04/08/2026
استور سے انتہائی لرزہ خیز اور دل دہلا دینے والی خبر
استور کے علاقے دادو جیل رٹو سے تعلق رکھنے والی ایک غیر شادی شدہ خاتون کے ساتھ پیش آنے والا مبینہ واقعہ انتہائی افسوسناک، تشویشناک اور فوری تحقیقات کا متقاضی ہے۔
ذرائع کے مطابق دادو جیل سے تعلق رکھنے والی خاتون تقریباً ایک سال قبل ناصر آباد گاؤں میں مبینہ طور پر حاملہ ہوئی۔ بعد ازاں اسے گلگت کے شہید سیف الرحمن اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹروں نے اسقاطِ حمل سے انکار کیا تھا۔ بچے کی پیدائش کے بعد بچے کے حوالے سے بھی مختلف سوالات اور متضاد اطلاعات سامنے آئیں۔
واقعے کی اطلاع گاؤں میں پھیلنے کے بعد مبینہ طور پر رٹو گاؤں کی کمیٹی نے معاملے کی چھان بین کے نام پر خاتون سے پوچھ گچھ شروع کی۔ خاتون نے مبینہ طور پر چار لڑکوں کے نام لیے، جن میں سے ایک نوجوان، جو کراچی میں مقیم تھا، کو گاؤں بلایا گیا۔ مذکورہ نوجوان نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اس معاملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔
الزام ہے کہ اس کے باوجود خاتون کو مسلسل ذہنی دباؤ اور مبینہ طور پر شدید دباؤ میں رکھا گیا۔ بعد ازاں جو اطلاعات سامنے آئی ہیں وہ انتہائی خوفناک ہیں مبینہ طور پر خاتون کو دریا میں پھینک دیا گیا، جس سے اس کی موت واقع ہوگئی، اور بعد میں واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ خاتون کی لاش دریا سے ملنے کے بعد پولیس کو مبینہ طور پر پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کیا گیا۔
❗ سوال یہ ہے کہ اگر یہ خودکشی تھی تو پوسٹ مارٹم سے انکار کیوں؟
❗ خاتون کو مسلسل دباؤ میں کیوں رکھا گیا؟
❗ رٹو گاؤں کی کمیٹی نے اس معاملے میں کیا کردار ادا کیا؟
❗ پولیس نے اس معاملے کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کیوں نہیں کیں؟
❗ خاتون کی موت کے اصل حقائق عوام کے سامنے کیوں نہیں لائے جا رہے؟
ہم آئی جی گلگت بلتستان اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور استور پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کا فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ نوٹس لیا جائے۔
لاش کا مکمل میڈیکل اور فرانزک ریکارڈ محفوظ کیا جائے، تمام متعلقہ افراد کو شاملِ تفتیش کیا جائے، رٹو گاؤں کی کمیٹی کے مبینہ کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی شخص یا گروہ کا قتل میں ملوث ہونا ثابت ہو تو کسی دباؤ یا اثر و رسوخ کے بغیر قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
ایک عورت کی زندگی کوئی پنچایت، کمیٹی یا جرگہ ختم نہیں کر سکتا۔