North Books Gilgit

North Books Gilgit North Books Center Provide All Types of Books and Magazines, You can Purchase any book or Magazines on this page we are here 24/7

21/03/2026
عیدالفطر پر جنگ کے سائے، درد بھرا پیغامایران میں کشیدہ صورتحال اور جنگی خدشات کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای نے عیدالفطر کے مو...
21/03/2026

عیدالفطر پر جنگ کے سائے، درد بھرا پیغام
ایران میں کشیدہ صورتحال اور جنگی خدشات کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای نے عیدالفطر کے موقع پر امتِ مسلمہ کے نام انتہائی جذباتی پیغام جاری کر دیا۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ “آج جب ایران سمیت کئی مسلم ممالک مشکل حالات اور خطرات سے گزر رہے ہیں، یہ عید ہمیں اتحاد، صبر اور قربانی کا سبق دیتی ہے۔”
انہوں نے فلسطین، کشمیر اور دیگر مظلوم خطوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں اپنی خوشیوں میں ان بھائیوں کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے جو ظلم اور جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ “حقیقی عید اس وقت ہوگی جب امتِ مسلمہ ایک ہو کر ظلم کے خلاف کھڑی ہوگی اور ہر مظلوم کو انصاف ملے گا۔”
یہ پیغام سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور صارفین کی بڑی تعداد اس پر گہرے جذبات کا اظہار کر رہی ہے۔

علی کا علی سے مکالمہ👇اسرائیل نے بڑے فخر سے علی لاریجانی کے قتل کا اعلان کیا۔ یہ اعلان سن کر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ...
20/03/2026

