The Astore Times

The Astore Times Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Astore Times, Media/News Company, Gilgit-Baltistan, Northern Areas of Pakistan, Gilgit.

27/01/2026

بھارتی زیر انتظام گریز میں بولی جانی والی شینا لہجے میں گایا گیا گانا۔
کس کس کو سمجھ آرہی ہے؟

27/01/2026
26/01/2026

قائد_تمہارے_بغض_میں
کردار_گرے_اقدار_گرے
مذہب_کے_ٹھیکدار_گرے
شیخ صاحب کی جانب سے شہباز شریف سمیت قائد گلگت
بلتستان حفیظ الرحمن کو محض اس بنیاد پر ووٹ دینا حرام قرار دینا کہ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے، نہ صرف دینی فہم کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ریاستی اور سیاسی معاملات کو ذاتی فتوؤں کی نذر کرنے کی ایک خطرناک مثال بھی ہے۔
اسلام امن، صلح اور انسانی جان کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے خود متعدد مواقع پر غیر مسلم قوتوں کے ساتھ معاہدے کیے، جن کا مقصد جنگ سے اجتناب، امن کا قیام اور امت کے مفادات کا تحفظ تھا۔ اگر ریاستی سطح پر کیا گیا کوئی امن معاہدہ بذاتِ خود حرام ہوتا تو سیرتِ نبوی ﷺ اس کی صریح تردید کرتی ہے۔
کھرمنگ کے عوام باشعور اور تعلیم یافتہ ہیں۔ وہ حلال و حرام کے بنیادی اصولوں سے بخوبی آگاہ ہیں، اس لیے انہیں گمراہ کن فتوؤں کی ضرورت نہیں۔ ووٹ دینا ایک آئینی اور جمہوری حق ہے، اور اسے کسی ایک سیاسی فیصلے یا بین الاقوامی معاہدے کی بنیاد پر حرام قرار دینا دراصل دین کو ذاتی سیاسی اختلافات کے لیے استعمال کرنے کے مترادف ہے
حلال و حرام کے فیصلے نہ جذبات سے ہوتے ہیں اور نہ ہی سیاسی پسند و ناپسند کی بنیاد پر۔ عوام یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ مذہب کے نام پر سیاست کرنا اور فتوے بانٹنا اکثر اپنی ناکامیوں اور ذاتی مفادات پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہوتا ہے۔مسجد کا منبر لوگوں کو جوڑنے کے لیے ہوتا ہے، تقسیم کرنے کے لیے نہیں۔ دینِ اسلام ہمیں اتحاد، حکمت اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے، نہ کہ نفرت اور انتشار کا۔
سمیع اللہ ایڈووکیٹ سینئر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ ن دیامر استور ڈویژن
Adv Sami Ullah
Hafiz Hafeez Ur Rehman

استور حلقہ ون اور انتخابی گہماگھمیعبدالحسین آزادحلقہ نمبر ایک ضلع استور، جی بی ایل اے 13 گلگت بلتستان کا وہ واحد حلقہ ہ...
26/01/2026

استور حلقہ ون اور انتخابی گہماگھمی
عبدالحسین آزاد
حلقہ نمبر ایک ضلع استور، جی بی ایل اے 13 گلگت بلتستان کا وہ واحد حلقہ ہے جہاں سیاست ایک کھٹن امتحان، پہاڑوں پر گھوڑے دوڑانے جیسے ہے۔ اس حلقے میں نہ تو سیاسی دانشوروں کی کوئی کمی ہے اور نہ ہی مبصرین، سیاسی تجزیہ نگاروں اور لیڈروں کی۔ حلقہ ون کا اگر کوئی پتھر بھی اٹھا کر آپ دیکھیں گے تو نیچے سے کوئی ایک سیاسی تجزیہ کار اور سیاستدان ملے گا۔ اس حلقے کی سیاست کا اندازہ اس بات سے بھی لگائیں کہ منفی 10 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ میں یہاں کا سیاسی ٹمپریچر 110 ڈگری سے بھی زیادہ گرم ہے۔ اس حلقے میں سیاست کرنا اور سیاسی کمپنی چلانا بہت مشکل مرحلہ ہے۔

