GB News 247

GB News 247 latest news About GB and PK

وزیر اعظم محمد شہباز شریف پرنس رحیم آغا خان کو ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ پیش کر رہے ہیں، جو پاکستان پوسٹ کی طرف سے  پرنس کریم ...
21/05/2026

وزیر اعظم محمد شہباز شریف پرنس رحیم آغا خان کو ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ پیش کر رہے ہیں، جو پاکستان پوسٹ کی طرف سے پرنس کریم آغا خان چہارم کو پاکستان کے لیے ان کی خدمات کے اعزاز میں جاری کیا گیا تھا

11/05/2026

Rawalpindi gilgit raod KKH block many areas of kohistan area for heavy traffic 🚦 due to landslide 🛘. # Karakurum Highway # Gilgitbaltistan

17/04/2026

, اللہ تعالیٰ استاد محترم کو لمبی عمر کے ساتھ صحت مند رگھے ۔ لوگوں سے گزارش ہے جھوٹے بیانات دینے سے گریز کریں ۔

ریسکیو 1122 گلگت۔آج دوپہر تقریباً 3:00 بجے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک خاتون دنیور پل سے گر کر دریا میں ڈوب گئی...
18/03/2026

ریسکیو 1122 گلگت۔

آج دوپہر تقریباً 3:00 بجے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک خاتون دنیور پل سے گر کر دریا میں ڈوب گئی اور لاپتہ ہو گئی۔

اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 دنیور کی ٹیم شفٹ انچارج عارف کریم کی نگرانی میں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی۔ ریسکیو اہلکار کشتی کی مدد سے دریا میں خاتون کی تلاش میں مصروف ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق خاتون کا تعلق دنیور سے ہے۔

03/03/2026

اے کے آر ایس پی کے دفتر کو جلانے کا واقعہ اور شیعہ امامی اسماعیلی جماعت کا مؤقف

آپ سب کو بخوبی علم ہے کہ حالیہ دنوں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) کے دفتر سکردو میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں نہ صرف دفتر کو نقصان پہنچایا گیا بلکہ کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں بھی نذرِ آتش کر دی گئیں، جو مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئیں۔ یہ ایک انتہائی قابلِ مذمت اور افسوسناک سانحہ ہے۔

اس حوالے سے امامتی اداروں کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ہیڈ آف دی اسٹیٹ اور مولانا شاہ رحیم الحسینی نے اس امر کی تائید کی ہے کہ جماعت کا کوئی بھی فرد سوشل میڈیا پر اے کے آر ایس پی کو لیکر سسٹر کمیونٹی کے خلاف نامناسب، اشتعال انگیز یا نفرت آمیز گفتگو سے مکمل پرہیز کرے۔

جماعتی ادارے باقاعدہ طور پر لوکل گورنمنٹ، وفاقی گورنمنٹ اور سسٹر کمیونٹی کے ذمہ داران سے رابطے میں ہیں اور معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ مزید برآں، آغا راحت تک بھی پیغام پہنچایا جا چکا ہے تاکہ تمام امور باہمی افہام و تفہیم اور قانونی طریقہ کار کے تحت حل ہوں۔

لہٰذا کسی بھی فرد کا یہ کام نہیں بنتا کہ وہ سوشل میڈیا پر آ کر سسٹر کمیونٹی کے خلاف بدتمیزی، بد اخلاقی یا نفرت انگیز تبصرے کرے۔ یہ رویہ نہ صرف جماعتی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں کے لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنا، اپنے کردار کو مثالی بنانا اور برداشت و حکمت کا مظاہرہ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی سے غلطی ہوئی ہے تو مناسب طرزِ عمل ہی اسے احساس دلا سکتا ہے، نہ کہ اشتعال اور نفرت۔

ایک بار پھر تمام اسماعیلہ جماعت کے بہن بھائیوں سے دلی درخواست ہے کہ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام سکردو کے دفتر کے واقعے پر سوشل میڈیا پر جذباتی یا اشتعال انگیز ردِعمل دینے سے گریز کریں۔ تحقیقات اور ضروری اقدامات امامتی ادارے خود کر رہے ہیں۔