علی کا علی سے مکالمہ👇
اسرائیل نے بڑے فخر سے علی لاریجانی کے قتل کا اعلان کیا۔ یہ اعلان سن کر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ لاریجانی ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری تھے ۔ انہوں نے اپنی حفاظت کا مناسب انتظام کیوں نہ کیا؟ ابھی اس سوال کا جواب نہیں ملا تھا کہ ایک سفارتکار نے ایران کے ایک اخبار میں لاریجانی اور ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت الله علی خامنہ ای کے درمیان آخری مکالمے کی شائع ہونے والی تفصیل بھیجی ۔ جس دن لاریجانی کی شہادت ہوئی اُس سے ایک دن قبل لاریجانی نے خود اس مکالمے کی تفصیل جاری کی جو اُنکے پاس ایک امانت تھی ۔ شہادت سے قبل لاریجانی نے یہ امانت ایرانی عوام کے سپرد کر دی اور اُنہیں اپنے ساتھ ساتھ علی خامنہ ای کی شہادت کی وجہ بھی بتا دی۔ ایران کے دو لیڈروں کے درمیان یہ مکالمہ ہمیں یہ بھی سمجھاتا ہے کہ قتل حسین اصل میں مرگ یزید کیوں ہے اور اسلام ہر کربلا کے بعد زندہ کیوں ہو جاتاہے ؟ مجھ تک یہ مکالمہ انگریزی میں پہنچا ہے جسے فارسی سے ترجمہ کیا گیا لیکن اسکے راوی علی لاریحانی ہیں اور انداز بیان بھی انہی کا ہے۔ یہ دراصل لاریجانی اور علی خامنہ ای کے درمیان آخری ملاقات کی کہانی ہے ۔ دونوں کا نام علی تھا لیکن لاریجانی سپریم لیڈر کو ہمیشہ میرے قائد کہتے تھے۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے سے چند گھنٹے قبل علی لاریجانی ہاتھ میں ایک فائل اُٹھائے سپریم لیڈر سے ملاقات کیلئے اُنکے آفس میں تشریف لائے۔ لاریجانی بارہ سال تک ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے ۔2005 ء سے 2007ء تک وہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری تھے اور اگست 2025ء میں ایران صدر مسعود پزشکیان نے انہیں دوسری مرتبہ اس عہدے پر فائز کیا تھا۔ پزشکیان نے یہ فیصلہ سپریم لیڈر کے ساتھ مشورے کے بعد کیا تھا۔ لاریجانی اپنے سپریم لیڈر کو ان کے قتل کے منصوبے سے آگاہ کرنے آئے تھے۔ لاریجانی کو اس منصوبے کی تفصیلات مختلف ذرائع سے ملی تھیں لہٰذا وہ اس منصوبے کے بارے میں فائل بھی ساتھ لیکر آئے تاکہ سپریم لیڈر کے ممکنہ سوالات کا جواب دے سکیں۔ دعا سلام کے بعد لاریجانی اپنے قائد کے سامنے بیٹھ گئے اور گفتگو کے آغاز سے قبل چند لمحوں تک سپریم لیڈر کو احترام اور محبت سے دیکھتے رہے۔ پھر گویا ہوئے ’’میرے قائد ! اس مرتبہ یہ دباؤ ڈالنے کا حربہ یا عام سا پیغام نہیں بلکہ ایک فیصلے کی خبر ہے ۔ دشمن نے آپکو ہر قیمت پر شہید کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے خواہ اسے پورا آسمان میزائلوں کی آگ سے جلانا پڑے ۔ " سپریم لیڈر بڑی سنجیدگی سے لاریجانی کی بات سُن رہے تھے ۔ لاریجانی نے انہیں مزید بتایا کہ ہم نے آپ کیلئے ایک محفوظ مقام کا بندوبست کیا ہے جہاں آپ دشمن کی آنکھ سے اوجھل رہیں گے ، جہاں نہ تو دشمن کے بم آسانی سےپہنچ سکیں گے اور نہ ہی دشمن کے جنگی طیارے اُس جگہ کو ٹارگٹ کر سکیں گے ۔ سپریم لیڈر بالکل خاموش تھے ۔ اب لاریجانی نے منت سماجت کے انداز میں سپریم لیڈر کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے قائد ! یہ کوئی چھپنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک عارضی قیام گاہ ہے تا کہ طوفان کے گزرنے تک آپ نظروں سے اوجھل رہیں ۔ یہ الفاظ ادا کر کے لاریجانی خاموش ہو گئے ۔ سپریم لیڈر کچھ دیر تک مشفق مسکراہٹ کے ساتھ لاریجانی کو دیکھتے رہے ۔ پھر خامنہ ای کھڑے ہو گئے ۔ لاریجانی کو ایسا محسوس ہوا کہ سپریم لیڈر کے ساتھ تاریخ بھی اُٹھ کھڑی ہوئی ہے ۔ سپریم لیڈر نے شفقت بھرے پرسکون لہجے میں لاریجانی سے پوچھا کہ جب آپ میرے پاس آ رہے تھے تو آپکو مجھ سے کس قسم کے جواب کی توقع تھی ؟ لاریجانی نے تمام تر احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جھجک جھجک کر کہا کہ مجھے خدشہ تھا کہ آپ انکار کر دیں گے لیکن میرے قائد ! قوم کو آپکی ضرورت ہے ہم یہ جنگ اپنے کمانڈر کے بغیر نہیں لڑ سکتے ۔ یہ سُن کر سپریم کمانڈر کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ پھیل گئی جسکے پیچھے افسردگی کے ساتھ ساتھ حکمت کی جھلک بھی نمایاں تھی ۔ سپریم لیڈر نے لاریجانی سے کہا کہ ریاستی امور اور سکیورٹی کے تقاضوں کی روشنی میں آپ نے جو کہا وہ بالکل درست ہے لیکن آئیے ایک لمحے کیلئے اس معاملے پر ذرا مختلف پہلو سے نظر ڈالتے ہیں ۔ اب لاریجانی بھی اپنے قائد کی بات غور سے سننے لگے ۔سپریم لیڈر نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ اگر میں خود غائب ہو جاؤں تو اپنے سپاہیوں کو یہ کیسے کہوں گا کہ موت کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جاؤ ؟ میں اپنے لوگوں سے یہ کیسے کہوں گا کہ گھبرانا نہیں ؟اگر میں خود ہی میدان سے غائب ہو گیا تو دوسروں کو حوصلہ قائم رکھنے کا درس کیسے دوں گا ؟ پھر سپریم لیڈر نے گفتگو میں ایک وقفہ لیا تو لاریجانی کو ایسا لگا کہ اُن کے قائد کے سینے میں کربلا کا ایک دروازہ کھل گیا ہے ۔ ایک علی نے دوسرے علی کو یاد دلایا کہ ہم حسین ابن علی کی اولاد ہیں اور یہ وہ امام تھے جنہیں اپنے انجام کا پتہ تھا لیکن وہ اللّٰہ کے بھروسے پر اس انجام کی طرف بڑھتے ہوئے کر بلا تک پہنچ گئے ۔ سپریم کمانڈر نے لاریجانی کو یاد دلایا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی فوج بہت چھوٹی تھی انہیں پتہ تھا وہ دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے لیکن انہوں نے غائب ہونے کی بجائے میدان میں آکر دشمن کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ علی خامنہ ای کی بات سن کر علی لاریجانی نے ایک دفعہ پھر التجا کرتے ہوئے کہا کہ میرے قائد ! تاریخ صرف ایک واقعے کا نام نہیں ہے ہماری تاریخ میں ایک اور امام (اہل تشیع کے بارہویں امام محمد المہدی) بھی ہیں اور اُن کا منظر سے غائب ہونا بتاتا ہے کہ کبھی کبھار نظروں سے اوجھل ہونا حکمت کا تقاضا ہے بزدلی نہیں ۔ یہ سن کرسپریم لیڈر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا۔ " مسٹر لاریجانی ! فرق یہ ہے جب امام (محمد المہدی) غائب ہوئے تو اُن کے پیچھے سچ کا دفاع کرنے کیلئے کوئی فوج یا قوم نہیں تھی ۔ میں کیسے غائب ہو جاؤں جبکہ میری قوم لڑنے کیلئے تیار ہے ؟ میں کیسے غائب ہو جاؤں جب میری فوج دشمن کی آگ کے سامنے بہادری سےکھڑی ہے ؟ لیڈر کے پیچھے فوج نہ ہو تو اُس کے غائب ہونے میں حکمت ہے لیکن جب پوری قوم اسکے پیچھے کھڑی ہو اور پھر بھی لیڈر جان بچانے کیلئے غائب ہو جائے تو وہ تاریخ کے ضمیر پر ایک بھاری سوال بن جاتا ہے ۔ اب لاریجانی خاموش ہو چکے تھے ۔ اُن کےپاس کوئی جواب نہ تھا۔ سپریم لیڈر نےاُنہیںرخصت کرتے ہوئے ہاتھ ملا کر اُنکی پیشکش کا شکریہ ادا کیا۔ لاریجانی کے رخصت ہونے کے بعد سپریم لیڈر نے اپنے خاندان کو اکٹھا کیا اور انہیں لاریجانی کے خدشات اور پیشکش سے آگاہ کیا۔ خاندان کے افراد نے انہیں کہا کہ آپ جہاں رہیں گے ہم بھی آپ کے ساتھ وہیں رہیں گے ۔ تھوڑی دیر بعد سپریم لیڈر اپنے خاندان کے کئی افراد کے ساتھ اسرائیلی میزائلوں کا نشانہ بن گئے ۔ اُنکی شہادت کے بعد بھی ایران میں رجیم چینج کا خواب پورا نہ ہو سکا کیونکہ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے ۔ علی خامنہ ای کی شہادت سے علی لاریجانی کو یہ سمجھ آگئی کہ جولیڈر موت سے گھبرا کر غائب ہو جاتے ہیں وہ اپنی قوم کی یاداشت سے بھی غائب ہو جاتے ہیں ۔ لاریجانی بھی نتین یاہو کی طرح زمین دوزپناہ گاہوں میں چھپ سکتےتھے لیکن وہ اپنی قوم اور فوج کی نظروں کے سامنے موجود رہے اور چند دن بعد اپنے قائد کی طرح شہید ہو گئے ۔ رمضان میں شہید ہونے والے یہ دونوں علی ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یاد دلاتے ہیں جو 21 رمضان کو شہید ہوئے ۔ کچھ دانشوروں کے خیال میں طاقت کے سامنے ڈٹ جانا بے وقوفی ہے لیکن انہیں کون سمجھائے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ۔ جس لیڈر کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو اُسکی موت قوم کو ایک نئی زندگی عطا کرتی ہے اور پھر یہ زندگی وقت کے نمرود ، فرعون اور یزید کے زوال کا باعث بنتی ہے۔

