Wershigoom Times

Wershigoom Times السلام و علیکم قارئین!یہ ایک میڈیا نیوز کمپنی ہے۔۔

04/04/2026

اطلاع برائے عوالناس
NHA/RA-DC
GSR PROJECT
تمام ٹرانسپورٹرز،گاڈی مالکان اور مسافر خضرات کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ مورخہ۔4 سے 6 اپریل 2026 بروز ہفتہ، اتوار اور پیر کو گاہکوچ تا گوپس یاسین سیکشن ہوپر پڑی کے مقام پر پہاڑوں کی بلاسٹنگ کی وجہ سے ٹریفک کے لئے روڈ بند رہیگا۔
ٹرانسپورٹرز،گاڈی مالکان اور مسافر خضرات شیڈول کے مطابق سفر کرے۔
آپکے تعاون کا شکریہ
جاری کردہ
NHA/RA-DC
GSR PROJECT

01/03/2026

‏جب چی گویرا کو اُس کے ٹھکانے سے گرفتار کیا گیا،
اور بتایا گیا کہ یہ راز ایک چرواہے نے فاش کیا ہے
کسی نے چرواہے سے حیرت سے پوچھا
تم نے اُس شخص کو کیسے بیچا جو ساری زندگی تمہارے اور تمہارے حقوق کے لیے لڑتا رہا؟"

چرواہا بس اتنا بولا:

اس کی دشمنوں سے جنگ نے میری بکریوں کو ڈرا دیا تھا

برسوں پہلے، مصر میں عظیم قائد محمد کریم نے نپولین کی قیادت میں آنے والے فرانسیسی لشکر کی مزاحمت کی۔
گرفتار ہونے پر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔
نپولین نے انہیں بلا کر کہا

مجھے افسوس ہے کہ ایک ایسے شخص کو قتل کرنا پڑ رہا ہے
جس نے اپنے وطن کا اتنی بہادری سے دفاع کیا۔
میں نہیں چاہتا کہ تاریخ مجھے ایسے شخص کے طور پر یاد رکھے
جس نے اپنی سرزمین کے لیے لڑنے والے ہیروز کو مار ڈالا۔
اس لیے میں تمہیں معاف کرتا ہوں — اگر تم دس ہزار سونے کے سکے ادا کرو
جو ہمارے مارے گئے سپاہیوں کا معاوضہ ہوں۔

محمد کریم مسکرا کر بولے
میرے پاس اتنے نہیں ہیں، مگر تاجروں پر میرے سو ہزار سے زیادہ سونے کے سکے واجب الادا ہیں۔

نپولین نے مہلت دی۔ وہ ہتھکڑیاں پہنے، قبضے کے سپاہیوں سے گھرا ہوا بازار پہنچا
ان کے پاس یہ امید تھی کہ جن کے لیے اپنی جان داؤ پر لگائی
وہ اب وفا کا ثبوت دیں گے۔
مگر ایک بھی تاجر نے جواب نہ دیا۔
الٹا اُن پر الزام لگایا کہ تم نے اسکندریہ کو برباد کیا
اور ان کے کاروبار کو تباہ کیا۔
محمد کریم ٹوٹے دل کے ساتھ نپولین کے سامنے واپس آئے
تو نپولین نے کہا
میں تمہیں اس لیے قتل نہیں کر رہا کہ تم نے ہم سے جنگ کی
بلکہ اس لیے کہ تم نے اپنی جان ایسے بزدل لوگوں کے لیے قربان کی
جن کے لیے تجارت، وطن کی آزادی سے زیادہ قیمتی تھی۔

اور محمد رشید رضا نے کہا تھا:

ایک سوئے ہوئے قوم کے لیے انقلاب لانے والا
ایسا ہے جیسے کوئی شخص اندھے کے راستے کو روشن کرنے کے لیے
اپنے جسم کو آگ لگا دے۔.

