GB Digital

GB Digital Registered Media Outlet !

🏐 شوٹنگ والی بال سمیت سپورٹس کلبز کی شفاف سکروٹنیسپورٹس ایسوسی ایشنز اور کلبز، بالخصوص شوٹنگ والی بال کلبز کی سکروٹنی کے...
30/08/2026

🏐 شوٹنگ والی بال سمیت سپورٹس کلبز کی شفاف سکروٹنی

سپورٹس ایسوسی ایشنز اور کلبز، بالخصوص شوٹنگ والی بال کلبز کی سکروٹنی کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر گلگت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو گلگت بلتستان کی سپورٹس برادری بھرپور انداز میں سراہتی ہے۔

کلبز کی ازسرِ نو جانچ پڑتال اور شفاف انتخابات کا عمل حقیقی، فعال اور کھیلوں کے فروغ کے لیے عملی کردار ادا کرنے والے کلبز اور سپورٹس پروموٹرز کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ بالخصوص شوٹنگ والی بال جیسے مقبول اور عوامی کھیل کو مضبوط بنانے کے لیے حقیقی کلبز کی حوصلہ افزائی اور انہیں مناسب نمائندگی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے

شفاف نظام، حقیقی کلبز اور مضبوط شوٹنگ والی بال — ہماری اولین ترجیح ہے

ثناء اللہ
امیدوار برائے صدر — شوٹنگ والی بال ڈسٹرکٹ گلگت 🏐

29/08/2026

8 ماہ میں 11 سو بچوں کے ساتھ جنسی استحصال ۔۔ گلگت بلتستان کا کونسا نمبر ؟
رپورٹ سامنے آگئی ؟
بھارت میں کیسے عامر خان کی فلم پیٹرن کے زریعے بچوں کے جنسی استحصال کو کم کیا گیا ؟
گلگت بلتستان حکومت کو کیا اقدامات اٹھانے ہوں گے ؟
والدین کی زمہ داری ؟

عدنان راوٹ کا حقائق پر مبنی ولاگ

مشاہدہ ؛سرکاری افسران سرکاری دورے پر کہیں جاتے ہیں تو انکی اتنی تصویریں سوشل میڈیا پر ڈالی جاتی ہیں ہیں کہ دورے کا مقصد ...
29/08/2026

مشاہدہ ؛
سرکاری افسران سرکاری دورے پر کہیں جاتے ہیں تو انکی اتنی تصویریں سوشل میڈیا پر ڈالی جاتی ہیں ہیں کہ دورے کا مقصد ، دورے کے دوران مشاہدے میں آنے والی چیزیں ، عوام کے دلچسپی اور فائدے کی کوئی بات اول تو بتائی نہیں جاتی ہے ہاں اگر معمولی تذکرہ ہو بھی تو بات سب تصویروں کے دھند میں گم ہو جاتی ہے ۔ سرکاری حیثیت میں اپنی تصویروں کی نمائش، اپنی تشہیر ایک خود پسند رویّہ ہے جسکا public service سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے ۔محکموں کے آفیشل pages چلانے والوں کی بھی تربیت ہونی چاہئے تا کہ وہ subjective propagation کی جگہ objective dissemination of relevant information کر سکیں ۔ہونا تو یہ چاہیے کہ دورے سے پہلے اور دورے کے بعد کا فرق ( سہولیات کی بہتری یا بد تری) کے حوالے سے ان آفیشل pages یا ویب سائیٹس پر شائع ہوں تا کہ سرکاری وسائل کے درست یا غلط استعمال پر عوام اپنی راے قائم کر سکیں ۔

صرف اٹیچمنٹ ختم کرنے تک محدود نہ رہیں، بلکہ سروس/سیلری ایڈجسٹ کروا کر بھری گئی پوسٹوں کو بھی فوری خالی کیا جائے: خواجہ ا...
29/08/2026

