سکتا ہے۔ ہم پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ چیزیں محفوظ کر سکتے ہیں مگر شاید ایک چیز محفوظ نہیں کر پا رہے، لمحے کا احساس۔ کبھی وقت تھا کہ ایک ملاقات ختم ہوتی تھی تو اس کے ساتھ اس ملاقات کی یاد بھی ہمارے اندر کچھ دیر چلتی رہتی تھی۔

راستے میں ہوئی کوئی بات دوبارہ ذہن میں آتی، کسی کی ہنسی یاد آتی، کسی کے کہے ہوئے ایک جملے پر ہم اکیلے میں مسکرا دیتے۔ ایک چھوٹا سا واقعہ کئی دنوں تک ہمارے اندر اپنی جگہ بنائے رکھتا تھا۔ شاید اس لیے کہ ہمارے پاس ہر لمحے کو کسی دوسری چیز سے بھر دینے کی اتنی جلدی نہیں تھی۔ آج صورت حال مختلف ہے۔ ایک لمحہ ابھی ہمارے سامنے ہوتا ہے اور اگلے ہی لمحے ہماری انگلی اسکرین پر حرکت کر رہی ہوتی ہے۔ ایک تصویر دیکھی، دوسری آگئی۔ ایک ویڈیو ختم ہوئی، دوسری شروع ہو گئی۔ ایک پیغام کا جواب دیا، اسی دوران کوئی اور اطلاع سامنے آ گئی۔ یوں لگتا ہے جیسے ہماری توجہ کسی ایک جگہ ٹھہرنے سے پہلے ہی دوسری طرف کھنچتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر آج کے بچوں کی دنیا اس تبدیلی کا ایک واضح منظر پیش کرتی ہے۔ بچہ کبھی گھر کے صحن میں کھیلتے ہوئے، بہن بھائیوں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے یا کسی بڑے کی بات سنتے ہوئے اپنے اردگرد کی دنیا سے رشتہ بناتا تھا۔

آج وہی بچہ کئی بار اپنے ہی گھر میں موجود لوگوں کے درمیان بیٹھا موبائل کی ایک الگ دنیا میں گم نظر آتا ہے۔ رشتے اس کے آس پاس موجود ہیں مگر اس کی توجہ کہیں اور قید ہے۔ شاید وہ بہت کچھ دیکھ رہا ہے، بہت کچھ سن رہا ہے، بہت کچھ جان بھی رہا ہے مگر ان سب کے درمیان وہ کتنے لمحے ایسے گزار رہا ہے جنہیں بعد میں یاد کر سکے؟ یہ سوال صرف بچوں تک محدود نہیں۔ ہم سب شاید اس رفتار کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہم لمحوں کو جینے سے پہلے انہیں محفوظ کرنے کی فکر میں پڑ جاتے ہیں۔ کسی جگہ پہنچے تو پہلے تصویر، کسی تقریب میں گئے تو پہلے ویڈیو، کسی کے ساتھ بیٹھے تو پہلے موبائل۔ یوں کبھی کبھی وہ شخص جس کے ساتھ ہم ایک خوبصورت لمحہ گزارنے گئے تھے، خود ہماری توجہ کا منتظر رہ جاتا ہے اور ہم اس لمحے کو دنیا کے سامنے دکھانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

اسکرین کے پیچھے قید ہوتا بچپن !ایک تلخ حقیقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
06/06/2026

اسکرین کے پیچھے قید ہوتا بچپن !ایک تلخ حقیقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ہم نے بچوں کو سہولت تو دی مگر بچپن چھین لیا"
واصف آکاش واصف

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی بدولت جدید تو ہو گئے ہیں مگر اپنی قدیم روایات کو بھلا کر اپنی اصل روح کھو بیٹھے ہیں۔ ٹیکنالوجی نے ہماری ترجیحات کو بدل کر ہمیں سہولتوں کا غلام بنا دیا ہے اور جب سہولت زندگی کا مقصد بن جائے تو زندگی کا اصل مقصد دھندلا جاتا ہے۔

جدت کی اس دنیا میں سب سے زیادہ خاموش نقصان بچوں کا ہو رہا ہے۔ وہ بچے جن کے ہاتھوں میں کبھی مٹی ہوتی تھی، جن کے پاؤں دوڑنے کے لیے بے چین رہتےتھےاور جن کی شرارتوں سے گلیوں میں زندگی کے رنگ بکھرتے تھے، آج وہی بچے ایک چھوٹی سی اسکرین کے اندر قید ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہم اسے جدید دور کہتے ہیں مگر حقیقت میں یہ ایک ایسی قید ہے جس کی دیواریں ہمیں دکھائی نہیں دیتیں۔

ہم اپنی محبت میں بچوں کو وہ سب کچھ دینے کی کوشش کرتے ہیں جو وہ مانگتے ہیں مگر شاید ہم وہ نہیں دے پا رہے جو انہیں درحقیقت چاہیے۔ ایک موبائل، ایک ٹیبلٹ، ایک ویڈیو گیم یہ سب وقتی خاموشی تو دے دیتے ہیں مگر اس کے بدلے بچوں سے ان کی فطری زندگی چھین لیتے ہیں۔

اب بچہ باہر جا کر کھیلنے کے بجائے اندر بیٹھ کر اسکرین پر کرداروں کی زندگی جینے لگا ہے۔ یہ ایک ایسی عادت ہے جو آہستہ آہستہ اُس کی فطری خواہشات کو دبا رہی ہے اور اس کے بچپن کو مصنوعی دنیا میں بدل رہی ہے۔