ایک تو یہاں کے جغرافیائی حالات سیاسی امیدواروں کے لیے نہایت غیر موافق ہیں۔ پہاڑوں کے دامن میں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں اور پہاڑوں کی چوٹیوں میں موجود چھوٹی چھوٹی وادیوں تک پہنچنا اور اپنا پیغام پہنچانا بذاتِ خود سیاسی امیدواروں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ دوسرا چیلنج یہاں کے لوگوں کو نظریاتی طور پر قائل کرنا ہے، کیونکہ یہاں کے لوگ سنتے کم اور سناتے زیادہ ہیں اور ہر ایک مفکر بنا ہوا ہے۔ ایسے میں سقراطی ذہن رکھنے والے اور فرعونی دولت رکھنے والے اس حلقے میں اپنا اثر منوا سکتے ہیں۔ تیسرا، اس حلقے کی سیاست حلقے کے علاوہ اسلام آباد، کراچی، لاہور جیسے بڑے شہروں میں بھی ہوتی ہے۔

گلگت بلتستان کے سیاسی حلقوں میں اس حلقے کے امیدوار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ رانا فرمان صاحب نے حلقے کی سیاسی کیمپین کو کراچی اور اسلام آباد سے شروع کیا۔ اس کے بعد گلگت بلتستان کے تمام سیاسی امیدوار شہروں میں بھی سیاسی کیمپین کی اہمیت سے آگاہ ہوئے۔

اس حلقے کی اہمیت گزشتہ انتخابات کے بعد سے اور بھی بڑھ گئی ہے، کیونکہ اس حلقے کے امیدوار سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے پاکستان کی سیاست میں ایک الگ کردار ادا کیا ہے، اس لیے اس حلقے پر نظریں اور بھی بڑھ گئی ہیں۔

لہٰذا آنے والے الیکشن میں اس حلقے کی سیاسی گہماگہمی اور درجۂ حرارت میں اضافہ ہونا یقینی ہے۔

موجودہ سیاسی صورتحال میں اگر ہم حلقے کے امیدواروں کا جائزہ لیتے ہیں تو پاکستان تحریکِ انصاف سے سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید امیدوار ہیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) سے رانا فرمان علی سابق وزیر بلدیات، پاکستان پیپلز پارٹی سے فہد حسین، ڈاکٹر عباس متوقع امیدوار، دوسری طرف سابق جج صاحب خان بھی حلقے کی سیاست میں نمودار ہو چکے ہیں۔

اس وقت تمام امیدوار اپنی بھرپور عوامی کیمپین میں مصروف ہیں۔ اگر میں اس حلقے کی سیاست پر نظر ڈالوں اور اپنے تمام مشاہدات، تجربات اور زمینی و عوامی حقائق کی بات کروں تو ن لیگ کے رانا فرمان علی اس حلقے میں اپنی پوری سیاسی قوت کے ساتھ جیتنے کی پوزیشن میں ہیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو رانا فرمان علی کا اس حلقے میں سیاسی حریف سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید ہیں۔ خالد خورشید نے بطور وزیراعلیٰ اس حلقے کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا ہے، اس لیے عوامی حمایت ان کے حق میں زیادہ نہیں۔ دوسرا، وہ گزشتہ دو ڈھائی سال سے پشاور میں روپوش ہیں۔ ایسے میں حلقے میں کوئی تیسری سیاسی شخصیت اس درجے پر نہیں پہنچی ہے کہ وہ ن لیگ کے امیدوار فرمان علی کے مقابلے میں آئے۔

