Urdu Articles Network

Urdu Articles Network Stay informed, inspired, and engaged!”

Discover high-quality articles from diverse writers on Politics, Society, Culture, Technology, Literature, History, Science, Philosophy, Religion, Health, Education, Business, and more.

یہ بھی بدترین فرقہ ورانہ رویہ ہے کہ اہل سنت کے ممالک کو طعن کیا جائے اور شیعہ ملک ایران کو واحد مزاحمت کا سنگ میل بنا کر...
18/03/2026

یہ بھی بدترین فرقہ ورانہ رویہ ہے کہ اہل سنت کے ممالک کو طعن کیا جائے اور شیعہ ملک ایران کو واحد مزاحمت کا سنگ میل بنا کر پیش کیا جائے ۔
مغربی استعماری قوتوں کی جو جو جس درجے اور " کیپیسٹی " میں عملی یا فکری مزاحمت کرتا ہے اس کی تحسین کی جائے گی اور اعتراف کرنا چاہیے ۔ اور یقیناً آج تہران شاندار مزاحمت کر رہا ہے ، لیکن اچھے خاصے پڑھے لکھے اور متوازن لوگ توازن کھو بیٹھے ہیں کہ جیسے یہ پہلی مزاحمت ہے اور پہلا جوابی وار ۔۔۔۔گویا ان کی نظر میں تاریخ اس سے خالی تھی ، اگر کوئی نابینا ہے تو اس کے لیے نصف النہار کا سورج بھی ہو تو سیاہ رات کا اندھیرا ہے ۔
آج اگر ایران مزاحمت کر رہا ہے تو اس کا اعتراف اور تحسین کرتے ہوئے بیمار رویہ اختیار کرنا بذاتِ خود دیانتداری کا خون ہے ۔ آپ دوسروں کو طعن کئے بنا بھی اعتراف اور تحسین کر سکتے ہیں ۔
اور طعن بھی اس قوم اور گروہ کو کہ جو صدیوں سے مسلمانوں کی جانب سے معاندین اور کفار سے تنہا مزاحم ہے ۔ عراق ، شام ، افغانستان ، لیبیا ، صومالیہ ، چیچنیا اور سوڈان کی مزاحمت تو آج کا قصہ ہے کہ جو یہ الفاظ پڑھنے والی نسل نے اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھی ہے ۔۔۔ آج کی بات کیجیے کہ اگر مزاحمت نہ تھی تو تورا بورا کیوں بنا ، صیدانہ و ابو غریب ، فلوجہ ، تکریت ، حلب ، ادلب ، گروزنی ، جلال آباد ، کس کس سونے سے تراشے ہوئے سنگ میل کا ذکر کروں ؟
گوانتانامو بے ، کس نے آباد کی ؟
کالا پانی ، جزائر انڈیمان نے کس کے نقوشِ ہائے پا صبح کے ستارے بن ٹمٹماتے ہیں ؟
کیا یہ سب مزاحمت کے نشان نہیں ؟
ابھی دو روز پہلے جیو نیوز کی سلائیڈ تھی کہ امریکہ نے ہچھلی چند دہائیوں میں بمباری کی اور تقریباً ساڑھے نو لاکھ مسلمان مار دیئے ۔۔۔۔۔ یہ سب اہل سنت تھے کہ جو مزاحمت پر اتر آئے اور مارے گئے ۔۔۔ کسی قوم قبیلے کی نمائندگی صرف اس سے متعلق حکمران نہیں ہوتے عوام بھی اپنی جگہ مستقل حیثیت رکھتی ہے ، گو صدام حسین ، معمر قذافی بھی ان کا نشانہ بنے اور وہ حکام تھے ۔۔۔
آج اگر مشرق کا جنیوا ، تہران مبتلائے الم ہے اور مغربی استعماری قوتوں کے خلاف کھڑا ہے اور ساتھ اس پر وہی کارپٹ بمباری کی جا رہی ہے تو یہ سب ان اوپر بیان کردہ ممالک پر گزر چکا ہے ۔۔۔۔۔
اور یہ سب آج کا قصہ ہے ، ماضی تو کچھ اور ہی منظر نگاری کرتا ہے ۔۔۔
صرف ہندستان کی اگر بات کروں تو راتیں بیت جائیں ؟
صادق آباد ، بہار ، پٹنہ ۔۔۔۔ پھر دلی کے باہر دور تک گڑی ہوئی صلیبیں ۔۔۔ اور توپ کے آگے رکھ کر سینکڑوں نہیں ہزاروں اہل سنت کے علماء کو اڑا دیا گیا ۔۔۔
تیتو میر کون تھا ؟
سراج الدولہ کس کی تاریخ ہے ؟
اور پھر ۔۔۔۔ مزاحمت کا امام ، ٹیپو سلطان
چنگیز خان سے ہلاکو خان ، اور پھر صلیبی جنگجووں کی تگ و تاز کا نشانہ کون ریے ؟
پھر صدیوں اسلام دشمن طاقتوں کے مقابل کون آتا تھا ؟
چنگیز خان کی ذریت جب قریب تھا کہ اہل اسلام کا نام مٹا دیتی تو یہ امام ابنِ تیمیہ تھے کہ جنہوں نے آخری چٹان بن کر اس وقت کے بادشاہوں کو میدان میں لا کھڑا کیا اور تاتاری اپنے زخم چاٹتے ہوئے تاریخ کا بھولا ہوا سبق ہو گئے ۔
چیچنیا کے امام شامل ، لیبیا کے عمر مختار ، الجزائر کے عبد القادر الجزائری ، اسپین کے موسی ، دلی کے جرنیل بخت خان ۔۔۔۔کس کس کا نام لوں ، کہ میں اس قدر امیر ہوں کہ جواہرات سنبھالے ہوئے نہ سنبھل پائیں ۔۔۔
آج اگر مؤرخ صرف ترکمانستان کی ریاستوں پر روسی جبر اور مزاحمت کی داستانیں لکھ دے تو کوئی تاب نہ لا پائے ۔۔۔
اور یہ تو صرف ان کا تذکرہ ہے کہ جو مزاحمت کا نشان تھے ۔۔۔۔
اگر آگے بڑھنے کی بات کی جائے تو ، خالد بن ولید ، عبد اللہ جریر ، سعد بن ابی وقاص ، عکرمہ بن ہشام ، سے یہ سفر شروع ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ اور آج کا عالم اسلام انہی جیالوں کی تلوار کی نوک سے کھینچا ہوا نقشہ ہے ۔۔۔ میں نے کبھی لکھا تھا کہ بھلے آپ ان کو گالیاں دو لیکن آج کے عالم اسلام کی سرحدیں ایک " مطعون " گروہ امویوں کی تلوار کی نوک سے قرطاس تاریخ پر کھینچی گئی تھیں ۔۔
اور پھر آگے چلیں ، آج جب سپین کا ماتم کرتے ہیں کہ بکھر گیا اور بچھڑ گیا ، تو لیا کس نے تھا ؟
پھر صلاح الدین ایوبی ، موسی بن نصیر ، ابن قاسم ۔۔۔۔
یارو !
تاریخ بنائی کس نے ؟
اور اس۔ کے گیسو سنوارے تو کس نے سنوارے ؟
اور ہاں ۔۔۔۔ یحییٰ سنوار
ابوبکر قدسی

احباب اس بات کو خوب سمجھ لیجیے کہ موجودہ جنگ میں امریکہ اور ازرایلی حملوں کے بارے میں دل میں نرمی لانا بھی درست نہیں ہے ...
18/03/2026

