khunjrav Media Network

khunjrav Media Network This Page is Owned by khunjerab media network team . We are currently establishing our Media Group gb

28/04/2026

ہنزہ ،، گزشتہ حالیہ بارشوں کے بعد التر نالے ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے اعلیٰ نمبردار اسلم میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

گلگت بلتستان میں کینسر کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ — ماہرین کی تشویشگلگت بلتستان میں کینسر کے کیسز میں تیزی سے اضاف...
23/04/2026

گلگت بلتستان میں کینسر کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ — ماہرین کی تشویش

گلگت بلتستان میں کینسر کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر معدہ، جگر، چھوٹی اور بڑی آنت، اور خوراک کی نالی (Esophagus) کے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔

معروف ماہر امراض معدہ و جگر، ڈاکٹر شان عالم نے حالیہ میڈیا بریفنگ میں اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق یہ اضافہ محض اتفاق نہیں بلکہ کئی اہم عوامل کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جن میں ناقص خوراک، آلودہ پانی، غیر صحت بخش طرزِ زندگی، تمباکو نوشی، اور بروقت تشخیص کی کمی شامل ہیں۔

ڈاکٹر شان عالم نے کہا:
“ہمیں فوری طور پر آگاہی مہمات شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو ابتدائی علامات، احتیاطی تدابیر اور بروقت طبی معائنے کی اہمیت کے بارے میں بتایا جا سکے۔ بدقسمتی سے زیادہ تر مریض اس وقت سامنے آتے ہیں جب بیماری آخری مراحل میں پہنچ چکی ہوتی ہے۔”

ماہرین کے مطابق درج ذیل علامات کو ہرگز نظرانداز نہ کیا جائے:
• مسلسل پیٹ درد یا بدہضمی
• کھانے نگلنے میں دشواری
• بغیر وجہ وزن میں کمی
• خون کی کمی یا کمزوری
• قے یا پاخانے میں خون

عوام کے لیے اہم ہدایات:
• صاف پانی کا استعمال یقینی بنائیں
• تازہ اور متوازن غذا کھائیں
• تمباکو اور سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں
• سالانہ میڈیکل چیک اپ کروائیں
• کسی بھی غیر معمولی علامت پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ حکومت، طبی اداروں اور عوام کو مل کر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔

پیپلز پارٹی ہنزہ کے سینئر رہنما، حبیب الرحمٰن نے گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ GBA-6 ہنزہ سے ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے اپنے کا...
20/04/2026

پیپلز پارٹی ہنزہ کے سینئر رہنما، حبیب الرحمٰن نے گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ GBA-6 ہنزہ سے ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے اپنے کاغذاتِ نامزدگی باضابطہ طور پر جمع کرا دیے ہیں۔

ان کی یہ پیش رفت بہتر طرزِ حکمرانی، مؤثر پالیسی سازی اور پائیدار ترقی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ حبیب الرحمٰن کا کہنا ہے کہ وہ ہنزہ اور گلگت بلتستان کے مستقبل کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔

صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے آج باقاعدہ اپنے کاغذاتِ نامزدگی ریٹرننگ آفیسر (آر او) کے دفتر میں جمع کروا دیے۔ اس موقع...
20/04/2026

صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے آج باقاعدہ اپنے کاغذاتِ نامزدگی ریٹرننگ آفیسر (آر او) کے دفتر میں جمع کروا دیے۔ اس موقع پر وہ اپنے حلقے کے عوام اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان کے ہمراہ موجود تھے، جنہوں نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ اپنی قیادت کا ساتھ دیا۔

اس موقع پر کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور آئندہ انتخابات میں کامیابی کے عزم کا اعادہ کیا۔

ہنزہ کی سیاست میں ایک اہم اور دلچسپ موڑ سامنے آیا ہے۔ سابق گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان کے صاحبزادے، پرنس سلیم خ...
20/04/2026

ہنزہ کی سیاست میں ایک اہم اور دلچسپ موڑ سامنے آیا ہے۔ سابق گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان کے صاحبزادے، پرنس سلیم خان نے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے حلقہ 06 سے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آزاد امیدوار کی حثیت سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے ہیں۔