اگر خالد خورشید انتخابات کے لیے حلقے میں اترتے ہیں اور خلائی مخلوق انہیں حلقے میں آنے کی اجازت دیتی ہے تو پھر ن لیگ کے امیدوار کے لیے سخت مقابلے کا سماں بن سکتا ہے۔ جہاں تک بات کی جائے پیپلز پارٹی کے متوقع امیدواروں کی تو ان کے سابق امیدواروں سے لے کر موجودہ امیدواروں کی سیاسی خدمات حلقے کے لیے زیادہ نہیں اور نہ ہی صوبائی جماعت میں ان کا کوئی بڑا اثر و رسوخ ہے۔ میجر (ر) فہد صاحب کے لیے سیاسی میدان بالکل نیا ہے، ابھی انہیں بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہوگی۔ طویل عرصے تک اس میدان میں گھوڑے دوڑانا ہوں گے۔ فہد ایک نیا چہرہ ہے، اگر وہ مسلسل عوام میں رہتے ہیں تو بھی اگلے تین چار الیکشن میں کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔

اسی طرح پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر عباس صاحب گزشتہ کئی سالوں سے سیاسی آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں، کبھی گودائی اتحاد تو کبھی چھوگام، کبھی نوگام اتحاد، یعنی ان کی سیاست چھوگام اور نوگام کے درمیان راستے میں ہے۔ انہیں حلقے تک پہنچنے کے لیے طویل وقت درکار ہے اور آج کل حلقے کے تمام راستے برف باری کی وجہ سے بند ہیں۔

اس حلقے میں ایک اہم شخصیت جس کا ذکر ابھی کر چکا ہوں، جناب صاحب خان صاحب ہیں، سابق جسٹس صاحب۔ جسٹس صاحب بھی ریٹائرمنٹ کے بعد سے سیاسی میدان میں واپس قدم جمانا چاہ رہے ہیں، اگرچہ ان کا ماضی کا سیاسی تجربہ زیادہ خوشگوار نہیں رہا ہے۔ گزشتہ الیکشن میں گودائی اتحاد کے روحِ رواں تھے، الیکشن تک آتے آتے اس اتحاد سے روح نکل گئی تھی اور رواں باقی تھا، جو کہ اب مکمل ختم ہو چکا ہے۔

صاحب خان ن لیگ کے امیدوار بننے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور اس تگ و دو میں ہیں کہ ٹکٹ مل جائے۔ یعنی رانا فرمان کے لیے ایک سیاسی کیل ثابت ہو رہے ہیں۔ صاحب خان کے لیے ن لیگ کا ٹکٹ ملنا محال ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ عرصۂ دراز سے رانا فرمان نے نہ صرف اس حلقے میں بلکہ ضلع استور میں ن لیگ کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے اور ن لیگ کو مستحکم کرنے میں، ن لیگ کو ضلع استور میں مضبوط سیاسی جماعت بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اور رانا فرمان کی اس حلقے میں خدمات بھی رہی ہیں۔ اس کے ساتھ اہم بات یہ ہے کہ رانا فرمان علی اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں، ہمیشہ حلقے اور اس کی عوام کے درمیان رہے ہیں۔

اس لیے اس حلقے میں اس وقت کوئی ایک امیدوار ہے جو مسلسل سیاسی کیمپین میں مصروف ہے اور لوگوں تک پہنچ رہا ہے اور لوگ ان تک پہنچ رہے ہیں تو وہ رانا فرمان علی صاحب ہیں۔ ن لیگ ایسی غلطی کبھی نہیں کرے گی کہ فرمان کو چھوڑ کر کسی نئے نویلے کو ٹکٹ سے نوازے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ ن لیگ کے صوبائی صدر حافظ حفیظ الرحمن کا دایاں بازو ہے رانا فرمان علی۔ گلگت بلتستان میں جس وقت ن لیگ تقسیم تھی، اس وقت رانا فرمان علی اپنے صوبائی صدر حفیظ کے شانہ بشانہ ساتھ رہے ہیں اور کھٹن حالات کا مقابلہ کیا ہے۔ حفیظ صاحب اپنا کوئی بھی فیصلہ بغیر فرمان کی مشاورت کے نہیں کرتے۔