کیا اصل مسئلہ صرف موبائل ہے؟ نہیں۔ مسئلہ موبائل یا گیجٹ نہیں بلکہ اس کا بے جا استعمال اور اس کے منفی اثرات ہیں۔ بچہ جب مسلسل اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھا رہتا ہے تو نہ صرف اس کی آنکھیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ اس کی جسمانی سرگرمی بھی کم ہو جاتی ہے۔

یہ بات محض قیاس نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کیونکہ جسم اور دماغ کا گہرا تعلق ہے۔ اگر جسم میں حرکت نہ ہو، اگر خون کی روانی اور توانائی کا فطری بہاؤ متاثر ہو جائے تو دماغ بھی اسی رفتار سے متاثر ہوتا ہے۔ بچہ سست، جلدی تھکنے والا اور ذہنی طور پر کم متوجہ ہونے لگتا ہے۔ وہ چیزیں جو پہلےاسے آسانی سے یاد ہو جاتی تھیں، اب یاد کرنا مشکل لگتا ہے۔ سکرین کی یہ عادت آہستہ آہستہ بچوں کے صبر کو بھی کمزور کردیتی ہے۔

ہمیں شاید یہ احساس بھی نہ ہو مگر ہم بتدریج نئی نسل کو مصروف مگر کمزور بنا رہے ہیں۔ وہ بچے جو کبھی درختوں پر چڑھنے سے نہیں ڈرتے تھے، اب ایک سیڑھی چڑھنے سے بھی کتراتے ہیں ۔ وہ بچے جو کبھی گھنٹوں کھیل کر بھی نہیں تھکتے تھے، اب موبائل دیکھ کر ذہنی تھکاوٹ کا شکار رہتے ہیں۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ یہ ہماری روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی اجازتوں کا نتیجہ ہے۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ بس بچے خوش رہیں مگر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ یہ خوشی کس قیمت پر مل رہی ہے۔ اگر خوشی کا مطلب یہ ہو کہ بچہ سارا دن بیٹھا رہے، حرکت نہ کرے، سوشل دنیا سے کٹ جائے اور صرف اسکرین کی روشنی میں زندگی گزارے تو یہ خوشی دراصل ایک خاموش نقصان ہے۔ کیونکہ وقت کے ساتھ یہی عادتیں اُس کی شخصیت، اس کی صحت اور اس کے مستقبل کو شکل دیتی ہیں۔

تو کیا ہم نے بچوں کے ہاتھ میں گیجٹس تھما کر ان سے محبت کا حق ادا کیا ہے یا ان کے مستقبل کو اسکرین کی روشنی میں تاریک کر دیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج ہر والدین کو خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ پیار صرف وہ نہیں جو ہر خواہش پوری کر دے، اصل پیار وہ ہے جو تربیت کی خاطر کبھی ڈانٹ میں، کبھی روک ٹوک میں اور کبھی کسی چیز سے محروم رکھنے کے فیصلے میں بھی نظر آتا ہے۔

بچوں کو موبائل اسکرین سے دور رکھنا صرف ان کی جسمانی صحت کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ یہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھا سکتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب وہ فطرت سے جڑتے ہیں، لوگوں کو سمجھتے ہیں، رشتوں کی اہمیت محسوس کرتے ہیں اور زندگی کو محض ایک اسکرین کے بجائے اپنے اردگرد بکھری ہوئی حقیقت میں تلاش کرنا سیکھتے ہیں۔

جو والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ احساس، تعلق اور انسانیت جیسی نعمتوں سے محروم نہ ہو، انہیں چاہیے کہ وہ اپنی روایات کو فراموش کر کے بچوں کو فطرت سے دور نہ کریں۔ کیونکہ درختوں کا سایہ، مٹی کی خوشبو، کھیل کے میدان اور گھر کے رشتے آج بھی کسی موبائل ایپ سے زیادہ قیمتی ہیں۔

آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اپنی رائے یا اختلاف ضرور بیان کیجیے کیونکہ اختلافِ رائے ہی وہ راستہ ہے جس سے خیالات میں وسعت آتی ہے اور ہر موضوع مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔

Taak News




"ہم نے بچوں کو سہولت تو دی مگر بچپن چھین لیا"واصف آکاش واصفآج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی بدولت جدید تو ...
05/06/2026

"ہم نے بچوں کو سہولت تو دی مگر بچپن چھین لیا"
واصف آکاش واصف

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی بدولت جدید تو ہو گئے ہیں مگر اپنی قدیم روایات کو بھلا کر اپنی اصل روح کھو بیٹھے ہیں۔ ٹیکنالوجی نے ہماری ترجیحات کو بدل کر ہمیں سہولتوں کا غلام بنا دیا ہے اور جب سہولت زندگی کا مقصد بن جائے تو زندگی کا اصل مقصد دھندلا جاتا ہے۔

جدت کی اس دنیا میں سب سے زیادہ خاموش نقصان بچوں کا ہو رہا ہے۔ وہ بچے جن کے ہاتھوں میں کبھی مٹی ہوتی تھی، جن کے پاؤں دوڑنے کے لیے بے چین رہتےتھےاور جن کی شرارتوں سے گلیوں میں زندگی کے رنگ بکھرتے تھے، آج وہی بچے ایک چھوٹی سی اسکرین کے اندر قید ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہم اسے جدید دور کہتے ہیں مگر حقیقت میں یہ ایک ایسی قید ہے جس کی دیواریں ہمیں دکھائی نہیں دیتیں۔

ہم اپنی محبت میں بچوں کو وہ سب کچھ دینے کی کوشش کرتے ہیں جو وہ مانگتے ہیں مگر شاید ہم وہ نہیں دے پا رہے جو انہیں درحقیقت چاہیے۔ ایک موبائل، ایک ٹیبلٹ، ایک ویڈیو گیم یہ سب وقتی خاموشی تو دے دیتے ہیں مگر اس کے بدلے بچوں سے ان کی فطری زندگی چھین لیتے ہیں۔