جن افراد نے کہیں بھی نفرت انگیز یا غیر مناسب تبصرے کیے ہیں، وہ فوری طور پر انہیں حذف کریں اور امامتی اداروں کی ہدایات کے مطابق ذمہ داری اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صبر، حکمت اور اتحاد کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

01/03/2026

گلگت جٹیال میں واقع اقوام متحدہ کی آفس میں آگ لگا دی گئی

20/02/2026

تاریخ میں پہلی دفعہ کسی سیاسی پارٹی کو ووٹ دینے سے بائیکاٹ ہوا ہے حفیظ الرحمن کے بیان کے بعد گلگت ڈویژن ہنزہ غذر نگر کے تمام حلقوں سے ن لیگ کو عوام نے ووٹ دینے سے بائیکاٹ کر دیا آپ لوگ کس پارٹی کو ووٹ دو گے ۔

یہ محض ایک خبر نہیں ایک تلخ سوال ہے اور ایک خاموش جواب بھی۔زلزلے کے بعد چپورسن وادی میں جب سڑکیں لینڈ سلائیڈز کے باعث بن...
20/01/2026

یہ محض ایک خبر نہیں ایک تلخ سوال ہے اور ایک خاموش جواب بھی۔
زلزلے کے بعد چپورسن وادی میں جب سڑکیں لینڈ سلائیڈز کے باعث بند تھیں تب
آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کا ہیلی کاپٹر وہاں پہنچا۔
نقصان کا ابتدائی جائزہ لیا گیا
دو زخمی خواتین کو فوری طبی امداد کے لیے گلگت منتقل کیا گیا،
مکانات، مویشی خانوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے
اور متاثرین کے لیے عارضی پناہ گاہیں اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے عملی اقدامات جاری ہیں۔اور دوسری طرف
گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے تاحال کوئی خاطر خواہ قدم نظر نہیں آتا
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ
پورے پاکستان خصوصاً گلگت بلتستان میں
بیشتر مذہبی ادارے اور گروہ
ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر، کانفرنسیں اور فتووں میں مصروف رہتے ہیں
بس یہ ثابت کرنے میں کہ کون زیادہ سچا اور اصلی مسلمان ہے۔
مگر جب بات انسان، جان، درد اور مدد کی آتی ہے تو
اسماعیلی فرقے کے ادارے
نہ فرق دیکھتے ہیں نہ مسلک پوچھتے ہیں۔
وہ اپنی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ
دوسرے فرقوں کے لوگوں کو بھی سہولت دیتے ہیں
اور ہمیشہ مدد کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔
شاید یہی اصل دین ہے
شاید یہی اصل خدمتِ خلق
اور شاید یہی وہ عمل ہے
جو ہزار تقریروں سے زیادہ وزنی ہوتا ہے۔
سوال بس اتنا ہے
ہم شور کب چھوڑیں گے
اور انسان بننا کب شروع کریں گے؟

چپورسن گوجال ہنزہ میں زلزلے سے 40 گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔
20/01/2026

چپورسن گوجال ہنزہ میں زلزلے سے 40 گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔

دی چپورسن پکار رہا ہے، کیا کوئی سننے والا ہے؟اقبال عیسیٰ خان 20 جنوری 2026کیا کوئی عملی طور پر وادی چپورسن کے زلزلہ متاث...
20/01/2026

