Gilgit TV

Gilgit TV Gilgit TV is a Gilgit based media organisation aiming to aware the world all about Gilgit-Baltistan through infotainment, entertainment and education.

Gilgit Baltistan is the capital of tourism in Pakistan. Gilgit Baltistan is home to some of the highest peaks in the world, including K2 the second highest peak in the world. Gilgit Baltistan's landscape includes mountains, lakes, glaciers and valleys. The most famous and beautiful valleys and national parks are present here.i-e Deosai National park, Khunjarab national park, Astore Minimarg valle

y, Domail,Rupal Terishing, Hunza Valley, Attabad Lake, Nalter valley, skardu, Shigar, Fare medous etc.

استور سے انتہائی لرزہ خیز اور دل دہلا دینے والی خبراستور کے علاقے دادو جیل رٹو سے تعلق رکھنے والی ایک غیر شادی شدہ خاتون...
04/08/2026

استور سے انتہائی لرزہ خیز اور دل دہلا دینے والی خبر

استور کے علاقے دادو جیل رٹو سے تعلق رکھنے والی ایک غیر شادی شدہ خاتون کے ساتھ پیش آنے والا مبینہ واقعہ انتہائی افسوسناک، تشویشناک اور فوری تحقیقات کا متقاضی ہے۔

ذرائع کے مطابق دادو جیل سے تعلق رکھنے والی خاتون تقریباً ایک سال قبل ناصر آباد گاؤں میں مبینہ طور پر حاملہ ہوئی۔ بعد ازاں اسے گلگت کے شہید سیف الرحمن اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹروں نے اسقاطِ حمل سے انکار کیا تھا۔ بچے کی پیدائش کے بعد بچے کے حوالے سے بھی مختلف سوالات اور متضاد اطلاعات سامنے آئیں۔

واقعے کی اطلاع گاؤں میں پھیلنے کے بعد مبینہ طور پر رٹو گاؤں کی کمیٹی نے معاملے کی چھان بین کے نام پر خاتون سے پوچھ گچھ شروع کی۔ خاتون نے مبینہ طور پر چار لڑکوں کے نام لیے، جن میں سے ایک نوجوان، جو کراچی میں مقیم تھا، کو گاؤں بلایا گیا۔ مذکورہ نوجوان نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اس معاملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔

الزام ہے کہ اس کے باوجود خاتون کو مسلسل ذہنی دباؤ اور مبینہ طور پر شدید دباؤ میں رکھا گیا۔ بعد ازاں جو اطلاعات سامنے آئی ہیں وہ انتہائی خوفناک ہیں مبینہ طور پر خاتون کو دریا میں پھینک دیا گیا، جس سے اس کی موت واقع ہوگئی، اور بعد میں واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ خاتون کی لاش دریا سے ملنے کے بعد پولیس کو مبینہ طور پر پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کیا گیا۔

❗ سوال یہ ہے کہ اگر یہ خودکشی تھی تو پوسٹ مارٹم سے انکار کیوں؟

❗ خاتون کو مسلسل دباؤ میں کیوں رکھا گیا؟

❗ رٹو گاؤں کی کمیٹی نے اس معاملے میں کیا کردار ادا کیا؟

❗ پولیس نے اس معاملے کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کیوں نہیں کیں؟

❗ خاتون کی موت کے اصل حقائق عوام کے سامنے کیوں نہیں لائے جا رہے؟

ہم آئی جی گلگت بلتستان اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور استور پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کا فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ نوٹس لیا جائے۔

لاش کا مکمل میڈیکل اور فرانزک ریکارڈ محفوظ کیا جائے، تمام متعلقہ افراد کو شاملِ تفتیش کیا جائے، رٹو گاؤں کی کمیٹی کے مبینہ کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی شخص یا گروہ کا قتل میں ملوث ہونا ثابت ہو تو کسی دباؤ یا اثر و رسوخ کے بغیر قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

ایک عورت کی زندگی کوئی پنچایت، کمیٹی یا جرگہ ختم نہیں کر سکتا۔

03/08/2026
27/07/2026

آئی پی پی کے وزراء نے حلف لینے سے انکار
حلف برداری تقریب میں شرکت تک نہیں کی۔

15/07/2026

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی فرمان علی رانا نے پولیس جوانوں کی پوسٹنگ کے معاملے پر گلگت بلتستان اسمبلی کے ایوان میں آواز اٹھا دی۔

09/07/2026

فدا محمد ناشاد کو سپریم اپیلٹ کورٹ نے نااہل قراردے دیا ۔

اہم وضاحتسوشل میڈیا پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار و سابق صوبائی وزیر بلدیات فرمان علی رانا سے منسوب ایک AI وی...
03/06/2026

اہم وضاحت

سوشل میڈیا پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار و سابق صوبائی وزیر بلدیات فرمان علی رانا سے منسوب ایک AI ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں آواز کو ڈبنگ اور ایڈیٹنگ کے ذریعے تبدیل کیا گیا ہے۔ یہ ویڈیو مکمل طور پر جعلی، من گھڑت اور گمراہ کن ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ عوام سے گزارش ہے کہ ایسی جھوٹی اور بے بنیاد ویڈیوز پر یقین نہ کریں۔

شکریہ

میجر (ر) فہد حنیف اور دو سالہ "توقفِ ملازمت" کا آئینی تنازع اور  مستقبل میں 62 ون ایف کے تحت 5 سالہ نااہلی کی تلوار؟.تحر...
29/05/2026

میجر (ر) فہد حنیف اور دو سالہ "توقفِ ملازمت" کا آئینی تنازع اور مستقبل میں 62 ون ایف کے تحت 5 سالہ نااہلی کی تلوار؟.

