Mir Chants

Mir Chants Co. Ordinat0r POLEF / Teacher/ Innovator/ Book Buddy/ Motivational speaker/ Nature Lover/ Trainer

25/02/2026

حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمتہ الله عليہ فرماتے ہیں کہ
مرشد کامل کو تین نشانیوں سے پہچانا جاتا ہے
جب مرشد کامل کے چہرہ پر پہلی نظر پڑے تو دل گواہی دے
اور اس قدر اطمینان ہو کہ دل یہ خواہش کرے اس نورانی چہرے کو بس دیکھتا ہی رہوں. جب مرشد کامل کی گفتگو سنے تو پھر اس کے دل میں خواہش پیدا ہو کہ ایسی پر لطف گفتگو ہوتی رہے
اور میں سنتا رہوں
اگر وہ مرشد کامل کی صحبت میں بیٹھے تو اس میں خواہش پیدا ہو کہ اس کی صحبت میں ہی رہوں🤍

25/02/2026

" ہر کہ عاشق شُد جمالِ ذات را
اوست سیّد جُملہ موجودات را "

جو کوئی بھی اُس ذاتِ حق کے جمال کا عاشق ہوگیا، وہ ساری موجودات کا سردار ہو گیا۔

حضرت جی مولانا حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی قدس سرہ کے مزار پر انوار کے کتبے پر لکھا شعر آہ سبحان اللہ

25/02/2026

ایک مرتبہ حضرت خواجہ بایزید بسطامیؒ سے لوگوں نے پوچھا:
آپ نے معرفتِ الٰہی کیسے حاصل کی؟

آپ نے جواب ارشاد فرمایا:
میں نے چالیس برس اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی ۔

جب میرا نفس مطیع ہوگیا تو معرفت کے دروازے کھل گئے ۔

مفہوم:

معرفت عبادت یا صرف زبانی دعوے سے نہیں آتی، بلکہ نفس کی اصلاح اور دل کی صفائی سے نصیب ہوتی ہے۔

جس نے اپنے نفس کو قابو کر لیا،
وہ اللّٰہ کی پہچان کے قریب ہوگیا ۔

25/02/2026

حضرت جی رحمہ اللّٰہ کے دلچسپ واقعات:
قسط نمبر 22

بے ادبی کی دوسری قسم ؟

اعتقادی بے ادبی :

بے ادبی کی دوسری قسم اعتقادی بے ادبی ہے کہ شیخ کے پاس بھی رہتے ہیں لیکن بداعتقادی اور سو ظنی کا مرض ساتھ لگا رہتا ہے۔ وہ شیخ کی فراست اور انقیاد پر بھروسہ نہیں کرتے، بلکہ ان کے قول و فعل کو اپنی عقل کے ترازو میں تولتے رہتے ہیں۔ ظرف اپنام کم ہوتا ہے کہ شیخ کی باتوں کی حکمت کو سمجھ نہیں سکتے لیکن ان کو خامی شیخ میں نظر آرہی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے ایسے شخص کو شیخ سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے ۔

میری ہر نظر تیری منتظر
تیری ہر نظر میرا امتحاں

سالوں گزر جاتے ہیں شیخ سے بیعت ہوئے لیکن روحانی اعتبار سے وہیں کھڑے رہتے ہیں جہاں سے ابتداء کی تھی۔ شیطان کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ ان کو بد عقیدگی کے مرض میں مبتلا رکھے تا کہ کمال اتباع سے ان کو فائدہ نہ ہو جائے اور پھر شکایت بھی ان کو شیخ سے ہوتی ہے کہ ان کی خدمت سے ہمیں فائدہ نہیں ہوا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شیخ سے تعلق رکھنے میں ایک والہانہ انداز ہو کہ جو کچھ شیخ نے کہہ دیا بس وہی حرف آخر ہے حتی کہ کسی معاملے میں صاف پتہ چلے کہ اس میں حضرت شیخ سے غلطی واقع ہوئی ہے تو وہ پھر بھی یہی سمجھے کہ میری نظر اور میری عقل کا دھوکا ہے ورنہ شیخ حق پر ہیں اور ایسے کئی واقعات ( غلط فہمی کی وجہ سے ) ہوتے ہیں کہ فی الواقع شیخ کا خطا پر ہونا معلوم ہوتا ہے اور بعد میں ( غور و فکر کرنے سے ) شیخ کا حق پر ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔ لہذا سالک کو شیخ کے معاملے میں اپنی عقل کو چھوڑ کر ان پر اعتماد کرنا چاہیے اور ان کی خطا کو بھی صواب ہی سمجھنا چاہیے ۔ ( حضرت مرشد عالم ہی آخری عمر میں فرمایا کرتے تھے کہ اب تو اللہ تعالیٰ میری الٹی بھی سیدھی کر دیتے ہیں ) ۔

