Billal Razzaq

Billal Razzaq گلاں دل توں نکلن گیاں تے دلاں تک پہنچن گیاں.

27/03/2026

سیانے کہندے آ

26/03/2026

01

25/03/2026

قبیل داری چنگے بھلے بندے دے پیر ہلا کے رکھ دیندی اے۔۔۔ 💔
​لوکاں نوں لگدا اے کہ بندہ کنجوس اے، پر اوہناں نوں کی پتہ کہ جیہدے مونڈھے تے ذمہ داریاں دا بھار ہووے، اوہنوں دو روپے وی ہزاراں ورگے لگدے نے۔
​آؤ اج سچی گل کردے آں کہ "قبیل داری" اصل وچ کی ہوندی اے؟ ویڈیو دیکھو تے دسو کہ کی تسی وی کدی ایس حالات توں گزرے او؟
​Hashtags (ہیش ٹیگز)

25/07/2025

21/07/2025

سانحہ بلوچستان میں غیرت کے نام پر قت ل ہونے والے میاں بیوی کے لیے فاتحہ خوانی کریں۔ایک بار سورۃ فاتحہ پڑھ کے ان کے لیے ایصال ثواب کر دیں اور کمنٹ میں
Done لکھ دیں

,, ترغیب ,, آج ایک مزدور بھائی کو گھر میں کسی کام کیلئے بلایا تو اس کے پاؤں میں برائے نام  چپل تھی جو  چپلوں کی ضرورت پو...
18/07/2025

,, ترغیب ,,
آج ایک مزدور بھائی کو گھر میں کسی کام کیلئے بلایا تو اس کے پاؤں میں برائے نام چپل تھی جو چپلوں کی ضرورت پوری کرنے سے یکسر قاصر تھی، اسکی بے بسی اور اپنی عیاشیوں پر نظر گئی تو شرمندگی ہوئی ،خیال آیا کہ اس کیلئے چپل کا انتظام کرنا چاہیے ۔
میں نے بیٹے کو بلاکر چپکے سے چپلوں کی طرف اشارہ ہی کیا تھا کہ وہ کہنے لگا کہ میری نظر پہلے ہی پڑ چکی تھی اور میں نےانتظام بھی کردیا ہے۔
بیٹے کا جواب سن کر دل کو جو مسرت پہنچی وہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ، الحمدللہ ثم الحمدللہ ہمارا احساس ہماری نسل میں منتقل ہورہا ہے ، اس کے پرانے جوتوں کے ساتھ ایک نیا جوڑا چپکے سے رکھ دیا گیا ۔۔۔۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ ہمیں مزدور کے کام پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اسکے حالات پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔
,, خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر ,,
❤️❤️

جو سانپ غیر ضروری تھے، وہ  مار ڈالے ہیںاب آستینیں بھی سلامت ہیں، اور آستانہ بھی
27/06/2025

جو سانپ غیر ضروری تھے، وہ مار ڈالے ہیں
اب آستینیں بھی سلامت ہیں، اور آستانہ بھی

15/06/2025

سول ملازم اور ریسکیو ملازم میں فرق

پاکستان میں تقریباً 80 فیصد لوگوں کو سرکاری نوکری کا بہت شوق ہے۔ شاید اس کی وجہ کاروبار میں نقصان کا خوف، کاروبار کی اہمیت نہ جاننا، یا کاروباری افراد کو بلاوجہ اداروں کی طرف سے تنگ کیا جانا ہے۔ اس کے علاوہ جب بھی کسی کا رشتہ طے کیا جاتا ہے تو اکثر لڑکی والوں کی پہلی ڈیمانڈ ہوتی ہے کہ لڑکا سرکاری ملازم ہو۔

پاکستان میں ایک عام سرکاری ملازم، جیسے کہ سکول ٹیچر، سال میں 24 کیجول لیو، 16 گزٹڈ لیو، گرمیوں کی چھٹیاں، سردیوں کی چھٹیاں، خراب موسم کی چھٹیاں، ملکی حالات کی چھٹیاں اور ایمرجنسی کی چھٹیاں لیتا ہے۔ اگر 365 دنوں میں سے یہ چھٹیاں نکال دی جائیں تو سال کے بمشکل 165 ورکنگ ڈے بچتے ہیں۔

جبکہ ریسکیو ملازم کو سال کے 365 دن ڈیوٹی کرنا پڑتی ہے۔ جیسے 1837 میں Pitman نے شارٹ ہینڈ بنائی تو اس نے کہا کہ اسے سیکھنے کے لیے دن کے 24 نہیں بلکہ 26 گھنٹے دینے پڑیں گے۔ اسی طرح ریسکیو ملازم کو بھی سال کے 365 نہیں بلکہ 465 دن کام کرنا پڑتا ہے، کیونکہ عید پر ڈبل ڈیوٹی، محرم پر ڈبل ڈیوٹی، 12 ربیع الاول پر ڈبل ڈیوٹی، سیلاب پر ڈبل ڈیوٹی، سٹاف کی کمی پر ڈبل ڈیوٹی، اور کسی بھی ملکی ایمرجنسی میں ڈبل ڈیوٹی کرنا پڑتی ہے۔

ریسکیو کا اصول ہے کہ دن کے 24 گھنٹے نہیں بلکہ 30 گھنٹے دینے ہوں گے۔
ریسکیور کی نوکری ایک جہاد سے کم نہیں۔

گرمی ہو یا سردی، آندھی ہو یا طوفان، عید ہو یا شب برات، دن ہو یا رات، ریسکیور ہر وقت تیار رہتا ہے۔