احباب اس بات کو خوب سمجھ لیجیے کہ موجودہ جنگ میں امریکہ اور ازرایلی حملوں کے بارے میں دل میں نرمی لانا بھی درست نہیں ہے ۔ ان کے حملوں کی مذمت کرنا ، ان کے پھیلائے ہوئے فساد اور بمباری کو دہشتگردی کہنا اور سمجھنا ہمارا فرض ہے ۔ کچھ نکات پلے باندھ لیجیے ۔
📌 ۔ یقیناً ماضی قریب میں ایرانی رجیم نے شام اور عراق میں مسلمانوں کے قتل عام میں اور شامی عوام کی آزادی کی جنگ میں خود اسی بزرگ شیطان امریکہ کا ساتھ دیا لیکن اس کے باوجود ۔۔۔۔۔۔ اصل نکتہ ۔۔۔۔۔ یہ ہے کہ اس وقت امریکہ اور ازرائل ، ایرانیوں کو بطورِ مسلمان ہی مار رہا ہے سو اس کے حملوں پر خوش ہونا نرم لفظوں میں بھی عاقبت نااندیشی ہے ۔ کیونکہ اگلی باری پھر آپ کی بھی ہو سکتی ہے ، سعودیوں اور اماراتیوں کی بھی ہو سکتی ہے ۔
میں جب جب ان حملوں کو دہشتگردی لکھتا ہوں تو ماضی کے دکھوں سے معمور افراد اس پر الجھتے ہیں ۔
برادران مکرم ! ہمارے دل بھی اسی قدر زخمی ہیں جیسے آپ کے ، ہمیں ادلب اور حلب میں ، تکریت اور فلوجہ میں اہل سنت کا قتل ، نہتے شہریوں پر بمباری کیسے بھول سکتی ہے ، کہ جن کو صرف ان کے عقائد کی بنیاد پر مارا گیا ۔۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ زمانے کے ستم یہی ہوتے ہیں کہ کبھی اپنے قاتل کے ساتھ بھی بیٹھنا پڑتا ہے ۔ نہ بھی بیٹھیں تو اپنے ہی اس " قاتل کے قاتل " کے ساتھ کھڑا ہونا نامناسب ہوتا ہے کہ وہ پلٹ کر پھر آپ کی طرف بھی آ سکتا ہے ۔۔۔ اور آ کیا سکتا ہے ۔۔۔ وہ تو پہلے ہمارے ہاں سے ہو کر گیا ہے ۔۔۔ افغانستان ، عراق ، اور شام کیا ان مغربی ممالک ، امریکہ اور ازرایل کی قتل و غارتگری کے نشان نہیں ؟ ۔
غزہ تو ابھی کل کی بات ہے اور ابھی جاری ہے ۔۔
میں سمجھتا ہوں سعودی عرب نے اس جنگ کے آغاز سے پہلے دو ماہ جو مسلسل کوشش کی کہ یہ جنگ ٹل جائے اس کا بھی کچھ بنیادی سبب یہی نکات تھے ۔۔
👈 ۔ یہ کہ اس خطے کو کسی نئی جنگ میں نہ جھونکا جائے ، اور رجیم چینج کا حق کسی مغربی استعماری قوت کو نہ دیا جائے ۔
👈 ۔ اور یہ کہ یہ روایت ختم ہو کہ سات سمندر پار سے امریکی عفریت اٹھے اور بہانہ جوئی کرے اور نہتے عوام ، شہروں ، اور حکومتوں پر بمباری شروع کر دے ۔
👈 ۔ یہی اسباب تھے کہ پاکستان ، سعودی عرب اور ترکی نے دو ماہ مسلسل کوشش کی کہ یہ جنگ ٹل جائے ۔۔حقیقت یہ ہے کہ اصلی مقصد یہی تھا کہ خطے کو کسی صورت محفوظ رکھا جائے اور اس علاقے کے ممالک اندرونی عدم استحکام کا شکار نہ ہوں ۔
👈 ۔ کم از کم پاکستان ، ترکی ، شام اور سعودی عرب کی حکومتوں کے نزدیک یہ سب واضح ہو چکا تھا کہ ازرائلی دہشت گردوں اور امریکیوں کے نزدیک یہ سبب ممالک یکساں " برے " ہیں ۔۔ آج اس کی تو کل ان کی باری ہے ۔ سو ان ممالک کی خواہش تھی کہ یہ جنگ رک جائے ۔
اس تمام پس منظر میں آپ کو ہرصورت میں اس دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیے ، اور دل میں اسے برا سمجھنا چاہیے کہ جو اصفہان، تہران ، اور تبریز کے شہروں پر بمباری کی صورت میں کی جا رہی ہے ۔
جہاں تک تعلق ہے جنگ کے آغاز کے بعد ، اور ایرانی قیادت کے مارے جانے کے بعد ، ایرانی عسکری کارروائیوں کے اہداف اور عربوں پر حملے کا تو یہ اس " جنگ " کا اگلا باب ہے ۔ جس پر ہم اور دوست مسلسل لکھ بھی رہے ہیں ، اور اس کی مذمت و روکنے کی کوشش خود پاکستان کے اربابِ اختیار بھی کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
اسی طرح پاکستان میں موجود شیعہ مسلک کے لوگوں کا غیر دانشمندانہ رویہ ایک الگ موضوع ہے کہ کیسے انہوں نے نامناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے خود اس جنگ کو فرقہ پرستی کی نذر کیا ، سکرود میں جو ہوا ۔۔۔ یہ سب ایران سے نادان دوستی کے مترادف ثابت ہوا ۔
ابوبکر قدسی

دنیا کا عجیب ترین قرآنی نسخہبغداد میں قرآن کریم کا ایک عجیب نسخہ محفوظ ہے جسے مکمل طور پر سابق عراقی صدر صدام حسین کے خو...
07/03/2026

دنیا کا عجیب ترین قرآنی نسخہ
بغداد میں قرآن کریم کا ایک عجیب نسخہ محفوظ ہے جسے مکمل طور پر سابق عراقی صدر صدام حسین کے خون سے لکھا گیا۔ اس کام کے لیے تقریباً 27 لیٹر خون استعمال کیا گیا تھا۔
یہ قرآن آج بھی کئی دہائیوں بعد بحث اور حیرت کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس مصحف کو لکھنے والے خطاط کی بینائی تقریباً متاثر ہو گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کام ایک نذر (منت) پوری کرنے کے لیے کروایا گیا تھا۔ لیکن سوال اب بھی یہ ہے کہ صدام حسین نے اس قدر مشکل اور غیر معمولی کام کیوں کروایا؟ حالانکہ خون اسلامی شریعت میں ناپاک ہے۔
انتہائی خفیہ طریقے سے ایک عراقی فنکار کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ پورا قرآن کریم لکھے۔ اس نے تقریباً دو سال تک مسلسل محنت کی اور قرآن کی 605 صفحات پر مشتمل مکمل کتابت کی۔ تمام صفحات صدام حسین کے خون سے لکھے گئے تھے۔
یہ قرآن، جسے عموماً “صدام حسین کا خون سے لکھا ہوا مصحف” کہا جاتا ہے، سابق عراقی صدر کی زندگی کا ایک انتہائی متنازع اور حیران کن واقعہ سمجھا جاتا ہے۔
جب 2006 میں صدام حسین کو پھانسی دی گئی تو اس کے بعد یہ مصحف مزید مشہور ہو گیا۔ بعض لوگوں کے مطابق یہ صدام حسین کی ذاتی موجودگی کی آخری جسمانی نشانیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
یہ قرآن اس وقت بغداد میں موجود ہے۔ اسے امّ القریٰ مسجد (جسے پہلے “ام المعارک مسجد” کہا جاتا تھا) کے ساتھ ایک عمارت میں محفوظ رکھا گیا ہے۔
اس مصحف میں 604 صفحات ہیں جن میں پورا قرآن کریم موجود ہے:
114 سورتیں اور تقریباً 3 لاکھ 36 ہزار الفاظ
برطانوی اخبار The Guardian کے مطابق اس مصحف کو لکھنے کے لیے تقریباً 24 سے 27 لیٹر خون استعمال کیا گیا۔