پرنس سلیم خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ یہ انتخاب آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑیں گے۔ ایک خصوصی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ کامیابی کی صورت میں وہ اپنی آئندہ سیاسی وابستگی کا فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق کریں گے۔ ان کے بقول، ہنزہ کے عوام جس جماعت پر اعتماد کریں گے، وہ اسی سمت میں پیش رفت کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ ان کے میاں محمد نواز شریف کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ باآسانی مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑ سکتے تھے، تاہم انہوں نے آزاد حیثیت میں میدان میں اترنے کو ترجیح دی۔ مزید برآں، انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمن کے ساتھ سیاسی طور پر منسلک ہونے سے گریز کا عندیہ دیا۔

اپنی گفتگو میں پرنس سلیم خان نے حفیظ الرحمن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہنزہ کے عوام کے بارے میں نامناسب بیانات کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ ایسی قیادت کے ساتھ کام نہیں کر سکتے جو مقامی لوگوں کے جذبات اور وقار کا خیال نہ رکھے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، پرنس سلیم خان کا آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ ہنزہ کی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتا ہے بلکہ ووٹرز کے رجحانات پر بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب حلقہ 6 سے الیکشن لڑنے والے وفاقی جماعتوں کو اب سخت مقابلہ کا سامنے کرنا پڑسکتا ھے۔
عوامی سطح پر اس فیصلے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ حلقے اسے جرات مندانہ قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے ایک سوچا سمجھا سیاسی فیصلہ سمجھتے ہیں۔ مجموعی طور پر، ہنزہ میں انتخابی ماحول گرم ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور آئندہ مقابلہ مزید دلچسپ ہونے کا امکان ہے۔

20/04/2026

الیکشن 2026 کے سلسلے میں حلقہ نمبر 3 گلگت سے ذوالفقار علی المعروف تتو سرکار نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے۔ اس موقع پر حلقے کے عمائدین، معزز شخصیات اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی، جنہوں نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
عوام کا یہ جوش و جذبہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ، انشاءاللہ، کامیابی ذوالفقار علی تتو سرکار کا مقدر بنے گی۔

ترجمان پاکستان مسلم لیگ نون گلگت بلتستان

19/04/2026

گوجال کے علاقے میں حالیہ دنوں میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں غلاپن سے رات کے وقت ایک کار چوری ہونے کی واردات پیش آئی۔ اسی دوران سوست میں ایک دکان کو بھی نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا۔

اطلاعات کے مطابق ملزمان چوری شدہ گاڑی کو مورخون کے علاقے میں چھوڑ کر فرار ہو گئے، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ تاہم علاقے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی عدم موجودگی کے باعث ملزمان کی شناخت اور ان تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مختلف پہلوؤں سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب عوامی حلقوں میں اس بات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ بین الاقوامی سرحد کے قریب اہم مقامات پر سی سی ٹی وی نظام کا نہ ہونا ایک سنگین سیکیورٹی خلا کی نشاندہی کرتا ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

پرامن سمجھے جانے والے گوجال میں اس طرح کی وارداتوں نے مقامی آبادی میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ سیکیورٹی نظام کو فوری طور پر مضبوط بنایا جائے، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب یقینی بنائی جائے اور گشت کے نظام کو مؤثر کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

#

19/04/2026

ہنزہ میں 2026 کے انتخابات ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو زندہ کر رہے ہیں کہ آیا عوام اپنے ووٹ کا استعمال جماعتی نظریات کی بنیاد پر کریں گے یا پھر برادری اور قبیلے کے اثرات غالب رہیں گے۔

اس وقت ضلع ہنزہ سے 46 سے زائد امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا چکے ہیں، جس سے انتخابی میدان خاصا گہماگہمی کا شکار نظر آتا ہے۔ وفاقی سطح کی سیاسی جماعتوں کے 27 امیدواروں میں سے اگر 25 بھی کسی ایک متفقہ امیدوار کے حق میں دستبردار ہو جائیں، تب بھی کم از کم 22 امیدوار میدان میں موجود ہوں گے، جو مقابلے کو مزید سخت بنا دیتا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر بھی ایسے امیدوار موجود ہیں جو کسی کے حق میں دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر دونوں جماعتوں میں اندرونی اختلافات اور گروپ بندی کے امکانات واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