تیسری اہم بات یہ ہے کہ حفیظ صاحب سابق جسٹس صاحب خان کو کسی صورت ن لیگ میں برداشت نہیں کریں گے۔ یعنی ن لیگ میں صاحب خان کی انٹری کا مطلب حافظ حفیظ کے لیے ایک بڑا کیل کھڑا کرنا جیسے ہے۔ ایسے میں حفیظ کبھی یہ برداشت نہیں کریں گے کہ کوئی ان کے مقابلے میں آ کر تابان جیسے لوگوں کو لیڈ کرے اور ان کی صدارت کے لیے خطرہ بنے یا بننے کی کوشش کرے۔

ان تمام حقائق کے پیشِ نظر یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت حلقے میں رانا فرمان علی ن لیگ کے امیدوار مضبوط اور قابل امیدوار ہیں۔ اگر خالد خورشید خود میدان میں اترتے ہیں تو پھر رانا فرمان کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے، مگر پھر بھی ان کی پوزیشن جیتنے والے امیدوار کی ہے۔ باقی اگر کوئی طاقت راتوں رات حالات کو پلٹنے کا ارادہ رکھتی ہے تو واللہ اعلم، مگر اس وقت وفاقی حکومت میں براجمان ن لیگ ہے، ایسے میں گلگت میں ن لیگ کے خلاف حالات پلٹنا کسی طاقت کے بس میں نہیں۔

ایسے میں استور حلقہ ون کی گرما گرم سیاست میں ن لیگ کے رانا فرمان علی جیت کی پوزیشن میں ہیں۔

26/01/2026

استور حلقہ ۱ میں موجودہ ساسی حالات کے مطابق خالد خورشید گروپ پہلے
حنیف خان دوسرے اور رانا فرمان کا تیسرا نمبر چل رہا

بنیادی طور پر کسی امیدوار کا الیکشن لڑنے کا اعلان کرنا اور پھر کسی پارٹی کا ٹکٹ لیکر ووٹ مانگنے کانام ہی الیکشن نہیں بلک...
26/01/2026

بنیادی طور پر کسی امیدوار کا الیکشن لڑنے کا اعلان کرنا اور پھر کسی پارٹی کا ٹکٹ لیکر ووٹ مانگنے کانام ہی الیکشن نہیں بلکہ منظم اور مربوط انداز میں ذہن سازی ،نوجوانوں کو لیڈنگ رول پہ لانا ان کے ساتھ صلح مشورہ ،اعتماد سازی اور بزرگوں کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ خالص عوامی ایشوز پر ڈائیلاگ کرنا اور قوم کو واضح روڈ میپ دینا ہی الیکشن اور جمہوریت کا نام ہے۔
اس سارے مجموعے کا نام سیاست ہے اور اس کا عملی مظاہرہ گزشتہ روز راولپنڈی میں دیکھنے کو ملا جہاں فہد حنیف خان نے اپنی سیاسی اننگز میں پہلا کوور ڈرائیو کھیلا ہے اور ایسا کوور ڈرائیو جس میں مخالف فیلڈرز صرف دیکھتے رہتے ہیں اور بال باؤنڈری لائن پار کرتا ہے ۔
فہد حنیف خان نے روایتی سیاست سے ہٹ کر کچھ نیا اور جین زی کو اپنی طرف راغب کرنے کا جو انداز اپنایا ہے جس میں تمام تر مرضی و منشاء نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور ان کو گائیڈ کرنے کے لئے بزرگوں کی ایک کھیپ بیک اپ میں موجود ہے ۔راولپنڈی کمیٹی چوک کے نوجوان منتظمین کا ایک ایک کرکے نام لینا تو شاید ممکن نہیں ہو لیکن جس ٹیم ورک کا مظاہرہ کرکے انہوں نے ایک نئی روایت کو جنم دیا ہے یقینی طور پر اس کے دور رس اور دیرپا نتائج ملیں گے۔
فہد حنیف خان کے سیاسی وژن کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اپنی تقریر میں پوائنٹ سکورنگ اور مخالفین پر تیر برسانے کے قائل نہیں ہیں اور اپنے مخالف امیدوراوں کا نام لیکر تنقید کرکے تالیاں سمیٹنا ان کا شیوہ نہیں بلکہ ٹو دا پوائنٹ اور عوام کی محرومیوں، سسٹم کی خامیوں کے ساتھ عوامی مسائل ان کا ناطہ خاص ہوتا ہے اور ان کا فوکس نوجوان ہوتے ہیں اسی وجہ سے پچھلے ایک عرصے سے نوجوانوں کی کثیر تعداد ان ے قافلے میں شمولیت کررہی ہے ۔
آج گلگت بلتستان کے کسی بھی حلقے میں کسی امیدوار کے پاس اتنی زبردست اور منظم سوشل میڈیا ٹیم موجود نہیں جو فہد حنیف خان کے پاس ہے ۔اس سارے وژن کے پیچھے مرد درویش عبد الحمید خان کا ہاتھ ہے جنہوں نے بروقت ایک ٹیم بنائی زمہ داریاں سونپی اور آج وہی ٹیم نہ صرف بیانیہ بنانے میں پیش پیش ہے بلکہ اپنے امیدوار کی امیج بلڈنگ کا کام بھی بخوبی سر انجام دیتی ہے اور کاؤنٹر بیانیہ بنانے میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
المختصر فہد حنیف خان نے جس رفتار میں اپنی مقبولیت کو بلندیوں میں پہنچایا ہے اور پروپیگنڈے کی دنیا سے نکل حقیقی طور پہ اپنے آپ کو منوایا ہے اور اسکا اعتراف مخالفین بھی کررہے ہیں یہی نقطہ آغاز ہے اور سرخروئی کی جانب بہترین پیشقدمی ہے۔اس وقت استور میں نوجوان جتنا فہد صاحب کے ساتھ کمفرٹیبل ہے شاید کسی اور کے ساتھ ہو۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
Malik Haq Nawaz DK