تکدر شیخ

شیخ کی بے ادبی میں سے سب سے زیادہ خطر ناک وہ بے ادبی ہے جس پر شیخ مطلع ہو جائے اور اس کے دل میں مرید کے لیے تکدر اور ناراضگی پیدا ہو جائے ۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ اس راہ میں معصیت اتنی مضر نہیں ہوتی جتنی بے ادبی مضر ہوتی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ معصیت کا تعلق اللہ تعالی سے ہے اور چونکہ وہ تاثر اور انفعال سے پاک ہیں اس لیے توبہ سے فورا معافی ہو جاتی ہے اور پھر اللہ تعالی سے ویسا ہی تعلق پیدا ہو جاتا ہے بخلاف اس کے کہ بے ادبی کا تعلق شیخ سے ہے اور وہ چونکہ بشر ہے اس لیے طالب کی بے ادبی سے اس کے قلب میں کدورت پیدا ہو جاتی ہے جو فیض کے جاری ہونے میں مانع ہو جاتی ہے ۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے اس کی مثال یوں دی ہے کہ اگر کسی چھت کے پرنالہ کے مخرج میں مٹی ٹھونس دی جائے تو آسمان سے جو پانی برسے گا تو چھت پر تو وہ صاف شفاف ہو گا لیکن جب میزاب سے نکل کر نیچے پہنچے گا تو با لکل گدلا اور میلا ہوگا۔ اسی طرح شیخ کے قلب پر جو ملاء اعلیٰ سے انوارات و فیوضات نازل ہو رہے ہوتے ہیں وہ ایسے طالب پر جس نے شیخ کے قلب کو مکدر کر رکھا ہے ، مکدر صورت میں ہی پہنچیں گے ۔ جس سے اس کے قلب کے مکدر ہونے سے انشراح قلب جاتا رہتا ہے۔ انشراح قلبی کے زوال سے طالب اپنی اصل پٹڑی سے اتر کر شیطان کے راستے پر چل نکلتا ہے۔ اس لیے شیخ کی ناراضگی سے بہت ڈرنا چاہیے اور اگر خدا نخواستہ کبھی دانستہ یا نادانستہ طور پر کوئی ایسی ویسی بات ہو جائے تو اس کا ازالہ کرنے میں دیر نہ لگائیں ( اور فوراً معافی مانگیں ) ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان تمام رکاوٹوں پر قابو پانے کی توفیق نصیب فرما دیں، آمین۔

جاری ہے'''

25/02/2026

اخلاص کا مطلب ہے صرف اللہ کی رضا کے لیے اعمال کرنا، جو قبولیتِ عبادت، دنیا و آخرت کی کامیابی، اور جہنم سے آزادی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ مخلصانہ تھوڑا عمل بھی زیادہ اجر رکھتا ہے اور اللہ کی محبت کا سبب بنتا ہے۔ اخلاص روحِ عمل ہے جو شیطان کے وسوسوں سے بچاتا ہے۔
اخلاص کی چند اہم فضیلتیں:
اعمال کی قبولیت: اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالصتاً اسی کے لیے کیا جائے۔
عظیم ثواب: اخلاص کے ساتھ کیا گیا چھوٹا عمل بھی بڑا اجر رکھتا ہے۔
جہنم سے نجات اور جنت کا حصول: مخلصین کو اللہ جہنم کی آگ سے محفوظ رکھتا ہے اور ان کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔
قبولیتِ دعا: مخلص بندے کی دعا جلد قبول ہوتی ہے۔
شیطان سے حفاظت: مخلص بندوں پر شیطان کا بس نہیں چلتا۔
حسنِ خاتمہ: اخلاص کی برکت سے ایمان پر موت نصیب ہوتی ہے۔
حدیثِ نبوی ﷺ: "اپنے دین کو خالص کر لو، تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا" (مستدرک للحاکم)۔

25/02/2026
25/02/2026

اصلاحِ باطن: اس نظام کا مقصد نفسانی خواہشات کو مارنا اور دل کو اللہ کی یاد سے آباد کرنا ہے۔
مرکزِ تربیت: ایک کامل شیخ (پیر) کی نگرانی میں مریدین روحانی ترقی حاصل کرتے ہیں۔
خدمتِ خلق: خانقاہیں ہمیشہ سے مسافروں، غریبوں اور تشنگانِ معرفت کے لیے پناہ گاہ اور لنگر کا مرکز رہی ہیں۔
شریعت و طریقت: حقیقی خانقاہی نظام شریعت کے احکامات (نماز، روزہ) کی پابندی کے ساتھ طریقت (روحانی سفر) سکھاتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ خانقاہی نظام روح کی پاکیزگی اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا ایک باقاعدہ تربیتی مرکز ہے، جس کا مقصد انسانیت کی روحانی اصلاح ہے۔

