MM TV-GB

MM TV-GB NEWS ALERT

The recent developments represent a serious red flag on the part of the Government of Punjab. The need for an Gilgit Bal...
27/01/2026

The recent developments represent a serious red flag on the part of the Government of Punjab. The need for an Gilgit Baltistan medical medical college has now become more urgent than ever.

This matter must be resolved before the next admission cycle. Government of GB must protect future applicants from the ambiguity, uncertainty, and psychological stress that students were forced to endure this year.

📢 A Serious Issue Regarding Medical College Admissions for Students of Gilgit-Baltistan:

Students of Gilgit-Baltistan are facing a grave and unprecedented issue during the medical college admission process; one that has never occurred before.

This year, the University of Health Sciences (UHS) assumed responsibility for admitting students of Gilgit-Baltistan into Punjab medical colleges, a responsibility that was previously managed by GB DOEC.

As a result, out of the 82 MBBS seats allocated to Gilgit-Baltistan:

55 seats came under the authority of UHS,
while only 27 seats remained with GB DOEC.
In this context, GB DOEC formally requested UHS to adhere to the established admission policies of Gilgit-Baltistan, which clearly include:
maintaining a separate quota system,
and keeping open-merit seats separate.

A key and longstanding policy of GB DOEC is that students already enrolled in any medical college are not eligible to seek admission again. This policy has been consistently implemented in the merit lists of other provinces as well.

⚠️ However, it is deeply unfortunate that UHS disregarded this policy.
Despite clear communication, UHS declared already-enrolled students eligible for re-admission and included their names in the merit list.
As a result:
❗ Genuinely deserving and capable students are unfairly excluded,
❗ Double allocation of limited quota seats is taking place.
📍 The situation is particularly alarming in District Astore, where three already-enrolled students were granted admission again by UHS despite an official letter from GB DOEC.

Consequently, several deserving students are now losing an entire academic year, through no fault of their own.
🙏 Appeal to the Authorities
We respectfully urge:
Department of Education Gilgit Baltistan
Health Department Gilgit Baltistan
Minister of Education, Gilgit-Baltistan
Cheif Secretary Gilgit Baltistan
Minister health Gilgit Baltistan
Health Secretary Gilgit Baltistan
Secretary of Education Gilgit Baltistan
to urgently intervene, issue a fresh official directive, or establish direct communication with UHS to immediately halt this unjust practice and ensure that merit and fairness are strictly upheld.
If this issue is not resolved promptly, the same injustice will recur every year, and deserving students will continue to be deprived of their rightful opportunities.

ایمان کی طاقت ⚡  وہ دشمن جس نے 3 گھنٹوں میں وینزویلا کو شکست دی اسی دشمن نے 3 سال تک غزہ کو فتح نہ کر سکا۔ وینزویلا کے پ...
03/01/2026

ایمان کی طاقت ⚡
وہ دشمن جس نے 3 گھنٹوں میں وینزویلا کو شکست دی اسی دشمن نے 3 سال تک غزہ کو فتح نہ کر سکا۔
وینزویلا کے پاس ایران اور سعودی دونوں کے
مجموعی تیل سے بھی زیادہ تیل ھے منظم آرمی ہے جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل اسلحہ ہے لیکن امریکہ نے 3 گھنٹے کے اندر اس ملک کے صدر اور فیملی کو اغوا کر کے اپنے ملک منتقل کیا اور وینزویلا کی طرف سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ لیکن غزہ کے مسلمانوں کو سلام ہو جنھوں نے ایمان کی طاقت سے مقاومت کی اور 3 سال گزرنے کے باوجود دشمن ان کو شکست نہ دے سکا۔

نیوزحکومتِ پاکستان نے آج فائنل SRO جاری کر دیا ہے جس کے تحت سُست ڈرائی پورٹ کے ذریعے گلگت بلتستان کے لیے درآمد ہونے والی...
02/01/2026