صرف اٹیچمنٹ ختم کرنے تک محدود نہ رہیں، بلکہ سروس/سیلری ایڈجسٹ کروا کر بھری گئی پوسٹوں کو بھی فوری خالی کیا جائے: خواجہ ارسلان حمید
پریس ریلیز
گلگت: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ ارسلان حمید نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی جانب سے غیر قانونی اور غیر ضروری اٹیچمنٹ پر تعینات اساتذہ کو ان کے اصل اسٹیشنز پر واپس بھیجنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اٹیچمنٹ ختم کرنے کا فیصلہ درست سمت میں ایک اہم اقدام ہے، تاہم حکومت کو معاملے کو صرف اٹیچمنٹ ختم کرنے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔
خواجہ ارسلان حمید نے کہا کہ اٹیچمنٹ کے ذریعے مختلف اسٹیشنز پر آنے والے بعض اساتذہ نے اپنی سروس/سیلری پوسٹیں بھی اسی اسٹیشن پر ایڈجسٹ کروا رکھی ہیں۔ نتیجتاً جس گاؤں یا علاقے میں بنیادی طور پر استاد کی آسامی خالی تھی، وہ کاغذات میں تو پُر ہو گئی، لیکن اٹیچمنٹ ختم ہونے کے بعد متعلقہ استاد اپنے اصل اسٹیشن پر واپس چلا جاتا ہے۔ یوں عملی طور پر سکول استاد سے محروم رہتا ہے، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں پوسٹ بدستور پُر دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اٹیچمنٹ ختم کرنے کے ساتھ ساتھ سروس/سیلری ایڈجسٹمنٹ بھی فوری ختم کی جائے اور ایسی آسامیاں خالی قرار دی جائیں تاکہ انہیں گاؤں کی سطح پر مشتہر کرکے میرٹ پر نئے اساتذہ بھرتی کیے جا سکیں۔
خواجہ ارسلان حمید نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف گلگت شہر کے سکولوں میں اٹیچمنٹ ختم ہونے کے بعد پیدا ہونے والی ممکنہ اساتذہ کی کمی کو دور کیا جا سکے گا بلکہ دیہی علاقوں کے سکولوں میں بھی اساتذہ کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی تعیناتی حقیقی ضرورت، میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے تحت ہونی چاہیے۔ صرف کاغذات میں پوسٹیں پُر رکھنے کے بجائے عملی طور پر سکولوں میں اساتذہ کی موجودگی یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

28/08/2026

ملزم نے بچے کو مرغہ دینے کا جھانسہ دیا ، ڈومیال واقعے کی تفصیلات
عدنان راوٹ کا اہم ولاگ

گلگت ڈومیال میں بچے کی مبینہ جنسی زیادتی کی کوشش ناکام بنا دی گئی ،حیدر پورہ یوتھ کی اطلاع پر ایس ایچ او تھانہ ریحان الل...
28/08/2026

گلگت ڈومیال میں بچے کی مبینہ جنسی زیادتی کی کوشش ناکام بنا دی گئی ،حیدر پورہ یوتھ کی اطلاع پر ایس ایچ او تھانہ ریحان اللہ کی بروقت کاروائی ، پارہ چنار سے تعلق رکھنے والا ملزم گرفتار

جنسی درندوں پر اے ٹی اے لگنا چاہئے سمیع ایڈوکیٹ
27/08/2026

جنسی درندوں پر اے ٹی اے لگنا چاہئے
سمیع ایڈوکیٹ

میں حکم دیتا ہوں کہ ایس ایچ او سٹی تھانہ علی آباد کو ضلع بدر کیا جائے!نیکنام کریم کا علی آباد دھرنے سے خطاب
27/08/2026

میں حکم دیتا ہوں کہ ایس ایچ او سٹی تھانہ علی آباد کو ضلع بدر کیا جائے!
نیکنام کریم کا علی آباد دھرنے سے خطاب

27/08/2026

داریل ڈکیتی واقعے کی تفصیلات ہم نیوز پر ۔۔۔

بچوں کے خلاف جنسی جرائم ناقابلِ قبول، مذہبی و لسانی تفریق کے بجائے قانون کی یکساں عملداری ضروری ہے: خواجہ ارسلان حمیدگلگ...
26/08/2026