اب بچہ باہر جا کر کھیلنے کے بجائے اندر بیٹھ کر اسکرین پر کرداروں کی زندگی جینے لگا ہے۔ یہ ایک ایسی عادت ہے جو آہستہ آہستہ اُس کی فطری خواہشات کو دبا رہی ہے اور اس کے بچپن کو مصنوعی دنیا میں بدل رہی ہے۔

کیا اصل مسئلہ صرف موبائل ہے؟ نہیں۔ مسئلہ موبائل یا گیجٹ نہیں بلکہ اس کا بے جا استعمال اور اس کے منفی اثرات ہیں۔ بچہ جب مسلسل اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھا رہتا ہے تو نہ صرف اس کی آنکھیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ اس کی جسمانی سرگرمی بھی کم ہو جاتی ہے۔

یہ بات محض قیاس نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کیونکہ جسم اور دماغ کا گہرا تعلق ہے۔ اگر جسم میں حرکت نہ ہو، اگر خون کی روانی اور توانائی کا فطری بہاؤ متاثر ہو جائے تو دماغ بھی اسی رفتار سے متاثر ہوتا ہے۔ بچہ سست، جلدی تھکنے والا اور ذہنی طور پر کم متوجہ ہونے لگتا ہے۔ وہ چیزیں جو پہلےاسے آسانی سے یاد ہو جاتی تھیں، اب یاد کرنا مشکل لگتا ہے۔ سکرین کی یہ عادت آہستہ آہستہ بچوں کے صبر کو بھی کمزور کردیتی ہے۔

ہمیں شاید یہ احساس بھی نہ ہو مگر ہم بتدریج نئی نسل کو مصروف مگر کمزور بنا رہے ہیں۔ وہ بچے جو کبھی درختوں پر چڑھنے سے نہیں ڈرتے تھے، اب ایک سیڑھی چڑھنے سے بھی کتراتے ہیں ۔ وہ بچے جو کبھی گھنٹوں کھیل کر بھی نہیں تھکتے تھے، اب موبائل دیکھ کر ذہنی تھکاوٹ کا شکار رہتے ہیں۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ یہ ہماری روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی اجازتوں کا نتیجہ ہے۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ بس بچے خوش رہیں مگر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ یہ خوشی کس قیمت پر مل رہی ہے۔ اگر خوشی کا مطلب یہ ہو کہ بچہ سارا دن بیٹھا رہے، حرکت نہ کرے، سوشل دنیا سے کٹ جائے اور صرف اسکرین کی روشنی میں زندگی گزارے تو یہ خوشی دراصل ایک خاموش نقصان ہے۔ کیونکہ وقت کے ساتھ یہی عادتیں اُس کی شخصیت، اس کی صحت اور اس کے مستقبل کو شکل دیتی ہیں۔

تو کیا ہم نے بچوں کے ہاتھ میں گیجٹس تھما کر ان سے محبت کا حق ادا کیا ہے یا ان کے مستقبل کو اسکرین کی روشنی میں تاریک کر دیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج ہر والدین کو خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ پیار صرف وہ نہیں جو ہر خواہش پوری کر دے، اصل پیار وہ ہے جو تربیت کی خاطر کبھی ڈانٹ میں، کبھی روک ٹوک میں اور کبھی کسی چیز سے محروم رکھنے کے فیصلے میں بھی نظر آتا ہے۔

بچوں کو موبائل اسکرین سے دور رکھنا صرف ان کی جسمانی صحت کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ یہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھا سکتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب وہ فطرت سے جڑتے ہیں، لوگوں کو سمجھتے ہیں، رشتوں کی اہمیت محسوس کرتے ہیں اور زندگی کو محض ایک اسکرین کے بجائے اپنے اردگرد بکھری ہوئی حقیقت میں تلاش کرنا سیکھتے ہیں۔

جو والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ احساس، تعلق اور انسانیت جیسی نعمتوں سے محروم نہ ہو، انہیں چاہیے کہ وہ اپنی روایات کو فراموش کر کے بچوں کو فطرت سے دور نہ کریں۔ کیونکہ درختوں کا سایہ، مٹی کی خوشبو، کھیل کے میدان اور گھر کے رشتے آج بھی کسی موبائل ایپ سے زیادہ قیمتی ہیں۔

آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اپنی رائے یا اختلاف ضرور بیان کیجیے کیونکہ اختلافِ رائے ہی وہ راستہ ہے جس سے خیالات میں وسعت آتی ہے اور ہر موضوع مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔

Taak News




شکرگڑھ کی گلی افضل بھٹی والی میں نکاسی آب کا نظام مکمل ناکام ہو چکا ہے۔ بارش کا پانی کئی دن تک جمع رہنے سے عوام شدید مشک...
23/05/2026

شکرگڑھ کی گلی افضل بھٹی والی میں نکاسی آب کا نظام مکمل ناکام ہو چکا ہے۔ بارش کا پانی کئی دن تک جمع رہنے سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ بجلی کے پولز میں کرنٹ آنے کے خطرات نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔
اہل علاقہ نے فوری اصلاح و مرمت کا مطالبہ کر دیا ۔

نیوز رپورٹ
شکرگڑھ:
شہر کی مشہور گلی افضل بھٹی والی، جو مرکزی امام بارگاہ حسینیہ شکرگڑھ کو بھی ملاتی ہے، مذکورہ گلی میں نکاسی آب کے ناقص انتظام کے باعث علاقہ مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

