11/06/2026
“ہمارے معاشرے میں شادی کے بعد سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے:
‘اچھی خبر کب سنا رہی ہو؟’
اور اگر تھوڑا وقت گزر جائے تو لوگوں کے لہجے، ان کے طنز اور ان کی سوچ اور بھی زیادہ زہریلی ہو جاتی ہے۔
کسی کو یہ کہنا کتنا آسان لگتا ہے کہ
‘بچہ نہیں ہو رہا تو دوسری شادی کر لو’
یا اگر اللہ بیٹی دے دے تو فوراً بول دیتے ہیں
‘بیٹے کے لیے دوسری شادی کر لو۔’
جیسے عورت کوئی انسان نہیں، صرف ایک مشین ہو جو صرف بچے پیدا کرنے کے لیے بنی ہو۔
جیسے اُس کی فیلنگز، اُس کی ذہنی کیفیت، اُس کا درد اور اُس کی عزت کوئی معنی ہی نہیں رکھتے۔
سب سے زیادہ تکلیف کی بات یہ ہے کہ یہ الفاظ اکثر وہ لوگ بولتے ہیں جو خود کو پڑھے لکھے، سمجھدار اور دین دار کہتے ہیں۔
مگر تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں ہوتی، تعلیم انسانیت، احساس اور دوسروں کے درد کو سمجھنے کا نام بھی ہے۔
اور شاید لوگوں کو لگتا ہو کہ وقت گزرنا صرف کیلنڈر کے صفحے بدلنے جیسا ہوتا ہے، لیکن صرف وہ عورت جانتی ہے جو ہر مہینے امید اور ٹوٹنے کے درمیان جیتی ہے۔
ہر بار لوگوں کے سوالوں کا سامنا کرنا، فیملی گیادرنگز میں غیر ضروری باتیں سننا، موازنہ، طنز، جھوٹی ہمدردی… یہ سب انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔
کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا ہوتا کہ ایک عورت کتنی دعائیں مانگتی ہے۔
کتنی راتیں رو کر اللہ سے بات کرتی ہے۔
کتنی بار اپنی مسکراہٹ جعلی بناتی ہے صرف اس لیے کہ لوگ اُس کے آنسو نہ دیکھ لیں۔
اور پھر بھی لوگ رکتے نہیں۔
کسی کو صرف بیٹا چاہیے ہوتا ہے۔
کسی کو خاندان کے نام کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔
کسی کو معاشرے میں دکھاوا کرنا ہوتا ہے۔
اور اس سب کے درمیان ایک عورت کا دل روز تھوڑا تھوڑا ٹوٹ رہا ہوتا ہے
بہت سی عورتیں آج بھی اکیلے یہ جنگ لڑ رہی ہیں۔
اُن کے پاس جذباتی سہارا نہیں ہوتا۔
اُنہیں سمجھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
اُنہیں الٹا قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے، جج کیا جاتا ہے، اُن پر دوسری شادی کی دھمکیاں ڈالی جاتی ہیں۔
اور کچھ عورتیں صرف اسی دباؤ کی وجہ سے ذہنی طور پر ٹوٹ چکی ہوتی ہیں۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں —
بچہ اللہ کی رحمت ہے، مقابلہ نہیں۔
نہ بیٹا کسی کی جیت ہے، نہ بیٹی کسی کی ہار۔
اور نہ ہی کسی عورت کی اہمیت اُس کی ماں بننے کی صلاحیت سے ناپی جا سکتی ہے۔
اگر اللہ نے کسی کو بیٹی دی ہے تو وہ بھی رحمت ہے۔
اگر کسی کو وقت لگ رہا ہے تو اُس میں بھی اللہ کی حکمت ہے۔
اور اگر کسی کا امتحان لمبا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اُس کے زخموں پر نمک چھڑکیں۔
خدا کے لیے لوگوں کی زندگیوں کو اپنی سوچ اور توقعات کا میدانِ جنگ بنانا بند کریں۔
ہر مسکراتے چہرے کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے جو آپ نہیں جانتے۔
تھوڑا احساس سیکھ لیں۔
تھوڑی انسانیت۔
کیونکہ کچھ الفاظ صرف دل نہیں دکھاتے… انسان کو اندر سے ختم کر دیتے ہیں۔