23/01/2026

امن کیلئے پیش کی گئی قرارداد کو دس مرتبہ ویٹو کرنے والا امریکہ واقع غزہ میں امن چاہتا ہے یا صرف چورن بیچ رہا ہے امن کے نام؟

مصعب بن عمیرؓ: شہزادگی سے شہادت تک کا سفرقلم جب تاریخ کے اوراق پر رکے تو کچھ نام ایسے ملتے ہیں جو اپنی قربانی، صبر اور ا...
05/09/2025

مصعب بن عمیرؓ: شہزادگی سے شہادت تک کا سفر

قلم جب تاریخ کے اوراق پر رکے تو کچھ نام ایسے ملتے ہیں جو اپنی قربانی، صبر اور اخلاص کے باعث ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتے ہیں۔ انہی ناموں میں سے ایک نام ہے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا۔ ایک ایسا نوجوان جو دولت و شہرت کا شہزادہ تھا، لیکن ایمان کی دولت نے اسے سب سے بڑا مقام عطا کردیا۔

مکہ کا شہزادہ

مصعبؓ مکہ کے ایک دولت مند گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نرم بستر، خوشبوئیں، اعلیٰ لباس، اور شان و شوکت ان کی زندگی کا حصہ تھی۔ روایتوں میں آتا ہے کہ اگر کوئی مکہ کی گلیوں میں خوشبو محسوس کرتا تو پہچان لیتا کہ یہ مصعبؓ گزرے ہیں۔

لیکن یہ شہزادہ جب نبی آخر الزمان ﷺ کی مجلس میں بیٹھا، قرآن سنا، اور ایمان کی روشنی دل میں اتری تو کفر کے سارے بت ٹوٹ گئے۔

ماں کا غصہ اور خاندان کا ظلم

جب ماں کو خبر ملی کہ مصعبؓ نے اسلام قبول کرلیا ہے تو وہ سخت غصے میں آگئی۔ خاندان والوں نے قید کیا، کپڑے اور زیورات چھین لیے۔ ان کے پاس صرف ایک پرانی چادر رہ گئی۔ لیکن یہ سب کچھ بھی ان کے ایمان کو متزلزل نہ کرسکا۔

ایک دن وہ ماں کی سختی سے تنگ آکر ہجرت کی تیاری کرنے لگے۔ ماں نے کہا:
"اگر تُو محمد کے دین پر قائم رہا تو تجھے اپنا بیٹا نہیں مانوں گی۔"
مصعبؓ نے نہایت سکون سے جواب دیا:
"ماں! میں نے محمد ﷺ کے دین کو قبول کیا ہے، اب کسی چیز کے لیے واپس نہیں مڑوں گا۔"

یوں قریش کا شہزادہ ایمان کا مجاہد بن گیا۔

اسلام کا پہلا سفیر

نبی کریم ﷺ نے جب مدینہ والوں سے اسلام کی بیعت لی تو وہاں دین کی تعلیم کے لیے کسی شخصیت کی ضرورت تھی۔ آپ ﷺ نے مصعب بن عمیرؓ کو منتخب کیا۔

وہ مدینہ گئے اور قرآن کی تلاوت اور حسنِ کردار کے ذریعے پورے شہر کو بدل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اسلام کا پہلا سفیر کہا جاتا ہے۔ یثرب کی بستی انہی کی محنتوں سے "مدینہ منورہ" بنی۔

احد کا دن

غزوۂ احد کے دن مصعبؓ کو پرچمِ اسلام تھمانے کا اعزاز ملا۔ دشمن نے ان پر شدید حملہ کیا۔ ایک ہاتھ کٹا تو دوسرے ہاتھ سے پرچم تھام لیا، دوسرا ہاتھ بھی کٹ گیا تو پرچم کو سینے سے لگا لیا۔ بالآخر جامِ شہادت نوش کیا۔

جب ان کا جنازہ آیا تو صحابہؓ رو پڑے۔ کیونکہ کفن کے لیے صرف ایک چادر تھی۔ اگر سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہوجاتے، اگر پاؤں ڈھانپتے تو سر کھل جاتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مصعب کو اس چادر سے ڈھانپ دو اور پاؤں پر گھاس ڈال دو۔"

عظیم سبق

مصعب بن عمیرؓ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ایمان کا راستہ قربانی مانگتا ہے۔ آج ہم دولت، عزت، اور دنیاوی آسائشوں کو سب کچھ سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل کامیابی ایمان کی دولت ہے۔

مصعبؓ کے پاس نہ گھر بچا، نہ کپڑے، نہ مال و دولت۔ لیکن آج چودہ سو سال بعد بھی ان کا نام سن کر دلوں میں عقیدت کے چراغ جلتے ہیں۔

---

🔹 ایک طرف وہ مکہ کا سب سے خوش پوش نوجوان تھے،
🔹 اور دوسری طرف وہ مدینہ کے قبرستان میں ایک پرانی چادر کے ساتھ دفن ہوئے۔

یہی ہے ایمان کی اصل قیمت اور قربانی کی اصل شان۔

31/08/2025

Follow 👉 Front Page Pakistan
A Sikh student, from Lahore, Onkar Singh, has delivered a phenomenal performance in the 9th class examinations, scoring 554 out of 555 marks and setting a powerful example of hard work and dedication.

