12/03/2026
رمضان کے آخری عشرے میں مسجد اقصیٰ کی فضا ہمیشہ لاکھوں نمازیوں سے گونجتی تھی — لیکن اس سال یہ خاموشی کچھ اور ہی کہانی سنا رہی ہے۔
کیا ہوا؟
مسجد اقصیٰ میں 1967 کے بعد پہلی بار رمضان کے آخری عشرے میں تراویح اور اعتکاف پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
اسرائیل نے ایران کے ساتھ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے پرانے یروشلم کو سیکیورٹی بنیادوں پر بند کر دیا — مسجد اقصیٰ، مسجدِ بُراق، مغربی دیوار اور چرچ آف ہولی سیپلکر سب بند ہیں۔
اسرائیلی فورسز نے مسجد کو مسلسل 11 دن بند رکھا، جسے حماس نے "ایک خطرناک تاریخی نظیر" قرار دیا۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، ترکیہ، اردن، پاکستان، انڈونیشیا اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں اس بندش کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ عارضی سیکیورٹی اقدام ہے۔
دوسری طرف سے:
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس جنگ کو بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ جب مسجد اقصیٰ بند تھی، شہر کے دیگر حصوں میں یہودی تہوار پورِم کے جشن کی اجازت دی گئی۔
آپ کے لیے سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ واقعی ایک عارضی سیکیورٹی اقدام ہے، یا اس کے پیچھے کوئی اور مقصد ہے؟
Comment: کمنٹ میں اپنی رائے دیں 👇
📌Source : Jordan News، Al Jazeera، Middle East Eye، Wafa News Agency، The National
فالو کریں .urdu | حقیقت سے جڑی خبریں (Tiktok - Youtube - Instagram & Facebook)
#مسجداقصیٰ #رمضان #تراویح #فلسطین #یروشلم