نیوز

حکومتِ پاکستان نے آج فائنل SRO جاری کر دیا ہے جس کے تحت سُست ڈرائی پورٹ کے ذریعے گلگت بلتستان کے لیے درآمد ہونے والی اشیاء پر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے مشروط استثنا دیا گیا ہے۔

یہ سہولت صرف گلگت بلتستان کے ڈومیسائل رکھنے والے تاجروں کے لیے ہوگی اور سالانہ حد 4 ارب روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس اقدام سے مہنگائی میں کمی، تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ اور عوام کو براہِ راست ریلیف ملے گا

گلگت، گلگت بلتستان کا ہیڈ کوارٹر ہے جہاں پورے خطے کے مختلف اضلاع ، قبائل اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ آ کر بستے...
31/12/2025

گلگت، گلگت بلتستان کا ہیڈ کوارٹر ہے جہاں پورے خطے کے مختلف اضلاع ، قبائل اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ آ کر بستے ہیں۔ ہیڈ کوارٹر ہونے کی حیثیت سے گلگت میں اعلیٰ عدالتیں، عسکری ہیڈ کوارٹرز اور سول بیوروکریسی کے مرکزی دفاتر قائم ہیں، جس کی وجہ سے یہ شہر نہ صرف انتظامی بلکہ سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ گلگت بلتستان کے تینوں ڈویژنز دیامر ، بلتستان اور گلگت کے عوام صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رشتوں، ازدواجی تعلقات اور سماجی روابط میں بندھے ہوئے ہیں۔ دکھ سکھ، کاروبار، تعلیم اور روزگار میں یہ لوگ ایک دوسرے کے محتاج رہے ہیں۔ یہی باہمی رشتہ داری اور سماجی ہم آہنگی اس خطے کی اصل طاقت رہی ہے۔ بدقسمتی سے ایک طویل عرصے سے گلگت فرقہ واریت کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ آئے دن کشیدگی، نفرت انگیز بیانیہ اور اشتعال انگیز واقعات نے نہ صرف شہر کے امن کو نقصان پہنچایا بلکہ پورے گلگت بلتستان کی ساکھ کو بھی متاثر کیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ گلگت کی کئی مساجد کے ائمہ مقامی نہیں، جو مقامی روایات، حساسیت اور قبائلی توازن سے مکمل طور پر واقف نہیں ہوتے۔ اس خلا کا فائدہ اٹھا کر بعض عناصر نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔ یہ ایک اہم سوال ہے کہ گلگت میں فرقہ وارانہ کشیدگی سے فائدہ کس کو ہوتا ہے؟ غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ عام آدمی، چاہے وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتا ہو، ہمیشہ خوف، عدم تحفظ اور پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔ اس کا کاروبار متاثر ہوتا ہے، اس کے بچوں کی تعلیم خطرے میں پڑتی ہے اور اس کا مستقبل غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ فائدہ صرف مخصوص لوگوں کو پہنچتا ہے جو فرقہ واریت کو بطور “گیم” استعمال کر کے سیاسی، مالی یا ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں۔ گلگت کے تمام فرقوں کے عوام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کشیدگی کا نقصان سب کو ہوتا ہے۔ کوئی ایک فرقہ محفوظ نہیں رہتا، کوئی ایک محلہ یا قبیلہ متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورا شہر، پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ اس کے باوجود جب عوام خاموش رہتے ہیں تو وہ نادانستہ طور پر ان مخصوص عناصر کے ہاتھوں کھلونا بن جاتے ہیں۔ آج سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت کے مقامی لوگ ہوش کے ناخن لیں، جذبات کے بجائے عقل و شعور سے کام لیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس گند سے دور رکھیں۔ کسی دوسرے فرقے کو زبردستی اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش نہ کی جائے، کیونکہ ایسی سوچ نے ماضی میں بھی علاقے کو کشت و خون کے سوا کچھ نہیں دیا۔ فرقہ واریت کا مقابلہ صرف ریاستی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ علماء، اساتذہ، صحافیوں، سیاسی قیادت اور عام شہریوں سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ باہمی احترام، مکالمہ، برداشت اور قانون کی پاسداری ہی وہ راستہ ہے جو گلگت کو دوبارہ امن، ترقی اور بھائی چارے کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اگر ہم نے آج سمجھداری کا مظاہرہ نہ کیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر کسی خاتون نے جرات، بصیرت اور عوامی طاقت کی علامت بن کر ابھرنا تھا تو وہ شہید محترمہ بینظی...
27/12/2025

