VON

VON Voice of North is Pakistan based News Company//
📌 DISCLAIMER
The views opinions and statements expressed by guests are solely their own.

They do not necessarily reflect the views of the channel host anchor or management.

31/08/2026

*"دو دل، ایک جان"پاکستانی فنکاروں کی آواز میں پاک ترک دوستی کا خصوصی نغمہ جاری**

آئی ایس پی آر نے ترکیہ کے 104 ویں یوم فتح پر منفرد نغمہ "دو دل ،ایک جان" جاری کر دیا

نغمے میں پاکستانی فنکاروں نے اردو اور ترک زبان میں آواز کا جادو جگا کر پاک ترک تاریخی برادرانہ تعلقات کی عکاسی کی ہے

نغمےکی موسیقی علی مصطفیٰ نے تیار کی جبکہ کمپوزیشن کامران اللہ خان اور سامعہ گوہر کی ہے

اس خوبصورت نغمے کو عثمان رئیس اور ڈاکٹر مبشرہ حفیظ نے گایا ہے

نغمے کی منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اردو و ترک زبان اور روایتی سازوں پر مشتمل اس پیشکش کے تمام گائیک اور فنکار پاکستانی ہیں

ترک زبان میں پیش کئے گئے نغمے میں پاک ترک دوستی، مشترکہ ثقافت اورباہمی محبت کا اظہار بھی کیا گیا

نغمے میں رباب، باقلاما (Türkiye’s Bağlama)اور دربوکا (Darbuka)کی دھنوں سے پاک ترک دوستی کی خوبصورت موسیقائی تصویر پیش کی گئی ہے

اردو اورترک زبان کے حسین امتزاج پر مشتمل نغمے میں پاکستان اورترکیہ کی مشترکہ اقدارکو بھی بھرپور اجاگر کیا گیا ہے

*نغمے میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان لازوال دوستی، بھائی چارے اور محبت کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے*

31/08/2026

🥊 MMA، Muay Thai، Kickboxing اور دیگر Combat Sports نوجوانوں کے لیے صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کا بہترین ذریعہ ہیں۔

یہ سرگرمیاں مرد و خواتین دونوں کے لیے جسمانی فٹنس، خود اعتمادی، نظم و ضبط اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لانا ایک صحت مند اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ 💪

1905ء کا وہ قیامت خیز سیلاب جس کے نشانات آج بھی تاریخ کے صفحات پر موجود ہیںتحریر: دردانہ شیرآج جب گلگت بلتستان میں سیلاب...
30/08/2026