مقامی رہائشیوں کے مطابق مین اخلاص پور روڈ گلی سے تقریباً دو فٹ اونچا ہونے کی وجہ سے بارش کا سارا پانی گلی میں داخل ہو جاتا ہے، جس سے کئی دن تک پانی کھڑا رہتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف آمد و رفت متاثر ہوتی ہے بلکہ علاقے میں موجود تین پرائیویٹ اسکولز کے طلبہ کو بھی تعلیمی سرگرمیوں میں دشواری کا سامنا رہتا ہے۔ علاوہ ازیں آلودہ پانی کھڑا رہنے کے باعث وبائی امراض پھیلنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

اہل علاقہ نے مزید بتایا کہ گلی میں نصب چار بجلی کے پولز بھی خطرے کی زد میں آ جاتے ہیں اور بارش کے دوران بعض اوقات ان میں کرنٹ آنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جو کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔

گلی کے رہائشیوں میں خان عبدالروف، رانا اسامہ، رانا عرفان سلیم، بسم اللہ احمد قادری، رانا جمیل زرگر و دیگر نے میونسپل ایڈمنسٹریٹر / چیف آفیسر بلدیہ شکرگڑھ سے مطالبہ کیا ہے کہ گلی کو فوری طور پر روڈ لیول پر لا کر وہاں ٹف ٹائل لگائی جائے اور نکاسی آب کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

اہل علاقہ نے شکرگڑھ کے تمام میڈیا نمائندگان سے بھی اپیل کی ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کو اجاگر کریں تاکہ متعلقہ اداروں میں جنبش ہو سکے۔

#شکرگڑھ



کیا واقعی ترقی نے ہمیں جوڑا ہے یا خاموشی سے توڑ دیا ہے؟ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کر دیے مگر ہم دور کیوں ہو گئے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...
22/05/2026

کیا واقعی ترقی نے ہمیں جوڑا ہے یا خاموشی سے توڑ دیا ہے؟

ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کر دیے مگر ہم دور کیوں ہو گئے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسانی فطرت یہی ہے کہ انسان آسانی سے ملنےوالی چیز کی قدر نہیں کرتا۔

واصف آکاش واصف

کیا واقعی سائنس نے ہماری زندگیوں کو آسان بنا دیا ہے یا ہمیں سہولتوں کا غلام بنا دیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو کہیں نہ کہیں انسانی ذہنوں میں ابھرتا ضرور ہے اور لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ اگرچہ سائنسی و تکنیکی ترقی نے میلوں کے فاصلے سیکنڈوں میں سمٹا دیے ہیں مگر گھروں، دلوں اور رشتوں میں ایسی دوریاں پیدا ہو گئی ہیں کہ ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھے لوگ ایک دوسرے سے دور نظر آتے ہیں۔ یہ دوریاں وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہیں اور انسان ایک عجیب سی داخلی تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

ماضی میں انسان کے تعلقات کا دار و مدار وقت، صبر اور انتظار پر ہوتا تھا۔ خطوط کے ذریعے پیغام مہینوں میں پہنچتا تھا، پھر لینڈ لائن ٹیلی فون آیا جس نے آواز کو قریب کر دیا، اس کے بعد موبائل فون نے رابطوں کو آسان بنا دیا اور ایس ایم ایس نے لفظوں کو مختصر کر دیا۔ وقت کے ساتھ کال پیکجز اور پھر ویڈیو کالز نے فاصلے مزید کم کر دیے، یہاں تک کہ دنیا ایک اسکرین کے اندر سمٹتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ مگر جوں جوں فاصلے کم ہوتے گئے، انسانوں کے درمیان جذباتی فاصلے بڑھتے گئے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی نے انسان کو سہولیات تو فراہم کیں مگر اس کی متحرک زندگی کو آہستہ آہستہ جامد کر دیا۔ وہ انسان جو پہلے چلتا پھرتا، ملتا جلتا اور بات چیت کے ذریعے رشتوں کو زندہ رکھتا تھا، اب زیادہ تر ایک اسکرین کے سامنے محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ تعلقات آسان ضرور ہوئے ہیں مگر ان کی گہرائی کم ہوتی جا رہی ہے اور انسان کی عملی زندگی ایک طرح کی ڈیجیٹل عادت میں بدلتی جا رہی ہے۔

آج کی دنیا میں ٹیکنالوجی صرف ایک سہولت نہیں رہی بلکہ آہستہ آہستہ ضرورت اور پھر مجبوری بنتی جا رہی ہے۔ موبائل فون کے بغیر بے چینی محسوس ہونا، ہر وقت نوٹیفکیشنز کی طرف متوجہ رہنا اور حقیقی گفتگو کے مقابلے میں آن لائن رابطوں کو ترجیح دینا اس بات کی علامت ہے کہ انسان سہولت سے آگے بڑھ کر انحصار کی طرف جا رہا ہے۔ یہی انحصار آہستہ آہستہ انسان کی آزادی کو متاثر کر رہا ہے۔

اب دنیا مزید ترقی کرتے ہوئے ویئرایبل ڈیوائسز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹمز اور اسکن سینسرز کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ سب سہولت اور تیزی کے نام پر سامنے آ رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں چِپ ٹیکنالوجی اور برین کمپیوٹر انٹرفیس جیسے تصورات پر بھی بحث بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر بعض لوگ اس خوف کا اظہار کرتے ہیں کہ کہیں مستقبل میں انسان کی شناخت، اس کا ڈیٹا اور اس کا کنٹرول مکمل طور پر کسی سسٹم کے ہاتھ میں نہ چلا جائے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر آج موبائل فون انسان کو ٹریک کر سکتا ہے تو کل جسم سے جڑی ہوئی ٹیکنالوجی اس سے کہیں زیادہ گہری نگرانی اور اثر کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ایسی ٹیکنالوجیز زیادہ تر محدود تجربات اور مخصوص میڈیکل یا تحقیقی استعمال تک محدود ہیں لیکن انسان کا خوف بھی مکمل طور پر بے بنیاد نہیں کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جو چیز پہلے سہولت کے طور پر آتی ہے وہ وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کا لازمی حصہ بن جاتی ہے۔ اسی لیے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگر انسان پہلے ہی موجودہ ٹیکنالوجی کا اس حد تک محتاج ہو چکا ہے تو آنے والی ٹیکنالوجی اس کی زندگی، سوچ اور آزادی پر کتنا اثر ڈالے گی۔ اس ذہنی الجھن سے نکلنے کے لیے غور و فکر اور توازن کی ضرورت ہے۔
ا
اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسان کی کمزور ہوتی ہوئی داخلی قوت ہے۔ جب انسان اپنے تعلقات، وقت اور توجہ پر قابو کھو دیتا ہے تو ہر نئی سہولت آہستہ آہستہ اس پر حاوی ہونے لگتی ہے۔ تنہائی، فطرت سے دوری اور ذہنی سستی اس صورتحال کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

