Media Lens

Media Lens Follow WhatsApp Channel of Media Lens:
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8h2VEISTkEB0LLSE3t

Website
media-lens.com

گلگت کے نوجوان کی پاکستان انڈر 16 فٹبال ٹیم میں شمولیتگلگت کے علاقے پری بنگلہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد زیدان شاه ن...
10/08/2026

گلگت کے نوجوان کی پاکستان انڈر 16 فٹبال ٹیم میں شمولیت

گلگت کے علاقے پری بنگلہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد زیدان شاه نواز کو پاکستان انڈر 16 فٹبال ٹیم کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔

محمد زیدان چین میں منعقد ہونے والے پیس کپ 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ میڈیا لینز ۔ گلگت بلتستان کی وادیوں سے نکل کر بین الاقوامی میدان تک پہنچنے والے اس نوجوان کھلاڑی کی کامیابی کو علاقے کے لیے باعثِ فخر قرار دیا جا رہا ہے۔

لمحہِ مہربانتحریر: احسان کریمقدرت کے اصول نرالے ہوتے ہیں۔ عرش سےلمحہِ مہربان کسی کے نصیب  میں کسی بھی وقت اتر سکتا ہے۔اس...
10/08/2026

لمحہِ مہربان

تحریر: احسان کریم

قدرت کے اصول نرالے ہوتے ہیں۔ عرش سےلمحہِ مہربان کسی کے نصیب میں کسی بھی وقت اتر سکتا ہے۔اس کی مہربانی کا معیار انتہائی خوب صورت ہوتا ہے۔اس کا مہربان نہ ہونا بھی ،مہربانی کی ہی ایک شکل ہوتی ہے ۔فطرتاً انسان ناشکرا واقع ہوا ہے وہ صرف مادی اشیا کو سمیٹنے کو ہی قدرت کی دین سمجھتا ہے اور ان کا نہ ملنا اس کے کڑھنے کا موجب بنتی ہے۔قدرت ہمیشہ انسان کی بہتری کےلیے وہ سب کچھ کرتی ہے جس کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔قدرت کے ان رازوں کو سمجھنا ہمارے بس کی بات بھی نہیں۔جوفیصلے کاتب تقدیر لکھتا ہے وہی ہمارے دنیاوی زندگی کےلئے موزوں رہتے ہیں۔
ہمارا پیدا ہونا ہمارے اختیار میں نہیں ہوتااور نہ ہی اپنی مرضی کے والدین،مذہب،سماج اور بودو باش کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ایک بچہ اس دنیا میں سونے کا نوالہ منہ میں لے کر پیدا ہوتا ہے جبکہ اسی اثنا دوسرا بچہ غربت کے ڈیرے میں انکھ کھول لیتا ہے۔ننگ وبھوک،سفید پوشی کسی مصیبت کی بیل کی طرح ان کے ننھے اور معصوم وجود سے لپٹ جاتی ہے۔سکول جانے کے عمر میں ہی اس کے معصوم کندھوں پر گھر کی ذمہ داری ان پڑتی ہے۔یہ ننھے فرشتے کسی چائے خانے کے سامنے اپکو جوتے چمکاتے ہوئے نظر آئیں گے۔یہ اپنے خاندان کے لیے نان و نفقہ کا بندوبست کررہے ہوتے ہیں۔کبھی کبھار کچرے کے ڈھیر سے ،یہ ننھے پھول اپنے معصوم ہاتھوں سے اپنے حصے کا رزق تلاش کرتے نظرآتےہیں۔یہ اپنے گھر کے ذمہ دار ہوتے ہیں اورپنے اور اپنے خاندان کی پیٹ کا اگ بجھانےکی خاطر یہ پھول نگر کی کلیاں اپنی دس انگلیوں سے مشقت کرکے اپنے خاندان کا سہارا بنتے ہیں۔رزق کی تلاش میں کم سنی میں دربدر پھرتے ہوئےیہ اداس چہرے معاشرے میں رہنے والے ہر بندہ خدا سے سوال کرتے کرتے خود کو تقدیر کے لکھے کا تماشا نہیں بناتے بلکہ اپنی محنت سے بھیک کو جوتے کی نوک پے رکھتے ہیں۔میں جب بھی ان پھولوں کو زندگی کی اس تپتی دھوپ میں یوں مرجھائے ہوئے دیکھتا ہوں تو میرا حساس وجود جل کے خاکستر ہوجاتا ہے۔یہ مختلف ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار ہوجاتے ہیں۔چونکہ یہ نابلد ہوتے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ یہ اپنے زندگی کے اس خوب صورت حصے کو جی بھر کے جی لیتے مگر یہ بچپن کی محرومیاں انسان کا عمر بھر پیچھا کرتی ہیں۔وہ خواہشیں جو پوری نہیں ہوتی ہیں وہ غم کا روپ دھار لیتی ہیں۔
میں مانتا ہوں کہ دو افراد کے نصیب کی کہانی یکساں نہیں ہوتی ہیں لیکن ہر ایک کو بھرپور جینے کا حق حاصل ہے۔اب یہ ہمارا فرض ہے ان پھول جیسے بچوں کے سر پردست شفقت رکھے اور ان کا حوصلہ بنے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ بچے اللہ تعالیٰ کے باغ کے پھول ہوتے ہیں۔ ان کی اداس انکھوں میں خوشی کی رنگ بھر دیں۔معاشرے زندہ ضمیر والوں سے پھلتے پھولتے اور خوشحال ہوجاتے ہیں۔یہ بچے بلکل ہمارے بچوں جیسے ہی ہیں۔ان پھولوں کی آبیاری کی ذمہ داری ہمیں ادا کرنی پڑے گی ورنہ یہ مرجھائیں گے۔