ماضی کے انتخابی رجحانات پر نظر ڈالیں تو سنٹرل ہنزہ میں اکثر ووٹنگ برادری اور قبیلے کی بنیاد پر ہوتی رہی ہے، جبکہ گوجال میں ووٹرز زیادہ تر جماعتی نظریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے آئے ہیں۔ یہی فرق اس بار بھی انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

موجودہ انتخابی منظرنامے میں بابا جان (عوامی ورکرز پارٹی) اور ایمان شاہ (پاکستان استحکام پارٹی) مضبوط امیدواروں کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ آزاد امیدواروں میں راجہ ناظیم الامین بھی ایک اہم حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر سلیم خان، جو پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں، اس وقت سب سے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔

عوامی رائے کے مطابق اس بار کا انتخاب انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلے کی صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں معمولی فرق بھی نتائج پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہنزہ کی سیاست ایک دلچسپ اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

18/04/2026

ہنزہ الیکشن 2026: وعدوں، اعلانات اور عوامی شعور کا امتحان

ڈسٹرکٹ ہنزہ میں الیکشن 2026 کے قریب آتے ہی سیاسی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مختلف وفاقی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جو ماضی میں طویل عرصے تک علاقے سے غیر حاضر رہے۔ اب جب انتخابی ماحول گرم ہو چکا ہے تو یہی نمائندے عوام کے درمیان آ کر ترقیاتی منصوبوں، مسائل کے حل اور اضافی نشست جیسے دیرینہ مطالبات کے حوالے سے بڑے بڑے اعلانات کر رہے ہیں۔

ہنزہ کے عوام طویل عرصے سے بنیادی سہولیات، بہتر انفراسٹرکچر، تعلیم و صحت کے نظام میں بہتری اور سب سے بڑھ کر اضافی نمائندگی (سیٹ) کے مطالبے کو لے کر آواز اٹھاتے آئے ہیں۔ یہ مسائل نہ تو نئے ہیں اور نہ ہی اچانک پیدا ہوئے ہیں، بلکہ برسوں سے چلے آ رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وفاق میں برسراقتدار جماعتوں کے پاس اختیار موجود تھا تو انہوں نے ان مطالبات کو پہلے کیوں حل نہیں کیا؟

موجودہ صورتحال میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوامی مسائل کو ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ نمائندے کھلے عام یہ شرط رکھتے نظر آتے ہیں کہ اگر عوام انہیں ووٹ دے کر کامیاب کروائیں گے تو ہی ان کے مسائل حل کیے جائیں گے۔ اس طرزِ سیاست کو کئی حلقے "سیاسی بلیک میلنگ" سے تعبیر کر رہے ہیں، جہاں بنیادی حقوق کو انتخابی مفاد کے ساتھ مشروط کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے بھی ماضی میں الیکشن سے قبل ہنزہ کے عوام سے ایسے ہی وعدے کیے تھے، مگر وہ وعدے عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔ اس تناظر میں عوام کے اندر مایوسی اور بے اعتمادی کا عنصر بھی نمایاں ہے۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہنزہ کے عوام ایک بار پھر انہی وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنا ووٹ دیں گے؟ یا پھر وہ اس بار اجتماعی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں ایک مضبوط آواز بنیں گے اور الیکشن سے پہلے ہی عملی اقدامات کا تقاضا کریں گے؟

ماہرین کے مطابق، یہ الیکشن محض نمائندوں کے چناؤ کا مرحلہ نہیں بلکہ عوامی شعور، سیاسی بلوغت اور اجتماعی طاقت کے اظہار کا موقع بھی ہے۔ اگر عوام متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ نہ صرف اپنے دیرینہ مسائل حل کروانے میں کامیاب ہوں بلکہ مستقبل کی سیاست کا رخ بھی بدل دیں۔