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر کسی خاتون نے جرات، بصیرت اور عوامی طاقت کی علامت بن کر ابھرنا تھا تو وہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو تھیں۔ وہ صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک مزاحمت اور ایک امید کا نام تھیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بینظیر واقعی بینظیر تھی۔ بینظیر بھٹو کو بجا طور پر “لال قلندر” کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے آمریت، جبر اور خوف کے خلاف سرخ پرچم اٹھائے رکھا۔ قید و بند، جلاوطنی اور جان لیوا خطرات کے باوجود وہ عوام کے درمیان رہیں۔ ایک آمرانہ دور میں نوجوان خاتون کا اقتدار میں آنا صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک انقلاب تھا۔ دفاعی میدان میں بینظیر بھٹو کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کے دورِ حکومت میں پاکستان کی جدید میزائل ٹیکنالوجی کو بنیاد فراہم کی گئی۔ شاہین اور غوری جیسے دفاعی پروگراموں کی سیاسی سرپرستی نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنایا اور دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یوں بینظیر بھٹو نے پاکستان کو دفاعی لحاظ سے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ گلگت بلتستان کے عوام کے لیے بینظیر بھٹو کا دور ایک تاریخی موڑ ثابت ہوا۔ 1994 میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا انعقاد انہی کا ایک جرات مندانہ فیصلہ تھا۔ اس سے قبل یہ خطہ سیاسی حقوق اور جمہوری عمل سے بڑی حد تک محروم تھا۔ بینظیر بھٹو نے گلگت بلتستان کے عوام کو نہ صرف ووٹ کا حق دیا بلکہ انہیں سیاسی شعور، نمائندگی اور آواز دی۔ بینظیر بھٹو سمجھتی تھیں کہ جمہوریت کا اصل حسن عوام کی شمولیت میں ہے۔ گلگت بلتستان میں سیاسی سرگرمیوں کے فروغ نے عوام میں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حوصلہ پیدا کیا۔ آج اگر گلگت بلتستان کا عوام سیاسی طور پر باشعور ہے تو اس کی بنیاد بینظیر بھٹو کے اسی تاریخی اقدام میں ملتی ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو خواتین، نوجوانوں اور پسے ہوئے طبقات کی امید تھیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ قیادت صنف کی محتاج نہیں بلکہ سوچ، جرات اور قربانی کی متقاضی ہوتی ہے۔ ملک دشمن عناصر کو یہ لال قلندر نے اس قدر بے بس کیا کہ بلآخر 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی لیاقت باغ میں ایک عظیم الشان جلسے سے واپسی پر خود کش حملہ کر کے عوام سے دور کر دیا ان کی شہادت نے پاکستان کو غم میں ڈبو دیا، مگر ان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے۔ بینظیر بھٹو صرف ایک نام نہیں، ایک تاریخ تھی۔ وہ لال قلندر تھی، وہ مزاحمت کی علامت تھی، وہ جمہوریت کی آواز تھی، اور واقعی وہ بینظیر تھی۔

‎تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجاہد منصوری گلگت

27/12/2025

دنیائے اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم میزائل ٹیکنالوجی کی موجد شہید جمہوریت محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی کے موقع پر پیپلز سیکریٹریٹ راجہ بازار گلگت میں پیپلز پارٹی ضلع گلگت کے زیر انتظام مرکزی تقریب کی ویڈیو جاری کر دیا گیا