1905ء کا وہ قیامت خیز سیلاب جس کے نشانات آج بھی تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں
تحریر: دردانہ شیر
آج جب گلگت بلتستان میں سیلاب، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر بات ہوتی ہے تو شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ قبل، 1905ء میں غذر کی سرزمین نے ایک ایسا خوفناک سیلاب دیکھا تھا جس کے تباہ کن آثار قرمبر سے گلگت اور اس سے آگے تک محسوس کیے گئے۔
یہ کوئی معمولی دریائی طغیانی نہیں تھی بلکہ ایک انتہائی خطرناک Glacial Lake Outburst Flood (GLOF) تھا۔ تاریخی ریکارڈ اور بعد کی سائنسی تحقیقات کے مطابق قرمبر گلیشیئر کے آگے برف اور ملبے کا ایک قدرتی بند بن گیا تھا، جس کے پیچھے پانی جمع ہوتا رہا۔ بالآخر 17 اور 18 جون 1905ء کی درمیانی رات یہ برفانی بند ٹوٹ گیا اور جمع شدہ پانی ایک انتہائی طاقتور سیلابی ریلے کی صورت میں وادی کی طرف روانہ ہوگیا۔پھر جو کچھ ہوا، وہ غذر، گلگت اور دریائی راستے سے منسلک علاقوں کی تاریخ کا ایک ہولناک باب بن گیا۔ذرا تصور کیجیے، اُس زمانے میں نہ موبائل فون تھے، نہ جدید موسمیاتی پیش گوئی کا نظام، نہ سیٹلائٹ، نہ گلیشیئرز کی نگرانی کے جدید آلات اور نہ ہی آج جیسے ابتدائی وارننگ سسٹم۔ لوگوں کے پاس قدرت کے رویوں کو سمجھنے کا اپنا تجربہ، مشاہدہ اور مقامی سطح پر قائم کیے گئے روایتی حفاظتی طریقے تھے۔
سیلابی ریلا اتنی شدت سے نیچے کی جانب بڑھا کہ راستے میں آنے والی زرعی زمینیں، آبادیاں، پل اور دریائے کنارے موجود دیگر بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔ 18 جون 1905ء کی صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے سیلابی پانی گلگت پہنچا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق گلگت میں پانی کی سطح اُس وقت کے بلند ترین سیلابی نشان سے تقریباً 20 فٹ زیادہ بلند ہوگئی تھی۔یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی غیرمعمولی تھا کہ سیلاب اپنے ساتھ صرف پانی نہیں لایا تھا۔ اس میں برف، بڑے بڑے پتھر، مٹی اور بے پناہ مقدار میں ملبہ شامل تھا۔ دریا کا قدرتی راستہ اس طاقتور ریلے کے سامنے بے بس دکھائی دیتا تھا۔
تاریخی مشاہدات میں گلگت کے ایک پل کے تباہ ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے، جبکہ دریائے غذر کے کنارے آباد متعدد دیہات اور زرعی علاقوں کے متاثر ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ بعد کی سائنسی تحقیق کے مطابق اس سیلاب کے اثرات کم از کم 120 سے 150 کلومیٹر تک محسوس کیے گئے۔غذر کے گاؤں گورنجر کے سامنے آج بھی موجود 1905ء کا تاریخی نشان موجود ہے جہاں سیلابی نشان بھی ہے۔ مقامی طور پر موجود اس تاریخی نشان کو HFL 1905 کے نام سے جانا جاتا ہے، جو اُس دور میں سیلاب کی بلند ترین سطح کی یاد دلاتا ہے۔یہ محض پتھروں پر تراشا ہوا ایک نشان نہیں، بلکہ غذر کی تاریخ کا ایک زندہ باب ہے۔ ایک ایسا باب جو آج کی نسل کو بتاتا ہے کہ ہمارے پہاڑوں، گلیشیئرز اور دریاؤں نے ماضی میں کس قدر تباہ کن سیلاب دیکھے ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ اہم تاریخی یادگار آج بھی مناسب سرپرستی اور تحفظ کی منتظر ہے۔ اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو کسی بھی وقت یہ تاریخی نشان منہدم یا ضائع ہوسکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ محکمہ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آثارِ قدیمہ اس مقام کا جائزہ لے کر اسے محفوظ تاریخی ورثے کا درجہ دیں، اس کی مناسب نشاندہی کریں اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنائیں۔1905ء کے سیلاب کی تباہی کا ذکر تاریخی ریکارڈ میں ضرور ملتا ہے، تاہم اس واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد، تباہ شدہ مکانات اور زرعی زمینوں کے نقصانات کا کوئی ایسا مکمل اور حتمی سرکاری ریکارڈ آج دستیاب نہیں جس کی بنیاد پر قطعی اعداد و شمار بیان کیے جاسکیں۔