Excelling beyond expectations, Onkar—who appeared through a private school—chose Islamic Studies, and Holy Qura'n, translation despite being offered alternative subjects typically provided to minority students. He then backed that choice with outstanding results, securing 98/100 in Islamic Studies, and 49/50 in Holy Quran, translation.

Teachers and peers have lauded his achievement, as a milestone for interfaith learning and academic merit. Education observers say Onkar’s success showcases, how curiosity, discipline, and respect for diverse subjects can open doors and challenge stereotypes.

Disclaimer: This content is shared solely for educational, informational, and journalistic purposes. Image is AI-generated and used for creative purposes only.

31/08/2025

ابن خلدون تاریخ کے بڑے دماغوں میں سے ایک دماغ تھا اس نے ایک عجیب بات کہی!
اگر مجھے ظالم حکمرانوں اور غلاموں میں سے کسی ایک کو مٹانے کا اختیار ملے
تو میں غلاموں کو مٹا دوں گا کیونکہ یہ غلام ہی ہیں جنہوں نے ظالم حکمران پیدا کیے ہیں
سوچ کی غلامی ملک و قوم کو تباہ کر دیتی.

خوش خبری!یاسین سنٹر میں نیشنل بینک کے عقب میں ڈاکٹر عارف علی نے اپنے  کلینک کا افتتاح کیا۔اس اقدام سے یاسین ,نازبر بوجای...
21/08/2025

خوش خبری!
یاسین سنٹر میں نیشنل بینک کے عقب میں ڈاکٹر عارف علی نے اپنے کلینک کا افتتاح کیا۔اس اقدام سے یاسین ,نازبر بوجایوٹ,منیچ,نوح,طاؤس اور گردنواح کے لوگوں کو فائدہ پہنچےگا اور یہاں پہ ایک کوالیفائڈ ڈاکٹر کی کمی پوری ہوگئی۔کلینک میں متعدد قسم کے بیماریوں کا تسلی سے تشخیص اور علاج کیا جائے گا۔ نیز کلینک میں لیبارٹری کی بھی سہولت موجود ہوگی اور متعدد قسم کے ٹیسٹ کئے جائیں گے۔ اس اقدام سے لوگوں کو گلگت اور گاہکوچ کے سہولیات اپنے علاقے میں میسر ہونگی۔
Clinic name :ASH Medicine Surgical and Cosmetics
Address:Yasin centre behind National Bank
Doctor: Dr-Arif Ali
MBBS,RMP,GENERAL PHYSICIAN
Experienced from DOW Karachi.
Clinic Timiming : Daily 2pm to 6pm
Friday:12pm to 6pm
Sunday: 8am to 6pm

19/08/2025

ڈاکٹر قدیر خان کے 2 احسانات
ایٹم بم اور معافی نامی ۔
کہانی جو سننے کے لائق ہے

شروع کرتے ہیں 1985 سے جب عالمی سطح پر سرگوشیاں ہونے لگیں کہ پاکستان ایٹم بنا چکا ہے ۔ کولڈ ٹسٹ کی خبریں لیک ہو چکی تھیں ۔ لیکن دنیا کے پاس ثبوت کوئی نہیں تھا ۔
ہوا یوں کہ
مئی 2003 میں ایران کے ایک باغی گروہ نے ایرانی یورینیم انرچمنٹ پلانٹ کی خبر امریکہ کو پہنچا دی ۔ ایران پر شدید دباؤ آیا۔ ایران کو بتانا پڑا کہ ہمارا پروگرام پُرامن مقاصد کے لئے ہے ، بم بنانے کیلئے نہیں ۔
ایران پر جانچ کروانے کی شرط عائد ہوئی ۔

جب جولائی 2003 میں عالمی انسپکشن ٹیم ایران پہنچی تو پلانٹ میں نصب 100 سینٹری فیوجز دیکھ کر ہی سمجھ گئی کہ یہ وہی ڈیزائن ہے جو ہالینڈ کی کمپنی سے غائب ہوئے تھے جب ڈاکٹر قدیر وہاں کام کرتے تھے۔

