28/07/2026
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال گاہکوچ: عوام بنیادی طبی سہولیات سے محروم کیوں ؟
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال گاہکوچ، جو ضلع غذر کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے، آج بھی متعدد بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہے۔ چند روز قبل گائناکالوجسٹ کی تعیناتی کی خبر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی، لیکن عوامی اطلاعات کے مطابق محترمہ ڈاکٹر حاضری لگانے کے بعد باقاعدگی سے خدمات انجام نہیں دے رہیں، جس کے باعث خواتین مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اسی طرح عوامی حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہسپتال کے سائیکاٹرسٹ کی تنخواہ ڈی ایچ کیو ہسپتال غذر سے جاری ہو رہی ہے، جبکہ وہ مبینہ طور پر نگر میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو متعلقہ حکام کو فوری طور پر اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرنی چاہئیں۔
ہسپتال کی لیبارٹری میں معمول کے ٹیسٹ بھی دستیاب نہیں، جبکہ ایکسرے کی فلمیں کئی برسوں سے نایاب ہیں۔ جن مریضوں کے پاس اسمارٹ فون موجود نہیں، وہ اپنی ایکسرے رپورٹ دیکھنے سے بھی محروم رہ جاتے ہیں، جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔
ہسپتال میں موجود چند ڈاکٹروں پر مریضوں کا غیر معمولی بوجھ ہے۔ او پی ڈی کے باہر روزانہ طویل قطاریں لگی ہوتی ہیں، جس سے نہ صرف مریض پریشان ہوتے ہیں بلکہ ڈاکٹر بھی شدید دباؤ میں خدمات انجام دینے پر مجبور ہیں۔
ضلع غذر کی عوام کا مطالبہ ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال گاہکوچ کو درپیش مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے، ڈاکٹرز اور عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے، لیبارٹری اور ایکسرے سمیت تمام بنیادی طبی سہولیات بحال کی جائیں، تاکہ عوام کو معیاری علاج ان کی دہلیز پر میسر آ سکے۔
عوام کا یہ بھی ماننا ہے کہ ہسپتال کو ڈاکٹر محمد بیگ اور افضل سراج جیسے فعال اور باصلاحیت میڈیکل سپرنٹنڈنٹس (ایم ایس) کی ضرورت ہے، جن کے ادوار میں ہسپتال کے انتظامی امور نسبتاً بہتر سمجھے جاتے تھے۔