اگر انسان واقعی اس صورتحال سے نکلنا چاہتا ہے تو اسے دوبارہ اپنی اصل بنیادوں کی طرف لوٹنا ہوگا۔ حقیقی تعلقات کو وقت دینا، فطرت کے قریب رہنا، جسمانی اور ذہنی سرگرمی کو برقرار رکھنا اور ٹیکنالوجی کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرنا، نہ کہ اپنی زندگی کا مالک بنا لینا، یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو توازن عطا کر سکتا ہے۔

زندگی ہمیشہ جدوجہد کا نام رہی ہے مگر اگر انسان کی جدوجہد بھی مکمل طور پر مشینوں کے تابع ہو گئی تو شاید آنے والے وقت میں انسان زندہ تو ہوگا مگر زندگی اپنی اصل روح کھو چکی ہوگی۔

#ٹیکنالوجی













14/05/2026

“جب طاقت قانون بن جائے تو اجتماعی شعور انصاف کے دروازے کھول سکتا ہے”
واصف آکاش واصف

اقتدار کا نشہ وہ نشہ ہے جو اکثر انسان کو انسانیت کے دائرے سے نکال کر اُس مقام تک لے جاتا ہے جہاں اسے نہ دین یاد رہتا ہے نہ دنیا۔ انسان کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عطا میں خطا سے اجتناب ضروری ہے کیونکہ جتنی زیادہ طاقت کسی کے ہاتھ میں آتی ہے، اتنا ہی اُس کی ذمہ داری کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت ذمہ داری کے بجائے برتری کا احساس دینے لگے تو پھر فیصلے عوام کی آسانی کے لیے نہیں بلکہ اقتدار کی مضبوطی کے لیے ہونے لگتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کو بھی اقتدار کی ایسی لت لگ چکی ہے کہ وہ انسانی تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف اپنی ہی لگن میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ایک دردناک حقیقت ہے کہ انسان اکثر اپنا ماضی اور مستقبل بھول کر صرف اُس حال میں جینا شروع کر دیتا ہے جہاں وہ اپنی عارضی تسکین کو ہی دائمی سکون سمجھنے لگتا ہے، باوجود اس کے کہ وہ جانتا ہے اس دنیا میں کچھ بھی مستقل نہیں۔ مگر اقتدار کا فریب انسان کو یہ یقین دلا دیتا ہے کہ شاید طاقت ہمیشہ اُس کے ہاتھ میں رہے گی، حالانکہ تاریخ کی سب سے بڑی گواہی یہی ہے کہ وقت کبھی کسی ایک کے لیے نہیں رکتا۔

لہٰذا وقت کی ضرورت ہے کہ لوگ اب متحد ہوں اور ایک منظم حکمت عملی کے تحت ایک دوسرے کا سہارا بنیں، نہ کہ اس لمحے کا انتظار کریں جب کوئی مسیحا حکمران کسی جادوئی حل کے ساتھ آئے اور ہمیں مسائل و مشکلات سے باہر نکالے۔ خدا نہ کرے یہ بات صحیح ہو لیکن میری رائے میں یہ ملک اب واقعی ایک جنگل کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں صرف طاقتور ہی زندہ اور باقی رہتا ہے، جبکہ کمزور کی بقا ہر لمحے خطرے میں ہے اور یہ حقیقت پوری قوم کے سامنے واضح ہے کہ غریب اور محنت کش کے ساتھ یہاں کیا کچھ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب طاقتور چاہے لوگوں کی زندگیوں میں منشیات کا زہر ہی کیوں نہ گھول دے، قانون اسے تحفظ فراہم کرتا ہے،جس کی عملی جھلک حالیہ وائرل خاتون کے کیس میں ہم سب نے دیکھ لی ہے۔ یہ منظر نہ صرف انصاف کی کمی کو واضح کرتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ جب قانون طاقت کے تابع ہو جائے تو عوام کی زندگی، ان کے دکھ اور ان کی جدوجہد کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔

المیہ یہ ہے کہ عوام ابھی بھی مکمل طور پر متحد نہیں ہیں۔ ہر فرد اپنی روزمرہ جدوجہد میں اتنا مصروف ہے کہ دوسروں کی حالت کو دیکھنے یا سمجھنے کی فرصت ہی نہیں کسی کے پاس۔ یہی وہ خلا ہے جس کا فائدہ طاقتور اٹھاتے ہیں۔ اگر لوگ شعوری طور پر ایک دوسرے کے قریب آئیں، اپنے دکھ اور پریشانیوں کو بانٹیں اور چھوٹی سطح پر بھی تعاون اور مدد شروع کریں، تو وہ خود بخود طاقت کے دباؤ کو کمزور کرنا شروع کر دیں گے۔ یہ اتحاد نہ صرف اجتماعی قوت پیدا کریگا بلکہ انسان کے اندر امید، حوصلہ اور خود اعتمادی بھی پیدا کریگا۔

