24/10/2025
ہماری سوسائٹی میں اگر بیٹا ماں باپ سے الگ گھر لے لے تو فوراً دکھ، رونا اور شکوے شروع ہوجاتے ہیں۔ جملے گونجنے لگتے ہیں:
"ہم نے اس کو پالا، اپنی جمع پونجی لگا کر پڑھایا، آج یہ بہو کا ہوگیا!"
"ہمیں چھوڑ دیا، اپنے لیے الگ گھر بنا لیا!"
حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ بیٹا روز ماں باپ کے پاس آتا جاتا ہے، خیال بھی رکھتا ہے، مگر تکلیف یہ نہیں ہوتی کہ بیٹا دور چلا گیا اصل دکھ یہ ہوتا ہے کہ بہو نے خدمت کیوں نہیں کی؟
گویا بیٹے کو پالنے کا مطلب صرف اس کی خوشی نہیں بلکہ اس کی شادی کے بعد ایک "نوکرانی بہو" کا حق جتانا بھی بن گیا ہے۔
یہی وہ "give and take" کا تصور ہے جو ہمارے معاشرے نے رشتوں پر مسلط کر رکھا ہے۔
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی والدین اگر اسی بیٹے کو روزگار کے لیے بیرونِ ملک جاتے دیکھیں تو فخر سے سب کو بتاتے ہیں:
"ہمارا بیٹا تو فلاں ملک میں جاب کرتا ہے!"
اب نہ "الگ ہونے" کا دکھ رہتا ہے، نہ "دور جانے" کا گلہ کیونکہ وہاں بیٹے کے الگ ہونے کی وجہ عزت اور شہرت سے جڑی ہوتی ہے، نہ کہ بہو کے وجود سے۔
دوسری طرف، جب بیٹی کی شادی ہو جاتی ہے اور ماں باپ اکیلے رہ جاتے ہیں، تو ان کے آنسوؤں پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔
ان سے کہا جاتا ہے:
"یہ تو رسمِ دنیا ہے، بیٹی نے تو جانا ہی تھا۔"
کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ تنہائی تو تنہائی ہوتی ہے، چاہے بیٹے کے جانے سے ہو یا بیٹی کے۔
مگر افسوس، ہمارا معاشرہ ہمیشہ بیٹے کے الگ ہونے کو غداری اور بیٹی کے جانے کو تقدیر کہہ کر اپنے تعصب کو مذہب، روایت اور غیرت کے پردے میں چھپا لیتا ہے.