06/09/2026
چلاس، گینی جنگل میں درختوں کی بے دریغ کٹائی، مافیا سرگرم۔
چلاس: گینی جنگل میں درختوں کی مبینہ بے دریغ اور غیر قانونی کٹائی کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث علاقے میں ماحولیاتی توازن متاثر ہونے کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ مقامی افراد نے متعلقہ حکام کی مبینہ خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگلات کی کٹائی میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق جنگلاتی مافیا کی جانب سے گینی جنگل میں اب تک درجنوں درخت کاٹے جاچکے ہیں، جنہیں ٹریکٹرز کے ذریعے چلاس منتقل کرنے کے بعد مبینہ طور پر ملک کے دیگر شہروں کو سمگل کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ درختوں کی غیر قانونی کٹائی کا سلسلہ جاری رہنے سے جنگلات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
گینی کے عوام کا کہنا ہے کہ جنگلات علاقے کے ماحولیاتی نظام، پانی کے ذخائر اور موسمیاتی توازن کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، تاہم غیر قانونی کٹائی کے باعث جنگلات کا رقبہ تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔
عوام نے حکومت اور محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام بالخصوص سیکریٹری جنگلات سے مطالبہ کیا ہے کہ گینی جنگل میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی کا فوری نوٹس لے کر ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور جنگلات کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے۔
مقامی آبادی نے گینی جنگل کے تحفظ کے لئے تعینات محکمہ جنگلات کی 10 بلین سونامی منصوبے کے ملازمین کو جنگلات کی کٹائی میں ملوث قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر برطرف کر کے نئے ملازمین بھرتی کرنے اور غیر قانونی کٹائی کی روک تھام کیلئے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے جوان تعینات کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ جنگلاتی مافیا کی سرگرمیوں کا مستقل بنیادوں پر سدباب کیا جاسکے۔