10/11/2025
شمشال گاؤں میں ایپنڈیسائٹس کے بڑھتے ہوئے کیسز باعثِ تشویش
گزشتہ کچھ دنوں سے یہ خبریں عام سننے میں آ رہی ہیں کہ فلاں شخص کو اپینڈکس ہو گیا ہے، کسی کا آج آپریشن ہے، اور کوئی کل آپریٹ ہوا ہے۔ ان مسلسل آپریشنز کی خبریں سن کر مجھے تشویش لاحق ہوئی۔ میں نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ان تمام متاثرہ افراد کی فہرست تیار کی، جس سے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ سال 2025 میں پورے شمشال گاؤں میں 24 افراد ایپنڈیسائٹس (Appendicitis) کے باعث آپریٹ ہوئے ہیں۔
ان میں سے اکثریت امین آباد سے تعلق رکھتی ہے ، یعنی 24 میں سے 20 افراد امین آباد کے رہائشی ہیں، 3 افراد سنٹر شمشال سے اور 1 فرد خُصر آباد سے آپریٹ ہوا ہے۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ان متاثرہ افراد میں زیادہ تر 10 سے 20 سال کے نوجوان شامل ہیں، اور اکثر آپریشن پچھلے تین مہینوں کے دوران کیے گئے ہیں۔
حال ہی میں ایک ایسے مریض سے ملاقات ہوئی جس کا آپریشن آغا خان ہیلتھ سنٹر علی آباد میں ہوا۔ اُس نے بتایا کہ اس کے علاج پر تقریباً ایک لاکھ روپے خرچ آیا۔ اگر اوسطاً ہر مریض کے لیے یہی لاگت مانی جائے تو مجموعی طور پر 24 لاکھ روپے کے قریب رقم خرچ ہوئی ہوگی۔
مالی پہلو اپنی جگہ، مگر اصل تشویش کی بات یہ ہے کہ صحت مند نوجوانوں میں اتنی بڑی تعداد میں ایپنڈیسائٹس کے کیسز کیوں سامنے آ رہے ہیں، اور وہ بھی خاص طور پر امین آباد میں؟
اس صورتحال کی وجوہات جاننے کے لیے مقامی محکمۂ صحت، شمشال ہیلتھ کیئر سینٹر، محکمۂ صحت ہنزہ، اسماعیلی کونسل کے ہیلتھ پورٹ فولیو کے چیئرمین اور اسماعیلی لوکل کونسل شمشال جیسے اداروں کو فوری طور پر توجہ دینی چاہیے۔ ان اداروں کو چاہیے کہ وہ مشترکہ طور پر اس مسئلے پر تحقیق کریں اور یہ تعین کریں کہ آیا اس بیماری کے بڑھنے کی وجہ پانی، خوراک، ماحول یا کوئی اور عنصر تو نہیں۔
شمشال جیسے علاقے میں اس تیزی سے ایپنڈیسائٹس کے کیسز بڑھنا یقیناً ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ ہے، جس کی بروقت تحقیق اور حل ازحد ضروری ہے۔
مسعود علی
امین آباد شمشال
مورخہ 30 اکتوبر 2025