"وقت کا خدا کی ذات کی موجودگی سے تعلق" (سائنسی اصول کی روشنی میں ایک مختصر دلیل)کیا ہر چیز کی موجودگی اور کسی عمل کے ہون...
23/12/2025

"وقت کا خدا کی ذات کی موجودگی سے تعلق"
(سائنسی اصول کی روشنی میں ایک مختصر دلیل)

کیا ہر چیز کی موجودگی اور کسی عمل کے ہونے کے لیے وقت کا ہونا لازمی ہے؟

سٹیفن ہاکینگز اپنی کتاب " وقت کی مختصر تاریخ" میں اس المیہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ؛

جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خدا نے اس کائنات“
کو بنایا ہے، تو میں کہتا ہو یہ سوال اپنے اصل میں ہی بے معنی ہے کیونکہ وقت کا 'بک بینگ' سے قبل وجود نہیں تھا، اس لیے خدا کے پاس کوئی وقت نہیں تھا کہ وہ کائنات کو وجود دے سکے، لہیذا خدا کا کوئی وجود ہی
" نہیں

اس پچیدہ موضوع پہ تحقیق سے قبل چند مقدمات کو خاطر بحث لانا رازم ہے جیسے؛

جو جیز ہے وہی دوسری چیز کو بنا سکتی ہے یا اس میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
جو 'نہیں ہے' وہ 'ہے' کو بنا نہیں سکتی۔

مثال: اگر کچھ بھی پہلے سے ہے ہی نہیں وہ کسی چیز(کرسی،قلم، وغیرہ) کو بنا نہیں سکتا، البتہ اگر مادہ کسی بھی ہال میں پہلے سے موجود ہے اگرچہ انسان اس کو محسوس نہ بھی کرسکے مگر ایسی صورت میں بھی کوئی چیز بن سکتی ہے۔
یعنی مادہ کو نہ بنایا جاسکتا ہے نہ ختم کیا جاسکتا البتہ ایک صورت سے دوسرے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے(قانون بقائے کیمت)

کیا بک بینگ سے قبل وقت کا وجود تھا؟ اگر نہیں تو بک بینگ کا مادہ بغیر وقت کے آیا کہاں سے اور اس کی پیدائش ہوئی کیسے جبکہ وقت موجود نہیں تھا اور سائنس کے قوانین کے مطابق عمل وقت کا پابند ہے۔ اس مقام پہ یا تو سائنس کے مطلق قوانین سے منحرف ہونا ہے یا پھر اس بات کو ماننا ہے کہ عمل کے ہونے کے لیے ہمیشہ وقت کا ہونا لازمی نہیں۔۔۔

ہم اس چیز کا انکار نہیں کرسکتے کہ بک بنگ سے قبل مادہ کسی بھی شکل میں موجود نہیں تھا کیونکہ سائنس اس بات کو مانتی ہے کہ مادہ کو بنایا نہیں جاسکتا بلکہ اس کی شکل کو دوسرے مادہ میں تبدیل کیا جاسکتا،اس کا مطلب یہ ہے کہ بک بیگ سے قبل
مادہ تھا جو کسی بھی طریقہ سے بن گیا مگر وقت نہیں تھا۔

اسی لیے ہم کہتے ہیں خدا وقت کا محتاج نہیں، خدا نے اس کائنات کو وقت سے بالا تر تخلیق کیا ہے

یعنی اگر مادہ وقت سے بالاتر موجود ہو سکتا ہے تو پھر خدا بھی وقت
سے بالا تر وجود رکھ سکتا ہے

‎تحریر؛ علی حیدر

تحریر: مجاہد منصوری گلگت گلگت بلتستان میں سیاسی جماعتوں کی عوامی مقبولیت میں بتدریج کمی ایک سنگین اور تشویشناک حقیقت بن ...
20/12/2025