تحریر : ابرار حسین استوری صحافی کالم نگار سپریم کورٹ رپورٹر

گلگت بلتستان کے انتخابات 2026ء میں انتخابی حلقہ GBLA-13 (استور-ون) سے میجر (ریٹائرڈ) فہد حنیف خان کی نامزدگی ایک سنگین آئینی، قانونی اور سیاسی بحث کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس وقت بنیادی قانونی سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا کوئی ایسا شخص جو افواجِ پاکستان، سول سروس، نیم سرکاری ادارے یا حکومت کے زیرِ انتظام کسی بھی ادارے کی ملازمت سے حال ہی میں سبکدوش ہوا ہو—دو سالہ لازمی توقفِ ملازمت (کولنگ پیریڈ) کی مدت پوری کیے بغیر عوامی نمائندگی کے لیے انتخابی دنگل میں اتر سکتا ہے یا نہیں؟

آئینی و قانونی حیثیت

آئینِ پاکستان، انتخابی قوانین (الیکشن ایکٹ) 2017ء، حکومتِ گلگت بلتستان آرڈر 2018ء اور عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ) کے متعدد عدالتی نظائر کی روشنی میں اس سوال کا جواب بالکل واضح اور دو ٹوک ہے:

کوئی بھی حاضر سروس یا حال ہی میں ریٹائر ہونے والا سرکاری ملازم اپنی ملازمت کے خاتمے کے بعد، مکمل دو سال گزرنے سے پہلے انتخاب لڑنے کا اہل نہیں ہوتا۔ قانون کی نظر میں اس لازمی مدت میں ایک دن کی کمی بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 63 (1) (ج) (ک) اور حکومتِ گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کے آرٹیکل 50 (2) (ہ) کے تحت یہ پابندی واضح طور پر عائد کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص حکومتِ پاکستان، گلگت بلتستان حکومت، کسی آئینی و قانونی ادارے، نیم سرکاری ادارے یا افواجِ پاکستان کی ملازمت میں رہا ہو، تو وہ اپنی سروس ختم ہونے کے بعد اس وقت تک انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکتا جب تک دو سال کی لازمی مدت پوری نہ ہو جائے۔

اس قانون کی روح اور مقصد
اس آئینی شرط کا مقصد محض ایک رسمی پابندی لگانا نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے گہرے جمہوری اصول کارفرما ہیں:

ریاستی اثر و رسوخ کا تدارک:

سبکدوشی کے فوری بعد سرکاری اختیارات، وسائل اور طاقت کے ناجائز سیاسی استعمال کو روکنا۔

حساس معلومات کا تحفظ:

عہدے کے دوران حاصل ہونے والی اندرونی یا حساس معلومات کو انتخابی فائدے کے لیے استعمال کرنے سے روکنا۔

برابر کے مواقع (مساوی انتخابی میدان):

یہ یقینی بنانا کہ تمام امیدوار یکساں اور منصفانہ بنیادوں پر انتخابی میدان میں اتریں تاکہ جمہوری عمل ش

15/05/2026

پی پی پی رہنما آپس میں لڑ پڑے۔

28/04/2026

گلگت بلتستان کے الیکشن کے حوالے سے پنجاب ہاوس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس ، وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما کیپٹن ر محمد صفدر، خواجہ سلمان رفیق، سینٹر نزہت عامر ، سابق وفاقی وزیر برجیس طاہر ، سینٹر پرویز رشید ، سینٹر انوشہ رحمان ، سابق صوبائی وزیر قاضی اسد، اشرف سدا ، ممبر صوبائی اسمبلی شازیہ جدون ، آرمان شاہ بھی اس موقع پر موجود تھے

گلگت : الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر ایک مبینہ ڈسکوالیفکیشن آرڈر گر...
23/04/2026

گلگت : الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر ایک مبینہ ڈسکوالیفکیشن آرڈر گردش کر رہا ہے جسے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان سے منسوب کیا جا رہا ہے اس حوالے سے واضح کیا جاتا ہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشن مکمل طور پر جعلی، من گھڑت اور بے بنیاد ہے اور اس کا الیکشن کمیشن گلگت بلتستان سے کوئی تعلق نہیں ہے زیر گردش لیٹر پیڈ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کا مستند لیٹر پیڈ نہیں ہے جبکہ اس پر موجود دستخط بھی چیف الیکشن کمشنر کے اصل دستخط نہیں ہیں اور الیکشن کمیشن کی جانب سے اس نوعیت کا کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان اس جعلی دستاویز کے اجراء اور تشہیر کی سختی سے تردید کرتا ہے اور اسے عوام کو گمراہ کرنے کی ایک مذموم کوشش قرار دیتا ہے تمام شہریوں سیاسی جماعتوں اور میڈیا نمائندگان سے گزارش ہے کہ غیر مصدقہ اور جعلی معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر انحصار کریں مزید برآں اس جعلی دستاویز کی تیاری اور تشہیر میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے اور جس نے بھی یہ حرکت کی ہے اس کے خلاف سائبر کرائم کی دفعات کے تحت باقاعدہ انویسٹیگیشن کی جائے گی اور ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

*جاری کردہ*
*شعبہ تعلقات عامہ*
*الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ، گلگت بلتستان*

Address

Gilgit

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gilgit TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share