اس کام کے بارے میں عراقی خطاط عباس شاكر الجودی بتاتے ہیں کہ ایک دن صدام حسین نے انہیں فوراً بلایا اور ایک غیر معمولی درخواست کی۔ صدام نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پورا قرآن کریم ان کے خون کو سیاہی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے لکھا جائے۔
الجودی کے مطابق:
“یہ کام آسان نہیں تھا۔ مجھے سب سے پہلے صدام حسین کے خون کی ایک بوتل دی گئی اور میں نے فوراً کام شروع کر دیا۔ ایک ہفتے بعد میں نے ایک صفحے کا نمونہ پیش کیا جسے ایک خاص کمیٹی نے جانچا اور منظور کیا۔”
اس کام کے لیے ایک ماہرین کی کمیٹی بھی بنائی گئی تھی۔ اس کمیٹی کا کام صرف قرآن کے متن کی درستگی دیکھنا نہیں تھا بلکہ یہ بھی دیکھنا تھا کہ خون وقت گزرنے کے باوجود محفوظ رہ سکے گا یا نہیں۔
آج یہ قرآن ایک تہہ خانے میں رکھا ہوا ہے جو تین بند دروازوں کے پیچھے محفوظ ہے۔ ان دروازوں کی چابیاں تین مختلف افراد کے پاس ہیں:
مسجد کے شیخ، شہر کے ایک پولیس افسر اور ایک تیسری خفیہ شخصیت کے پاس
اگر کوئی شخص اس قرآن کو دیکھنا چاہے تو اسے عراقی حکومت کو باقاعدہ درخواست دینا پڑتی ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق اس نایاب اور متنازع مصحف کی قیمت لاکھوں بلکہ کروڑوں ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

جہالت، جذباتیت، برانگیختگی، گالم گلوچ اور بہتان بازی کا مرض اب دیوبندیت کی جڑوں میں بھی بیٹھ رہا ہے اور اسے کھوکھلا کر ر...
06/03/2026

جہالت، جذباتیت، برانگیختگی، گالم گلوچ اور بہتان بازی کا مرض اب دیوبندیت کی جڑوں میں بھی بیٹھ رہا ہے اور اسے کھوکھلا کر رہا ہے. صرف اپنی رائے کو ہی حرف آخر سمجھنے کے مرض میں مبتلا لوگ دیگر تمام پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہوئے زرا بھی نہیں شرماتے.

سپاہ صحابہ کے اکثر جذباتی لوگوں کو لگتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ہمارے سوا شاید کسی کی بھی محبت سچی اور مخلصانہ نہیں ہو سکتی.

جذباتی جمیعتی لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاست کی کل سمجھ بوجھ صرف اور صرف قائد جمیعت پر آکر ختم ہوجاتی ہے اور قائد جمعیت پر سیاسی اعتراض کفر کے برابر ہے.

تبلیغی جماعت کے غالی قسم کے لوگ جب تک کسی کو تبلیغ میں چلتا ہوا نا دیکھ لیں تو اسے کامل مومن ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے.

یہ طرز عمل پورے مسلک دیوبند کو شدید ترین نقصان پہنچا رہا ہے. بدتمیزوں کو جرأت مند اور بداخلاقوں کو دلیر کہا جا رہا ہے. کارکنان لیڈروں سے بداخلاقی کے پاٹ پڑھ ریے ہیں اور مختلف رائے کے حاملین تمام علماء کرام کی پگڑیاں اچھال رہے ہیں.

زرا سی بات پر علماء کرام کی توہین آمیز تصاویر بنا کر وائرل کر دی جاتی ہیں اور ان پر ٹھٹھہ اڑایا جاتا ہے. سفید ریش بزرگوں کو گالیاں دی جاتی ہیں اور اسے حق گوئی کا فریضہ سمجھا جاتا ہے.

ایسا لگتا ہے کہ دیوبندیت کو پھر کسی مجدد کی اشد ضرورت ہے جو خس و خاشاک کو چھانٹ کر الگ کرے اور سچے اور صاف دیوبندی مشرب کو اجاگر کرے.

✍️...سفیان علی لاہوری

معاشرتی زوال کے پانچ بنیادی خصائلحضرت مفتی عبد الرحیم صاحب دامت برکاتہم کی ایک پوسٹ میں 5 تباہ کن خصلتیں نظر سے گذریں، س...
05/03/2026

معاشرتی زوال کے پانچ بنیادی خصائل

حضرت مفتی عبد الرحیم صاحب دامت برکاتہم کی ایک پوسٹ میں 5 تباہ کن خصلتیں نظر سے گذریں، سو اسی کے تناظر میں یہ تحریر مرتب کی گئی ہے :

ہر معاشرہ اپنے افراد کے اخلاق، کردار اور فکری مزاج سے تشکیل پاتا ہے، جب افراد کی صفات سنورتی ہیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے، اور جب افراد کے اندر بعض منفی خصائل پیدا ہوجائیں تو وہی معاشرے کے زوال کا سبب بن جاتے ہیں، ہمارے موجودہ معاشرے میں چند ایسی بیماریاں جڑ پکڑ چکی ہیں جو اجتماعی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں، ان میں پانچ نمایاں خصائل یہ ہیں:

① سنی سنائی باتوں کا بغیر تحقیق پھیلانا
کسی خبر یا بات کو بغیر تحقیق کے آگے پھیلانا معاشرتی فساد کی بڑی وجہ ہے، افواہیں، جھوٹی خبریں اور بے بنیاد باتیں لوگوں کے درمیان بداعتمادی اور انتشار پیدا کرتی ہیں، اسلام نے خبر کو قبول کرنے سے پہلے تحقیق کا حکم دیا ہے، کیونکہ غیر مصدقہ معلومات معاشرے میں فتنہ پیدا کر دیتی ہیں۔

② جذباتیت اور عدم برداشت
جذباتیت انسان کو اعتدال سے دور کر دیتی ہے، جب انسان جذبات کے غلبہ میں فیصلے کرتا ہے تو وہ اکثر انصاف اور حکمت سے محروم ہوجاتا ہے، اسی طرح عدم برداشت بھی معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہے، اختلافِ رائے ایک فطری امر ہے، لیکن اگر برداشت ختم ہوجائے تو معمولی اختلاف بھی دشمنی میں بدل جاتا ہے۔

③ بدزبانی
زبان انسان کے کردار کا آئینہ ہوتی ہے، بدزبانی، طعن و تشنیع، گالی گلوچ اور تحقیر آمیز گفتگو معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے، مہذب معاشرے کی پہچان نرم گفتگو اور شائستہ اندازِ بیان ہوتا ہے۔

④ بدگمانی
بدگمانی دلوں میں فاصلے پیدا کرتی ہے، جب انسان دوسروں کے بارے میں منفی گمان قائم کر لیتا ہے تو تعلقات خراب ہو جاتے ہیں، اکثر اوقات بدگمانی محض وہم یا ناقص معلومات کی بنیاد پر پیدا ہوتی ہے، مگر اس کے نتائج بہت سنگین ہوتے ہیں۔

⑤ عصبیّت (قوم، علاقہ یا پارٹی کی بنیاد پر تعصب)
تعصب اور گروہ بندی بھی معاشرتی انتشار کا بڑا سبب ہے، جب حق و انصاف کے بجائے قوم، زبان، علاقے یا جماعت کی بنیاد پر فیصلے ہونے لگیں تو معاشرے میں عدل اور اعتدال باقی نہیں رہتا۔

یہ پانچوں خصائل دراصل معاشرے کے جسم میں ایسے زخم ہیں جو آہستہ آہستہ پورے نظام کو کمزور کر دیتے ہیں، اگر ہم ایک بہتر، مہذب اور صالح معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں ان بیماریوں سے بچنا ہوگا، تحقیق، بردباری، حسنِ اخلاق، حسنِ ظن اور عدل و انصاف کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
اسی صورت میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے جو امن، اعتماد اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہو۔

