24/06/2026
گلگت بلتستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک بات انتہائی اہم ہے کہ تمام سیاسی قیادت خطے کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دے۔ میری نظر میں امجد حسین ایڈووکیٹ صاحب، جو پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، اور حافظ حفیظ الرحمن صاحب، جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما ہیں، دونوں گلگت بلتستان کی سیاست میں مؤثر مقام رکھتے ہیں۔ دونوں نے مختلف ادوار میں عوامی نمائندگی کی ہے اور اپنی اپنی جماعتوں میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
اگرچہ دونوں مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہیں اور جمہوری سیاست میں اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہے، لیکن جب بات گلگت بلتستان کی ترقی، روزگار، تعلیم، صحت، سیاحت، انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح کی ہو تو سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر مشترکہ مفاد کے لیے تعاون کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی وفاق میں موجودگی اور مسلم لیگ (ن) کی قومی سطح پر سیاسی اثر و رسوخ، دونوں گلگت بلتستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ان روابط اور سیاسی قوت کو صرف عوامی مفاد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اگر امجد حسین ایڈووکیٹ صاحب بطور وزیر اعلیٰ وفاق کے ساتھ مؤثر روابط استوار کریں اور حافظ حفیظ الرحمن صاحب اپنی سیاسی حیثیت اور تجربے کو خطے کے اجتماعی مفاد کے لیے بروئے کار لائیں، تو ترقیاتی منصوبوں، سرمایہ کاری اور بنیادی سہولیات کے حصول کے امکانات مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔
عوام اب محض سیاسی نعروں سے آگے بڑھ کر عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ لوگ بہتر سڑکیں، معیاری تعلیمی ادارے، جدید طبی سہولیات، نوجوانوں کے لیے روزگار، صاف اور خوبصورت شہر اور شفاف طرزِ حکمرانی کے خواہاں ہیں۔ یہ مقاصد صرف اس صورت میں حاصل ہو سکتے ہیں جب حکومت اور اپوزیشن دونوں تعمیری کردار ادا کریں۔
اگر امجد حسین ایڈووکیٹ صاحب اور حافظ حفیظ الرحمن صاحب ذاتی یا جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر گلگت بلتستان کے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھیں، تو نہ صرف گلگت شہر بلکہ پورا گلگت بلتستان ترقی، خوشحالی اور بہتر طرزِ حکمرانی کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔ یہی وہ سیاسی رویہ ہے جس کی آج عوام کو سب سے زیادہ ضرورت اور امید ہے۔