24/01/2026

استور میں میری خدمات زیادہ ہیں اس لیے ن لیگ کے ٹکٹ کا زیادہ حقدار میں ہوں
جسٹس ریٹائر صاحب خان
Muti Ur Rahman

گلگت: سابق صوبائی وزیر بلدیات و صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع استور فرمان علی رانا کی فقیر کورٹ سے تعلق رکھنے والے معزز س...
19/01/2026

گلگت: سابق صوبائی وزیر بلدیات و صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع استور فرمان علی رانا کی فقیر کورٹ سے تعلق رکھنے والے معزز سماجی شخصیت حاجی غلام رسول المعروف لسو اور اُن کے صاحبزادوں وکیل محمد بشیر، عبدالرحیم، ودیگر غلام عباس لون اور ظہور احمد لون سے ایک اہم سیاسی بیٹھک ہوئی۔

ملاقات کے دوران علاقے کو درپیش مسائل، موجودہ سیاسی صورتحال، آئندہ انتخابات اور سیاسی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و چیئرمین عبدالرحمن ثاقب بھی ہمراہ تھے۔
Farman Ali Rana

استور گوریکوٹ ڈنگونٹ۔نیک سیرت انسان محترم شریف چاچا کچھ دنوں سے کافی علیل ہیں دوست احباب سے خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے ال...
19/01/2026

استور گوریکوٹ ڈنگونٹ۔
نیک سیرت انسان محترم شریف چاچا کچھ دنوں سے کافی علیل ہیں دوست احباب سے خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے اللہ پاک صحت و تندرستی کے ساتھ لمبی زندگی دے ۔ آمین ثمہ آمین۔
Barkat Jamil

جناب قائد محترم حافظ حفیظ الرحمن سے نظر کرم فرمانے کی اپیل 🙏:عنوان: ::کوہستان روڈ پر کانوائی کے نام پر ظلم ۔۔گلگت بلتستا...
19/01/2026