تحریر: مجاہد منصوری گلگت

گلگت بلتستان میں سیاسی جماعتوں کی عوامی مقبولیت میں بتدریج کمی ایک سنگین اور تشویشناک حقیقت بن چکی ہے۔ عوام، بالخصوص نوجوان طبقہ، سیاسی جماعتوں سے بدظن نظر آتا ہے اور اس بداعتمادی کی بنیادی وجہ خود سیاسی جماعتوں کا غیر سنجیدہ، غیر جمہوری اور مفاداتی طرزِ عمل ہے۔ وہ جماعتیں جو کبھی عوامی امنگوں اور اجتماعی مفادات کی ترجمان سمجھی جاتی تھیں، آج اقتدار کے حصول تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو صرف جلسے جلوس، احتجاجی پروگراموں اور انتخابی مہمات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ووٹ لینے کے وقت کارکن یاد آتے ہیں، لیکن اقتدار میں آتے ہی یہی کارکن نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ فیصلہ سازی کے عمل میں انہیں شامل کرنا تو دور کی بات، ان کی رائے سننا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ مخلص اور نظریاتی کارکن بددل ہو کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ اقتدار ملتے ہی سیاسی جماعتوں کا ایک اور منفی پہلو نمایاں ہو جاتا ہے، وہ ہے اقربا پروری۔ عوامی خدمت اور اہلیت کے بجائے رشتہ داروں، عزیزوں اور منظورِ نظر افراد کو آگے لایا جاتا ہے۔ سرکاری عہدے اور اثر و رسوخ رکھنے والی پوزیشنز کارکنوں کے بجائے خاندان اور ذاتی حلقے میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ اس عمل نے نہ صرف سیاسی جماعتوں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ عوامی اعتماد کو بھی شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ سیاسی کارکن اکثر اپنے سینئر رہنماؤں کو ملنے والی عزت، احترام اور اثر و رسوخ دیکھ کر جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جدوجہد، وفاداری اور قربانی کا صلہ عزت و مقام کی صورت میں ملے گا۔ لیکن جب یہی سینئر رہنما خود دربدر ہوں، قیادت کی طرف سے نظر انداز کیے جائیں اور انہیں کوئی اہمیت نہ دی جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیا اور باشعور نوجوان کسی سیاسی جماعت میں شامل کیوں ہو؟ جب عزت نہیں، کردار کی قدر نہیں اور جدوجہد کا اعتراف نہیں تو سیاست صرف مفاد پرستوں کا میدان بن جاتی ہے۔ گلگت بلتستان میں سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ چاہے نگراں سیٹ اپ ہو یا منتخب حکومت، اکثر ایسے افراد کو حکومتی عہدے دیے جاتے ہیں جن کا کردار مشکوک ہوتا ہے۔ یہ افراد نہ تو عوامی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہیں اور نہ ہی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کر پاتے ہیں۔ نتیجتاً سیاسی نظام کمزور اور عوام مزید مایوس ہو جاتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی ترقی اور پائیدار امن کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ سیاسی جماعتوں کو مضبوط کیا جائے۔ مضبوط سیاسی جماعتیں ہی مضبوط اداروں، شفاف حکمرانی اور عوامی فلاح کی ضمانت ہوتی ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو عزت دیں، انہیں فیصلہ سازی میں شامل کریں اور حکومتی معاملات میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کریں۔ سیاسی بلوغت ہی وہ واحد راستہ ہے جو گلگت بلتستان میں امن، بھائی چارے اور استحکام کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ جب سیاست ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی بھلائی کے لیے کی جائے گی، جب کارکن کو عزت اور عوام کو اختیار ملے گا، تب ہی عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور سیاسی جماعتیں دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت حاصل کر سکیں گی۔ یہی گلگت بلتستان کے روشن اور پرامن مستقبل کی بنیاد ہے۔