حسبِ وعدہ آج روزے کی حالت میں یارِ من کے ساتھ لی گئ ایک تصویر شیئر کر رہا ہوں لیکن اس سے پہلے دو باتیں پہلی بات تو یہ کہ...
04/03/2026

حسبِ وعدہ آج روزے کی حالت میں یارِ من کے ساتھ لی گئ ایک تصویر شیئر کر رہا ہوں لیکن اس سے پہلے دو باتیں پہلی بات تو یہ کہ اہلِ سنت والجماعت کی ایک مذہبی جماعت کے ذمہ دار کی کال آئی کہ فلاں شخص گرفتار ہے اور گرفتاری بلاجواز ہے میں اسے لے کر اشرفی صاحب کے پاس گیا دو دن کی مسلسل کوشش اور ذمہ داریاں لینے کے بعد معاملات طے پائے بغیر ایک پیسہ خرچ کیے، ایک بڑے الزام میں گرفتار شخص آج رمضان المبارک کی افطار اپنے بچوں کے ساتھ کر رہا ہے اور شاید یہ تحریر بھی پڑھ رہا ہو۔

دوسری بات: میں نے اشرفی صاحب سے پوچھا، آپ بلوچستان ان حالات مین کس مقصد سے آئے ہیں؟
فرمانے لگے: “یہاں جو آگ لگی ہے، میں اپنے حصے کا پانی لے کر آیا ہوں، اپنے بیٹے سمیت، تاکہ اپنا کردار ادا کر سکوں۔”

واپسی کے سفر میں جہاز میں ہم ساتھ تھے انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: کھجوریں، زمزم اور پھل نکالو اور سب مسافروں میں تقسیم کرو یوں پورے جہاز کو افطار کروائی۔

اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے:
ایک ایسا شخص جو نہ میرا جماعتی ہے، نہ میں اس کا کارکن یا مرید ہوں، لیکن وہ میرا فون پہلی گھنٹی پر سنتا ہے، سفارش پر لوگوں کی مدد کرتا ہے تو کیا میں اس سے تعلق نہ رکھوں؟
کیا سوشل میڈیا یہ طے کرے گا کہ ہم کس سے ملیں اور کس سے نہ ملیں؟

حال ہی میں قائد جمیعت مولانا فضل الرحمن صاحب بھی ان حضرات کے ساتھ مدینہ منورہ میں موجود تھے انکی ملاقات گپ شپ سب ہوا کیا اب تنقید کرنے والے احباب مولانا کو بھی اسی پیمانے پر پرکھیں گے؟ اختلاف ضرور کیجیے، مگر انصاف کے ساتھ۔

کچھ دوستوں نے خلوص سے مشورہ دیا کہ بھائی! سب سے ملیں جلیں، لیکن فلاں فلاں حضرات کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں، لوگ بدظن ہوتے ہیں
میں نے سوچا، آخر کیوں؟ اختلاف اپنی جگہ، مگر بدگمانی اور نفرت کیوں؟

مثال کے طور پر حافظ طاہر محمود اشرفی صاحب کو مذہبی طبقے میں کسی نہ کسی درجے میں برداشت بھی کیا جاتا ہے، معاملات بھی رکھے جاتے ہیں لیکن مفتی عبدالرحیم صاحب کے حوالے سے بعض حلقوں میں عجیب سی سختی اور زیرو ٹالرنس پالیسی نظر آتی ہے اتنی شدت کیوں؟

خیر،
میں یہ نہیں کہتا کہ سب متفق ہو جائیں میں خود مفتی عبدالرحیم صاحب پر جتنی تنقید کر چکا ہوں، شاید ہی کسی نے کی ہو اختلاف حق ہے، مکالمہ حق ہے، دلیل دینا حق ہے اگر کوئی غلط لگتا ہے تو دعا بھی کی جا سکتی ہے مگر گالی دینا؟ تبرا پڑھنا؟ یہ کون سی شریعت ہے اور کون سا دین؟

ہاں البتہ یہ ضرور محسوس ہوا کہ اشرفی صاحب کو کچھ نہ کچھ مارجن مل جاتا ہے، مگر مفتی صاحب کے لیے بالکل گنجائش نہیں چھوڑی جاتی حالانکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ افغانستان آج بھی انکے کچھ رابطے ہیں رہی بات یار من کی تو انکے لنگر خانے او دسترخوان پر توہر طبقے کے لوگ ان سے ملنے آتے ہیں کچھ لوگ کھل کر تصویر شیئر کر دیتے ہیں، کچھ اپنی مجبوریوں کے باعث خاموش رہتے ہر کسی کے حالات مختلف ہوتے۔

میں اکثر ایک جملہ کہتا ہوں:
“جہاں آج طاہر اشرفی ہیں، وہاں اگر کوئی کالا پیلا ہوتا تو ہمیں کتنا نقصان ہو سکتا تھا؟”

اور جب میں نے مفتی عبدالرحیم صاحب سے تصویر لیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے آج مجھ پر تبرا پڑھا جائے گا، تو وہ مسکرا کر بولے:
“کوئی بات نہیں، اگر یہ گالیاں ملک کی خاطر ہیں تو میں برداشت کر لوں گا۔”

بات بس اتنی سی ہے:
اختلاف رکھیے، مگر دل کشادہ رکھیے۔
تنقید کیجیے، مگر کردار کشی نہ کیجیے۔
اور سب سے بڑھ کر، نیتوں کا حال اللہ پر چھوڑ دیجیے۔

اللہ ہمیں انصاف، تحمل اور حسنِ ظن کی دولت عطا فرمائے۔ آمین
آفتاب نذیر

مکتبِ دیوبند سے اسی کی امید تھی ایک صاحب نے حیرت کا اظہار کیا تھا کہ پاکستانی دیوبندی ملا ہبۃ اللہ کا ساتھ کیسے چھوڑ گئے...
04/03/2026

مکتبِ دیوبند سے اسی کی امید تھی

ایک صاحب نے حیرت کا اظہار کیا تھا کہ پاکستانی دیوبندی ملا ہبۃ اللہ کا ساتھ کیسے چھوڑ گئے. لوگوں کی حیرت ہنوز باقی تھی کہ اسی مکتب کی قیادت نے ایران کی حمایت کا دوٹوک اعلان کرکے قلزمِ حیرت میں مزید تلاطم برپا کردیا.

لوگ تو ان اقدامات پہ حیرت زدہ ہیں، مگر ہمیں حیرت تب ہوتی، جب ایسا نہ کیا جاتا. مکتبِ دیوبند ایک مکمل پیکج ہے. سیاسی سمجھ بوجھ، علمی رسوخ، عالمِ اسلام کا درد، محنت، سرگردانی اور سرفروشی سبھی کچھ اس مکتب کی زنبیل میں دھرا ہے. خود کو شاہ ولی اللہ جیسے شہ دماغ اور شاہ اسماعیل شہید جیسے آزادی کے متوالے سے منسوب کرتے ہیں. جنگِ آزادی میں اگلی صفوں کے سپاہی رہے. مالٹا کے اسیروں میں سب سے نمایاں نام شیخ الہند رح کا تھا. اس قافلے کے کچھ لوگوں کو لگا کہ ہندوستان کی تقسیم مسلمانوں کے حق میں درست نہیں، سو یہ کانگریس کے ساتھ چلے گئے. کچھ اصحابِ علم کو محسوس ہوا کہ نیا ملک اسلامی نظام کی تجربہ گاہ ثابت ہوگا، لہذا وہ قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھی بنے. دونوں گروہ دونوں طبقات میں بےحد نمایاں رہے.