جناب قائد محترم حافظ حفیظ الرحمن سے نظر کرم فرمانے کی اپیل 🙏
:عنوان: :
:کوہستان روڈ پر کانوائی کے نام پر ظلم ۔۔
گلگت بلتستان کی اجتماعی توہین۔
گلگت بلتستان کے عوام آج جس اذیت ناک مسئلے سے دوچار ہیں، وہ محض چند افراد یا چند گاڑیوں کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ پورے خطے کی عزت، آزادیِ سفر اور شہری وقار کا سوال بن چکا ہے۔ گلگت بلتستان سے راولپنڈی اور دیگر شہروں کو آنے جانے والے مسافروں کے ساتھ کوہستان روڈ پر کانوائی کے نام پر جو ناروا سلوک، غیر ضروری رکاوٹیں اور دانستہ تنگی کی جاتی ہے، وہ کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔
یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ کوہستان پولیس کی جانب سے جگہ جگہ مسافروں کو روکنا، گھنٹوں انتظار کروانا، بلا جواز پوچھ گچھ، اور بعض اوقات تحقیر آمیز رویہ اختیار کرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ یہ سب کچھ سیکیورٹی کے نام پر کیا جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا سیکیورٹی صرف گلگت بلتستان کے عوام ہی کے لیے عذاب بننی چاہیے؟ کیا پاکستان کے دیگر حصوں کے شہریوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک روا رکھا جاتا ہے؟
گلگت بلتستان کے عوام پہلے ہی جغرافیائی مشکلات، محدود سہولیات اور آئینی محرومیوں کا شکار ہیں۔ ایسے میں واحد زمینی راستے پر اس قسم کی زیادتیاں ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ مریض، طالب علم، خواتین، بزرگ اور روزگار کے لیے سفر کرنے والے افراد گھنٹوں سڑکوں پر خوار ہوتے ہیں، ان کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے، اور ان کے وقت اور وسائل کا بے دریغ ضیاع کیا جاتا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس وقت گلگت بلتستان کا سب سے بڑا عوامی مسئلہ یہی بن چکا ہے۔ یہ مسئلہ اب فردِ واحد کی شکایت نہیں رہا، بلکہ پوری قوم کی اجتماعی آواز بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا، عوامی محفلوں اور سیاسی مجالس میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے: آخر کب تک؟
ایسے نازک اور حساس موقع پر گلگت بلتستان کے عوام کی نظریں ایک بار پھر قائد محترم حافظ حفیظ الرحمن کی جانب اٹھ رہی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھا ہے۔ آپ کی سیاسی بصیرت، جرأت مندانہ مؤقف اور عوامی مسائل پر دو ٹوک انداز ہی وہ اوصاف ہیں جن کی بدولت آج بھی عوام کو آپ سے امیدیں وابستہ ہیں۔
یہ مسئلہ ایسا ہے جس پر محض رسمی بیانات سے کام نہیں چلے گا۔ اس کے لیے سنجیدہ، مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت، متعلقہ صوبائی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ واضح اور مضبوط مؤقف کے ساتھ بات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور یہ کردار بخوبی آپ ہی ادا کر سکتے ہیں۔
اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کر لیا جائے، اگر گلگت بلتستان کے عوام کو باعزت اور بلا رکاوٹ سفر کا حق دلایا جائے، تو یہ صرف ایک انتظامی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ ایک پوری قوم کی دلجوئی ہوگی۔ یقین جانیے، اس ایک اقدام پر پوری گلگت بلتستان کی عوام آپ کو دعاؤں میں یاد رکھے گی۔
آج وقت آ گیا ہے کہ کوہستان روڈ پر ہونے والی اس ناانصافی کے خلاف مضبوط آواز بلند کی جائے، تاکہ گلگت بلتستان کے عوام بھی خود کو اس ملک کے برابر کے شہری محسوس کر سکیں — عزت کے ساتھ، وقار کے ساتھ، اور خوف کے بغیر۔
سمیع اللہ ایڈووکیٹ سینئر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ دیامر
Adv Sami Ullah

Astore Media Network

Address

Gilgit-Baltistan, Northern Areas Of Pakistan
Gilgit
15100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Astore Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share