ایران نے کہا کہ تمام سینٹری فیوج اسنے خود تیار کئے ہیں ۔ تب ٹیم نے ان سائٹس کا معائنہ کروانے کا مطالبہ کر دیا جہاں ایران نے یہ تیار کئے تھے ۔
تب ایران کو تسلیم کرنا پڑا کہ اس نے یہ پلانٹ و آلات باہر کے زرائع سے حاصل کئے ہیں ، بہرحال پاکستان کا نام نہیں لیا گیا ۔۔۔
لیکن انسپکشن ٹیم کا پورا شک پاکستان پر تھا ۔

پھر ہوا یوں کہ ٹھیک دو ماہ بعد اکتوبر 2003 میں برطانوی انٹیلیجنس MI6 کو اطلاع ملی کہ ملیشیا سے 4 کنٹینر براستہ دوبئی لیبیا جا رہے ہیں جن میں یورینیم انرچمنٹ پلانٹ کے حساس آلات ہیں ۔ اطلاع اتنی گہری تھی کہ کنٹینرز کے نمبر تک بتائے گئے ۔
امریکی، برطانوی اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی متحرک ہوئیں اور نہر سویز پار کرنے کے بعد مال بردار جہاز کا رخ جرمنی کی بندرگاہ کیطرف موڑ دیا گیا ۔
تلاشی ہوئی ۔ اطلاع درست نکلی ۔ چاروں کنٹینرز میں پاکستانی ساختہ پلانٹ برآمد کر لیا گیا ۔

لیبیا اور پاکستان دونوں پھنس گئے ۔ لیبیا کی بھی تلاشی لی گئی ۔ وہاں سے ویسے ہی بلوپرنٹ ملے جو ڈاکٹر قدیر ہالینڈ سے ساتھ لائے تھے

یہاں یہ بات بتانی ضروری ہے کہ ایک یورینیم انرچمنٹ یونٹ کا سائز آتنا بڑا ہوتا ہے کہ بمشکل دو یا تین کنٹینرز میں سما پاتا ہے جبکہ پورے پلانٹ کے لئے سینکڑوں یونٹ درکار ہوتے ہیں
اندازہ لگا لیجیے کہ ایران کے پاس جو 100 یونٹ تھے اور ابھی 900 مزید جانے تھے ان کے لئے کتنے کنٹینر پاکستان سے نکلے ہونگے اور کتنے سال لگے ہونگے ؟
مزے کی بات یہ کہ ایران ، لیبیا ، کوریا اور نجانے کس کس ملک کو اتنی بڑے پیمانے کی شپمنٹ 24 گھنٹے ایجنسیوں کی نگرانی میں رہنے والا ڈاکٹر قدیر خان اور اس کے چند ساتھی کر رہے تھے لیکن ریاست کو سالہاسال خبر نہ ہوئی ۔

دوسرا یہ کہ ایک ایک سودا اربوں ڈالر کا تھا لیکن یہ ڈالر کب ، کیسے اور کن ذرائع یا اکاؤنٹس سے ڈاکٹر قدیر خان تک پہنچے کا ایک ادنیٰ ثبوت نہ مل سکا ۔ نہ پاکستان کو نہ امریکہ یا برطانیہ کو ۔

آگے چلئے

پھر جنرل مشرف اور ڈاکٹر صاحب کے درمیان ایک ون ٹو ون ملاقات ہوتی ہے جس میں ہوئی باتوں کا کوئی ایک بھی گواہ نہیں ۔ لیکن بعد ازاں اس ملاقات کی جنرل مشرف اور ڈاکٹر قدیر خان کے زبانی سامنے آئی کہانی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔

بہرکیف ملاقات کے بعد
ڈاکٹر صاحب کو سرکاری تحویل میں لے کر جنرل مشرف ریاستی سطح پر ایٹمی پھیلاؤ کے جرم میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے مدعا ایٹمی سائنسدان پر ڈال دیتا ہے ۔
ڈاکٹر قدیر ملک کی خاطر ٹی وی پر قوم سے معافی مانگتے ہیں جبکہ جنرل مشرف ڈاکٹر صاحب کی معافی قبول کرتے ہوئے انہیں امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیتا ہے ۔

مشرف کے کہنے پر میجر جنرل خالد قدوائی ایک پریزنٹیشن تیار کر کے امریکہ کو دیکھاتا ہے کہ کس طرح ہم نے ڈاکٹر قدیر کا نیٹ ورک ختم کر دیا ہے ۔ یہ باتیں میدیا کو بھی بتائی جاتی ہیں ۔
امریکہ سے کہا جاتا ہے کہ دنیا کے ہر ملک نے ایٹمی صلاحیت کسی نہ کسی دوسرے ملک سے خفیہ حاصل کی ہے ۔ امریکہ اور فرانس نے بھی تو یہ صلاحیت جرمنی سے چوری حاصل کی تو پھر اکیلا پاکستان سزا کیوں بھگتے ؟
امریکہ اپنے پیارے مشرف کی بات مان لیتا ہے اور قصہ ختم شدہ