دی چپورسن پکار رہا ہے، کیا کوئی سننے والا ہے؟
اقبال عیسیٰ خان
20 جنوری 2026
کیا کوئی عملی طور پر وادی چپورسن کے زلزلہ متاثرین کی مدد کرے گا یا اس بار بھی صرف بیانات ہی دیے جائیں گے؟
یہ سوال آج وادی چپورسن کی منجمد فضاؤں میں گونج رہا ہے۔ یہ کوئی تجزیاتی سوال نہیں، یہ ان ماؤں کی آہ ہے جو کھلے آسمان تلے بچوں کو سینے سے لگائے بیٹھی ہیں۔ یہ ان بزرگوں کی خاموش فریاد ہے جن کی سانسیں سردی کی شدت میں لرز رہی ہیں۔ یہ ان نوجوانوں کی چیخ ہے جو بغیر آلات، بغیر وسائل، صرف جذبے کے سہارے اپنے لوگوں کی مدد میں کھڑے ہیں۔
درجہ حرارت منفی پندرہ سے منفی پچیس ڈگری سینٹی گریڈ تک جا چکا ہے۔ یہ محض موسم کی خبر نہیں، یہ زندگی اور موت کے درمیان کھڑی ایک حقیقت ہے۔ زلزلے نے گھروں کو ناقابل رہائش بنا دیا ہے۔ دیواریں کھڑی ہیں مگر تحفظ ختم ہو چکا ہے۔ چھتیں موجود ہیں مگر اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ لوگ خیموں میں نہیں، کھلے آسمان تلے ہیں، جہاں ہر آفٹر شاک کے ساتھ خوف دوبارہ جنم لیتا ہے اور ہر سرد رات جسم اور حوصلہ دونوں کو منجمد کر دیتی ہے۔
بچے سردی سے نیلے پڑ رہے ہیں، خواتین مسلسل خوف اور بے بسی کے عالم میں ہیں، بزرگ جن کی زندگی کا بیشتر حصہ اس وادی میں گزرا، آج سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ ایک طرف مسلسل زلزلے، دوسری طرف شدید سردی۔ یہ دوہرا عذاب ہے، جس کا مقابلہ خالی ہاتھ نہیں کیا جا سکتا۔
سڑکیں بند ہیں۔ امداد رک گئی ہے۔ کچھ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد ضرور دی گئی، مگر یہ کافی نہیں۔ انہیں تفصیلی طبی معائنوں کی ضرورت ہے۔ سرد موسم میں معمولی چوٹ بھی جان لیوا ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ صحت کا نظام کہاں ہے؟ ایمبولینس کہاں ہیں؟ ڈاکٹر اور طبی ٹیمیں کب پہنچیں گی؟
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ متعلقہ محکمے، چاہے وہ سرکاری ہوں یا غیر سرکاری، اس وقت بھی خاموش ہیں۔ جیسے یہ سانحہ کسی دور دراز نقشے پر بنا ایک نشان ہو، جہاں انسانی جانوں کی قیمت کم ہو جاتی ہے۔ اس خلا کو اس وقت صرف مقامی رضاکار پُر کر رہے ہیں۔ وہی نوجوان، وہی دیہاتی، جن کے پاس نہ مشینری ہے، نہ حفاظتی آلات، نہ مناسب وسائل۔ صرف ایک چیز ہے اور وہ ہے ذمہ داری کا احساس۔
لیکن جذبہ اکیلا کافی نہیں ہوتا۔ بند سڑکیں جذبے سے نہیں کھلتیں، ملبہ ہاتھوں سے نہیں ہٹتا، بحالی صرف دعاؤں سے نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ریاستی مشینری درکار ہے۔ اس کے لیے فیصلہ سازی، فوری احکامات اور میدان میں موجودگی ضروری ہے۔
یہ براہ راست پکار ہے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے لیے، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کے لیے، ڈی جی جی بی ڈی ایم اے کے لیے۔ یہ اپیل ہے آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک، آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ کے ریجنل ہیڈ، محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کے لیے۔ وقت بیانات کا نہیں، عمل کا ہے۔ وقت فائلوں کا نہیں، فیلڈ کا ہے۔
مشینری فوراً روانہ کی جائے تاکہ سڑکیں کھل سکیں۔ عارضی مگر محفوظ رہائش فراہم کی جائے۔ ہیٹر، کمبل، خیمے اور خوراک پہنچائی جائے۔ میڈیکل ٹیمیں تعینات ہوں، خاص طور پر بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے۔ بحالی کا واضح اور فوری منصوبہ سامنے لایا جائے تاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ ریاست انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔
چپورسن کے لوگ کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف وہی مانگ رہے ہیں جو ایک شہری کا بنیادی حق ہے۔ تحفظ، علاج اور عزت کے ساتھ جینے کا حق۔
اگر اس بار بھی جواب صرف بیانات کی صورت میں آیا، تو یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہوگی، یہ ایک اخلاقی شکست ہوگی۔ تاریخ یاد رکھتی ہے کہ مشکل وقت میں کون کھڑا ہوا اور کون خاموش رہا۔ فیصلہ آج ہونا ہے، کیونکہ چپورسن میں سردی انتظار نہیں کرتی، اور زندگی بھی نہیں۔

Address

Gilgit

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GB News 247 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share