02/06/2026
ایس ایچ او تھانہ پولیس کھوئی رٹہ راجہ صداقت حسین کا موقف سامنے آ گیا ۔ جس میں انھوں نے کہا کہ
سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کر رہی ہے کہ سادات فیملی کی خواتین کے ساتھ تھانہ پولیس کھوئیرٹہ نے بدتمیزی اور تشدد کیا۔ یہ خبر بغیر تحقیق اور بغیر کسی ثبوت کے چلائی جا رہی ہے۔ اس خبر میں نہ کوئی سچائی ہے اور نہ ہی ہماری ایسی تربیت ہے کہ خواتین پر تشدد یا بدتمیزی کی جائے۔مورخہ 2026-5-26 کو وقوعہ اس طرح پیش آیا کہ مسمی عاصم قیوم ولد عبدالقیوم قوم راجپوت ساکن بھیال، بہمراہی احتشام شبیر ولد شبیر اور زوہیب ولد لطیف اقوام راجپوت ساکنان بھیال گالا بازار بال کٹوانے کے لیے حجام کی دکان پر گئے۔ دکان پر پہلے سے موجود ملزمان حماد شاہ ولد طاہر شاہ قوم سید ساکن بھیال اور عبید ولد شفاعت قوم جٹ ساکن بھیال موجود تھے۔جونہی عاصم قیوم بہمراہی دیگر حجام کی دکان میں داخل ہوئے تو مضروب عاصم اور ملزم عبید کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی۔ اسی دوران ملزم حماد شاہ عرف “مادی” نے اپنے پاس موجود پسٹل 30 بور سے بنیت قتل عاصم قیوم پر فائر کیا، جو اس کے سینے پر لگا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ مضروب اس وقت راولپنڈی ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں زیر علاج ہے۔محمد احتشام شبیر کی مدعیت میں مقدمہ علت نمبر 174/26 مورخہ 26/05/2026 بجرائم 324 /337, 34/504 APC درج رجسٹر کیا گیا۔ملزم حماد شاہ کے گھر ضابطہ کے مطابق تلاش و پتہ براری کی گئی۔ گھر میں موجود خواتین کے ساتھ کسی بھی پولیس ملازم نے نہ تو بدتمیزی کی اور نہ ہی کسی قسم کا تشدد کیا۔ ایسا کوئی واقعہ سرے سے رونما ہی نہیں ہوا۔سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی خبر میں کوئی صداقت نہیں۔ یہ خبر بغیر تحقیق اور بغیر ثبوت کے صرف اس مقصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہے کہ مظلوم پارٹی کے خلاف کراس ایف آئی آر درج کروائی جا سکے۔واضح رہے کہ مورخہ 26/05/2026 کو ہی ملزم حماد شاہ کے گھر ریڈ کیا گیا تھا جبکہ یہ خبر آج مورخہ 02/06/2026 کو چلائی جا رہی ہے تاکہ تفتیش پر اثرانداز ہو کر اپنی مرضی کے مطابق کارروائی کروائی جا سکے۔ملزم حماد شاہ ولد طاہر شاہ عادی جرائم پیشہ ہے۔ اس سے قبل بھی اس کے خلاف مقدمہ علت نمبر 112/26 مورخہ 24/03/2026 بجرائم 504/324, 34 ,31TA اور 15 ضمن 2 آرمز ایکٹ درج رجسٹر ہو کر بصورت چالان عدالت مجاز میں زیر سماعت ہے۔ملزم پارٹی “عورت کارڈ” کھیل کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتی ہے۔ سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی خبر کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ تفتیش مقدمہ مکمل طور پر میرٹ پر جاری ہے اور کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ میں آئے بغیر حقائق کی روشنی میں کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