لیکن اس کہانی نے جن سوالات کو جنم دیا آخر میں وہ سوال دوہرا دیتا ہوں

1- کیا ڈاکٹر قدیر اکیلا اتنا بڑا اور خطرناک نٹ ورک چلا سکتا تھا ؟

2- وہ اربوں ڈالر کہاں ہیں جو ایران ، لیبیا وغیرہ وغیرہ سے حاصل ہوئے ؟؟

3- ڈاکٹر قدیر کے خلاف معلومات صرف اور صرف دو چار جنرلز تک کیوں محدود ہیں ۔ اتنے بڑے نٹ ورک کا کیا اور کوئی گواہ نہیں ؟؟

4- ڈاکٹر قدیر خان کو نالائق و لالچی ظاہر کرنے کے لئے جنرل مشرف کو پرویز ہود بھائی اور موجودگی ڈی جی ISPR کے والد سائنسدان سلطان محمود بشیر کے علاؤہ کوئی نہ ملا ؟

ہماری تو تاریخ ہی معافیوں کی فرمائش گری سے بھری پڑی ہے

فاطمہ جناح سے معافی کا مطالبہ
مجیب الرحمٰن سے معافی کا مطالبہ
بنگالیوں سے معافی کا مطالبہ
بھٹو سے معافی کا مطالبہ
بگٹی سے معافی کا مطالبہ
ائیر چیف اصغر خان سے مطالبہ
بینظیر سے مطالبہ
مہاجروں سے مطالبہ
نواز شریف سے مطالبہ
ڈاکٹر عبد القدیر خان سے مطالبہ
تحریک انصاف سے مطالبہ
پریس کانفرنسوں کا مطالبہ
ماہ رنگ بلوچ سے مطالبہ
اور اب
عمران خان سے معافی کا مطالبہ

اللّٰہ تعالیٰ ایسی معافیاں طلب کرنے والوں سے پاکستان کو پناہ عطا فرمائے ۔

🔬 ڈاکٹر سمیرا موسیٰ: وہ جو ایٹم کو امن کا ذریعہ بنانا چاہتی تھیں، مگر خاموش کر دی گئیں!تحریر: ندیم ملک🌸 ایک خواب... جو س...
01/08/2025

🔬 ڈاکٹر سمیرا موسیٰ: وہ جو ایٹم کو امن کا ذریعہ بنانا چاہتی تھیں، مگر خاموش کر دی گئیں!

تحریر: ندیم ملک

🌸 ایک خواب... جو سائنس کی سرحدیں پار کر گیا!

3 مارچ 1917 کو مصر کے "زیفتا" نامی گاؤں میں ایک لڑکی نے آنکھ کھولی جس نے مستقبل کی سائنس کو لرزا کر رکھ دینا تھا۔ یہ تھیں ڈاکٹر سمیرا موسیٰ — عرب دنیا کی پہلی خاتون ایٹمی سائنسدان، جنہوں نے نہ صرف سائنس کی دنیا میں نام کمایا بلکہ خواتین کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی۔

📘 علم کی دنیا میں پہلا قدم: "ریاضی کی کتاب میں غلطی پکڑنے والی بچی"
سمیرا موسیٰ کی ذہانت بچپن سے ہی ظاہر ہو چکی تھی۔ صرف سیکنڈری اسکول کے پہلے سال میں ہی انہوں نے ریاضی (الجبرہ) کی سرکاری کتاب میں موجود غلطیاں درست کیں، اور پھر اپنے والد کے خرچ پر وہ کتاب شائع کروا کر مفت تقسیم کی۔ (ماخذ: Egypt Independent, 2018)

🎓 مصر کی پہلی خاتون ایٹمی ماہر: سائنس کے دروازے پر پہلا دستک

سمیرا نے قاہرہ یونیورسٹی سے فزکس میں تعلیم حاصل کی اور فیکلٹی آف سائنس میں پہلی خاتون ٹیچنگ اسسٹنٹ بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب لڑکیوں کا اعلیٰ سائنسی تعلیم حاصل کرنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