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کا اہم اعلان11 سے 31 مارچ 2026 تک تمام کلاسز آن لائن ہوں گی۔جبکہ 16 سے 31 مارچ تک یونیورسٹی ہ...
10/03/2026

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کا اہم اعلان

11 سے 31 مارچ 2026 تک تمام کلاسز آن لائن ہوں گی۔
جبکہ 16 سے 31 مارچ تک یونیورسٹی ہفتے میں صرف چار دن (پیر تا جمعرات) کھلی رہے گی۔
انتظامیہ کے مطابق اس دوران صرف ضروری عملہ ڈیوٹی پر موجود ہوگا ۔

06/03/2026
06/03/2026

عالم اسلام کا واحد جری بہادر ملک ایران دو ایٹمی کافر ملک سے جہاد کر رہا ہے ۔ ہم پر واجب ہے ایران کی حمایت میں امریکی اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔

✍🏻 اسرائیل کی فنڈنگ میں ملوث پراڈکٹس اور ان کا متبادل بہت محنت کے بعد یہ لسٹ تیار کی گئی ہیں خود بھی بائیکاٹ کریں اور اگے بھی شیئر کریں 👇🏻

📍سرف
Areil ❌
Surf Excel❌
Rin❌
Tide ❌
Express Powe❌
Brite❌
Sunlight❌
Bonus❌
Number✅
Bree_O✅
Brillo✅
Tidy✅
Sufi✅
📍مصالحہ جات
Knorr❌
Shan✅
National✅
Mehran✅
Ahmad✅

📍چائے پتی
Lipton❌
Supream❌
TAPAL✅
Vital✅
Qamar✅
Islamabad✅
Zaiqa Tea ✅

📍کیچپ
Knorr❌
National✅
Shangrilla✅

📍شیمپو
Clear❌
Loreal❌
Lifebuay❌
Pomolive❌
Sunsilk❌
Head & Shoulder❌
Paintein❌
Hello Hair✅
Set & Touch✅
Hemani✅

📍نیل
Robin❌
Ujala✅
Power Plus✅

📍ڈش واش
Vim❌
LemonMax❌
Ujala✅
Safoon✅
Brillo✅

📍بلچن
Robin❌
Ujala✅

📍ٹائلٹ کلینر
Harpic❌
Ujala✅
Brillo✅
PowerPlus✅

📍بوتل
Pepsi❌
7up❌
Marinda❌
Due❌
Sting❌
Slice❌
Roar❌
Coca Cola❌
Sprite❌
Fanta❌
Cappy❌
Next Cola✅
Wizy Cola✅
Star Cola✅
Gourmet Cola✅_
Gourme lemon up✅_

📍جوس
Nestle❌
Shezan❌
Frutian✅
Smile✅
Fruti_O✅

📍پانی
Aquiafina❌
Nestle❌
Desani❌
Sufi✅

📍پالش
Charry❌
Bee & Flower✅
Power Plus✅

📍ٹوتھ پیسٹ
Colgate❌
Close_Up❌
Sansodine❌
Medicam✅
Nexra✅
Doctor✅

📍ڈش واش صابن
Vim❌
LemonMax❌
Safoon✅
Brillo✅

📍مچھر مار
Mortein❌
KingTox✅
Tiger✅
Razicam✅

📍روم سپرے
Airwiks❌
Paradise ✅

📍ریمور کریم
Veet❌
Anifrench❌
EU✅
Care✅
White Rose✅

📍ڈائپر
Pamper❌
Molfix✅
Rocket✅
Nana✅
Shield✅

📍برش
Sansodine❌
Colgate❌
Ezigrip✅
Doctor✅

📍دودھ
Olperal❌
Milk Pack❌
Dairy Omag❌
Asli Milk✅
Haleeb✅

📍فریش کریم
Olpeal❌
Milk Pack❌
Dubala❌
Haleeb✅
hama✅

📍صابن
Lux❌
Lifebuay❌
Dettole❌
Capri✅
Tibit✅
Himani✅
Sufi Classic✅
Brillo✅

📍سکول سامان
Dollor✅
ORO✅
Bahdur✅
Dux✅

📍آئیل اینڈ گھی
Dalda❌
Sufi✅
Shahtaj✅
Mujahid✅

📍کسٹرڈ
Rafan❌
Natinal✅

📍کریم
Fair and Lovely❌
Loreal❌
Golden Pearl✅
Sandal✅
Bio_Cos✅

📍پیٹرولیم جیلی
Vasline❌
Care✅

📍بسکٹ
LU❌
Oreo❌
English✅
Bisconni✅
Halal✅
Gibs✅

📍بے بی پراڈکس
Johnsons❌
Loreal❌
Care✅
Bimani✅

📍باڈی سپرے
Axe❌
Himani✅

📍لوشن
Vasline❌
Pound❌
NAVIA❌
Fair And Lovly❌
Care✅

📍سنیکس
Lays❌
Cheetos❌
Doritos❌
Kurkura❌
Fritos❌
Kurleez✅
Super Clips✅
Filz✅
Chipso✅