اس لیے تاریخ کے نام پر اعداد و شمار گھڑنے کے بجائے ضروری ہے کہ وہی معلومات سامنے لائی جائیں جو تاریخی دستاویزات اور تحقیقی شواہد سے ثابت ہوتی ہیں۔ یہی ذمہ دار صحافت اور تاریخ سے انصاف کا تقاضا ہے۔اس تاریخی واقعے کا ایک حیران کن پہلو یہ بھی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نہ ہونے کے باوجود مقامی لوگوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اپنے روایتی طریقے وضع کیے ہوئے تھے۔تحقیقی ریکارڈ میں "Puberanch" نامی آگ کے ذریعے خبردار کرنے کے ایک مقامی نظام کا ذکر ملتا ہے۔ اس روایتی نظام کے ذریعے خطرے کی اطلاع ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچائی جاتی تھی تاکہ لوگ بروقت محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوسکیں۔یہ ہمارے آباؤ اجداد کی قدرتی ماحول کے بارے میں گہری سمجھ بوجھ، مشاہدے اور اجتماعی تعاون کی ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔ آج جب ہم جدید ابتدائی وارننگ سسٹم کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے بزرگ محدود وسائل کے باوجود قدرت کے اشاروں کو سمجھنے اور ایک دوسرے کو خبردار کرنے کے طریقے جانتے تھے۔ قرمبر کا خطہ محض ایک خوبصورت وادی نہیں بلکہ قدرتی طور پر ایک ایسے جغرافیائی نظام کا حصہ ہے جہاں گلیشیئرز، برفانی جھیلیں، پہاڑ اور انسانی آبادیاں ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔1905ء کا واقعہ اسی لیے ہمارے لیے آج بھی ایک بڑا انتباہ ہے۔آج ہمارے پاس سیٹلائٹ موجود ہیں، جدید موسمیاتی پیش گوئی کا نظام ہے، گلیشیئرز کی نگرانی کے لیے سائنسی آلات موجود ہیں اور GLOF کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ابتدائی وارننگ سسٹم بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود گلگت بلتستان میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ ختم نہیں ہوا۔بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ایسے خطرات کو مزید سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
خاص طورگلگت بلتستان کے وہ علاقے جہاں گلیشیئرز، برفانی جھیلیں، دریا اور انسانی آبادیاں ایک ہی جغرافیائی نظام کا حصہ ہیں، وہاں جدید سائنسی نگرانی، بروقت ابتدائی وارننگ، خطرناک علاقوں کی نشاندہی، محفوظ مقامات کا تعین اور مقامی آبادی کی باقاعدہ تربیت ناگزیر ہے۔
1905ء ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قدرتی آفات نئی نہیں ہوتیں، لیکن اگر ہم ان کے خطرات کو نظرانداز کریں تو ان کے اثرات کہیں زیادہ تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ایک سو بیس سال سے زیادہ گزر گئے، مگر قرمبر کے پہاڑوں میں چھپی وہ تاریخ آج بھی ہمیں خبردار کرتی ہے۔
وہ سیلاب گزر گیا، مگر اس کا سبق آج بھی زندہ ہے۔غذر کی تاریخ میں 1905ء صرف ایک سال نہیں، بلکہ قدرت کی طاقت، انسان کی بے بسی اور بروقت تیاری کی اہمیت کا ایک زندہ باب ہے۔اگر ہم آج بھی ماضی کے ان واقعات سے سبق نہ سیکھیں، گلیشیئر جھیلوں کی نگرانی کو نظرانداز کریں، خطرناک علاقوں میں غیرمنظم تعمیرات جاری رکھیں اور ابتدائی وارننگ کے نظام کو مؤثر نہ بنائیں تو بعید نہیں کہ آنے والی نسلیں بھی کسی نئے 1905ء کی داستان لکھنے پر مجبور ہوں۔اس لیے ضرورت صرف 1905ء کو یاد کرنے کی نہیں، بلکہ اس کے تاریخی نشان کو محفوظ کرنے، اس کے سبق کو سمجھنے اور مستقبل کے سیلابوں سے اپنی آبادیوں کو محفوظ بنانے کی ہے۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جناب امیر حمزہ صاحب نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور پولیس افسران کے ہمراہ کورٹ ایریا ک...
29/08/2026