پاکستان نے ملکی سرحدات سے باہر جھانکنے کا سوچا تو یہ طبقہ وطن کی آنکھ بنا. سرخ ریچھ کو ملک سے بہت دور روکنے کا سوچا گیا تو یہ طبقہ ڈھال بنا. کشمیر میں آزادی کی صبا چلی تو اپنے لہو سے لالہ زار اگائے. سیاست کی بساط بچھی تو پوری شان و شوکت سے رنگ جمایا. نظریاتی مزاحمت کو افرادِ کار عطا کیے. تبلیغی جماعت کے روپ میں چھ براعظموں تک پہنچا. مراکش سے انڈونیشیا تک کوئی ملک ایسا نہیں، جہاں اس مکتب کے رجال کار نہ پائے جاتے ہوں.

یہ اس کی سیاسی دانش کی بیّن دلیل ہے کہ ایک ایسا ملک کہ جس نے ولایتِ فقیہ کے نظام کے نفاذ کے لیے تقریباً ہر اہل سنت ملک کو بےاماں کیا، اس کے سر پہ تنے سائباں کو جب جھلسن لپٹی تو اسی مکتب کی قیادت کے حلق سے وہ آواز ابھری، جو رنج کے نقطہء انتہا پہ حلقوم سے پھوٹتی ہے. کہا گیا کہ عقیدے کی رنجشیں اپنی جگہ، مگر یہ وقت ایران کے قدم سے قدم ملانے کا ہے. ایران عالمِ اسلام کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہمارا بھائی ہے. حالانکہ یہ پہلا سانحہ نہیں، جس کا سامنا ایران کو کرنا پڑ رہا ہے. بلکہ اس سے قبل افغانستان، شام، عراق اور سعودی عرب پہ بھی المیے برسے، تب مکتب تشیع کے رویے کیا تھے، وہ ابھی تک حافظے کی لوح سے مٹے نہیں ہیں. مگر
اس کی وہ جانے اسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا
تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے

یادش بخیر، کسی نازک موقع پر سابق مفتی اعظم پاکستان رح نے ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا تھا، تب اسی طبقے کی ایک قراقلی زیبِ سر کی ہوئی سفید ریش شخصیت نے کہا تھا کہ بابا جی سٹھیا گئے ہیں. حالانکہ ایسا نہیں تھا. یہ اسی دانش بھری روایت کا تسلسل تھا جو اس مکتب کے خمیر کا حصہ ہے. ایک زمانے میں تحریک ختم نبوت برپا ہوئی تھی. شیعہ عالم مظہر علی اظہر بھی پابند سلاسل تھے. رہائی کے بعد انہیں علم ہوا کہ دورانِ اسارت ان کے گھر کا دانہ پانی عطاء اللہ شاہ بخاری کے چاہنے والوں نے اپنے ذمے لے رکھا تھا.

نظریات کا اختلاف اپنی جگہ ہے. سیاسی یا بین الممالک تعلقات چیزے دیگر است. ان چیزوں کو پرجوش ذاکروں اور شعلہ بار خطیبوں کی صوابدید نہیں بنایا جاسکتا. میری فہرستِ دوستاں میں منبر و محراب سنبھالتے شیعہ اہل علم بھی پائے جاتے ہیں. وہ گواہی دیں گے کہ انبکس میں ہم نے گھنٹوں نظریاتی بحثیں کی ہیں، مگر جب بات ممالک کی سطح کی آجائے تو پھر ہمارا اندازِ گفتار بدل جاتا ہے. جنگِ غزہ میں جب حزب اللہ شامل ہوئی تو ہم ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے نام کر لبنانی جنگجو تنظیم کی ستائش کی تھی. جب ہنیہ کی شہادت پہ ایران کی جانب تنقیدی اور پروپیگنڈاتی سنگریزے اچھالے جارہے تھے، تب ہم نے کہا تھا کہ یہ سیکیورٹی فیلیئر ہے، ایران کی غداری نہیں. پھر وقت نے ان باتوں کو سچ ثابت کیا.

اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تاریخ بھلا دی جائے، مگر صاحب ہر وقت پرانی باتوں کی مالا جپنا بھی کوئی دانشمندی نہیں ہے. شام و یمن کے قصے کتابوں میں محفوظ ہو چکے. بہت وقت پڑا ہے ان پہ بات کرنے کو. پھر جب سعودی عرب ایران سے صلح کرچکا اور دونوں ایک دوسرے کے حامی و حمایتی بن چکے. جب ایران اور شام دونوں ایک دوسرے کے بارے مثبت ہوچکے. جب کابل بھی تہران سے یارانہ گانٹھ چکا تو صاحب آپ کیوں اس راستے کے راہی بننے پہ تلے ہوئے ہیں، جس راستے پہ ماضی کے متاثرہ ممالک "یہ راستہ بند ہے" کا بورڈ آویزاں کر چکے؟؟؟

دیوبند کا اصل چہرہ وہی ہے جو مولانا فضل الرحمن، مولانا زاہد الراشدی اور دیگر سرکردہ شخصیات دکھا رہی ہیں۔

نواز کمال

آج کا مقصد: آپ کے اسمارٹ فون کو وقت ضائع کرنے والی مشین سے نکال کر ایک ڈیجیٹل تسبیح اور استاد میں تبدیل کرنا۔ کیا آپ کا ...
18/02/2026

آج کا مقصد: آپ کے اسمارٹ فون کو وقت ضائع کرنے والی مشین سے نکال کر ایک ڈیجیٹل تسبیح اور استاد میں تبدیل کرنا۔

کیا آپ کا فون آپ کو اللہ سے دور کر رہا ہے؟

رات کے تین بج رہے تھے۔ پورا گھر خاموشی کی چادر اوڑھے سو رہا تھا مگر میرے فون کی اسکرین سے نکلتی نیلی روشنی میری آنکھوں میں چبھ رہی تھی۔ سحری کا وقت قریب تھا اور میں بے مقصد اسکرولنگ میں مصروف تھا۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ یہ موبائل فون جس کے بغیر ہم ایک پل نہیں رہ سکتے، رمضان میں ہمارا سب سے بڑا دشمن بن جاتا ہے۔ لیکن کیا ہو اگر میں آپ سے کہوں کہ یہی دشمن آپ کا سب سے بہترین دوست بن سکتا ہے؟

ٹیکنالوجی بری نہیں ہے، بس ہمیں اسے استعمال کرنا نہیں آتا۔ اس رمضان میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنے فون کو ایک "عبادت خانے" میں بدل دوں گا۔ یہاں کچھ ایسے ٹولز ہیں جو آپ کی زندگی بدل دیں گے۔

پلرز (Pillars): آپ کی روح کا فٹنس ٹریکر
یہ کوئی عام نماز کی ایپ نہیں ہے۔ اس کا انٹرفیس اتنا صاف ستھرا ہے کہ دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔ اس میں ایک "اسٹریک" سسٹم ہے، بالکل ویسے ہی جیسے آپ اسنیپ چیٹ پر اسکور بناتے ہیں۔ جب آپ اپنی نمازیں ٹریک کرتے ہیں تو یہ آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کتنے دن سے باقاعدہ ہیں۔ خواتین کے لیے اس میں ایک خاص موڈ ہے جو ان کے مخصوص ایام میں ٹریکر کو روک دیتا ہے تاکہ ان کی اسٹریک خراب نہ ہو۔
محمد کیف کی رائے: اس ایپ کا سب سے بڑا جادو اس کا قبلہ رخ بتانے والا فیچر ہے جو سفر کے دوران آپ کو بھٹکنے نہیں دیتا۔

ترتیل (Tarteel): آپ کا ذاتی اے آئی استاد
سوچیں آپ قرآن پڑھ رہے ہیں اور کوئی آپ کی غلطی فوراً پکڑ لے۔ ترتیل یہی کام کرتی ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کرتی ہے اور جب آپ تلاوت کرتے ہیں تو یہ آپ کی آواز سن کر الفاظ کو اسکرین پر ہائی لائٹ کرتی ہے۔ اگر آپ سے کوئی غلطی ہو تو یہ اسے نشان زد کر دیتی ہے۔
خفیہ ٹرک: اگر آپ کو کوئی آیت یاد نہیں آ رہی، تو بس اس کا ایک حصہ پڑھیں، یہ ایپ اسے فوراً ڈھونڈ نکالے گی۔