ریسکیو ملازم ایک پوسٹ پر بھرتی ہوتا ہے مگر وہ بے شمار ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔ سب سے پہلے اپنی شفٹ کے مطابق ڈیوٹی دیتا ہے، سٹاف کی کمی کی صورت میں اضافی ڈیوٹی بھی کرتا ہے، کمیونٹی ورک، بلڈنگ سروے، گاڑیوں کی دیکھ بھال، اور دوسرے بے شمار کام بھی رضاکارانہ جذبے سے کرتا ہے۔

اسی وجہ سے ریسکیو ملازم کو دن کے 30 گھنٹے دینے پڑتے ہیں۔
زیادہ ڈیوٹی کی وجہ سے ان کی صحت پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ خاص طور پر مسلسل نائٹ ڈیوٹیز، ڈبل ڈیوٹیز، اور سٹاف کی کمی کی وجہ سے جسمانی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں ریسکیو نظام اور انٹرنیشنل سٹینڈرڈز جیسے NFPA میں بہت فرق ہے، کیونکہ ہمارے وسائل کم ہیں۔

ریسکیور نوکری صرف روزگار کے لیے نہیں کرتا بلکہ عوام کی خدمت اور ویلفیئر کے جذبے سے کرتا ہے۔ کیونکہ 30 گھنٹے دینے کے بعد وہ کوئی اور کام نہیں کر سکتا، اور تنخواہ بھی اتنی نہیں کہ ان مشکلات کا بوجھ اٹھا سکے۔

13 جون 2025 کی رات، ایک ریسکیور، نائٹ ڈیوٹی پر آیا۔ گھر والوں سے پیار بھرے وعدے کر کے نکلا۔
بڑے بیٹے سائم سے وعدہ کیا کہ کل واپسی پر چھٹیوں کا کام کرنے کے لیے نوٹ بک لے کر آؤں گا۔
چھوٹے بیٹے صارم سے وعدہ کیا کہ تمہارے لیے نیا بیگ لے کر آؤں گا۔
اور سب سے چھوٹی بیٹی دعا فاطمہ سے کہا کہ میں تمہارے لیے چاکلیٹ لے کر آؤں گا۔

ڈیوٹی پر آتے ہی فالِن (ڈیوٹی الرٹ) ہوتا ہے۔
فالِن کے بعد میسج ملتا ہے: "کل پروٹوکول پر جانا ہے اور اس کے بعد دوبارہ نائٹ ڈیوٹی کرنی ہے۔"

فالِن ختم ہونے کے بعد وہ دوائی لینے سٹور گیا۔ وہاں اچانک شدید دل کا دورہ پڑا، اور چند لمحوں میں اس کی روح پرواز کر گئی۔
ساتھیوں نے فوری ایف آئی سی پہنچایا، ڈاکٹروں نے بتایا کہ ایسے مریض کو تو بات کرنے کا بھی موقع نہیں ملتا۔ ساتھیوں نے بتایا کہ ہم نے فوری CPR کی کوشش کی مگر کچھ نہ ہو سکا۔

تمام آفیسر اور ریسکیور ہسپتال میں جمع ہو گئے۔ قانونی کارروائی کے بعد لاش گھر لے جائی گئی۔
رات ساڑھے بارہ بجے ایک ایمبولینس اور چار موٹر بائیکس پر لاش گھر لائی گئی۔

جب دروازہ کھٹکھٹایا گیا تو گھر والے اس قیامت سے بے خبر دروازہ کھولتے ہیں۔

ایمبولینس کے پیچھے کا دروازہ کھلتا ہے، EMT سٹریچر نکالتا ہے۔ جیسے ہی سٹریچر گھر والوں کو تھمایا جاتا ہے، گھر پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔
بڑا بیٹا سائم، جس کی عمر 10 سال تھی، دیکھتے ہی بے ہوش ہو گیا۔
چھوٹا بیٹا صارم، جس کی عمر 6 سال تھی، حیران تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔
سب سے چھوٹی دعا فاطمہ، جس کی عمر صرف 4 سال تھی، اپنی چھوٹی چھوٹی ٹانگوں سے بار بار ایڑیاں اٹھا کر سٹریچر پر دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ یہ کیا ہے۔

جب نہیں دیکھ پائی تو باہر بھاگی، کبھی ایک بائیک کی طرف جاتی، کبھی دوسری کی طرف۔
شاید وہ ڈھونڈ رہی تھی کہ میرے بابا کی بائیک کون سی ہے۔
شاید وہ سمجھ رہی تھی کہ بابا کسی بائیک پر بیٹھے ہوں گے اور چاکلیٹ لے کر آ رہے ہوں گے۔

اس ننھی کو کیا معلوم کہ اس کی امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔

یہ کہانی تھی نفیس انجم EMT کی، جس نے عوامی خدمت اور ویلفیئر کے جذبے میں شہادت پائی۔
نفیس صرف نام کا ہی نفیس نہیں تھا بلکہ دل کا بھی نفیس تھا۔ وہ کئی بار حج اور بے شمار عمرے کر چکا تھا۔

اللہ تعالیٰ نفیس بھائی کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔
اللہ ان کے اہل خانہ کو صبر عطا فرمائے۔
آج فیصل آباد ایک نفیس انسان سے محروم ہو گیا۔

یہ تھا ایک سول ملازم اور ریسکیو ملازم کی جاب کا فرق ریسکیو ملازم کی ہر سانس رسک میں ہوتی ہے جبکہ سول ملازم کی جاب اس کے برعکس ہوتی ہے۔

Address

Park City Gojra
Gojra

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Billal Razzaq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share