گلگت بلتستان ، انتخابات اور این ایف سی تحریر :مجاہد منصوری گلگت گلگت بلتستان میں متوقع انتخابات کے قریب آتے ہی ایک بار پ...
15/12/2025

گلگت بلتستان ، انتخابات اور این ایف سی
تحریر :مجاہد منصوری گلگت

گلگت بلتستان میں متوقع انتخابات کے قریب آتے ہی ایک بار پھر عوام کو سبز باغ دکھانے اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے ایسے دعوے کیے جا رہے ہیں جو نہ صرف آئینی طور پر غلط ہیں بلکہ عوامی شعور کی توہین بھی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ جذباتی نعروں کے بجائے آئینی اور قانونی سچائی کی بنیاد پر فیصلہ کر سکیں۔ این ایف سی (نیشنل فنانس کمیشن) ملک عزیز پاکستان کا ایک قومی آئینی ادارہ ہے جو آئینِ پاکستان کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ این ایف سی کا بنیادی کام وفاق اور آئینی صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔ یہ تقسیم ایک طے شدہ آئینی فارمولے کے تحت کی جاتی ہے جس میں آبادی، پسماندگی، آمدن، اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ این ایف سی ایوارڈ صرف اور صرف آئینی صوبوں کے لیے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں کچھ سیاسی جماعتیں اور امیدوار این ایف سی کے نام پر عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ محض انتخابات جیتنے یا کسی حکومتی دعوے سے گلگت بلتستان کو این ایف سی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ سراسر غلط بیانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک گلگت بلتستان کو آئینی صوبے کا درجہ نہیں دیا جاتا، اس وقت تک این ایف سی میں شمولیت ممکن ہی نہیں۔ این ایف سی میں شامل ہونے کا واحد راستہ آئینی شناخت ہے، نہ کہ انتخابی نعرے یا وقتی وعدے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ این ایف سی کے ذریعے جمع شدہ فنڈز چاروں آئینی صوبوں، وفاقی یونٹ اسلام آباد کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو ایک مخصوص فارمولے کے تحت مختلف مدات میں دیے جاتے ہیں، لیکن یہ تقسیم این ایف سی ایوارڈ کے دائرے میں نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے صوابدیدی یا خصوصی پیکجز کے تحت ہوتی ہے۔ اس فرق کو جان بوجھ کر چھپایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔ این ایف سی کے موجودہ نظام پر یہ تنقید بھی کی جاتی ہے کہ پاکستان کی آبادی کا تقریباً 60 فیصد صوبہ پنجاب ہونے کی وجہ سے این ایف سی کا بڑا حصہ پنجاب کو جاتا ہے، جس کے باعث چھوٹے صوبے اور پسماندہ خطے خود کو محروم محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود، گلگت بلتستان کے لیے حل این ایف سی کے نام پر نعرے لگانا نہیں بلکہ آئینی جدوجہد ہے۔ اگر گلگت بلتستان کو واقعی وسائل میں برابری چاہیے تو سب سے پہلے اسے آئینی صوبہ بنانے کی سنجیدہ اور عملی کوشش کرنا ہوگی۔گلگت بلتستان کی سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو جھوٹے خواب دکھانے کے بجائے واضح مؤقف اختیار کریں۔ پہلے گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنوائیں، پارلیمنٹ میں اس کی مکمل نمائندگی یقینی بنائیں اور اس کے بعد این ایف سی میں شمولیت کی بات کریں۔ بلاوجہ این ایف سی کے نام پر عوام کو گمراہ کرنا نہ صرف سیاسی بددیانتی ہے بلکہ علاقے کے مسائل سے فرار کے مترادف بھی ہے۔ گلگت بلتستان کے باشعور عوام کو اب نعروں اور دعوؤں کے بجائے آئینی سچائی کو سمجھنا ہوگا۔ ووٹ صرف اسے دیا جائے جو آئینی حقوق، مستقل حل اور عملی جدوجہد کی بات کرے، نہ کہ این ایف سی جیسے حساس قومی ادارے کو انتخابی ہتھیار بنا کر عوامی جذبات سے کھیلنے کی کوشش کرے۔