🇬🇧 برطانیہ اور امریکہ کا علمی سفر: جہاں ایٹم کا راز کھلا

انہوں نے گیسز کی تھرمل کمیونیکیشن میں ماسٹرز کیا اور پھر برطانیہ کا رخ کیا، جہاں ایٹمی تابکاری (Atomic Radioactivity) اور ایکس رے کے اثرات پر کام کرتے ہوئے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ حیرت انگیز بات یہ کہ اپنا تحقیقی مقالہ صرف 1 سال 5 ماہ میں مکمل کر لیا! (ماخذ: The Arab Weekly, 2019)

☢️ "ایٹم سب کے لیے، جنگ کے بغیر": انقلابی خیال، جو جان کا دشمن بن گیا!

اپنی تحقیق میں سمیرا موسیٰ ایک ایسی مساوات پر پہنچی تھیں جس کے ذریعے تانبے جیسی سستی دھات کو بھی فِشن ری ایکشن کے ذریعے توانائی میں بدلا جا سکتا تھا۔ ان کا خواب تھا:

"ایٹمی توانائی کو دوا اور ترقی کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ تباہی کے لیے!"

وہ کہتی تھیں:
"ہم سب کے لیے ایٹم، نہ کہ جنگ کے لیے!"
(ماخذ: Middle East Monitor, 2020)

🕵️‍♀️ ایک سازش، ایک کار حادثہ، ایک خاموش موت

5 اگست 1952 کو امریکہ میں انہیں ایک لیبارٹری دورے کی دعوت دی گئی، جہاں وہ ایک "حادثے" میں جاں بحق ہو گئیں۔ لیکن تحقیق سے پتا چلا کہ یہ معمولی حادثہ نہیں تھا۔
یہ دراصل موساد (Mossad) کی ایک کارروائی تھی، جس نے ان کی زندگی کے ساتھ ساتھ، عرب دنیا کی سائنسی خودمختاری کا بھی گلا گھونٹ دیا۔
(ماخذ: Al Jazeera Documentary: "Who Killed Samira Moussa?")

---

🕯️ ورثہ جو زندہ ہے...

ڈاکٹر سمیرا موسیٰ آج بھی زندہ ہیں — ہر اس بچی کی آنکھ میں جو سائنس دان بننے کا خواب دیکھتی ہے، ہر اس نوجوان کے دل میں جو علم سے دنیا بدلنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

📌 حوالہ جات:

1. Egypt Independent – “Samira Moussa: Egypt’s first female nuclear scientist”, March 3, 2018

2. The Arab Weekly – “Samira Moussa, Egypt’s nuclear pioneer”, August 10, 2019

3. Middle East Monitor – “The story of Egypt’s forgotten nuclear physicist”, February 20, 2020

4. Al Jazeera Documentary – Who Killed Samira Moussa?, 2022

‏وائی فائی اور چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے ہر مہینے $6,128 کمانا ممکن ہے اور یہ کام اتنا آسان ہے کہ میری دادی اماں بھی اسے آر...
01/08/2025

‏وائی فائی اور چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے ہر مہینے $6,128 کمانا ممکن ہے اور یہ کام اتنا آسان ہے کہ میری دادی اماں بھی اسے آرام سے کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے صرف چار آسان اقدامات پر عمل کرنا ہوتا ہے، جنہیں کوئی بھی گھر بیٹھے، صرف انٹرنیٹ اور تھوڑے سے وقت کے ساتھ مکمل کر سکتا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی آپ کی رہنمائی کرتا ہے، کام آسان بناتا ہے، اور وقت کی بچت کرتا ہے۔ اگر آپ تھوڑا سیکھنے اور محنت کرنے کو تیار ہیں تو یہ موقع آپ کے لیے بھی ہے۔ آج ہی شروعات کریں اور اپنی آن لائن
آمدنی بڑھائیں۔
‏سب سے پہلے چیٹ جی پی ٹی پر جائیں۔ وہاں جا کر یہ پیغام لکھیں یا پیسٹ کریں:
"List the top 10 best-selling kitchen accessories on Amazon that cost more than $100."
چیٹ جی پی ٹی آپ کو فوراً ایسی پروڈکٹس کی فہرست دے گا جو ایمیزون پر سب سے زیادہ فروخت ہو رہی ہیں اور جن کی قیمت $100 سے زیادہ ہے۔ اس مثال میں، ہم ’نینجا بلینڈر‘ کا انتخاب کریں گے۔ یہ ایک مشہور اور قابلِ اعتماد کچن پروڈکٹ ہے جو خریداروں میں کافی مقبول ہے۔ آپ ان میں سے کوئی بھی پروڈکٹ منتخب کر سکتے ہیں اور اگلے مراحل پر عمل کر کے آن لائن کمائی شروع کر سکتے ہیں۔

