17/05/2026
سیاسی ووٹروں اور سپورٹروں کا سوشل میڈیا پر مثبت کردار
آج کے دور میں سوشل میڈیا عوامی رائے بنانے کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ سیاسی کارکن، ووٹرز اور سپورٹرز اپنے خیالات اور نظریات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ پلیٹ فارمز اظہارِ رائے کی آزادی فراہم کرتے ہیں، لیکن اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور اخلاقیات کا دامن تھامنا بھی بہت ضروری ہے۔
سیاسی ووٹروں اور سپورٹروں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر مثبت کردار ادا کریں۔ اختلافِ رائے ہر جمہوری معاشرے کا حسن ہوتا ہے، مگر اس اختلاف کو گالم گلوچ، نفرت اور ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے دلیل، شائستگی اور برداشت کے ساتھ اپنی بات پیش کرنا ایک مہذب قوم کی نشانی ہے۔
سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں، افواہوں اور بے بنیاد پروپیگنڈے سے معاشرے میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی سچائی کی تصدیق کرے۔ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کسی کی عزت اچھالنا یا کردار کشی کرنا نہ صرف غیر اخلاقی عمل ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بنتا ہے۔
ایک اچھا سیاسی کارکن وہی ہوتا ہے جو اپنے لیڈر یا جماعت کی مثبت باتوں کو اجاگر کرے، نہ کہ دوسروں کی تذلیل کو اپنا مقصد بنائے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ سیاست خدمت کا نام ہے، نفرت پھیلانے کا نہیں۔ نوجوان نسل خاص طور پر سوشل میڈیا سے بہت متاثر ہوتی ہے، اس لیے مثبت گفتگو، اتحاد، قومی یکجہتی اور برداشت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سیاسی ووٹروں اور سپورٹروں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کو اخلاق، شعور اور مثبت سوچ کے ساتھ استعمال کریں تاکہ معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور جمہوری روایات مضبوط ہو سکیں۔
تحریر! ولایت گبارو