قرآنلی (Quranly): تلاوت اب ایک کھیل ہے
اگر آپ کو قرآن پڑھنے کی عادت ڈالنے میں مشکل ہوتی ہے تو یہ ایپ آپ کے لیے ہے۔ یہ آپ کی تلاوت کو "گیم" کی طرح بنا دیتی ہے۔ آپ جتنا زیادہ پڑھتے ہیں، آپ کے "نیکیوں کے پوائنٹس" یعنی حسنات بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ آپ کو روزانہ کے اہداف دیتی ہے تاکہ آپ سستی نہ کریں۔

زره (Zarrah) اور فوکس موڈ: شیطان کا راستہ بند
رمضان میں سب سے بڑی رکاوٹ نوٹیفیکیشنز ہیں۔ آپ دعا مانگنے بیٹھتے ہیں اور اوپر سے واٹس ایپ کا میسج آ جاتا ہے۔ میں نے اس کا حل "فوکس موڈ" میں ڈھونڈا ہے۔ اپنے اینڈرائیڈ یا آئی فون کی سیٹنگز میں جائیں اور ایک "رمضان فوکس" بنائیں۔ اس دوران صرف ضروری ایپس (جیسے نماز کی ایپ یا ترتیل) کو اجازت دیں، باقی دنیا کو خاموش کر دیں۔
پرو ٹپ: زره ایپ آپ کی پوری دن کی روٹین کو نماز کے اوقات کے گرد سیٹ کر دیتی ہے، یعنی کام نماز کے وقفوں کے درمیان ہوگا۔

رمضان ٹائم پاس کرنے کا نام نہیں بلکہ خود کو بدلنے کا نام ہے۔ ان ایپس کو انسٹال کرنا پہلا قدم ہے، لیکن اصل جادو آپ کی نیت میں چھپا ہے۔
تحریر: محمد کیف

میری فاتن جیسی گڑیا!تین دن پہلے کسی نے آ کر بتایا کہ میں نے سڑک پر ایک ننھی سی بچی دیکھی ہے، جس کے نقوش اس قدر تیری شہید...
17/02/2026

میری فاتن جیسی گڑیا!
تین دن پہلے کسی نے آ کر بتایا کہ میں نے سڑک پر ایک ننھی سی بچی دیکھی ہے، جس کے نقوش اس قدر تیری شہید بیٹی فاتن سے ملتے تھے کہ میں ایک لمحے کو اُسے فاتن ہی سمجھ بیٹھا۔ یہ سنتے ہی میرا دل جیسے رک سا گیا۔ گڑیا کے فراق میں چھلنی جگر پہ گویا نمک چھڑک دیا گیا۔ اس بچی سے ملنے کا ایسا اشتیاق کہ سانس لینا بھی دشوار ہو گیا۔ یوں لگا جیسے یادوں کا دروازہ یکایک کھل گیا ہو اور ہجر کی ساری کسک تازہ ہو اٹھی ہو۔
میں دیوانہ وار اس جگہ پہنچ گیا۔ مگر وہ بچی نظر نہیں آئی۔ پھر صبح شام تین دن تک اُسی سڑک سے گزرتا اور اپنی فاتن کی ہم شکل بچی کو ڈھونڈتا رہا۔ دل میں ایک ہی آرزو تھی کہ شاید وہ بچی دوبارہ نظر آ جائے اور میں اُس کے گھر والوں سے صرف اتنی اجازت مانگ سکوں کہ ایک لمحے کو اُسے سینے سے لگا لوں… اپنی خالی بانہوں کی ویرانی کو اُس کی معصوم حرارت سے بھر لوں۔ مگر وہ مجھے کہیں نہ ملی۔
پھر اللہ نے میرے ٹوٹے دل پر مرہم رکھا۔ فاتن میرے خواب میں آ گئی۔ میں نے اُسے دیکھا تو دیوانہ وار اپنی آغوش میں بھر لیا۔ وہ لمحہ ایسا تھا کہ گویا پوری کائنات میری بانہوں میں سمٹ آئی ہو۔ میں نے پوچھا: “جان پدر، تم بابا کو تڑپتا چھوڑ کر کہاں چلی گئیں؟”
وہ مسکرا کر بولی: “ہم جنت میں ہیں، بابا…”
یہ سن کر دل میں ایک عجب سکون اتر آیا، اگرچہ آنکھیں بھیگ گئیں۔ میں نے کہا: “مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو…” مگر وہ خاموش رہی، جیسے صبر کا پیغام دے رہی ہو۔
آنکھ کھلی تو دل شکستہ نہیں تھا، بلکہ رضا سے لبریز تھا۔ مجھے اتنا ہی کافی ہے کہ رب نے اُس کی ایک جھلک دکھا دی، اُسے گلے لگانے کا ایک خواب ہی سہی، عطا کر دیا۔
موت کی دعا نہیں مانگنی چاہیے۔ لیکن فاتن کے بغیر جیا بھی تو نہیں جاتا، اس کا اسکول بیگ، اس کے جوتے، کتابیں اور کپڑے، ایک ایک چیز، ہر یاد تڑپا رہی ہے۔ اس لیے دعا گو ہوں کہ اللہ مجھے بھی جنات النعیم میں اُس سے ملا دے اور اُس دن تک میرے دل کو صبر کی طاقت عطا فرمائے۔ آمین۔ 💔
(جہاد الشریف، غزہ کا ایک زخمی دل)

قومی وملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیتتحریر: حضرت مولانا زاھد الرّاشدی صاحبگزشتہ ایک ماہ کے دوران مجھے کراچی، بہاولپور...
17/02/2026

قومی وملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت
تحریر: حضرت مولانا زاھد الرّاشدی صاحب

گزشتہ ایک ماہ کے دوران مجھے کراچی، بہاولپور، لاہور، راولپنڈی، خانیوال، کبیر والا، سرگودھا، نوشہرہ، پشاور اور دیگر شہروں میں مختلف دینی اجتماعات میں شرکت اور احباب سے ملاقاتوں کا موقع ملا اور اکثر اوقات میں دوستوں کے اس سوال کا سامنا کرنا پڑا کہ تحریکِ تحفظِ ناموسِ رسالت کی مرکزی قیادت میں اہلِ تشیع کی شمولیت کے بارے میں آپ کا موقف اور رائے کیا ہے؟ میں نے گزارش کی کہ پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت میں بھی تحریکِ تحفظِ ناموسِ رسالت کی مرکزی کونسل کا حصہ ہوں اور اس حوالے سے میرا موقف وہی ہے جو ملک کے اکابر علماء کرام کا قیامِ پاکستان کے بعد سے مسلسل چلا آرہا ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد جب یہ سوال اٹھا کہ پاکستان میں نفاذِ اسلام کس فرقے کے مسلک اور فقہ کے مطابق ہوگا اور اس سلسلہ میں فکری، کلامی اور فقہی اختلافات کو کیسے کنٹرول کیا جائے گا؟ اس سوال کے جواب کے لیے علامہ سید سلیمان ندویؒ کی سربراہی میں تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام نے متفقہ ۲۲ نکات پیش کر کے اس سوال اور اعتراض کا منہ بند کر دیا اور بتایا کہ تمام تر اعتقادی اور فقہی اختلافات کے باوجود پاکستان میں آباد تمام مذہبی مکاتبِ فکر دستوری بنیاد اور قانونی نظام پر متفق ہیں، اور ایک متفقہ دستوری ڈھانچہ انہوں نے پیش کر دیا جس میں دیگر مکاتب فکر کے ساتھ اہلِ تشیع کے ذمہ دار علماء کرام بھی شریک تھے۔
۱۹۵۲ء میں تحریکِ ختمِ نبوت کے لیے تمام مکاتبِ فکر کو پھر سے جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور آل پارٹیز ایکشن کمیٹی قائم کی گئی تو اس میں بھی اہل تشیع کی نمائندگی موجود تھی جبکہ مولانا ابوالحسنات قادریؒ اور امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تحریک کی قیادت کر رہے تھے۔

