22/04/2026
(گلگت(کورٹ رپورٹر
ہنزل پاور پراجیکٹ میں غیر معمولی تاخیر،منصوبے کا معاہدہ ختم، ٹھیکدار کو بھاری جرمانہ،پروجیکٹ ڈائریکٹر عہدے سے ڈسمس،نئی پروکیورمنٹ شروع کرنے کا حکم
کورٹ ذرائع کے مطابق فرزند گلگت بلتستان بیرسٹر عدیل احمد کی درخواست پر چیف کورٹ کی ڈویژنل بینچ کا جزوی فیصلہ جاری، اونر ایبل جسٹس چیف کورٹ مسٹر جسٹس راجہ شکیل احمد کی سربراہی میں جی بی سی سی کے اونرایبل جسٹس مسٹر جسٹس محمد مشتاق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے گلگت ہنزل پاور پراجیکٹ کا معاہدہ ختم کرکے نئی شفاف پروکیورمنٹ شروع کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔عدالت عالیہ گلگت بلتستان نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ متعلقہ معاہدہ خلاف ضابطہ اور انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم اور عوامی مفاد کے خلاف ہے لہذا اسکو منسوخ کیا جاتا ہے۔ معزز عدالت نے منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی اور متعلقہ *ٹھیکیدار کی پرفارمنس گارنٹی ضبط(forfeit)کرنے، پروجیکٹ ڈائریکٹر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے اور 34 ماہ کے بعد وصول کی گئی مراعات/تنخواہ کی ریکوری کا بھی حکم دیا ہے۔ عدالت سے جاری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور تین سال کی مقررہ مدت سے زائد عرصے کے دوران وصول کی گئی تمام اجرت اور مراعات کی ریکوری بھی عمل میں لائی جائے ۔عدالت عالیہ نے پراجیکٹ میں تاخیر کو عوامی مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئےمتعلقہ حکام کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ منصوبے میں تاخیر عوامی مفاد کے منافی ہے اور یہ ہدایت کی ہے کہ ہنزل 20 میگاواٹ ہائیڈل پراجیکٹ کی بروقت تکمیل کے لیے نئے پروکیورمنٹ معاہدے کی کارروائی فوری طور پر شروع کی جائے اور تمام تر صورتحال سے عدالت کو آگاہ رکھا جائے۔مزید برآں فیصلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ حکمنامے کی مصدقہ نقل سیکریٹری واٹر اینڈ پاور گلگت بلتستان کو ارسال کیا جائے اور عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔اس فیصلے سے متعلق مزید جانکاری کے لیے چیف کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ سے رابطے کرنے پر معلوم ہوا کہ عدالت عالیہ سے جاری فیصلے کی ایک کاپی وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور چیف سیکریٹری کو بھی عملدرآمد کے لیے بھیجی گئی ہے۔واضح رہے کہ11صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بینچ کے معزز رکن اونرایبل جسٹس چیف کورٹ مسٹر جسٹس مشتاق محمد نے تحریر کیا ہے۔جاری فیصلے میں منصوبے کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر، کنٹریکٹر کی جانب سے فرائض منصبی سے روگردانی اور تیکینکی کمزوریوں کو نمایاں طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔دریں اثنا وائس آف لا گلگت بلتستان سے گفتگو کرتے ہوئے جی بی کے سپوت بیرسٹر عدیل احمد نے کہا کہ شومئی قسمت گلگت بلتستان میں عوامی مفادات کو دیوار سے لگایا گیا ہے اور اس ضمن میں احتساب کے لیے وکلا کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ حکومت کی جانب سے دی جانیوالی وسائل کا منصفانہ استعمال کو یقینی بنایا جاسکے۔
~وائس آف لا گلگت بلتستان~