‏اب چیٹ جی پی ٹی سے کہیں کہ وہ ایک ٹاپ 3 لسٹ بنائے۔ پھر یہ پیغام چیٹ جی پی ٹی میں پیسٹ کریں:
"Now I want you to write a 1000-word TOP3 script with 2 competitors of Ninja Blender mentioning the pros and cons of each product."
چیٹ جی پی ٹی فوراً ایک تفصیلی مضمون تیار کرے گا جس میں نینجا بلینڈر اور اس کے دو مقابل پروڈکٹس کے فائدے اور نقصانات بیان کیے جائیں گے۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس ٹیکسٹ سے پیسے کیسے کمائیں؟
تو بس اگلے مرحلے پر جائیں، جہاں ہم آپ کو بتائیں گے کہ اس مواد کو استعمال کر کے آمدنی کیسے حاصل کی جائے۔

‏اب Fliki AI ٹول کا استعمال کریں اور چیٹ جی پی ٹی سے حاصل کیا گیا ٹیکسٹ وہاں پیسٹ کریں۔ Fliki خود بخود ایک پروفیشنل ویڈیو تیار کرے گا جس میں ایک ورچوئل پریزینٹر (آواتار) آپ کے لکھے گئے مواد کو دلکش انداز میں پیش کرے گا۔ یہ ویڈیو پروڈکٹ کا موازنہ پیش کرے گی اور دیکھنے والوں کو متاثر کرے گی۔ صرف 10 منٹ میں آپ ایک معیاری ویڈیو بنا سکتے ہیں جو دیکھنے میں بالکل پروفیشنل لگے گی۔
یہی ویڈیو آپ کی کمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ نیچے دی گئی مثال دیکھیں کہ آخر نتیجہ کیسا ہوگا۔
‏اب اس ویڈیو کو یوٹیوب پر اپلوڈ کریں۔ پریشان نہ ہوں اگر آپ کے پاس ایک بھی سبسکرائبر نہیں آپ پھر بھی یہ کر سکتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ویڈیو کی تفصیل (Description) میں اپنا افیلیئیٹ لنک ضرور شامل کریں، تاکہ جب کوئی ویڈیو دیکھ کر پروڈکٹ خریدے، آپ کو کمیشن ملے۔
یہ ایک سادہ مگر مؤثر طریقہ ہے آن لائن آمدنی کمانے کا۔ اگلے مرحلے میں، میں آپ کو بتاؤں گا کہ آپ اس ایک ویڈیو سے کتنی کمائی کر سکتے ہیں اور اسے مزید کیسے بڑھایا جا سکتا ہے۔

‏نتیجہ یہ ہوگا کہ جو بھی شخص اس پروڈکٹ کو خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے، وہ آپ کی ویڈیو تک ضرور پہنچے گا۔ جیسے ہی وہ ویڈیو دیکھے گا اور آپ کے دیے گئے افیلیئیٹ لنک پر کلک کر کے خریداری کرے گا، آپ کو ہر سیل پر تقریباً $23.12 تک کمیشن ملے گا۔
یعنی ایک بار ویڈیو اپلوڈ کر دینے کے بعد، بغیر کسی اضافی محنت کے، آپ بار بار کمائی کر سکتے ہیں۔ یہی سمارٹ ورک ہے ایک ویڈیو، مستقل آمدنی۔ تو دیر نہ کریں، آج ہی یہ طریقہ آزمائیں اور اپنی آن لائن آمدنی کی شروعات کریں۔

 🌍یقیناً! لداخ ایک انتہائی خوبصورت، قدیم، اور جغرافیائی و ثقافتی لحاظ سے منفرد خطہ ہے۔ ذیل میں اس کی تاریخ اور جغرافیہ پ...
30/07/2025

🌍
یقیناً! لداخ ایک انتہائی خوبصورت، قدیم، اور جغرافیائی و ثقافتی لحاظ سے منفرد خطہ ہے۔ ذیل میں اس کی تاریخ اور جغرافیہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے:

📜 لداخ کی تاریخ

▪️ قدیم دور:

لداخ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ یہ علاقہ شروع میں تبتی تمدن کا حصہ تھا۔