10/08/2026

*گلگت بلتستان سے پاکستان تک، الحاق کی تاریخی داستان ایک عینی شاہد کی زبانی*

قیامِ پاکستان کی تاریخ لاکھوں شہداء، مہاجرین اور بزرگوں کی بے مثال قربانیوں سے عبارت ہے

پاکستان کے قیام کے عینی شاہدین آج بھی آزادی کے اس تاریخی سفر کی یادیں اپنے سینوں میں محفوظ رکھے ہوئے ہیں

*گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے قیام پاکستان کے عینی شاہد بزرگ شہری کاچو مہدی علی نے اُس وقت کے حالات اور عوامی جذبات بیان کرتے ہوئے کہا کہ؛*
تقسیمِ ہند کے وقت برطانوی اقتدار کے خاتمے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام نے اپنی مرضی سے پاکستان کا انتخاب کیا

وسائل اور ہتھیار نہ ہونے کے باوجود گلگت بلتستان کے نوجوانوں نے بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزادی کی جدوجہد کی *،کاچو مہدی علی*

اُس دور میں بیشتر لوگ پڑھے لکھے نہ تھے مگر قائداعظم محمد علی جناح کے جذبۂ قیادت سے متاثر تھے *،کاچو مہدی علی*

قائداعظم کی قیادت میں پاکستان کے قیام پر گلگت بلتستان کے عوام نے خوشی کا اظہار کیا اور پاکستان سے اپنی وابستگی مضبوط کی *،کاچو مہدی علی*

*گلگت بلتستان کےعوام کا پاکستان سے یہ مضبوط رشتہ آج بھی محبت، وفاداری اور لازوال قومی وابستگی کی روشن علامت ہے*
بشکریہ آئی ایس پی آر

10/08/2026

کوہ پیمائی صرف ایڈونچر کا نام نہیں، یہ قدرت کی طاقت، بلندی، موسم اور غیر یقینی حالات کے خلاف ایک مشکل جدوجہد ہے۔ دنیا کے بلند ترین پہاڑوں پر ایک معمولی غلطی بھی زندگی اور موت کا فرق بن سکتی ہے۔

حالیہ واقعات میں پاکستان اور نیپال کی جانب سے ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشنز نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ مشکل ترین پہاڑی علاقوں میں پھنسے کوہ پیماؤں کی زندگی بچانے کے لیے جدید ریسکیو سہولیات اور ماہر ٹیموں کی کتنی اہمیت ہے۔

ہر کامیاب ریسکیو کے پیچھے پائلٹس، ریسکیو اہلکاروں اور گراؤنڈ ٹیموں کی اپنی جان خطرے میں ڈالنے والی محنت شامل ہوتی ہے۔

پہاڑوں کا احترام کریں، مکمل تیاری کے ساتھ مہم جوئی کریں—کیونکہ ہر زندگی قیمتی ہے۔