چھوٹی چھوٹی سطح پر یہ اقدام کچھ اس طرح کئے جا سکتے ہیں: محلے کے لوگ مل کر چھوٹے فنڈز جمع کریں، بیمار کا علاج کرائیں، بچوں کی تعلیم میں تعاون کریں، کسی ضرورت مند کے لیے خوراک کا بندوبست کریں یا چھوٹے کاروبار کا اہتمام کریں۔ یہ اقدامات بظاہر چھوٹے لگ سکتے ہیں لیکن حقیقت میں پورے نظام کی بنیاد کو ہلا سکتے ہیں۔ جب ہر فرد اپنے وسائل، وقت اور علم کو دوسروں کے فائدے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیگا تو نہ صرف معاشرہ مستحکم ہوگا بلکہ ہر شخص بھی اندر سے مظبوط اور حوصلہ مند ہو گا۔

یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ انسانی رویے اور شعور ہی وہ اصل طاقت ہیں جو کسی بھی دباؤ، ظلم یا بے انصافی کے خلاف کھڑے ہونے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ اگر لوگ اپنے چھوٹے دائرے میں شعور، تعاون اور ہمدردی پیدا کرلیں تو وہ نہ صرف اپنے اردگرد کے حالات بدل سکتے ہیں بلکہ پورے نظام کو پلٹ سکتے ہیں۔ یہی وہ سبق ہے جو ہر فرد کو سمجھنا ہوگا۔ طاقت کا مطلب صرف زور و اختیار نہیں بلکہ اصل قوت وہ ہےجو انسانی رشتوں میں، تعاون میں اور مشترکہ شعور میں نظر آتی ہے۔

جس دن عام انسان ایک دوسرے کو سہارا دینا شروع کر دینگے، اسی دن نظام کی طاقت جو صرف زور اور دباؤ پر کھڑی ہے، اندر سے ہلنے لگے گی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو پردے کے پیچھے ہے، جسے عام انسان صرف اس لیے نہیں دیکھ پاتا کہ اسے تو اس نظام نے دو وقت کی روٹی کے چکر میں الجھا رکھتا ہے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ چھوٹی چھوٹی کاوشیں ایک بڑی تبدیلی کو جنم دیتی ہیں اور نظام تب بدلتا ہے جب لوگ صرف برداشت نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر نئے راستے بناتے ہیں۔

لہٰذا ہر فرد کو چاہئے کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں شعور پیدا کرے، ان کے دکھ، پریشانیاں اور مشکلات محسوس کرے اور چھوٹی سطح پر ممکنہ جدوجہد شروع کرے۔ ایک چھوٹے محلے کی کمیونٹی یا لوگ، چھوٹے فنڈز، چھوٹے اقدامات اور پختہ عزم سے اپنی تقدیر بدلنے کی سکت رکھتے ہیں ، یہی وہ شعور ہے جو اندھیروں میں روشنی کا چراغ بن سکتا ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ہر انسان کومنزلوں کا سراغ دیتا ہے ۔حقیقت یہ ہےکہ تبدیلی کسی حکمران کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اپنے اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے شعور، ہمدردی اور تعاون میں چھپی ہے۔

اگر لوگوں میں یہ شعور بیدار ہو جائے اور وہ اجتماعی قوت کے اصول اپنا لیں تو طاقت کا بگڑا ہوا توازن خود بخود درست ہو نے لگے گا، کیونکہ ہر چھوٹا قدم بڑے انقلاب میں بدلتا ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ نظام تب بدلتا ہے جب لوگ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔


#انصاف





#انسانیت

"سختی بچے کو ڈراتی ہے اور محبت اسے کامیاب بناتی ہے ۔۔۔ والدین کے لیے  سبق!"والدین کا اختیار یا محبت؟ ۔۔۔ تربیت کا اصل اص...
06/05/2026

"سختی بچے کو ڈراتی ہے اور محبت اسے کامیاب بناتی ہے ۔۔۔ والدین کے لیے سبق!"

والدین کا اختیار یا محبت؟ ۔۔۔ تربیت کا اصل اصول کیا ہے؟

واصف آکاش واصف

بچوں کی تربیت انسانی معاشرے کا سب سے حساس اور بنیادی مسئلہ ہے۔ ہر انسان کی سوچ، رویے اور کردار کی تشکیل میں گھر کا ماحول کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ صرف اختیار یا دباؤ کے نتیجے میں بچے کو اچھا انسان نہیں بنایا جا سکتا بلکہ اس میں محبت، سمجھ اور توازن بھی ضروری ہے۔ جدید تربیتی علم (Child Psychology) اس سوال کا واضح اور مدلل جواب دیتا ہے کہ بچے کی شخصیت صرف حکم اور سختی سے نہیں بنتی بلکہ جذباتی تعلق، محفوظ ماحول اور مسلسل رہنمائی سے نکھرتی ہے۔

نفسیاتی تحقیق کے مطابق اگر بچے کی پرورش ایسے ماحول میں ہو جہاں زیادہ تر گفتگو سختی، ڈانٹ یا سزا پر مبنی ہو تو اکثر بچے دو طرح کے رویے اختیار کرتے ہیں۔ کچھ بچے حد سے زیادہ ڈرپوک اور غیر فیصلہ کن بن جاتے ہیں جو ہر بات میں دوسروں پر انحصار کرنے لگتے ہیں، جبکہ بعض بچے اندرونی طور پر بغاوت پیدا کر لیتے ہیں، اگرچہ وہ اسے فوری طور پر ظاہر نہ بھی کریں۔ وقت کے ساتھ یہ دباؤ ان کی ذہنی صحت، خود اعتمادی اور سماجی تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