لداخ کے لوگوں کا تعلق نسلی طور پر تبتی، منگول اور ہند آریائی اقوام سے جُڑا ہوا ہے۔

دریائے سندھ کی وادی میں موجود قدیم بستیوں کے آثار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں پتھر کے زمانے سے لوگ آباد رہے۔

▪️ بدھ مت کا دور:

7ویں صدی میں تبتی بادشاہ سونگ‌تسین گامپو نے یہاں بدھ مت کو فروغ دیا۔

بدھ مت کے مہاتماوں اور زائرین کے ذریعے لداخ میں عظیم گومپائیں (بدھ خانقاہیں) تعمیر ہوئیں، جیسے:

ہیماس گومپا

تک تھک گومپا

لامیورُو گومپا

▪️ قرونِ وسطیٰ:

10ویں صدی میں لوچن اُوڈے کے زیرِ سایہ لداخ ایک خود مختار بادشاہت بنی، جسے "Ngari Kingdom" کہا جاتا ہے۔

16ویں اور 17ویں صدی میں نامگیال خاندان نے حکومت کی اور لداخ کو مستحکم کیا۔

1684 میں لداخ اور تبّت کے درمیان جنگ ہوئی، جس کے بعد تنگسکین معاہدہ ہوا، جس نے لداخ کی سیاسی حدود متعین کیں۔

▪️ ڈوگرہ دور:

1834 میں ڈوگرہ فوج نے جنرل زوراور سنگھ کی قیادت میں لداخ پر قبضہ کیا، اور اسے جموں و کشمیر کی ریاست میں شامل کر دیا گیا۔

اس وقت سے لے کر 1947 تک لداخ مہاراجہ کشمیر کی حکومت کے ماتحت رہا۔

▪️ آزادی کے بعد:

1947 میں تقسیمِ ہند کے بعد لداخ بھارت کے زیرِ انتظام رہا۔

1962 میں ہند-چین جنگ میں چین نے مشرقی لداخ کے علاقے اکسائی چن پر قبضہ کر لیا۔

2019 میں بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے جموں و کشمیر اور لداخ کو الگ الگ مرکزی زیرانتظام علاقوں (Union Territories) میں تقسیم کر دیا۔

🌍 لداخ کا جغرافیہ

▪️ محلِ وقوع:

لداخ شمالی بھارت کا ایک پہاڑی علاقہ ہے جو:

شمال میں چین (سنکیانگ اور تبت)

مشرق میں اکسائی چن

جنوب میں ہماچل پردیش

مغرب میں کشمیر اور گلگت بلتستان سے متصل ہے۔

▪️ اہم دریا:

دریائے سندھ (Indus River) لداخ کا سب سے بڑا اور اہم دریا ہے، جو تبت سے نکلتا ہے اور پاکستان کی طرف بہتا ہے۔

▪️ پہاڑی سلسلے:

لداخ دنیا کے سب سے بلند علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں:

کرکرم رینج (Karakoram Range)

زانسکار رینج

ہمالیہ کی ذیلی شاخیں شامل ہیں۔

▪️ مشہور درّے (پاسز):

کارگل پاس

زوجی لا

خردنگ لا – جو دنیا کے بلند ترین موٹربل راستوں میں شمار ہوتا ہے۔

▪️ اہم علاقے:

لیہ (Leh) – لداخ کا صدر مقام

کارگل (Kargil) – دوسرا اہم شہر

نوبرا وادی، پنگونگ جھیل، اور زانسکار وادی سیاحتی اور جغرافیائی لحاظ سے بہت مشہور ہیں۔

▪️ آب و ہوا:

لداخ ایک خشک اور سرد صحرائی خطہ ہے۔ یہاں کی سردیاں انتہائی شدید ہوتی ہیں، جہاں درجہ حرارت -30°C تک گر جاتا ہے۔

بارش بہت کم ہوتی ہے، اس لیے یہاں کاشتکاری صرف دریا کے کناروں یا مصنوعی آبپاشی پر منحصر ہے۔

🌟 ثقافتی جھلکیاں:

لداخ کی اکثریت بدھ مت پر عمل کرتی ہے، تاہم شیعہ مسلمان (خصوصاً کارگل میں) بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔

یہاں کی زبانیں تبتی، لداخی، بلتی اور اردو ہیں۔

مشہور تہوار: ہیماس فیسٹیول، لسار، دوشے، اور یُرپ۔

Address

Gilgit

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wershigoom Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Wershigoom Times:

Share