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جناب امیر حمزہ صاحب نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور پولیس افسران کے ہمراہ کورٹ ایریا کا دورہ کیا اور سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر عدالت کے اطراف میں سیکیورٹی کی صورتحال، داخلی و خارجی راستوں اور دیگر اہم مقامات کا معائنہ کیا گیا۔

جناب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحب نے سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے اور عدالتی احاطے میں وکلا، سائلین، عدالتی عملے اور دیگر افراد کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنانے پر زور دیا۔ پولیس افسران نے انہیں موجودہ سیکیورٹی اقدامات اور مستقبل کے لائحۂ عمل کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔

29/08/2026

رگوں میں لہو نہیں، وطن کی محبت دوڑتی ہے؛
یہ جنونِ عشقِ وطن ہی تو ہے کہ جان بھی فدا کر دی۔

اے وطن! تجھے سلام،
تیرے نام پر جینا بھی فخر، تیرے نام پر مٹ جانا بھی اعزاز۔

سپاہی مقبول حسین غازی

29/08/2026

راولپنڈی میں نوجوانوں کے لیے انٹر کلب فائٹس کا انعقاد 🥊

راولپنڈی میں نوجوانوں کے لیے انٹر کلب فائٹس کا انعقاد کیا گیا، جو نوجوانوں کو مثبت، صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے ایک اہم اور مؤثر اقدام ہے۔ ایسے کھیلوں کے مقابلے نوجوانوں میں نظم و ضبط، خود اعتمادی، برداشت اور ٹیم ورک کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں۔

نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، انہیں مثبت سرگرمیوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بیرسٹر افتخار گیلانی 30 ووٹ لے کر وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب
28/08/2026

بیرسٹر افتخار گیلانی 30 ووٹ لے کر وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب

28/08/2026

یہ ویڈیو جٹیال بس اڈے کی ہے!
سوزوکی میں ہمیشہ اس طرح کے غلط کام ہوتے ہی ہیں!
دو لڑکوں نے ایک کو درمیان میں بٹھایا ہے!
پہلے لائٹ آن تھی
پھر آس پاس لوگوں کو دیکھ کر لائٹ ہی بند کر دیا!

اس میں ایک بات یہ بھی ہے کہ اس طرح مزاق مستی میں چھوٹے بچوں کو اس کام کا عادی کرا دیتے ہیں !

استور مارخور کی بولی سب  سے زیادہ گلگت بلتستان میں ٹرافی ہنٹنگ پروگرام 2026-27گلگت بلتستان کے محکمہ پارکس و وائلڈ لائف ن...
28/08/2026

استور مارخور کی بولی سب سے زیادہ
گلگت بلتستان میں ٹرافی ہنٹنگ پروگرام 2026-27
گلگت بلتستان کے محکمہ پارکس و وائلڈ لائف نے ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت 3 استور مارخور، 14 بلیو شیپ اور 100 ہمالیائی آئی بیکس کے شکار کے اجازت ناموں کی نیلامی کا اعلان کردیا۔

🦌 مارخور: ابتدائی قیمت 2 لاکھ امریکی ڈالر
🐏 بلیو شیپ: 25 ہزار امریکی ڈالر
🐐 ہمالیائی آئی بیکس: 11 ہزار امریکی ڈالر

محکمہ کے مطابق 4 قابلِ برآمد استور مارخور کے کوٹے میں سے ایک اجازت نامہ گزشتہ سیزن سے منتقل کیا گیا، اس لیے ستمبر میں 3 نئے اجازت ناموں کی نیلامی ہوگی۔

*  *گلگت: اپیکس کمیٹی 3/2026 - 27 اگست 2026*وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین  کی زیرِ صدارت اپیکس کمیٹی کا ایک اہم اجل...
28/08/2026

*
*گلگت: اپیکس کمیٹی 3/2026 - 27 اگست 2026*

وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی زیرِ صدارت اپیکس کمیٹی کا ایک اہم اجلاس اپیکس کمیٹی روم جوٹیال گلگت میں منعقد ہوا جس میں کمانڈر FCNA، وزیرِ داخلہ، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، تمام محکموں کے سیکریٹریز اور سول و عسکری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں گلگت بلتستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور انتظامی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تمام اداروں کو ہدایت کی گئی کہ باہمی ہم آہنگی کے ساتھ مؤثر اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس میں گلگت بلتستان کی تمام ترقیاتی سکیموں پر بھی غور کیا گیا اور تمام سیکریٹریز نے اپنے محکموں کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی جبکہ دیامر بھاشاہ ڈیم سمیت دیگر بڑے منصوبوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔

وزیرِ اعلیٰ نے سردیوں میں بجلی کی کمی کے پیشِ نظر جاری منصوبوں کو تیز کرنے اور مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ عوام کو سردی کے موسم میں بجلی کی فراہمی کا مسئلہ درپیش نہ ہو۔

اجلاس میں تمام شاہراہوں کی پختگی اور رابطہ سڑکوں کی بہتری کے حوالے سے بھی اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور پاک فوج کے فلاحی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ عوامی خدمت کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔

Address

Gilgit

Telephone

+923492003331

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when VON posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to VON:

Shortcuts

Share