گلگت بلتستان اور موسمی تبدیلیاںتحریر     مجاہد منصوری گلگت گلگت بلتستان بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح موسمی تبدیلیوں کے شد...
14/12/2025

گلگت بلتستان اور موسمی تبدیلیاں
تحریر مجاہد منصوری گلگت

گلگت بلتستان بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح موسمی تبدیلیوں کے شدید اثرات کی زد میں ہے۔ وہ خطہ جو کبھی اپنے معتدل موسم، وافر برف باری اور گلیشیئرز کی بدولت پانی کے ذخائر کے لیے مشہور تھا، آج تیزی سے بدلتے موسمی رویّوں کے باعث سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ حالیہ برسوں میں موسمیاتی تغیر نے گلگت بلتستان کے قدرتی توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ماحول بلکہ انسانی زندگی اور معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ موسمِ گرما میں جہاں معمول سے کم بارشیں ریکارڈ ہوئیں، وہیں موسمی تبدیلیوں کے باعث اچانک اور شدید بارشوں نے تباہ کن سیلابی صورتِ حال کو جنم دیا۔ ان غیر متوقع موسمی رویّوں نے گلگت بلتستان کے کئی اضلاع کو شدید متاثر کیا، جن میں گلگت، غذر، دیامر اور بلتستان ریجن خاص طور پر شامل ہیں۔ ان علاقوں میں سیلاب کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، مکانات، زرعی زمینیں، سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ شدید نقصان کا شکار ہوا، جس سے مقامی آبادی کی زندگی مزید مشکلات سے دوچار ہو گئی۔ اب جبکہ موسمِ سرما کا آغاز ہو چکا ہے، تشویش ناک امر یہ ہے کہ اب تک بارش یا برف باری کا کوئی خاطر خواہ ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔ یہ صورتِ حال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ موسمی تبدیلیاں صرف شدید بارشوں اور سیلاب تک محدود نہیں بلکہ بارشوں اور برف باری میں کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ گلگت بلتستان کا دارومدار زیادہ تر برف باری اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ پر ہے، جو دریاؤں اور چشموں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ اگر آنے والے مہینوں میں برف باری نہ ہوئی تو مستقبل میں پانی کی شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس کے اثرات زراعت، بجلی کی پیداوار اور روزمرہ زندگی پر براہِ راست پڑیں گے۔ موسمی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والے یہ مسائل اس امر کے متقاضی ہیں کہ گلگت بلتستان پر خصوصی توجہ دی جائے۔ متعلقہ حکومتی اداروں، ماحولیاتی تنظیموں اور تحقیقی اداروں کو چاہیے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور ان کے تدارک کے لیے مؤثر حکمتِ عملی مرتب کریں۔ سیلاب سے بچاؤ کے منصوبے، پانی ذخیرہ کرنے کے جدید طریقے، برف باری اور بارشوں کے نظام کی سائنسی مانیٹرنگ، اور عوامی آگاہی مہمات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ادھر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر بروقت اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو گلگت بلتستان مستقبل میں ایک بڑے ماحولیاتی اور آبی بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ موسمی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے، مگر اس کے اثرات علاقائی سطح پر مختلف اور بعض اوقات زیادہ تباہ کن ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے قدرتی حسن اور وہاں بسنے والے لوگوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ موسمی تبدیلیوں سے نمٹنے کو قومی ترجیحات میں شامل کیا جائے اور اس خطے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔

30/11/2025

پاکستان پیپلز پارٹی کا 58 واں یوم تاسیس کی جھلکیاں

26/11/2025

Address

Gilgit
15100

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 14:00
Sunday 09:45 - 14:00

Telephone

+923133352414

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MM TV-GB posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to MM TV-GB:

Share