وزیراعلیٰ امجد ایڈووکیٹ کی کھلی کچہری؛ عوامی رابطے کی ایک نئی روایت۔تحریر: راجہ حسین راجواسیاست کا اصل مقصد اقتدار کا حص...
10/08/2026

وزیراعلیٰ امجد ایڈووکیٹ کی کھلی کچہری؛ عوامی رابطے کی ایک نئی روایت۔

تحریر: راجہ حسین راجوا

سیاست کا اصل مقصد اقتدار کا حصول نہیں بلکہ عوام کی خدمت، ان کے مسائل کا ادراک اور انہیں حل کرنے کی عملی کوشش ہے۔ ایک اچھے حکمران کی سب سے بڑی خوبی یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے دفتر کی فائلوں اور سرکاری اجلاسوں تک محدود رہنے کے بجائے عام آدمی کے درمیان موجود رہے، اس کی بات سنے اور اس کے مسائل کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔ اسی تناظر میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد ایڈووکیٹ کی جانب سے باقاعدگی کے ساتھ کھلی کچہری کا انعقاد ایک قابلِ تحسین اور عوام دوست اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے۔

کھلی کچہری نے خصوصاً غریب، متوسط طبقے اور ان لوگوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے جو اکثر حکومتی ایوانوں تک رسائی کو مشکل سمجھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے سیاسی وابستگی، جماعتی اختلاف اور ذاتی تعلقات سے بالاتر ہوکر ہر شہری کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ براہِ راست ان کے سامنے اپنے مسائل رکھ سکے۔ کسی عام شہری کے لیے یہ احساس ہی بہت اہم ہے کہ صوبے کا سربراہ اس کی بات سننے کے لیے خود موجود ہے۔

ماضی میں عام شہریوں کو وزرائے اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں تک رسائی کے لیے طویل انتظار، سفارش اور مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا تھا۔ کئی مرتبہ ایک معمولی نوعیت کے مسئلے کے حل کے لیے بھی شہری کو متعلقہ محکموں کے دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ ایسے میں وزیراعلیٰ کا خود عوام کے درمیان بیٹھ کر ان کے مسائل سننا نہ صرف ایک مثبت روایت ہے بلکہ طرزِ حکمرانی میں ایک نمایاں تبدیلی کی علامت بھی ہے۔

کھلی کچہری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں کسی شہری کو اپنی بات پہنچانے کے لیے کسی بااثر شخصیت کی سفارش یا سیاسی تعلق کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں۔ ایک عام آدمی براہِ راست اپنی شکایت یا مسئلہ وزیراعلیٰ کے سامنے رکھ سکتا ہے۔ اگر اس روایت کو مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے اور کھلی کچہری میں سامنے آنے والے مسائل کے حل کی مؤثر نگرانی بھی کی جائے تو یہ اقدام حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

تاہم اس مثبت اقدام کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے بعض کارکنوں کے تحفظات بھی اپنی جگہ موجود ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ بعض کارکنوں کا مؤقف ہے کہ وزیراعلیٰ کے سخت سیاسی مخالفین بھی کھلی کچہری کے ذریعے براہِ راست وزیراعلیٰ تک رسائی حاصل کرتے ہیں، اپنے مسائل حل کرواتے ہیں اور بعدازاں اپنے حلقوں میں آکر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو سیاسی طعنے دیتے ہیں۔ کارکنوں کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ ایسے افراد کی وزیراعلیٰ سے ملاقاتیں متعلقہ حلقوں کے پارٹی کارکنوں کے ذریعے ہوں، تاکہ ایک طرف عوامی مسائل حل ہوں اور دوسری طرف پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ بھی مضبوط اور فعال رہے۔

یہ تحفظات اپنی جگہ قابلِ غور ہیں، لیکن یہاں ایک بنیادی حقیقت کو بھی سامنے رکھنا ہوگا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی شناخت ہی عوامی خدمت، جمہوریت اور عام آدمی کے حقوق کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔اگر کوئی شخص سیاسی طور پر پیپلز پارٹی کا مخالف بھی ہے لیکن اسے کوئی حقیقی مسئلہ درپیش ہے تو محض اس کی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر اس کی داد رسی سے انکار کرنا پیپلز پارٹی کی بنیادی عوامی سیاست کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اصل ضرورت توازن پیدا کرنے کی ہے۔ وزیراعلیٰ کا دروازہ ہر شہری کے لیے کھلا رہنا چاہیے، کیونکہ یہی عوامی حکومت کی خوبصورتی ہے، لیکن ساتھ ہی پارٹی کارکنوں کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ حکومت اور پارٹی ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ایک ہی سیاسی عمل کے دو اہم ستون ہیں۔ کارکن حکومت اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اگر ہر حلقے کے کارکن اپنے علاقے کے مسائل مرتب کرکے وزیراعلیٰ تک پہنچائیں تو اس سے عوامی مسائل کی نشاندہی بھی بہتر ہوگی اور پارٹی کا تنظیمی کردار بھی مضبوط ہوگا۔