25/02/2026

حضرت یوسف علیہ السلام بچے تھے کہ کنویں میں ڈال دیے گئے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام بچے تھے کہ دریا کے حوالے کر دیے گئے۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام بچے تھے کہ گلے پر چھری رکھ دی گئی۔

حضرت عیسی علیہ السلام بچے تھے کہ اپنی ماں کی پاکدامنی کی گواہی دینی پڑی۔

حضور نبی کریم ﷺ بچے تھے کہ والدین انتقال کر گئے۔

اس طرح کے واقعات سے ایک تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انبیاء کرام علیھم السلام کو بچپن ہی میں مصیبتیں گھیر لیتی ہیں۔ انہیں بڑے مقاصد کےلیے تیار کیا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اللہ تعالی ان کےلیے بہت لطیف تدبیر کرتے ہیں۔ کہانی کی ابتدا بہت تاریک دکھائی دیتی ہے لیکن اینڈنگ بہت روشن ہوتی ہے۔ ابتدا میں کرب و اضطراب ہے لیکن انتہاء میں خیر ہی خیر اور رضا ہی رضا ہے۔

ربِ محبت کی اس لطیف تدبیر کو اکثر لوگ سمجھ نہیں پاتے۔ وہ اپنے تئیں جھکانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جس کے مقدر میں بلندی ہو، وہ کیسے جھکے؟ لوگ بجھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جس نے چمکنا ہو ، وہ کیسے بجھے؟ لوگ مٹانا چاہتے ہیں لیکن جس نے احسن القصص بننا ہو، وہ کیسے مٹے ہو؟ جس کی نیک نامی صدیوں بعد بھی زبانوں پر آنی ہو ، وہ کیسے بد نام ہو؟ جس نے روشن ہونا ہو ، وہ آگ میں کیسے جلے؟ جس نے کلیم اللہ بننا ہو ، وہ فرعونی ظلم وستم میں کیونکر ہمت ہارے؟ جسے کوثر عطا ہونی ہو، وہ کیونکر ابتر بنے؟

وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ
اور الله کو اپنے کام پر پورا قابو حاصل ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ (سورت یوسف:21)

حضرت یوسف علیہ السلام کے قصت میں ہی اس جملے کی جھلک دیکھیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھائیوں کی سازش سے حضرت یوسف کو بچانا چاہا لیکن نہیں بچا پائے، بھائیوں نے حضرت یوسف کو قتل کرنا چاہا لیکن نہیں کر پائے، کنویں میں ڈالا تاکہ کوئی قافلہ اٹھا کر لے جائے اور ہمیشہ کےلیے غلامی مقدر ہو لیکن غلامی میں بلندی مل گئی، حضرت یوسف کو دور کرنے کی وجہ یہ تھی کہ بھائیوں کو والد صاحب کی توجہ اور محبت زیادہ ملے لیکن والد حضرت یعقوب مزید دور ہوگئے، جھوٹا خون قمیص پر لگا کر روئے تاکہ حضرت یعقوب کو اطمینان ہو جائے لیکن انہوں نے کہہ دیا کہ تمہارے دلوں نے اپنی طرف سے ایک بات گھڑ لی ہے، حضرت یوسف کو کنویں میں ڈالتے وقت کہا کہ بعد میں ہم نیک بن جائیں گے لیکن جلدی توبہ کرنا بھول گئے، عزیز مصر کی بیوی نے تہمت لگائی لیکن اسی کے خاندان کے ایک گواہ نے گواہی دے دی کہ یوسف سچے ہیں، حضرت یوسف علیہ السلام نے جیل کے قیدی سے کہا کہ جب بادشاہ سے ملو تو میرا تذکرہ کرنا کہ میں بے گناہ جیل میں ہوں لیکن وہ ساتھی بھول گیا جس کی وجہ سے مزید کچھ سال جیل میں رہنا پڑا۔

یہ سب کیا ہے؟

اللہ تعالی کی تدبیر۔

اور اسی کے بارے میں حضرت یوسف علیہ السلام نے آخر میں فرمایا:

اِنَّ رَبِّیۡ لَطِیۡفٌ لِّمَا یَشَآءُ ؕ
بے شک میرا رب جو کچھ چاہتا ہے، اُس کیلئے بڑی لطیف تدبیریں کرتا ہے۔ (سورۃ یوسف:100)

