10/09/2026
گوجر خان کے نواحی گاؤں میں آج پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے نے ہر حساس دل انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک آٹھ سالہ معصوم بچے کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ہم اکثر خبروں میں ایسی لرزہ خیز خبریں سنتے اور دیکھتے ہیں کہ فلاں علاقے میں کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی اور پھر اسے بے رحمی سے قتل کر کے اس کی لاش کبھی کسی کنویں، کبھی جنگل، کبھی نہر یا کسی ویران جگہ سے برآمد ہوئی، لیکن جب ایسا واقعہ اپنے ہی علاقے، اپنے شہر اور اپنے اردگرد پیش آئے تو اس کا دکھ اور کرب الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں رہتا۔ سب سے زیادہ دل چیر دینے والی بات یہ ہے کہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ معصوم بچہ یتیم تھا، نہ اس کے سر پر ماں کا سایہ تھا اور نہ باپ کا سہارا، اور ایسے بے بس اور معصوم بچے کو درندوں نے جس سفاکیت کا نشانہ بنایا، اس پر انسانیت بھی شرمندہ ہے۔ آخر ہم کب تک ایسے واقعات کی خبریں سنتے رہیں گے؟ آخر ہمارے بچوں کی حفاظت کب یقینی بنے گی؟ حکومتِ پنجاب اور حکومتِ پاکستان سے میری پُرزور اپیل ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف قانون کو انتہائی سخت اور مؤثر بنایا جائے، انہیں ایسی عبرتناک اور قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی شخص کسی معصوم کی طرف بری نظر سے دیکھنے کا بھی تصور نہ کر سکے۔ ہمیں صرف افسوس اور مذمت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات، فوری انصاف اور مجرموں کو سخت سزا دینا ضروری ہے۔ ایک معصوم بچے کا یوں دنیا سے چلے جانا صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ پوری انسانیت کا نقصان ہے۔ پتا نہیں کب ہمارا پیارا ملک پاکستان ایسے گھٹیا جرائم اور انسانیت کے دشمن درندوں سے پاک ہوگا۔ اللہ پاک اس معصوم بچے کی مغفرت فرمائے، اس کے درجات بلند فرمائے، اس کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور تمام والدین، بچوں اور ہماری پوری قوم کی عزت، جان اور آبرو کی حفاظت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا معاشرہ عطا فرمائے جہاں کوئی معصوم خوف کے سائے میں زندگی نہ گزارے۔ آمین ثم آمین۔