۱۹۷۴ء میں محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں کل جماعتی مجلسِ عمل تحفظِ ختمِ نبوت تشکیل پائی اور اس کی جدوجہد سے قا دیا نیت کو پارلیمنٹ کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دلوایا تو اس کی قیادت میں بھی اہلِ تشیع موجود تھے۔

۱۹۷۷ء میں ملک میں نفاذِ اسلام کے لیے تحریکِ نظامِ مصطفٰی کی جدوجہد حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی سربراہی میں میدان میں آئی اس کی قیادت میں بھی ش ی عہ راہنما موجود تھے۔

۱۹۹۸ء میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد نور اللہ مرقدہ کی سربراہی میں ایک بار پھر کل جماعتی مجلس عمل کا احیا عمل میں لایا گیا تو اہلِ تشیع اس کی قیادت میں موجود تھی، بلکہ نائب صدر کے منصب پر ایک ش ی عہ راہنما فائز تھے۔

اب جبکہ عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کی میزبانی اور امیر مجلس حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی رہنمائی میں تحریکِ تحفظِ ناموسِ رسالت وجود میں آئی ہے تو ماضی کے اسی تسلسل میں ش ی عہ رہنماؤں کو اس کی ہائی کمان میں شامل کیا گیا ہے۔
اس سے قبل متحدہ مجلسِ عمل میں بھی اہلِ تشیع کے دیگر مکاتبِ فکر کے ساتھ قیادت کا حصہ رہ چکے ہیں۔

اس طرح دینی تحریکات کے حوالے سے قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک جو روایت اور تسلسل چلا آرہا ہے وہ بدستور قائم ہے، اور یہ دراصل سیکولر حلقوں کے اس اعتراض یا الزام کا عملی جواب ہے کہ پاکستان کے اسلامی تشخص، ملک میں اسلام اور شریعت کی حکمرانی کے بارے میں ملک کے مذہبی مکاتبِ فکر پوری طرح متفق اور پاکستان میں نفاذِ اسلام فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں بلکہ متفقہ قومی مسئلہ ہے۔

ایک موقع پر بعض دوستوں نے یہ سوال کیا ہے کہ ہمارے والد محترم امام اہلِ سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا موقف اور طرزِ عمل کیا تھا؟ خصوصاً اس پس منظر میں کہ انہوں نے اثناء عشری اہلِ تشیع کی تکفیر پر ’’ارشاد الش ی عہ‘‘ کے نام سے کتاب بھی لکھی ہے۔ میں نے گزارش کی کہ انہوں نے ’’ارشاد الش ی عہ‘‘ تصنیف فرمائی اور اس میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ صرف ان کا موقف نہیں بلکہ یہ تو اہلِ سنت کا موقف ہے اور خود ہمارا موقف بھی اثنا عشری اہلِ تشیع کی حد تک یہی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ان تمام تحریکات کا حصہ رہے ہیں جن کا میں نے تذکرہ کیا ہے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ اور دیگر بزرگ ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں شریک ہوئے ہیں، جلوسوں کی قیادت کی، مشترکہ اجتماعات میں شرکت کرتے رہے ہیں اور دونوں گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ حضرت والد صاحبؒ کم و بیش دس ماہ، حضرت صوفی صاحبؒ نے تقریباً چھ ماہ اس تحریک میں جیل کاٹی ہے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں دونوں حضرات سرگرمی کے ساتھ شریک ہوتے رہے، مشترکہ اجتماعات میں خطاب کرتے رہے ہیں اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی صدارت میں منعقد ہونے والا وہ تاریخی جلسہ تحریکی تاریخ کا حصہ ہے جس میں دوسرے مکاتبِ فکر کے اکابر علماء کرام کے علاوہ ش ی عہ راہنماؤں نے بھی خطاب کیا تھا۔ بلکہ یہ واقعہ بھی تاریخی اہمیت کا حاصل ہے کہ جلسہ کے بعد جب پولیس نے علامہ علی غضنفر کراروی کو جلسہ گاہ سے نکلتے ہی گرفتار کر لیا تو آغا شورش کاشمیری مرحوم نے نہ صرف اپنے خطاب کے دوران شدید احتجاج کیا بلکہ پولیس چوکی کا لوگوں کے ہجوم کے ساتھ محاصرہ کر لیا اور کراروی صاحب کو رہا کر کے وہاں سے واپس ہوئے۔

۱۹۷۷ء کی تحریکِ نظامِ مصطفٰی میں گوجرانوالہ میں حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے مشترکہ عوامی جلوس کی قیادت کی اور گکھڑ میں حضرت والد محترمؒ جلوسوں کی قیادت کرتے رہے۔ اور ان کا یہ تاریخی واقعہ بھی اسی تحریک کا ہے کہ فیڈرل فورس کے کمانڈر نے اس کو روکنے کے لیے اس کے راستے میں لکیر کھینچ کر اعلان کیا کہ جو شخص اس لائن کو عبور کرے گا اسے گولی مار دی جائے گی۔ یہ سن کر حضرت والد محترمؒ نے اپنے رفقاء استاذ محترم حضرت مولانا محمد انور صاحب مدظلہ اور حاجی سید ڈار صاحب مرحوم کے ہمراہ یہ کہہ کر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے لائن کراس کی کہ ’’مسنون عمر پوری کر چکا ہوں اور اب شہادت کی تمنا رکھتا ہوں‘‘۔ ان کا یہ جذبہ دیکھ کر فیڈرل سکیورٹی فورس کی رائفلیں سرنگوں ہوگئیں اور جلوس پوری شان و شوکت کے ساتھ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔ اپنی زندگی کے آخری دس سال وہ بستر علالت پر رہے لیکن اس دوران متحدہ مجلسِ عمل تشکیل پائی تو انہوں نے دونوں الیکشنوں میں متحدہ مجلسِ عمل کے امیدواروں کی حمایت کی اور لوگوں کو ان کا ساتھ دینے کی تلقین فرمائی۔ بعض حضرات نے اس سلسلہ میں تحفظات کا بھی ان کے سامنے اظہار کیا مگر ان کا موقف وہی رہا۔

میں نے دوستوں سے عرض کیا کہ کسی کو مسلمان، منافق، یا کا فر قرار دینے کا مسئلہ اپنی جگہ پر ایک دینی ضرورت ہوتی ہے لیکن قومی ضروریات اور معاشرتی روابط و معاملات کا ایک مستقل دائرہ ہوتا ہے اور ہمارے بزرگوں نے اپنی اپنی جگہ ان دونوں کا لحاظ رکھا ہے۔ حضرت والد محترمؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ کا زندگی بھر یہ معمول رہا ہے کہ وہ بہت سے معاملات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے تھے اور رائے بھی دیتے تھے، لیکن جب کوئی اجتماعی فیصلہ ہو جاتا تھا تو اسے نہ صرف قبول کر لیتے تھے بلکہ اس کا بھرپور ساتھ دیتے تھے۔ خود میرا معمول بھی بحمد اللہ تعالیٰ یہی ہے کہ بعض معاملات پر اپنی مستقل رائے رکھتا ہوں، اس کا اظہار بھی کرتا ہوں اور کوئی مناسب موقع ہو تو اس پر بحث و مباحثہ سے بھی گریز نہیں کرتا، لیکن عملاً وہی کرتا ہوں جو اجتماعی فیصلہ ہوتا ہے اور جمہور اہلِ علم کا موقف ہوتا ہے۔ رائے کے حق سے میں کبھی دستبردار نہیں ہوا لیکن اپنی رائے کو حتمی قرار دے کر جمہور اہلِ علم کے موقف کے سامنے اڑنے سے ہمیشہ گریز کیا ہے اور اسے کبھی حق اور صواب کا راستہ نہیں سمجھا۔