بچوں کے خلاف جنسی جرائم ناقابلِ قبول، مذہبی و لسانی تفریق کے بجائے قانون کی یکساں عملداری ضروری ہے: خواجہ ارسلان حمید
گلگت: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ ارسلان حمید نے گلگت میں 14 سالہ بچے کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ ایسے واقعات نے گلگت بلتستان میں والدین، سول سوسائٹی اور عوام کے اندر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
خواجہ ارسلان حمید نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے متعدد واقعات کا رپورٹ ہونا انتہائی تشویشناک اور الارمنگ صورتحال ہے۔ حکومت کو واقعات کے بعد محض رسمی کارروائی کے بجائے ان جرائم کی روک تھام، آگاہی اور مؤثر قانونی کارروائی کے لیے جامع اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ، توتہ رئیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد بچوں کو تحفظ فراہم کرنا، والدین اور معاشرے میں آگاہی پیدا کرنا اور چائلڈ ابیوز کے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کرنا تھا۔ اگر یہ ادارہ صرف بڑے ہوٹلوں میں سیمینارز اور تقریبات تک محدود رہے اور زمینی سطح پر عوام، والدین اور بچوں میں مؤثر آگاہی نہ پہنچائی جائے تو اس ادارے کی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
انہوں نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کو حقیقی معنوں میں فعال کیا جائے اور اسکولوں، کالجوں، مساجد، کمیونٹی مراکز اور دیگر عوامی مقامات پر بچوں کے تحفظ، جنسی استحصال کی روک تھام اور والدین کی آگاہی کے لیے مستقل مہم چلائی جائے۔
مذہبی، لسانی اور علاقائی تفریق انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے
خواجہ ارسلان حمید نے کہا کہ گلگت بلتستان جیسے حساس اور کثیرالمذہبی و کثیراللسانی معاشرے میں کسی بھی جرم کے بعد بعض اوقات سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ملزم یا متاثرہ شخص کا تعلق کس مذہب، مسلک، زبان یا علاقے سے ہے۔ یہ طرزِ فکر انتہائی خطرناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرم کو جرم کی نظر سے دیکھنے کے بجائے مذہبی، مسلکی، لسانی یا علاقائی تفریق کی عینک سے دیکھنا انصاف کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔ کسی معصوم بچے کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کی شناخت، مذہب، زبان یا علاقے سے قطع نظر اسے انصاف ملنا چاہیے اور اگر کوئی شخص جرم میں ملوث ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں معاشرے کو تقسیم کرنے کے بجائے متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بروقت انصاف کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ جب عوام، سول سوسائٹی، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پراسیکیوشن کسی بھی ایسے واقعے پر متحد ہو کر فوری اور غیر جانب دارانہ کارروائی کو یقینی بنائیں گے تو مستقبل میں ایسے جرائم کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔
خواجہ ارسلان حمید نے حکومت گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا کہ پولیس، چائلڈ پروٹیکشن یونٹ، پراسیکیوشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور کوآرڈی نیشن قائم کیا جائے تاکہ بچوں سے متعلق مقدمات میں تحقیقات، قانونی کارروائی اور عدالتی عمل میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں، متاثرہ خاندانوں کو قانونی معاونت فراہم کی جائے اور قانون کے مطابق ذمہ داروں کو سزا دلانے کے لیے تمام قانونی تقاضے بروقت مکمل کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کا تحفظ کسی مذہب، مسلک، زبان یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم واقعی ایک محفوظ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں ہر بچے کے لیے بلاامتیاز آواز اٹھانا ہوگی۔
جاری کردہ:
خواجہ ارسلان حمید
سینئر رہنما، پاکستان مسلم لیگ (ن)
گلگت بلتستان

Address

Gilgit

Telephone

+923554544298

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GB Digital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to GB Digital:

Shortcuts

Share

Category