Gilgit-Baltistan Today

Gilgit-Baltistan Today گلگت بلتستان ، کشمیر ، چترال اورکوہستان کے باسیوں کی آو

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر زعیم ضیا کو وفاقی وزارتِ صحت میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز مقرر کر دیا گیا ہے۔ڈاکٹ...
18/08/2026

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر زعیم ضیا کو وفاقی وزارتِ صحت میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز مقرر کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر زعیم ضیا اس سے قبل وفاقی ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کے سی ای او، ڈی ایچ او اسلام آباد اور ڈی ایچ او گلگت سمیت مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ کورونا وبا کے دوران قومی حکمتِ عملی کی تیاری اور وبا پر قابو پانے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔

فل برائٹ اسکالر ڈاکٹر زعیم ضیا معروف ادبی شخصیت اور ستارۂ امتیاز پروفیسر محمد امین ضیا کے صاحبزادے جبکہ رکن اسمبلی سعدیہ دانش کے چھوٹے بھائی ہیں

گلگت: سبسڈی والی گندم میں مبینہ کرپشن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر مختار میر گرفتار۔خیال رہے کہ جب کوئی سائل یا مجبور شخص اپنی مجبور...
17/08/2026

گلگت: سبسڈی والی گندم میں مبینہ کرپشن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر مختار میر گرفتار۔
خیال رہے کہ جب کوئی سائل یا مجبور شخص اپنی مجبوری کے تحت ان کے دفتر کا رخ کرتا ہے تو مبینہ طور پر اسے ہزاروں بہانے بنا کر اور ڈرا دھمکا کر دفتر سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ تاہم، ان کے مبینہ کارنامے اب عوام کے سامنے ہیں۔

15/08/2026

چائنہ کاروبار اور سیاحت کےلئے جانے والوں کےلئے معروف ماہر تعلیم و مفکر ڈاکٹر کریم امان کا پیغام۔

14/08/2026

گلگت، امپھری میں بے دردی سے کلہاڑیوں اور چاقو سے قتل کیئے جانے والے ڈاکٹر کی ماں کا انصاف کی اپیل

ہماری غیرت یا ہماری بے حسی؟تحریر: توقیر کاظمی گلگت میں حالیہ دنوں ایک ہولناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک نوجوان کو مبینہ طور ...
14/08/2026

ہماری غیرت یا ہماری بے حسی؟

تحریر: توقیر کاظمی

گلگت میں حالیہ دنوں ایک ہولناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک نوجوان کو مبینہ طور پر “غیرت” کے نام پر پہلے ذبح کیا گیا اور پھر کلہاڑی کے وار کر کے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، مگر اب تک نہ کوئی واضح سرکاری بیان سامنے آیا ہے اور نہ ہی میڈیا میں اس پر وہ سنجیدہ بحث دیکھنے کو ملی جس کا یہ واقعہ تقاضا کرتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مقتول مبینہ طور پر ایک لڑکی سے ملنے کی غرض سے قاتل کے گھر گیا تھا۔ اگر یہ بات درست ہے تو ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ وہ لڑکی کہاں ہے؟ کیا وہ محفوظ ہے؟ یا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے ساتھ بھی کوئی ناگہانی پیش آئی ہو؟ ماضی میں ہم نے ایسے متعدد واقعات دیکھے ہیں جہاں “غیرت” کے نام پر لڑکے اور لڑکی دونوں کو قتل کر دیا گیا اور بعد میں قاتل اپنے فعل پر فخر کرتے ہوئے سامنے آئے۔

سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ اس سفاکانہ قتل کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جب کوئی اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو جواب میں پوچھا جاتا ہے: “اگر یہ تمہاری بہن کے ساتھ ہوتا تو تم کیا کرتے؟” گویا قتل کو ایک جائز ردعمل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ اگر اسلام مرد اور عورت کے ناجائز تعلقات کی حوصلہ شکنی کرتا ہے تو کیا اسلام کسی فرد کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ خود ہی قاضی، خود ہی منصف اور خود ہی جلاد بن جائے؟ کیا اسلامی شریعت یہ کہتی ہے کہ صرف شک یا الزام کی بنیاد پر کسی انسان کی جان لے لی جائے؟ ہرگز نہیں۔ اسلام میں جان کا تحفظ بنیادی اصول ہے اور سزا کے لیے واضح قانونی اور عدالتی تقاضے موجود ہیں۔ کسی شخص کو اپنی مرضی سے قتل کرنا نہ صرف قانوناً جرم ہے بلکہ دینی اعتبار سے بھی ایک سنگین گناہ ہے۔