میری طالب علمانہ رائے میں اسلام، ک ف ر اور نفاق کی بحث کے باوجود معاشرتی معاملات اور اجتماعی روایات کو الگ دائرے میں رکھنا چاہیے اور اس سلسلہ میں دورِ نبویؐ میں ہمارے لیے مثال موجود ہے۔ عبداللہ بن ابی اور اس کے منا فق ساتھیوں کو جن کی تعداد غزوۂ احد کے موقع پر تین سو کے لگ بھگ بیان کی جاتی تھی، قرآن کریم کی نصِ قطعی میں ’’ک ا فر‘‘ قرار دیا گیا ہے اور یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ’’وماھم بمؤمنین‘‘ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عبادات میں شریک ہوتے رہے ہیں، غزوات میں اپنی تمام تر غلط حرکات کے باوجود شامل ہوتے رہے ہیں۔ ان کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ انہیں قتل نہ کر دیا جائے؟ تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ’’نہیں! اس سے یہ تاثر پھیلے گا کہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں‘‘۔ اس لیے کہ دنیا کو وہ مسلمانوں کا حصہ ہی نظر آتے ہیں۔ حتٰی کہ منا فقین نے ایک موقع پر الگ مسجد بنا کر خود کو عمومی معاشرے سے الگ کرنا چاہا تو قرآن کریم نے اسے ’’مسجد ضرار‘‘ قرار دیا اور نبی اکرمؐ کو وہاں جانے سے منع کر دیا۔ وہ مسجد گرا دی گئی اور مصلحت اسی میں سمجھی گئی کہ منا فقین کو ان کے ک ف ر کے باوجود معاشرتی طور پر الگ ہونے سے روکا جائے کہ اس کے نقصانات زیادہ ہیں۔ اس لیے میری رائے یہ ہے کہ اکابر کے فیصلوں پر حسبِ سابق اعتماد کیا جائے۔

راقم الحروف نے مختلف دوستوں کے سوالات پر تحریکِ تحفظِ ناموسِ رسالت کی قیادت میں اہلِ تشیع کی شمولیت کے مسئلے پر اپنے موقف کی وضاحت کی تھی جو روزنامہ اسلام میں ۱۱ فروری ۲۰۱۱ء کو ’’نوائے حق‘‘ کے عنوان سے میرے مستقل کالم کی صورت میں شائع ہوئی۔ اس پر محترم جناب مولانا محمد یونس قاسمی نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے جو مذکورہ کالم کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ مولانا قاسمی کی شکایت یہ ہے کہ اکابر کے فیصلے بدلتے رہتے ہیں جبکہ میں نے اس کالم میں ہی اس کے بارے میں عرض کر دیا تھا کہ کسی کو کافر قرار دینے یا مسلمان تسلیم کرنے کا دائرہ الگ ہے اور معاشرتی روابط اور مشترکہ تحریکات میں اشتراکِ عمل کا دائرہ اس سے مختلف ہے جس کی واضح مثال موجود ہے کہ دورِ نبویؐ میں عبد اللہ بن ابی اور اس کے ٹولے کو قرآن کریم کی نصِ قطعی میں کا فر قرار دیے جانے کے باوجود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرتی طور پر انہیں الگ نہیں کیا بلکہ ان کی تمام تر خرابیوں اور غلط کاریوں کے ہوتے ہوئے بھی انہیں اجتماعی معاملات میں اپنے ساتھ شریک رکھا۔ اس لیے کہ انہیں معاشرتی طور پر الگ کرنے اور ان کے خلاف کوئی سخت کارروائی کرنے میں اس دور کے حالات میں مصلحت نہیں تھی۔

ہمارے اکابر کا طریقہ بھی یہی چلا آ رہا ہے کہ ک ف ر کے فتوؤں کے باوجود مشترکہ قومی معاملات اور اجتماعی تحریکات میں اہلِ تشیع کو اپنے ساتھ شریک رکھا ہے اور اس میں کوئی تعارض اور الجھن کی بات نہیں ہے۔ اس سلسلے میں علماء کرام کے متفقہ ۲۲ نکات، ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوت، ۱۹۷۳ء کے دستور، ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوت، ۱۹۷۷ء کی تحریکِ نظامِ مصطفٰی اور ۱۹۸۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کا حوالہ مذکورہ کالم میں دیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس تسلسل میں چند اور تحریکات کا اضافہ بھی کرنا چاہتا ہوں۔

بھا رت میں مسلمانوں کے شرعی خاندانی قوانین کے تحفظ کے لیے ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ کا مشترکہ پلیٹ فارم موجود ہے جس کے پہلے سربراہ حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ، دوسرے سربراہ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ، تیسرے سربراہ حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ تھے، جبکہ اب اس کے سربراہ حضرت مولانا سید محمد رابع ندوی مدظلہ ہیں اور اہلِ تشیع اس بورڈ کا نہ صرف مسلسل حصہ ہیں بلکہ ممتاز ش ی عہ علماء اس کے مرکزی عہدہ دار بھی چلے آرہے ہیں۔

ایران میں اہلِ سنت کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا عبد العزیزؒ جو حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے تلامذہ میں سے تھے، ایرانی انقلاب کے بعد اس کی مرکزی کونسل اور دستور ساز اسمبلی کے ممبر رہے ہیں اور ایرانی دستور کی تشکیل میں ان کا اہم کردار ہے۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ اور دوسرے علماء کرام کے ساتھ مجھے ۱۹۸۷ء میں ایران جانے کا موقع ملا تو ہم نے ایران میں حضرت مولانا عبد العزیزؒ سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے ایرانی انقلاب اور دستور میں اپنے کردار کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ فرمایا، البتہ یہ شکایت کی کہ اب ایرانی راہنماؤں کا رویہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے اور وہ ان کی باتوں پر پہلے کی طرح توجہ نہیں دیتے۔

افغا نستان میں روسی استعمار کے خلاف جہا د میں اہلِ سنت کی نصف درجن کے لگ بھگ جہا دی تنظیموں کے ساتھ ساتھ اہلِ تشیع کی ’’حزبِ وحدت‘‘ بھی جہا دِ افغا نستا ن کا حصہ رہی ہے اور ان تنظیموں کے درمیان اس دور میں اشتراک و تعاون بھی رہا ہے۔

دینی مدارس کے تحفظ کے لیے تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس کے وفاقوں کے اتحاد ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ میں وفاق المدارس الش یعہ شامل ہے جس کا ذکر محترم مولانا محمد یونس قاسمی نے بھی اپنے مضمون میں کیا ہے۔

اس لیے مولانا محمد یونس قاسمی صاحب کی خدمت میں گزارش ہے کہ اصل الجھن انہیں صرف اس وجہ سے ہو رہی ہے کہ وہ دونوں الگ الگ دائروں میں فرق نہیں کر پا رہے۔ اگر اس فرق کو وہ سنجیدگی سے محسوس کر لیں تو انہیں اکابر کے طرزِ عمل میں نہ کوئی تضاد نظر آئے گا اور نہ ہی یہ شکایت ہوگی کہ بزرگوں نے پہلے فیصلوں کے بعد نیا فیصلہ کرنے میں متعلقہ دوستوں کو اعتماد میں نہیں لیا۔ اکابر کے فیصلے فتوؤں کے دائرے میں مسلسل وہی چلے آ رہے ہیں جو پہلے سے موجود ہیں اور معاشرتی روابط اور دینی تحریکات کے دائرے میں بھی ان کے فیصلوں کے تسلسل میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ صرف دائروں کے فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے، اس کے بعد کسی دوست کے ذہن میں کوئی الجھن باقی نہیں رہے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

Address

Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Articles Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share