یہ بھی ضروری ہے کہ کھلی کچہری کو محض شکایات سننے کی سرگرمی تک محدود نہ رکھا جائے۔ عوام جن مسائل کے ساتھ وزیراعلیٰ کے پاس آتے ہیں، ان پر ہونے والی پیش رفت، متعلقہ محکموں کی کارکردگی اور فیصلوں پر عملدرآمد کی باقاعدہ نگرانی بھی ہونی چاہیے۔ اگر کسی غریب شہری کی درخواست وزیراعلیٰ کے سامنے پیش ہونے کے بعد متعلقہ محکمے میں دوبارہ فائلوں کے ڈھیر میں دب جائے تو کھلی کچہری کا بنیادی مقصد متاثر ہوسکتا ہے۔

وزیراعلیٰ امجد ایڈووکیٹ کے لیے یہ موقع بھی موجود ہے کہ وہ کھلی کچہری کو ایک باقاعدہ عوامی شکایات کے نظام سے جوڑیں، جہاں ہر درخواست کا ریکارڈ مرتب ہو، اس کی پیش رفت معلوم کی جاسکے اور شہری کو یہ بتایا جائے کہ اس کے مسئلے پر کیا کارروائی ہوئی۔ اس طرح کھلی کچہری محض ایک ملاقات نہیں بلکہ ایک مؤثر گورننس ماڈل بن سکتی ہے۔

پارٹی کارکنوں کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج کی سیاست صرف جلسوں، نعروں اور بیانات تک محدود نہیں رہی۔ عوام اپنے نمائندوں سے براہِ راست رابطہ، فوری رسائی اور عملی کام چاہتے ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی کے کارکن وزیراعلیٰ کی عوامی رابطہ پالیسی کو اپنی سیاسی قوت بنائیں اور اپنے اپنے علاقوں میں عوام کے مسائل کی نشاندہی اور حل کے لیے متحرک کردار ادا کریں تو اس سے حکومت اور پارٹی دونوں کو فائدہ ہوگا۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کا استور کا دورہوزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی استور آمد پر پولیس کے چاک و چوبند...
10/08/2026

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کا استور کا دورہ
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی استور آمد پر پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی، جبکہ ڈپٹی کمشنر استور اور ایس پی استور نے انہیں روایتی چوغہ اور ٹوپی پہنائی۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ امجد حسین نے ضلعی انتظامیہ استور اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے افسران کو حالیہ سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ شاہراہوں کی فوری صفائی، بحالی اور چینلائزیشن کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کیں۔

فیالونگ آبی منصوبہ: دیوسائی سے سکردو تک امید کا سفر9 اگست 2026 کا دن گلگت بلتستان کی ترقیاتی تاریخ میں ایک یادگار دن کے ...
10/08/2026

فیالونگ آبی منصوبہ: دیوسائی سے سکردو تک امید کا سفر

9 اگست 2026 کا دن گلگت بلتستان کی ترقیاتی تاریخ میں ایک یادگار دن کے طور پر رقم ہو گیا، جب دیوسائی کے میدانوں سے سکردو تک پانی پہنچانے والے تاریخی "فیالونگ آبی رابطہ منصوبہ" کا باقاعدہ افتتاح عمل میں آیا۔ 37,000 فٹ طویل یہ آبی چینل دیوسائی کے پانیوں کا رخ سکردو کی جانب موڑنے کے لیے تعمیر کیا گیا ہے، اور اسے گلگت بلتستان کا اپنی نوعیت کا پہلا میگا کمیونٹی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔

افتتاحی تقریب میں انجمن امامیہ بلتستان کے صدر اور منصوبے کے روحِ رواں آغا سید باقر الحسینی، وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین، گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ، اور سابق وزیرِ اعلیٰ حاجی گلبر خان نے شرکت کی۔ انجمن امامیہ گلگت کی جانب سے بھی ایک اعلیٰ سطحی وفد اس تاریخی موقع پر موجود تھا، جبکہ ہزاروں کی تعداد میں مقامی آبادی نے اس لمحے کی گواہی دی۔ یہ منظر خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ منصوبہ محض ایک تعمیراتی کارنامہ نہیں بلکہ ایک پورے خطے کی امیدوں اور محنت کا ثمر ہے۔

سکردو شہر برسوں سے شدید آبی قلت کا سامنا کر رہا تھا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں بے قاعدگی، بڑھتی آبادی، اور روایتی ذرائع آب کی ناکافی گنجائش نے سکردو کے باسیوں کو ہر گرمی میں پانی کی تلاش میں دربدر کر رکھا تھا۔ ایسے میں حکومتی سطح پر بڑے منصوبوں کے برسوں تک التوا میں پڑے رہنے کے بعد، مقامی کمیونٹی نے خود آستین چڑھا لی۔ آغا باقر الحسینی نے عوامی چندہ مہم کی قیادت کی، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ذاتی کاوش ایک اجتماعی تحریک میں بدل گئی۔ علماء، مساجد، مقامی بزرگ، اور ہر گھرانہ اس مہم کا حصہ بنا۔ حکومتی اداروں، مخیر حضرات، اور پاکستان آرمی کی جانب سے بھی اس نیک کاوش کو بھرپور تعاون فراہم کیا گیا، جس نے اس منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

فیالونگ منصوبے سے تقریباً پندرہ ہزار ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کیا جا سکے گا، جس سے سکردو کے کاشتکاروں کی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ قریب چار لاکھ افراد کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کا ذریعہ بنے گا۔ آب رسانی کا یہ نظام نہ صرف موجودہ بحران کا حل پیش کرتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے پائیدار زرعی و آبی تحفظ کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ صاف پانی کی دستیابی سے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں کمی، خواتین اور بچوں پر پانی لانے کی مشقت میں کمی، اور مجموعی معیارِ زندگی میں بہتری جیسے سماجی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔

اس منصوبے کی سب سے نمایاں خوبی وہ اجتماعی یکجہتی ہے جو اس کی بنیاد میں کارفرما رہی۔ ترقیاتی شعبے میں کام کرنے کا تجربہ یہ سکھاتا ہے کہ کوئی بھی منصوبہ، خواہ کتنا ہی وسائل سے مالا مال ہو، جب تک مقامی آبادی اسے اپنا نہ سمجھے، اس کی کامیابی اور دیرپائی مشکوک رہتی ہے۔ فیالونگ منصوبہ اس اصول کی روشن مثال ہے۔ یہاں کمیونٹی نے نہ صرف چندہ دیا بلکہ رضاکارانہ مشقت، مقامی قیادت، اور نگرانی کے ذریعے منصوبے کی ملکیت کا احساس بھی برقرار رکھا۔ یہی ملکیت کا جذبہ ہے جو مستقبل میں اس چینل کی بحالی اور دیکھ بھال کو بھی یقینی بنائے گا۔

یہ منصوبہ گلگت بلتستان کے دیگر پسماندہ علاقوں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے کہ کس طرح مذہبی و سماجی قیادت، حکومتی سرپرستی، اور عوامی جذبہ مل کر ایک بڑا چیلنج بھی حل کر سکتے ہیں۔ سرکاری وسائل کی محدودیت اور بیوروکریٹک تاخیر کے دور میں، فیالونگ منصوبہ ثابت کرتا ہے کہ کمیونٹی کی متحد قوت کسی بھی رکاوٹ سے بڑی ہو سکتی ہے۔

فیالونگ آبی منصوبے کی تکمیل محض ایک انجینئرنگ کامیابی نہیں، بلکہ یہ سکردو اور دیوسائی کے عوام کے صبر، اتحاد، اور جہدِ مسلسل کی داستان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی ادارے اس منصوبے کی دیکھ بھال، ماحولیاتی تحفظ، اور طویل المدتی انتظام میں کمیونٹی کے ساتھ کس طرح شراکت داری قائم رکھتے ہیں، تاکہ یہ روشن مثال دیرپا بھی ثابت ہو اور آئندہ نسلوں کے لیے بھی سود مند رہے۔