📍نوڈل
Meggie❌
Knoor❌
Shan✅

📍فروزن فوڈ
K&ns❌
Sabroso❌
Salwa❌
Sufi✅

📍آئس کریم
Omore❌
Walls❌
Thicko❌
Yummy❌
📍یمی کوالٹی ایشو
Home Made✅

📍کھانسی ٹافی
Stapsale❌
Max Cool✅
Havet✅

*یہ عام روٹین کی ہر گھر میں استعمال ہونے والی اشیاء ہیں ان میں کراس × والی ساری پروڈکٹ اسرائیلی ہیں اگر آپ انہیں خریدتے ہیں تو جان لیں کہ آپ اسرائیل کو اس گولی کے پیسے دے رہے ہیں جو ہمارے فلسطینی بہن بھائیوں ماؤں بیٹیوں کو لگ رہی ہیں لہٰذا ہماری ایمانی غیرت کا تقاضا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اسرائیلی پراڈکٹس کا بائکاٹ کرے شکریہ*

شیئر کرنا مت بھولیں

ایس سی او گلگت میں 10 نئے ٹاورز اضافہ  اور 39 ٹاورز پر نیا Huawei ایکوپمنٹ لگ رہا ہے جس کے بعد گلگت اور گردونواح میں سسٹ...
20/02/2026

ایس سی او گلگت میں 10 نئے ٹاورز اضافہ اور 39 ٹاورز پر نیا Huawei ایکوپمنٹ لگ رہا ہے جس کے بعد گلگت اور گردونواح میں سسٹم اپ گریڈیشن کو مکمل کرلیا جائے گا اور سروسز میں نمایاں بہتری آئے گی جس کے بعد صارفین کو سروس کے حوالے سے درپیش شکایت میں غیر معمولی کمی آئے گی ۔
فیز ٹو میں ہنزہ اور چلاس جبکہ فیز تھری میں بلتستان ڈویژن میں سسٹم اپ گریڈیشن کا کام مکمل کیا جائے گا ۔

گلگت شہر میں لوڈ شیڈنگ کے اوقات
08/02/2026

گلگت شہر میں لوڈ شیڈنگ کے اوقات

فوڈ ڈیپارٹمنٹ  گلگت بلتستان میں افسران کے تبادلے مختار احمد میر کو  اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ڈی ایف سی ڈسٹرکٹ کھرمنگ سے تبدیل کر ...
07/02/2026

فوڈ ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان میں افسران کے تبادلے

مختار احمد میر کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ڈی ایف سی ڈسٹرکٹ کھرمنگ سے تبدیل کر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ڈی ایف سی ضلع گلگت تعینات کیا گیا ہے۔

تسنیم کوثر کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ڈی ایف سی ضلع گلگت سے تبدیل کر کےاسسٹنٹ ڈائریکٹر/ڈی ایف سی ضلع ہنزہ تعینات کر دیا گیا ہے۔

نعیم علی کو فوڈ سیکریٹریٹ سے ٹرانسفر کر کے ضلع گانچھے میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ڈی ایف سی تعینات کیا گیا ہے ۔

فضل عباس کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ڈی ایف سی ضلع گانچھے سے تبدیل کر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ڈی ایف سی ضلع کھرمنگ بھیج دیا گیا ہے ۔

ذوہیب انور کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ڈی ایف سی ضلع نگر سے ٹرانسفر کر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ڈی ایف سی ضلع شگر تعینات کیا گیا ہے ۔

عنیقہ غلام رسول کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ڈی ایف سی ضلع ہنزہ سے تبدیل کر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ڈی ایف سی ضلع نگر تعینات کیا گیا ہے۔

40 سال قبل حکیم سعید صاحب نے لکھی تھی جہاں تک کام چلتا ہو *غذا* سےوہاں تک چاہیے  بچنا *دوا* سےاگر *خوں* کم  بنے، *بلغم* ...
07/02/2026

40 سال قبل حکیم سعید صاحب
نے لکھی تھی
جہاں تک کام چلتا ہو *غذا* سے
وہاں تک چاہیے بچنا *دوا* سے