اس کے برعکس وہ بچے جو محبت، عزت اور واضح رہنمائی کے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں زیادہ متوازن شخصیت کے حامل ہوتے ہیں۔ نفسیات میں اسے "Secure Attachment" کہا جاتا ہے، یعنی ایسا تعلق جس میں بچہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بات سنی جاتی ہے، اسے سمجھا جاتا ہے اور اس کا وجود اہم ہے۔ یہی احساس اس کے اندر اعتماد، خودی اور جذباتی استحکام پیدا کرتا ہے۔

ایسے بچے نہ صرف زیادہ پراعتماد ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کا احترام بھی بہتر انداز میں کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک بچہ غلطی کرے اور والدین اسے صرف سزا دینے کے بجائے یہ سمجھائیں کہ غلطی کیوں ہوئی اور اسے کیسے بہتر کیا جا سکتا ہے تو وہ بچہ سیکھنے کے عمل کو زیادہ گہرائی سے سمجھتا ہے اور آئندہ کے لیے بہتر فیصلے کرنے کے قابل بنتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اختیار (authority) اور احترام (respect) کو اکثر ایک ہی پیرائے میں دیکھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ دونوں الگ ہیں۔ اختیار وقتی طور پر ڈر یا طاقت کی بنیاد پر منوایا جا سکتا ہے مگر حقیقی احترام ہمیشہ اعتماد، رویے اور اچھے تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔

یہ فرق عملی زندگی میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر ایک باپ صرف سختی کے ذریعے بچوں کو قابو میں رکھے تو بچے اس کے سامنے خاموش رہیں گے مگر دل میں فاصلے بڑھتے جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر وہی باپ نرم گفتگو، سننے اور سمجھنے کا رویہ اپنائے تو بچے نہ صرف اس کی بات مانیں گے بلکہ دل سے اس کی عزت بھی کریں گے۔

تحقیق یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ جذباتی نظرانداز (emotional neglect) بچے کی نشوونما پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ اگرچہ بچے کی جسمانی ضروریات پوری ہو رہی ہوں مگر اس کے جذبات کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو وہ اندرونی طور پر غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ ایسے بچے بڑے ہو کر اکثر تعلقات میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کے اندر اعتماد کے مسائل (trust issues) پیدا ہو جاتے ہیں۔

اکثر گھروں میں والدین یہ شکایت کرتے ہیں کہ "ہمارا بچہ بات نہیں مانتا" لیکن جب اس صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بچہ زیادہ تر وقت صرف حکم، ڈانٹ یا موازنہ سن رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب اسے سنجیدگی سے سنا جائے اور اس کی بات کو اہمیت دی جائے تو اس کا ردعمل نسبتاً مثبت ہوتا ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ رویہ، رویے کو جنم دیتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین کے نرم اور متوازن انداز کا اثر بچوں کے رویے پر بھی پڑتا ہے۔ اس لیے اگر والدین چاہتے ہیں کہ بچے ان کی عزت کریں تو انہیں پہلے ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں عزت دی جاتی ہو۔ احترام ایک دو طرفہ عمل ہے نہ کہ اختیار کی بنیاد پر ایک طرفہ حکم۔

اصل تربیت نہ تو بے جا سختی میں ہے اور نہ ہی بے حد نرمی میں بلکہ توازن میں ہے۔ نفسیات میں اس متوازن انداز کو "Authoritative Parenting" کہا جاتا ہے جہاں حدود بھی موجود ہوتی ہیں اور محبت بھی۔ بچے کو رہنمائی بھی ملتی ہے اور اسے سنا بھی جاتا ہے۔

جو والدین اس توازن کو سمجھ لیتے ہیں ان کے بچے نہ صرف اچھے اخلاق کے حامل ہوتے ہیں بلکہ معاشرے میں بھی مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا ایک بہتر اور متوازن معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ والدین اپنی تربیتی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ اس مقصد کے لیے حکومتی سطح پر تعلیمِ بالغاں کے پروگرامز اور تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا جا سکتا ہے جبکہ میڈیا کے ذریعے بھی ایسے موضوعات کو عام کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تمام اصول عمومی مشاہدات اور نفسیاتی تحقیق پر مبنی ہیں، جن کا اطلاق ہر گھر پر یکساں نہیں ہوتا۔ ہر بچہ اور ہر ماحول مختلف ہوتا ہے، اس لیے تربیت میں لچک اور سمجھداری ضروری ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بچہ ایک مشین نہیں جسے صرف حکم دے کر چلایا جائے بلکہ ایک حساس ذہن ہے جو ماحول، رویے اور تعلق سے تشکیل پاتا ہے۔ والدین کا اصل کردار صرف اختیار استعمال کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں بچہ خود کو محفوظ بھی محسوس کرے اور سیکھ بھی سکے۔

سختی وقتی اطاعت پیدا کر سکتی ہے مگر محبت ایسا کردار بناتی ہے جو عمر بھر ساتھ رہتا ہے۔

#تربیت #والدین

"اتحاد نہ ہو تو حق چھن جاتا ہے اور محرومی مقدر بن جاتی ہے!"عوام بحرانوں میں، حکمران اونچی اُڑانوں میں  واصف آکاش واصفپاک...
01/05/2026

"اتحاد نہ ہو تو حق چھن جاتا ہے اور محرومی مقدر بن جاتی ہے!"