ہنزہ کے عوام کے لیے یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے—یا تو وہ ماضی کی روایت کو دہراتے ہوئے وعدوں پر یقین کریں، یا پھر ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے عملی اقدامات کو ووٹ کی بنیاد بنائیں۔

خوشی اور فخر کا ایک یادگار لمحہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب ودای شمشال سے تعلق رکھنے والے کامران احمد، ولد عزیز احمد، کامیا...
18/04/2026

خوشی اور فخر کا ایک یادگار لمحہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب ودای شمشال سے تعلق رکھنے والے کامران احمد، ولد عزیز احمد، کامیابی کے ساتھ کمیش
حاصل کر کے بطور آفیسر اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کر رہے ہیں۔
کامران احمد کی کامیابی نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کی محنت، نظم و ضبط اور عزم نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے، جو یہ پیغام دیتی ہے کہ لگن اور محنت سے ہر خواب کو حقیقت بنایا جا سکتا ہے۔

ان کے روشن مستقبل کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں کہ وہ اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے سے انجام دیتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کریں۔ ہم دل کی گہرائیوں سے کامران احمد اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

18/04/2026

ہنزہ: آنے والے انتخابات نے ایک دلچسپ اور غیر معمولی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس بار عوام سے زیادہ وفاقی جماعتوں کے کارکنان نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے ہیں، جو ایک طرح سے “سیاسی ریکارڈ” قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے 10 امیدوار پاکستان مسلم لیگ کے 8 امیدوار پاکستان تحریک انصاف کے 8 امیدوار میدان میں اترنے کے لئے تیار۔ جبکہ آزاد امیدوار ، عوامی ورکرز پارٹی ، تحریک استحکم پارٹی اور خواتین امیدوار اس سے الگ تیاری کے ساتھ آنے والے الیکشن میں میدان میں اترنے کی تیاری میں مصروف عمل ھے۔

دوسری جانب عوامی حلقوں میں اس عمل کو تنقیدی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ عام رائے یہ ہے کہ یہ سب دراصل اصل سیاسی حقائق پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے، جہاں نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں کو پسِ پشت ڈال کر بااثر اور نئے چہروں کو ٹکٹ دینے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

ہنزہ کے عوام کا ماننا ہے کہ مختلف وفاقی جماعتوں کے اندر اب بھی ایسے مخلص، وفادار اور عوام دوست کارکن موجود ہیں جو اپنی عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صوبائی اور وفاقی قیادت اس حقیقت کو تسلیم کرے گی؟

فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا اس بار ٹکٹ واقعی نظریاتی کارکنوں کو ملتے ہیں یا پھر ماضی کی طرح گروپ بندی اور سیاسی مصلحتوں کے تحت فیصلے کیے جاتے ہیں۔

نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے لیے یہ ایک بڑا امتحان بھی ہے، کیونکہ ماضی میں وہ اسی طرزِ عمل پر سخت تنقید کر چکی ہیں جو آج خود ان کے سامنے ایک چیلنج بن کر کھڑا ہے۔

16/04/2026

بڑی خبر۔
الیکشن کی شڈول کے اعلان کے بعد ہنزہ میں پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے اندر ٹکٹ کی دوڑ میں شدید قسم کی اندرونی اختلافات شروع ھوچکا ھے۔ سب سے زیادہ اندرونی اختلافات پاکستان پیپلز پارٹی اور دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ نون کے سئنیر کارکنان کے درمیان شروع ھوچکا ھے۔ آگر ان دونوں پارٹیز کے قیادتو نے ٹکٹ نظریاتی اور پارٹی کے سئنیر رہنماوں کو نہیں دیا تو پارٹی کے اندر دوگروپ سامنے آنے کی امکانات ظاہر کیا جارہا ھے۔ اب دیکھنا یہ ھےکہ صوبائی قیادتیں اپنے اپنے پارٹی کے اندر اس طرح اختلافات کو ختم کرنے میں کامیاب ھوتے ہیں یا نہیں۔

Address

Gilgit

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when khunjrav Media Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to khunjrav Media Network:

Share