اس سے بھی بڑھ کر، جس انداز میں اس نوجوان کو قتل کیا گیا، وہ انسانی وقار اور بنیادی انسانی حرمت کے سراسر خلاف ہے۔ کسی بھی جرم یا الزام کی صورت میں ایک انسان کو اس طرح ذبح کرنا اور پھر اس کے جسم پر کلہاڑی کے وار کرنا صرف ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ انسانیت کی توہین ہے۔ یہ واقعہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ہماری نام نہاد “غیرت” کتنی کھوکھلی اور سطحی ہو چکی ہے کہ اسے ثابت کرنے کے لیے ہم انسانیت، قانون، اخلاقیات اور دین سب کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ غیرت نہیں، بلکہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی ذہنیت ہے۔ غیرت کے نام پر قتل دراصل معاشرے کی ناکامی، عورتوں پر ملکیت کے تصور اور طاقت کے غلط استعمال کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر قتل ہی مسائل کا حل ہوتا تو دنیا میں عدالتوں، قوانین اور انصاف کے نظام کی ضرورت ہی نہ رہتی۔

اب سوال ریاست سے ہے۔ کیا صرف ایک گرفتاری کافی ہے؟ کیا یہ واقعہ بھی دیگر واقعات کی طرح چند دن خبروں اور سوشل میڈیا پر رہ کر فراموش کر دیا جائے گا؟ کیا مقتول کے خاندان اور معاشرے کو انصاف ملے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف جا رہے ہیں جہاں الزام، شک یا ذاتی رنجش کی سزا موت ہو؟

انصاف صرف مقتول کے لیے نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔

12/08/2026

ہنزہ ۔ سوست میں ایف آئی اے حکام کی جانب سے چین جانے سے روکے جانے پر نواز ناجی کا میڈیا سے گفتگو میں مؤقف

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ''وزیراعلیٰ ہونہار سکالرشپ'' پروگرام کے تحت 479 طلبہ و طالبات میں 6 کروڑ روپے سے زائد کے وظائ...
12/08/2026

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ''وزیراعلیٰ ہونہار سکالرشپ'' پروگرام کے تحت 479 طلبہ و طالبات میں 6 کروڑ روپے سے زائد کے وظائف تقسیم۔

وزیر تعلیم پنجاب کا سکالرشپس کی تعداد ایک ہزار تک بڑھانے، لیپ ٹاپ سکیم میں شمولیت، طالبات کے لیے ہاسٹل و کامن روم کی تعمیر اور ایک ہزار مفت گوگل سرٹیفیکیشن کورسز دینے کا اعلان۔

تقریب میں وزیر تعلیم پنجاب، اپوزیشن لیڈر جی بی، وائس چانسلر کے آئی یو، ڈپٹی سپیکر و وزیر تعلیم جی بی، اراکین اسمبلی، اساتذہ، طلبہ اور والدین کی بھرپور شرکت۔

گلگت (رپ) حکومت پنجاب کے تاریخی پروگرام ''وزیراعلیٰ ہونہار سکالرشپ'' کے تحت قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں گلگت بلتستان کے 479 طلبہ و طالبات میں وظائف تقسیم کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 6 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ شعبہ تعلقات عامہ جامعہ قراقرم کے مطابق اس سلسلے میں یونیورسٹی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ان کے ہمراہ تقریب میں اپوزیشن لیڈر و صدر مسلم لیگ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن، ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی ملک کفایت الرحمن، صوبائی وزیر تعلیم گلگت بلتستان امان علی عامر، جامعہ قراقرم کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق، ریٹائرڈ جسٹس صاحب خان رکن اسمبلی، ساجدہ عطاء الرحمن رکن اسمبلی، رانا فرمان رکن جی بی اسمبلی،رانا فاروق رکن جی بی اسمبلی، ابراہیم ثنائی رکن جی بی اسمبلی، پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر محمد ماجد مصطفی خان،خواتین ونگ کی ثروت صباء اور آمنہ علی سمیت یونیورسٹی انتظامیہ کے دیگر ذمہ داران، سکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ اور ان کے والدین بھی شریک تھے۔تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے گلگت بلتستان کے طلبہ کے لیے کئی اہم اعلانات کیے جن میں گلگت بلتستان کے طلبہ کے لیے ہونہار سکالرشپ کی تعداد بڑھا کر ایک ہزار کرنا،پنجاب لیپ ٹاپ سکیم میں جی بی کے طلبہ کو شامل کرنا،جامعہ قراقرم میں طالبات کے لیے ہاسٹلز کی عمارت تعمیر کرنا،جامعہ کے لیے مزید بسیں فراہم کرنا،جامعہ قراقرم میں طالبات کے لیے کامن روم کی تعمیر اور گلگت بلتستان کے طلبہ کے لیے گوگل سرٹیفیکیشن کے ایک ہزار مفت کورسز فراہم کرناہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز گلگت بلتستان میں تعلیم، صحت سمیت دیگر شعبوں کی ترقی کی خواہش رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی انہوں نے گلگت بلتستان میں تعلیمی، تعمیراتی اور دیگر امور پر کام کیا ہے اور آئندہ بھی ان کی سربراہی میں پنجاب حکومت اسی طرح کام جاری رکھے گی۔ رانا سکندر حیات نے بتایا کہ انہوں نے گلگت بلتستان میں چار دانش سکول بھی تعمیر کیے ہیں جن کا کام جاری ہے اور بہت جلد یہ کام مکمل ہو کر ان میں کلاسوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب نے مل کر ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کرنا ہے۔ جس کے لیے طلبہ کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ لہٰذا طلبہ تعلیمی میدانوں میں مزید نمایاں کارنامے سرانجام دیں اور ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کریں۔ صوبائی وزیر تعلیم پنچاب نے جامعہ قراقرم کے وائس چانسلر اور ان کی پوری ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا جنہوں نے اس مثالی تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر و صدر مسلم لیگ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ جامعہ قراقرم کی تعمیر و ترقی کے لیے پہلے بھی اقدامات کیے گئے ہیں اور آئندہ بھی کیے جاتے رہیں گے جس کی مثال جامعہ کے تین سب کیمپسز کے قیام اور یونیورسٹی میں تعمیر کیے گئے سپورٹس کمپلیکس سے لی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے طلبہ کو ہونہار سکالرشپ میں شامل کر کے اور انہیں سکالرشپ فراہم کر کے پنجاب نے بڑے بھائی ہونے کا حق ادا کیا ہے جس پر وہ وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔اس سے قبل صوبائی وزیر تعلیم گلگت بلتستان امان علی عامر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسوہ رسولؐ پر من و عن عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ایک دور تھا جب مسلمانوں نے پوری دنیا پر حکومت کی اور آج وہ محکوم ہیں۔ لہٰذا ہمیں اپنے تمام امور احکاماتِ نبیؐ کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام تفرقات سے وہ جس بھی شکل میں ہوں دور رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ انہی تفرقات نے ہمیں دیگر اقوام سے پیچھے رکھا ہے۔تقریب میں افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے وائس چانسلر کے آئی یو پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق نے کہا کہ گلگت بلتستان کے طلبہ میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں اور اگر انہیں مناسب وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ ہر میدان میں جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے جامعہ قراقرم کے لیے سکالرشپس، انفراسٹرکچر سمیت دیگر امور میں خصوصی معاونت فراہم کرنے کی درخواست کی تاکہ جامعہ مزید بہتر انداز میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق میں اپنا کردار ادا کر سکے۔تقریب میں پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر محمد ماجد مصطفی خان نے وزیراعلیٰ ہونہار سکالرشپ پروگرام شروع کرنے کے اغراض و مقاصد سے متعلق امور پر تفصیلی روشنی ڈالی۔تقریب کے دوران وزیر تعلیم پنجاب اور دیگر معزز مہمانوں نے طلبہ و طالبات میں ہونہار سکالرشپ کے چیک بھی تقسیم کیے۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے عالمی یومِ نوجوانان کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان اور پاکس...
12/08/2026