عوام بحرانوں میں، حکمران اونچی اُڑانوں میں

واصف آکاش واصف

پاکستان آج صرف مصائب کی کہانی نہیں بلکہ ظلم و جبر کی ایک ایسی مستقل داستان بن چکا ہے جہاں غریب کو اب غربت کے ساتھ مفت میں ملنے والی ذلت کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مہنگائی سے زندگی مشکل تو تھی ہی مگر پالیسی سازوں نے اسے مشکل ترین بنا کر رکھ دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے آئے روز ایسے فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں کہ عام آدمی کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو چکا ہے۔

اصل دکھ یہ نہیں کہ مسائل ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان مسائل کو سمجھنے یا حل کرنے والا نظام دکھائی نہیں دیتا۔ مظلوموں کا آخری سہارا سمجھی جانے والی عدلیہ بھی اب قانون کی ایک خاموش کتاب بن کر رہ گئی ہے، ایسی کتاب جس میں انصاف کی بات بھی قصۂ پارینہ بنتی جا رہی ہے۔ عدالتوں میں شکایات کا نظام موجود ہے مگر انصاف کی فراہمی مشکل ہو گئی ہے۔

اسی لیے غریب عوام پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں پر اٹھنے والی آوازیں بھی اب اسی شور میں دب جاتی ہیں جسے حکومتی احکامات پر عملداری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ لکھنے والے لکھ لکھ کر تھک چکے ہیں، بولنے والے بول بول کر مگر اقتدار کے ایوانوں میں نہ آنکھ کھلتی ہے نہ کان سنتے ہیں۔ قانون جو عوام کے تحفظ کے لیے بننے چاہیے تھے وہی یہاں عوام پر قہر بن کر ٹوٹتے ہیں اور جب کوئی اپنے حق کی بات کرے تو اسے باغی، شرپسند اور نظام دشمن قرار دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ عوام مہنگی بجلی سے تنگ آ کر خاموشی سے سولر سسٹم کی طرف جا رہے ہیں، جس سے انتظامی ڈھانچہ صرف کمزور نہیں بلکہ ناکارہ بھی ہو سکتا ہے۔ لوگ کسی شوق یا سہولت کے پیش نظر نظام کو نہیں چھوڑ رہے بلکہ یہ صورت حال اب بقا کی جنگ بن چکی ہے کیونکہ جب ایک عام آدمی کا بل اس کی آمدن کو نگلنے لگے تو وہ مجبور ہو کر اپنا راستہ خود بنانے کی کوشش کرے گا۔

ریاست اس تبدیلی کو سمجھنے کے بجائے اب بھی اسی کشمکش میں ہے کہ جو لوگ سولر پر منتقل ہو چکے ہیں ان سے بھی کسی طرح ریونیو نکالا جائے۔ حکومت کی توجہ اس طرف نہیں کہ لوگ سسٹم چھوڑ رہے ہیں، بلکہ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ جو نکل گئے ہیں ان سے وصولی کیسے کی جائے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی بڑی آمدن انہی بجلی کے بلوں سے جڑی ہوئی ہے، خاص طور پر وہ طبقہ جس کی کھپت زیادہ ہے وہی اس نظام کو سہارا دیتا ہے مگر جب وہی طبقہ شمسی توانائی پر منتقل ہو جائے گا تو ریاست کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ محدود ہو جائے گا۔

یہ ایک سادہ مگر خطرناک حقیقت ہے کہ جتنے زیادہ لوگ سسٹم سے نکلیں گے، اتنا ہی بوجھ ان پر پڑے گا جو پہلے ہی کمزور ہیں۔ اگر بجلی کو اتنا مہنگا کر دیا جائے کہ وہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائے تو وقتی طور پر بل تو مزید بڑھ سکتے ہیں مگر مستقبل قریب میں یہ پورا نظام سکڑ جائے گا۔ جو استطاعت رکھتے ہیں وہ سسٹم چھوڑ دیں گے اور جو نہیں رکھتے وہ مزید پِس جائیں گے، نتیجہ یہ ہوگا کہ نہ مکمل وصولی ہو سکے گی نہ نظام چل پائے گا۔

اس لیے ضروری ہے کہ بجلی کو عام عوام کی پہنچ سے دور نہ کیا جائے بلکہ ایک مناسب، قابلِ برداشت اور منصفانہ قیمت کے ساتھ اس مسئلے کو حل کیا جائے تاکہ لوگ سسٹم سے جڑے رہیں، ریاست کا ریونیو بھی برقرار رہے اور سب سے بڑھ کر عوام کا اعتماد بحال ہونا چاہیے۔

کیونکہ جب عوام اپنے مسائل کا حل خود ریاست سے باہر تلاش کرنے لگیں، تو یہ صرف ایک شعبے کی ناکامی نہیں ہوتی بلکہ پورے نظام کے کمزور ہونے کی علامت بن جاتی ہے۔ اگر یہ حکومت اب بھی صرف عوام پر بوجھ ڈال کر ریاست کے نام پر حاکمیت ہی چاہتی ہے تو پھر اسے یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر عمل کا ایک ردعمل ضرور ہوتا ہے۔ آج جو ادارے سکیورٹی کے نام پر اُنہی لوگوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں جن کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے تو کل انہیں بھی جواب دہ ہونا پڑے گا۔ کتنی شرمناک بات ہے کہ مفلوک الحال شہریوں کو سڑکوں پر صرف اس لیے گھسیٹا جاتا ہے کیونکہ وہ نہتے اور کمزور ہیں۔

عوام کی بد نصیبی یہ ہے کہ جو ادارے اس کے تحفظ کے لیے تھے، وہی طاقتور طبقے کے ہاتھ میں ایک ہتھیار بنتے جا رہے ہیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی داستان کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اس کا اختتام ضرور ہوتا ہے اور جب وہ لمحہ آئے گا تو سوال یہی ہوگا:

جب عوام بحرانوں میں تھے، تو حکمران کیسے اونچی اُڑانوں میں تھے؟





Address

Johar Colony
Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Taak News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share