یعنی میرے ساتھ اب تک جو کچھ ہوا، وہ رب محبت کا کرم ہے، اُس کی غیر محسوس تدبیریں ہیں، اس میں کسی کا قصور نہیں ہے، مجھے یہاں تک پہنچانے کے لیے اُس کے ہر کام میں حکمت تھی اور اُس نے ایسی ایسی باریک راہیں نکالیں کہ مجھے ان کا سان گمان بھی نہیں ہوتا تھا۔

ہمارا رب ایسے ہی کرتا ہے کہ آزمائشوں میں ڈال کر اپنا لاڈلا بنا لیتا ہے، ٹرائلز سے گزار کر اپنے لیے تیار کر لیتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب محبت کی ان خفیہ تدبیروں کو جان نہیں پاتے یا انعام ملنے تک صبر نہیں کر پاتے۔ بے شک جس نے صبر کیا، اس نے ہر معاملے کی حقیقت اور حکمت کو پا لیا۔ کیونکہ صبر انسان کو حکیم بنا دیتا ہے۔

25/02/2026

*جمعہ کا دن ہے اے اللہ!*
آج جتنے بھی ہاتھ تیری بارگاہ میں اٹھیں، ان سب کی دعاؤں کو قبول فرما۔
*آمین، یا ربّ العالمین!* 🤲 ❤️
*Quran verses* ❣️

25/02/2026

مجالسِ ذکر (اللہ کو یاد کرنے کی محفلیں) اسلام میں انتہائی فضیلت اور برکات کا باعث ہیں، جنہیں احادیث میں "جنت کے باغات" قرار دیا گیا ہے۔ ان مجالس میں شرکت کرنے والوں کو فرشتے گھیر لیتے ہیں، ان پر اللہ کی رحمت اور سکون نازل ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے ان کی تعریف کرتا ہے۔ یہ گناہوں کے لیے کفارہ اور مغفرت کا ذریعہ ہیں۔
مجالس ذکر کی اہم فضیلتیں:
فرشتوں کا گھیراؤ اور رحمت: ذکر کی محفل کو فرشتے اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔
مغفرت کا ذریعہ: ایسی محفلوں میں بیٹھنے والوں کو بخش دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ پاس بیٹھنے والا (جو اس مقصد سے نہ آیا ہو) وہ بھی محروم نہیں رہتا۔
جنت کے باغات: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم جنت کے باغات (ذکر کی مجالس) سے گزرو تو چرو، صحابہ نے پوچھا وہ کیا ہیں؟ فرمایا: "حلقہ ہائے ذکر"۔
سکونِ قلب: ذکرِ الٰہی سے دلوں کو اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے۔
کفارہِ گناہ: مجالسِ ذکر فضول اور لہو و لعب کی محفلوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔
فرشتوں میں ذکر: اللہ تعالیٰ ان ذکر کرنے والوں کا تذکرہ اپنے مقرب فرشتوں میں کرتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ مجالسِ ذکر روح کی پاکیزگی، اللہ کے قرب اور بخشش حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
خانقاہ

25/02/2026

4حیاء کے ماتھے کا تاج زاہراؓ !
وفا پرستی کی لاج زاہراؓ !!
مقام خون حسین یہ ھے !!!
کرے گی جنت پہ راج زاہراؓ...
‏کسی کی بیٹی کو نہ ملے گا
ملا ہے تجھ کو جو تاج زہراؓ!!!
زمانے بھر میں جو بٹ رہا ہے
ہے تیرے گھر کا اناج زہراؓ....
جو ہو گی تیرے قدم کی مٹی
مطیع کے سر کا ہے تاج زہراؓ....
جو تیرے شوہرؓ سے بغض رکھے
مریض ہے لاعلاج زہراؓ....
3 رمضان المبارک یوم وفات دخترِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت فاطمة الزھرا
(رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا)
#صحابہؓ_معیارایمان_ہیں

#مرکزی #ترجمان #سنی #علماء #کونسل #پاکستان

25/02/2026

محبت کیا ہے ؟،دل کا درد سے معمور ہو جانا
متاعِ جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہو جانا

ہماری بادہ نوشی پر فرشتے رشک کرتے ہیں
کسی کے سنگِ در کو چومنا مخمور ہو جانا

قدم ہیں راہِ اُلفت میں تو منزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چُور ہو جانا

یہاں تو سر سے پہلے دل کا سودا شرط ہے یارو
کوئی آسان ہے کیا سرمد و منصور ہوجانا

بَسا لینا کسی کو دل میں دل ہی کا کلیجا ہے
پہاڑوں کو توبس آتا ہے جل کر طور ہوجانا

نظر سے دور رہ کر بھی تقؔی وہ پاس ہیں میرے
کہ میری عاشقی کو عیب ہے مہجور ہوجانا

Address

Zahidiqbalmir88@gmail. Com
Gilgit

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mir Chants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share