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے عالمی یومِ نوجوانان کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان اور پاکستان کا مستقبل ہمارے نوجوان ہیں اور ہم سب کی امیدیں انہی سے وابستہ ہیں۔ ہمارے لیے فخر کا مقام ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ہماری یوتھ نے تعلیم اور کھیلوں کے میدان میں علاقے اور ملک کا نام روشن کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم، باعزت روزگار اور جدت نوجوانوں کی مشترکہ خواہشات ہیں۔ ان کی توانائی، تخلیقی صلاحیت اور عزم پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں، جبکہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا گلگت بلتستان اور پاکستان کے مستقبل میں حقیقی سرمایہ کاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تقریباً 67 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جو کہ ملک کا سب سے بڑا انسانی سرمایہ ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوان خواتین کی صلاحیتیں اور قیادت ملکی سماجی و معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ حکومتِ گلگت بلتستان نے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں خصوصی منصوبے شامل کیے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ دیانت داری، ہمدردی اور برداشت کی اقدار کو اپنائیں۔ نوجوانوں کو قومی ترقی میں فعال کردار کے لیے بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایک مضبوط، جامع اور خوشحال گلگت بلتستان کی تعمیر نوجوانوں کی بھرپور شرکت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری حکومت تمام فورمز پر نوجوانوں کی نمائندگی اور مثبت سرگرمیوں کے لیے ہر ممکن مواقع فراہم کرے گی۔

سوست میں نواز خان ناجی کو چین جانے سے روک دیا گیاسوست(گلگت بلتستان ٹوڈے) بدھ کے روز بی این ایف کے چیئرمین اور گلگت بلتست...
12/08/2026

سوست میں نواز خان ناجی کو چین جانے سے روک دیا گیا

سوست(گلگت بلتستان ٹوڈے) بدھ کے روز بی این ایف کے چیئرمین اور گلگت بلتستان اسمبلی کے سابق رکن نواز خان ناجی کو سوست امیگریشن حکام نے چین جانے سے روک دیا۔

ذرائع کے مطابق نواز خان ناجی کا نام ہوم منسٹری کی جانب سے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں شامل کیا گیا ہے، جس کے باعث سوست امیگریشن حکام نے بدھ کے روز انہیں چین جانے کی اجازت نہیں دی۔

12/08/2026

سوست ۔ بی این ایف کے چیئرمین اور گلگت بلتستان اسمبلی کے سابق رکن نواز خان ناجی کو ایف آئی اے نے چین جانے سے روک دیا۔

Address

Jutial Gilgit
Gilgit

Telephone

+923465092288

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gilgit-Baltistan Today posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Gilgit-Baltistan Today:

Shortcuts

Share