18/03/2026
یہ بھی بدترین فرقہ ورانہ رویہ ہے کہ اہل سنت کے ممالک کو طعن کیا جائے اور شیعہ ملک ایران کو واحد مزاحمت کا سنگ میل بنا کر پیش کیا جائے ۔
مغربی استعماری قوتوں کی جو جو جس درجے اور " کیپیسٹی " میں عملی یا فکری مزاحمت کرتا ہے اس کی تحسین کی جائے گی اور اعتراف کرنا چاہیے ۔ اور یقیناً آج تہران شاندار مزاحمت کر رہا ہے ، لیکن اچھے خاصے پڑھے لکھے اور متوازن لوگ توازن کھو بیٹھے ہیں کہ جیسے یہ پہلی مزاحمت ہے اور پہلا جوابی وار ۔۔۔۔گویا ان کی نظر میں تاریخ اس سے خالی تھی ، اگر کوئی نابینا ہے تو اس کے لیے نصف النہار کا سورج بھی ہو تو سیاہ رات کا اندھیرا ہے ۔
آج اگر ایران مزاحمت کر رہا ہے تو اس کا اعتراف اور تحسین کرتے ہوئے بیمار رویہ اختیار کرنا بذاتِ خود دیانتداری کا خون ہے ۔ آپ دوسروں کو طعن کئے بنا بھی اعتراف اور تحسین کر سکتے ہیں ۔
اور طعن بھی اس قوم اور گروہ کو کہ جو صدیوں سے مسلمانوں کی جانب سے معاندین اور کفار سے تنہا مزاحم ہے ۔ عراق ، شام ، افغانستان ، لیبیا ، صومالیہ ، چیچنیا اور سوڈان کی مزاحمت تو آج کا قصہ ہے کہ جو یہ الفاظ پڑھنے والی نسل نے اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھی ہے ۔۔۔ آج کی بات کیجیے کہ اگر مزاحمت نہ تھی تو تورا بورا کیوں بنا ، صیدانہ و ابو غریب ، فلوجہ ، تکریت ، حلب ، ادلب ، گروزنی ، جلال آباد ، کس کس سونے سے تراشے ہوئے سنگ میل کا ذکر کروں ؟
گوانتانامو بے ، کس نے آباد کی ؟
کالا پانی ، جزائر انڈیمان نے کس کے نقوشِ ہائے پا صبح کے ستارے بن ٹمٹماتے ہیں ؟
کیا یہ سب مزاحمت کے نشان نہیں ؟
ابھی دو روز پہلے جیو نیوز کی سلائیڈ تھی کہ امریکہ نے ہچھلی چند دہائیوں میں بمباری کی اور تقریباً ساڑھے نو لاکھ مسلمان مار دیئے ۔۔۔۔۔ یہ سب اہل سنت تھے کہ جو مزاحمت پر اتر آئے اور مارے گئے ۔۔۔ کسی قوم قبیلے کی نمائندگی صرف اس سے متعلق حکمران نہیں ہوتے عوام بھی اپنی جگہ مستقل حیثیت رکھتی ہے ، گو صدام حسین ، معمر قذافی بھی ان کا نشانہ بنے اور وہ حکام تھے ۔۔۔
آج اگر مشرق کا جنیوا ، تہران مبتلائے الم ہے اور مغربی استعماری قوتوں کے خلاف کھڑا ہے اور ساتھ اس پر وہی کارپٹ بمباری کی جا رہی ہے تو یہ سب ان اوپر بیان کردہ ممالک پر گزر چکا ہے ۔۔۔۔۔
اور یہ سب آج کا قصہ ہے ، ماضی تو کچھ اور ہی منظر نگاری کرتا ہے ۔۔۔
صرف ہندستان کی اگر بات کروں تو راتیں بیت جائیں ؟
صادق آباد ، بہار ، پٹنہ ۔۔۔۔ پھر دلی کے باہر دور تک گڑی ہوئی صلیبیں ۔۔۔ اور توپ کے آگے رکھ کر سینکڑوں نہیں ہزاروں اہل سنت کے علماء کو اڑا دیا گیا ۔۔۔
تیتو میر کون تھا ؟
سراج الدولہ کس کی تاریخ ہے ؟
اور پھر ۔۔۔۔ مزاحمت کا امام ، ٹیپو سلطان
چنگیز خان سے ہلاکو خان ، اور پھر صلیبی جنگجووں کی تگ و تاز کا نشانہ کون ریے ؟
پھر صدیوں اسلام دشمن طاقتوں کے مقابل کون آتا تھا ؟
چنگیز خان کی ذریت جب قریب تھا کہ اہل اسلام کا نام مٹا دیتی تو یہ امام ابنِ تیمیہ تھے کہ جنہوں نے آخری چٹان بن کر اس وقت کے بادشاہوں کو میدان میں لا کھڑا کیا اور تاتاری اپنے زخم چاٹتے ہوئے تاریخ کا بھولا ہوا سبق ہو گئے ۔
چیچنیا کے امام شامل ، لیبیا کے عمر مختار ، الجزائر کے عبد القادر الجزائری ، اسپین کے موسی ، دلی کے جرنیل بخت خان ۔۔۔۔کس کس کا نام لوں ، کہ میں اس قدر امیر ہوں کہ جواہرات سنبھالے ہوئے نہ سنبھل پائیں ۔۔۔
آج اگر مؤرخ صرف ترکمانستان کی ریاستوں پر روسی جبر اور مزاحمت کی داستانیں لکھ دے تو کوئی تاب نہ لا پائے ۔۔۔
اور یہ تو صرف ان کا تذکرہ ہے کہ جو مزاحمت کا نشان تھے ۔۔۔۔
اگر آگے بڑھنے کی بات کی جائے تو ، خالد بن ولید ، عبد اللہ جریر ، سعد بن ابی وقاص ، عکرمہ بن ہشام ، سے یہ سفر شروع ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ اور آج کا عالم اسلام انہی جیالوں کی تلوار کی نوک سے کھینچا ہوا نقشہ ہے ۔۔۔ میں نے کبھی لکھا تھا کہ بھلے آپ ان کو گالیاں دو لیکن آج کے عالم اسلام کی سرحدیں ایک " مطعون " گروہ امویوں کی تلوار کی نوک سے قرطاس تاریخ پر کھینچی گئی تھیں ۔۔
اور پھر آگے چلیں ، آج جب سپین کا ماتم کرتے ہیں کہ بکھر گیا اور بچھڑ گیا ، تو لیا کس نے تھا ؟
پھر صلاح الدین ایوبی ، موسی بن نصیر ، ابن قاسم ۔۔۔۔
یارو !
تاریخ بنائی کس نے ؟
اور اس۔ کے گیسو سنوارے تو کس نے سنوارے ؟
اور ہاں ۔۔۔۔ یحییٰ سنوار
ابوبکر قدسی