اگر *خوں* کم بنے، *بلغم* زیادہ
تو کھا *گاجر، چنے ، شلغم* زیادہ

*جگر کے بل* پہ ہے انسان جیتا
اگر ضعف جگر ہے کھا * پپیتا*

جگرمیں ہواگر گرمی کا احساس
* مربّہ آملہ* کھا یا *انناس*

اگر ہوتی ہے * معدہ * میں گرانی
تو پی لی *سونف یا ادرک* کا پانی

تھکن سے ہوں اگر عضلات ڈھیلے
تو فوراََ * دودھ گرما گرم* پی لے

جو دکھتا ہو *گلا نزلے* کے مارے
تو کر *نمکین* پانی کے *غرارے*

اگر ہو درد سے *دانتوں* کے بے کل
تو انگلی سے مسوڑوں پر نمک مَل

جو طاقت میں کمی ہوتی ہو محسوس
تو * مصری کی ڈلی ملتان * کی چوس

شفا چاہیے اگر کھانسی سے جلدی
تو پی لے دودھ میں تھوڑی سی ہلدی

اگر * کانوں * میں تکلیف بہت ہووے
تو * سرسوں کا تیل پھائے سے نچوڑے

اگر *آنکھوں* میں پڑ جاتے ہوں *جالے*
تو *دکھنی مرچ گھی کے ساتھ کھا لے

*تپ دق* سے اگر چاہیے رہائی
بدل پانی کے *گّنا چوس* بھائ

*دمہ* میں یہ غذا بے شک ہے اچھی
کھٹائی چھوڑ کھا دریا کی مچھلی

اگر تجھ کو لگے جاڑےمیں سردی
تو استعمال کر *انڈے کی زردی*

جو *بد ہضمی* میں تو چاہے افاقہ
تو *دو اِک وقت* کا کر لے تو *فاقہ*

نگر خاص:16 سالہ لڑکی طبی معائنے اور علاج کے بعد لڑکے کی شناخت اختیار کر گئی — علاقے میں ہلچلنگر خاص میں ایک ایسا حیران ک...
03/02/2026

نگر خاص:16 سالہ لڑکی طبی معائنے اور علاج کے بعد لڑکے کی شناخت اختیار کر گئی — علاقے میں ہلچل

نگر خاص میں ایک ایسا حیران کن اور غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے جس نے پورے خطے کو حیرت اور بحث میں مبتلا کر دیا ہے۔ عباس داسو کے خاندان سے تعلق رکھنے والی 16 سالہ نوجوان، جسے پیدائش کے وقت لڑکی سمجھا جاتا تھا، طویل طبی معائنے اور علاج کے مراحل سے گزارنے کے بعد باقاعدہ طور پر لڑکے کی شناخت اختیار کر چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے تفصیلی میڈیکل ٹیسٹ، ہارمونل تجزیہ اور دیگر ضروری مراحل مکمل کرنے کے بعد اس نوجوان کی اصل حیاتیاتی شناخت واضح کی، جس کے بعد قانونی اور طبی اصولوں کے مطابق جنس کی تبدیلی کا عمل مکمل کیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ نگر کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پانچواں واقعہ ہے، جس نے ایک بار پھر علاقے میں حساس سماجی، مذہبی اور قانونی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

اس غیر معمولی پیش رفت کے بعد شناختی دستاویزات، تعلیمی ریکارڈ، وراثتی حقوق اور سماجی قبولیت جیسے اہم معاملات اب زیر بحث آ گئے ہیں۔ مقامی حلقوں میں اس واقعے کو حیرت اور تجسس کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے جبکہ بعض سماجی رہنما اس معاملے پر واضح قانونی رہنمائی اور سماجی آگاہی کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

متاثرہ خاندان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہےکہ اس فیصلے کو قبول کرنا آسان نہیں تھا ، طبی الجھن اور سماجی دباؤ کے بعد یہ مرحلہ طے کیا گیا۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز میں طبی احتیاط، قانونی شفافیت اور معاشرتی برداشت انتہائی ضروری ہوتی ہے تاکہ متاثرہ فرد کی عزت نفس اور بنیادی حقوق محفوظ رہ سکیں۔

یہ واقعہ نگر اور گردونواح میں موضوعِ بحث بن چکا ہے اور ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں ایسے حساس معاملات کے لیے واضح پالیسی اور آگاہی ناگزیر ہو چکی ہے۔

Copy

Address

Madina Market
Gilgit
15100

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00

Telephone

03009333311

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when North Books Gilgit posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share