10/08/2026
فیالونگ آبی منصوبہ: دیوسائی سے سکردو تک امید کا سفر
9 اگست 2026 کا دن گلگت بلتستان کی ترقیاتی تاریخ میں ایک یادگار دن کے طور پر رقم ہو گیا، جب دیوسائی کے میدانوں سے سکردو تک پانی پہنچانے والے تاریخی "فیالونگ آبی رابطہ منصوبہ" کا باقاعدہ افتتاح عمل میں آیا۔ 37,000 فٹ طویل یہ آبی چینل دیوسائی کے پانیوں کا رخ سکردو کی جانب موڑنے کے لیے تعمیر کیا گیا ہے، اور اسے گلگت بلتستان کا اپنی نوعیت کا پہلا میگا کمیونٹی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب میں انجمن امامیہ بلتستان کے صدر اور منصوبے کے روحِ رواں آغا سید باقر الحسینی، وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین، گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ، اور سابق وزیرِ اعلیٰ حاجی گلبر خان نے شرکت کی۔ انجمن امامیہ گلگت کی جانب سے بھی ایک اعلیٰ سطحی وفد اس تاریخی موقع پر موجود تھا، جبکہ ہزاروں کی تعداد میں مقامی آبادی نے اس لمحے کی گواہی دی۔ یہ منظر خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ منصوبہ محض ایک تعمیراتی کارنامہ نہیں بلکہ ایک پورے خطے کی امیدوں اور محنت کا ثمر ہے۔
سکردو شہر برسوں سے شدید آبی قلت کا سامنا کر رہا تھا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں بے قاعدگی، بڑھتی آبادی، اور روایتی ذرائع آب کی ناکافی گنجائش نے سکردو کے باسیوں کو ہر گرمی میں پانی کی تلاش میں دربدر کر رکھا تھا۔ ایسے میں حکومتی سطح پر بڑے منصوبوں کے برسوں تک التوا میں پڑے رہنے کے بعد، مقامی کمیونٹی نے خود آستین چڑھا لی۔ آغا باقر الحسینی نے عوامی چندہ مہم کی قیادت کی، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ذاتی کاوش ایک اجتماعی تحریک میں بدل گئی۔ علماء، مساجد، مقامی بزرگ، اور ہر گھرانہ اس مہم کا حصہ بنا۔ حکومتی اداروں، مخیر حضرات، اور پاکستان آرمی کی جانب سے بھی اس نیک کاوش کو بھرپور تعاون فراہم کیا گیا، جس نے اس منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
فیالونگ منصوبے سے تقریباً پندرہ ہزار ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کیا جا سکے گا، جس سے سکردو کے کاشتکاروں کی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ قریب چار لاکھ افراد کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کا ذریعہ بنے گا۔ آب رسانی کا یہ نظام نہ صرف موجودہ بحران کا حل پیش کرتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے پائیدار زرعی و آبی تحفظ کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ صاف پانی کی دستیابی سے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں کمی، خواتین اور بچوں پر پانی لانے کی مشقت میں کمی، اور مجموعی معیارِ زندگی میں بہتری جیسے سماجی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔
اس منصوبے کی سب سے نمایاں خوبی وہ اجتماعی یکجہتی ہے جو اس کی بنیاد میں کارفرما رہی۔ ترقیاتی شعبے میں کام کرنے کا تجربہ یہ سکھاتا ہے کہ کوئی بھی منصوبہ، خواہ کتنا ہی وسائل سے مالا مال ہو، جب تک مقامی آبادی اسے اپنا نہ سمجھے، اس کی کامیابی اور دیرپائی مشکوک رہتی ہے۔ فیالونگ منصوبہ اس اصول کی روشن مثال ہے۔ یہاں کمیونٹی نے نہ صرف چندہ دیا بلکہ رضاکارانہ مشقت، مقامی قیادت، اور نگرانی کے ذریعے منصوبے کی ملکیت کا احساس بھی برقرار رکھا۔ یہی ملکیت کا جذبہ ہے جو مستقبل میں اس چینل کی بحالی اور دیکھ بھال کو بھی یقینی بنائے گا۔
یہ منصوبہ گلگت بلتستان کے دیگر پسماندہ علاقوں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے کہ کس طرح مذہبی و سماجی قیادت، حکومتی سرپرستی، اور عوامی جذبہ مل کر ایک بڑا چیلنج بھی حل کر سکتے ہیں۔ سرکاری وسائل کی محدودیت اور بیوروکریٹک تاخیر کے دور میں، فیالونگ منصوبہ ثابت کرتا ہے کہ کمیونٹی کی متحد قوت کسی بھی رکاوٹ سے بڑی ہو سکتی ہے۔
فیالونگ آبی منصوبے کی تکمیل محض ایک انجینئرنگ کامیابی نہیں، بلکہ یہ سکردو اور دیوسائی کے عوام کے صبر، اتحاد، اور جہدِ مسلسل کی داستان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی ادارے اس منصوبے کی دیکھ بھال، ماحولیاتی تحفظ، اور طویل المدتی انتظام میں کمیونٹی کے ساتھ کس طرح شراکت داری قائم رکھتے ہیں، تاکہ یہ روشن مثال دیرپا بھی ثابت ہو اور آئندہ نسلوں کے لیے بھی سود مند رہے۔
ندیم حیدر میر
کمیونیکیشنسٹ/ میڈیا پروفیشنل