10/05/2026
دیامر حلقہ 1: دو بڑی دستبرداریاں، سیاسی دنگل عروج پر
گلگت بلتستان کے عام انتخابات قریب آتے ہی سیاسی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مگر اگر کسی حلقے نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے تو وہ دیامر حلقہ ون ہے۔ اس حلقے میں سیاسی جوڑ توڑ، رابطے، خفیہ ملاقاتیں اور امیدواروں کے درمیان اندرونی مذاکرات اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں دو مضبوط امیدوار دستبردار ہو کر دو مختلف امیدواروں کے حق میں اعلان کریں گے، اور یہی فیصلہ حلقے کی سیاست کا رخ بدلنے کا سبب بن جائیگا۔
دیامر حلقہ ون میں اصل مقابلہ اب صرف ووٹ لینے کا نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی، برادریوں کی حمایت، مقامی اثر و رسوخ اور زمینی نیٹ ورک کی طاقت کا بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر امیدوار اپنی سیاسی بساط بچھانے میں مصروف ہے۔ ایک طرف وفاقی جماعتوں کے امیدوار اپنے پارٹی بیانیے اور حکومتی روابط کے سہارے میدان میں موجود ہیں، تو دوسری طرف آزاد امیدوار عوامی طاقت اور مقامی شناخت کے نعرے کے ساتھ انتخابی ماحول کو گرما رہے ہیں۔
اس بار تھک اور گوہرباد کی سیاست خصوصی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں علاقوں میں سیاسی اتحاد اور ناراض دھڑوں کی سرگرمیوں نے انتخابی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مختلف برادریوں کے درمیان روابط، جرگے، خفیہ بیٹھکیں اور حمایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہی وہ علاقے ہیں جہاں معمولی سیاسی تبدیلی بھی پورے حلقے کے نتائج پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
حلقے کی موجودہ صورتحال کچھ امیدواروں کیلئے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے۔ کئی ایسے امیدوار جو ابتدا میں خود کو مضبوط تصور کر رہے تھے، اب بدلتی سیاسی صف بندیوں کے باعث دباؤ کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جا رہا ہے کہ ان چند دنوں میں اگر سیاسی اتحاد وجود میں آ گئے تو چند امیدوار مکمل طور پر انتخابی دوڑ سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اسی خوف کے باعث سیاسی سازشوں، پروپیگنڈے اور ایک دوسرے کے خلاف خفیہ مہمات میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
دیامر حلقہ ون کی ایک بڑی خاصیت یہ بھی ہے کہ یہاں اس بار صرف روایتی سیاستدان ہی نہیں بلکہ نوجوان قیادت بھی بھرپور انداز میں میدان میں اتری ہوئی ہے۔ پرانے سیاسی شکاری، جو کئی انتخابات کا تجربہ رکھتے ہیں، اپنی روایتی طاقت اور اثر و رسوخ کے ساتھ موجود ہیں، مگر نوجوان امیدواروں نے سوشل میڈیا، عوامی رابطہ مہم اور نئے بیانیے کے ذریعے سیاسی ماحول میں نئی جان ڈال دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار انتخاب صرف شخصیات کا نہیں بلکہ دو مختلف سیاسی سوچوں کا مقابلہ بنتا جا رہا ہے۔
عوامی سطح پر بھی اس حلقے میں غیر معمولی دلچسپی پائی جا رہی ہے۔ بازاروں، ہوٹلوں، حجرہ سیاست اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صرف ایک ہی موضوع زیر بحث ہے کہ آخر کون سا امیدوار کس کے حق میں دستبردار ہوگا اور اس فیصلے سے سیاسی طاقت کا توازن کس طرف جھکے گا۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ کل کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس حوالے سے سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ آنے والے چند دن دیامر حلقہ ون کی سیاست کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوں گے، کیونکہ ممکنہ اتحاد اور دستبرداریاں نہ صرف امیدواروں کی قسمت بدلیں گی بلکہ پورے حلقے کے سیاسی مستقبل پر بھی اثر انداز ہوں گی۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دیامر حلقہ ون اس وقت گلگت بلتستان کی سیاست کا سب سے دلچسپ، پیچیدہ اور سنسنی خیز انتخابی میدان بن چکا ہے، جہاں ہر گزرتا دن نئی سیاسی کہانی اور نیا سیاسی موڑ لے کر آ رہا ہے
ارشد جگنو