ندیم حیدر میر
کمیونیکیشنسٹ/ میڈیا پروفیشنل

وزیر اعلی گلگت بلتستان امجد حسین ضلعی انتظامیہ استور اور مواصلات و تعمیرات کے آفسران کو حالیہ سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ...
10/08/2026

وزیر اعلی گلگت بلتستان امجد حسین ضلعی انتظامیہ استور اور مواصلات و تعمیرات کے آفسران کو حالیہ سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ شاہراہ کی صفائی اور چینلائیزیشن کے حوالے سے ہدایات دے رہے ہیں۔

پریس ریلیزپیپلزیوتھ آرگنائزیشن گلگت بلتستان کے صدر ڈاکٹر شاہد گلگتی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے  مقامی حکومتوں ک...
09/08/2026

پریس ریلیز
پیپلزیوتھ آرگنائزیشن گلگت بلتستان کے صدر ڈاکٹر شاہد گلگتی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے مقامی حکومتوں کے نظام میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی تاریخی اقدام ہے، جسے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ہر ھماعت کا نوجوان کارکن سنہرے الفاظ میں سراہتا ہے ، اس ترمیم سے نوجوانوں اور پڑھے لکھے طبقے میں سیاسی سوچ پروان چڑھے گی اور مذہبی شدت پسندی کی حوصلہ شکنی ہوگی اور غیر سیاسی قوتیں کمزور پڑ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزیوتھ کے مطالبے پر صوبائی حکومت کی لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا عزم وزیراعلی کی نوجوانوں کےلیے بہتر مستقبل فراہم کرنے کے ویژن کا حصہ ہے جسے پیپلزیوتھ کی بھرپور سپورٹ حاصل ہوگی۔ سیاسی جدوجہد کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے والے سیاسی رہنماء کا یہی انداز ہوتا ہے جسے عوامی پذیرائی کا ملنا لازم سی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میً ترمیم کرکے اسپشل افراد کا کوٹہ مختص کرنے کا عزم بھی قابل تعریف اقدام ہے۔ ڈاکٹر شاہد نے کہا کہ عوامی وزیراعلی کے عوامی اقدامات ہر طبقے اور ہر جماعت کے افراد کو ہضم ہورہے ماسوائے ان افراد کے جن کی سیاسی سوچ انتشار اور تصادم کی ہے

گلگتچیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان (تمغہ شجاعت) نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تمام ریٹرننگ آفیسرز کوہدای...
09/08/2026

گلگت
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان (تمغہ شجاعت) نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تمام ریٹرننگ آفیسرز کوہدایت دی ہے کہ انتخابی شیڈول کے مطابق 10 آگست 2026 سے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کریں،جبکہ اپیلیں 18 سے 21 اگست تک دائر کی جا سکیں گی۔ اپیلوں پر فیصلے 22 سے 28 اگست کے دوران کیے جائیں گے اور امیدواروں کی حتمی فہرست 29 اگست کو جاری ہوگی۔ انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ یکم ستمبر کو کی جائے گی۔
واضح رہے کہ انتخابی شیڈول کے تحت کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال 10 اگست تا 17 اگست 2026،ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کا اندراج 18 اگست تا 21 اگست 2026،اپیلوں پر فیصلہ 22 اگست تا 28 اگست 2026،نظرثانی شدہ فہرست امیدواران کی اشاعت 29 اگست 2026،دستبرداری اور حتمی نظرثانی شدہ فہرست کی اشاعت 31 اگست 2026،انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ اور حتمی فہرست امیدواران کی اشاعت یکم ستمبر 2026،پولنگ ڈے 27 ستمبر 2026 (اتوار) ہوگا۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کے اجراء سے قبل انتخابی پروگرام کے تحت مکمل کیے گئے تمام مراحل اور اقدامات بدستور موثر اور قانونی طور پر درست تصور کیے جائیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا کہ بلدیاتی نظام ایک نیا انتخابی ڈھانچہ ہے، اس لیے عوام اور امیدوار قانون کے مطابق انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیں اور جمہوری نظام کے استحکام میں اپنا کردار ادا کریں۔

*شعبہ تعلقات عامہ*
*الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ گلگت بلتستان*

Address

Street 1, Shahra-e-Quaid Azam, Near Agriculture Bank, Jutial
Gilgit
15100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Media Lens posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Media Lens:

Shortcuts

Share